صفحات

Sunday, February 28, 2016

بھٹکے ہوئے کیوں؟

بھٹکے ہوئے کیوں؟
چند دن پہلے کی بات ہے۔ ایک محترمہ مجھ سے ملنے آئیں ۔ ایک اچھےتعلیمی ادارے کی سربراہ ہیں اور کافی معروف شخصیت ہیں ۔ اب اتفاق کی بات کہ میرے پاس کچھ اورلوگ موجود تھے اور میں نے ان کے لئےکھانا منگوایا ہوا تھا۔ وہ محترمہ کہنے لگیں کہ وہ جلدی میں ہیں ۔ انہیں دو تین اہم باتیں کرنی ہیں ۔ میں نے اخلاقا انہیں بات کرنے کا موقع دیا ۔ اور ساتھ ہی کھانے کی بھی دعوت دی ۔ جو انہوں نے قبول نہیں کی اور کہنے لگیں کہ وہ بس دومنٹ اپنی بات کہ کر رخصت ہوتی ہیں ۔ میں نے مہمانوں سے معذرت کی کہ ذرا انتظار کریں میں ان کی بات سن لوں پھر کھانا کھاتے ہیں ۔ اب یہ تما م صورت حال ان محترمہ کے سامنے تھی  ۔ کہنے لگیں مجھے احسا س ہے کہ اپ کا کھانا لگا ہوا ہے۔ میں زیادہ ٹائم نہیں لیتی بس مختصر سی بات کرنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کم وبیش آدھا گھنٹہ گفتگو کی ۔ پھر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی کہنے لگیں مجھ جلدی نہ ہوتی تو بات مکمل کرتی ۔ خیر پھر سہی۔ میرےمہمان یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ ان کی گفتگو سوانے اپنی تعریف اور کچھ معاملات پر اپنی خواہشات کے مطابق پیش رفت کی فرمائش کے علاوہ کچھ بھی نہ تھی۔ کیا یہ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ ہونے کی اہل ہیں ؟
میں خاموش رہا ۔ لیکن میرے ذہن میں کچھ سوال ضرور تھے۔
یہ سوالا ت کئی دن سے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔
آج اس واقعے کو ابتدا بنا کرمیں کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔
میرے نقطہ نظر سے سب سے اہم شعبہ جو ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تباہ کن حالات کا شکار ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ ہمارے ملک میں  ایک استاد ، ایک مدرس اور روحانی باپ کی تباہی کی بنیاد لارڈ میکالے نے رکھی اور ہمارے معاشرے نے اسے حسب توفیق پروان چڑھایا ۔
تعلیمی نظام میں سب سے مشکل کا م ایک بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت کر نا ہے۔ ایک پرائمری ٹیچر اہم ترین کردار کا حامل ہوتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں ایک پرائمری آستاد کے انتخاب کا طریقہ کار ایسا وضع کرنا چاہیے کہ صرف وہ لوگ پرائمری استاد منتخب ہوں جو کم ازکم مندرجہ ذیل خوبیوں کے مالک ہوں
 اس کے کردار میں مضبوطی ہو۔ وہ اخلاقیات ، اقدار کے حوالے سے نہ صرف بہترین علم رکھتے ہوں بلکہ خود اس کا عملی نمونہ ہوں ۔ وہ بچے کی ذہنی ، نفسیاتی سطح کو سمجھتے ہوں ، بچے کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنے، اسے خود اعتمادی سے بات کرنے ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اپنے جذبات کو بیان کرنے اور مختلف اشیاء ، واقعات کو اپنی ذہنی سطح کے مطابق تجزیہ کرنے کی صلاحیت سکھانے کے اہل ہوں ۔
انہیں کسی بھی سکول میں معلم  بنانے سے پہلے ایک سخت تربیتی پروگرام سے گذارا جائے ۔ پرائمری استاد کی تنخواہ سب سے زیادہ ہو ۔ کم ازکم 22 گریڈ کے افسر کے برابر ہو ۔
اسکی کارگردگی کو جانچنے کا معیار انتہائی سخت ہو ۔
پرائمری سطح کے استاد کو معاشرے کا ایک معزز رکن کا درجہ حاصل ہو۔
یہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم جب ایک بچے کو بہتر ابتدا نہیں دیتے تو پھر اس سے معاشرہ کا ایک بہتر فرد ہونے کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔
جس بچے کی ابتدائی تعلیم اچھے اساتذہ کے زیرنگرانی ہوگی وہ یقینا بڑے ہوکر ایک بہتر شہری ثابت ہو گا۔
ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں استاد کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں ۔ جو کچھ نہیں کر سکتا کسی سکول میں استاد بن کر ہماری آنے والی نسل کو تباہ کرتا ہے۔
مجھے ایک صاحب بات بتا رہے تھے کہ وہ جاپان میں ایک کورس کرنے گئے ۔ وہاں ان کی ایک جاپانی خاندان سے ملاقات ہوئی اور ان کے گھر دوچار دفعہ آنا ہوا ۔ ایک دن وہ جاپانی کے گھر اس سے ملنے کے لئے گئے تو ان کا چھوٹا بیٹا باہر آیا ۔ انہوں نے پوچھا کہ ابو کدھر ہیں تو بچے نے کہا کہ وہ مارکیٹ گئے ہیں ۔ پاکستانی نے بچے سے کہا سچ کہ رہے ہونا۔ کہیں وہ گھرپر ہی ہوں اور تم جھوٹ بولنے کا کہ دیا ہو۔ ( وہ دراصل بچے کے ساتھ مذاق کرنا چاہ رہے تھے) بچہ چپ ہو گیا ۔ کچھ جواب نہ دیا ۔ اچانک دروازے کے پیچھے سے اس کی ماں آگئی اور اس نے کہا کہ آپ نے میرے اور میرے بچے کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ میرے بچے کو پتہ ہی نہیں کہ جھوٹ کیا ہو تا ہے؟ اب وہ مجھ سے جھوٹ کا مطلب پوچھے گا؟
خیر یہ تو ایک بات ہے جوممکن ہے  زیب داستان  ہو۔ لیکن یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ پر ہے کہ جاپان میں بچے کی ابتدائی تعلیم کا معیار بہت اعلی ہے ۔ وہاں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی پڑھائی کے علاوہ کچھ ایسی تربیت دی جاتی ہے جو ان کے لئے ساری زندگی  مشعل راہ ہوتی ہے۔
بات ایک پرنسپل صاحبہ سے شروع ہوئی اور کہاں چلی گئی۔ دراصل ہم سب کے رویے ہماری تربیت اور ہماری تعلیم کی عکاسی کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے کے لوگ بچے کی گفتگو ، نشستن و برخواستن سے اندازہ لگاتے تھے کہ بچہ کسی اچھے خاندان کا ہے۔ اچھا خون ہے۔
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں
 اب خاندان کی روایات دم توڑ چکی ہیں ۔ اور رہی اساتذہ کی تو ہمارے اساتذہ بچے کو پڑھا نہیں رہے بلکہ انہیں ایک جنس سمجھتے ہیں جو ان کی کمائی کا ذریعہ ہے۔
ہمارے سامنے اصحاب صفہ سے لے کر جامعہ الاظہر تک کی مثالیں موجود ہیں ۔
میں سوچتا ہوں قوموں کو صدیاں گذر جاتی ہیں کوئی راستہ نہیں ملتا
ہمارے پاس راستہ بھی ہے۔ ہمارے پاس قرآن اور حدیث کی صورت میں ہر مسئلے کا حل  بھی موجودہے ۔
ہم کیوں بھٹکے ہوئے ہیں؟ 

2 comments:

  1. بالکل درست نشاندہی کی ہے ۔۔۔۔ راستہ جبھی ملتا ہے جب ہم ڈھونڈیں

    ReplyDelete
  2. آپ کی آمد اور رائے کا بہت شکریہ

    ReplyDelete