صفحات

Thursday, March 31, 2016

ایڈونچر ۔ ناولٹ۔ حصہ دوم


آنے والے دنوں میں شہلا کے مکان پرمیرا آنا جانا لگا رہا۔۔۔
اب ہماری بے تکلفی بہت بڑھ چکی تھی۔۔۔
ایک ملاقات میں مجھے شہلا نے اپنی کہانی بھی سنائی
وہ جس خاتون کو امی کہتی تھی ۔۔ وہ اس کی حقیقی ماں نہ تھی۔۔۔
نہ وہ اپنی حقیقی ماں کے بارے میں کچھ جانتی تھی۔۔۔
لیکن اتنا وہ جانتی تھی کہ وہ اس گلی سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔
نہ وہ اس ماحول میں خوش تھی۔۔
وہ اس ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔۔
میں اور اکمل اس سلسلے میں اکثر بات کرتے رہتے ۔۔۔

ہمیں اب آغاجی روز کے روز کچھ نہ نقد پیسے بھی دیتے تھے۔۔۔
تنخواہ کی بابت نہ ہم نے پوچھا نہ انہوں نے کوئی بات کی۔۔
ہاں اکمل اب کمیشن پر کام کرنے لگ گیا۔۔۔
وہ کچھ اور کام کی بھی باتیں کرتا تھا۔۔۔ جو وہ ساتھ ساتھ ہی کررہاتھا۔۔
اس نے کبھی اس کی تفصیل نہ بتائی لیکن اس کے پاس پیسے کافی ہوتے تھے۔۔

مجھے تو شہلا کے علاوہ کچھ سوجھتا نہ تھا۔۔۔
لیکن آہستہ آہستہ میں نے محسوس کیا ۔۔ شہلا کی امی کا رویہ اب بدلنے لگا تھا۔۔
ایک دفعہ مجھے کہنے لگی
جمیل بیٹے ۔۔۔
بہت مفت کی توڑ لیں۔۔۔
یہاں خالی جیب آنے والوں کی عزت نہیں ہوتی۔۔۔
تم شہلا کو پسند کرتے ہو تو
اس کے لئے کوئی تحفہ لاؤ۔۔ سونے کی چوڑیا ں بنوا کر لاؤ۔۔۔
اور میرے لئے بھی سونے کی انگوٹھی ۔۔۔

میں نے اکمل سے بات کی ۔۔
وہ ہنسنے لگا۔۔

پھربولا ۔۔
وہ بوڑھی حرافہ اپنی اصلیت پر آرہی ہے۔۔۔
اب تجھے عشق مہنگا پڑے گا۔۔۔بچے

میں تو سنجیدہ تھا۔۔۔۔ کہ کسی طرح بھی ہو۔۔
شہلا کے لئے چوڑیا ں ضرور بنواؤں گا۔۔
لیکن اکمل نے جب حساب لگا کر پیسے بتائے تو
میرے حواس گم ہوگئے۔۔
اتنے پیسے ۔۔۔؟
یہ تو ممکن ہی نہیں۔۔۔

میں شہلا کے پاس گیا تو اسے ساری بات بتا دی۔۔
وہ بھی پریشان ہوگئی ۔۔
کہنے لگی مجھے چوڑیوں کی ضرورت نہیں پر امی مجھ پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ
میں تمھیں کہوں۔۔
ہماری ملاقات تبھی جاری رہے گی جب تم یہ کرو گے۔۔ورنہ میرے لئے بھی
مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔۔
اب تو میں اور پریشان ہوگیا۔۔۔
ہرروز اکمل کو کہتا ۔۔۔ وہ پہلے تو ٹالتا رہا۔۔۔
پھر اس نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں کچھ نہ کچھ کرتا ہوں۔۔۔
چند دن بعد ہی وہ چوڑیا ں ۔۔۔ نیکلس اور کچھ زیور لے آیا۔۔
میں نے بہت پوچھا یہ سب کیسے آیا ۔۔
لیکن اس نے بتا کر نہ دیا ۔۔
کہا
بس آم کھاؤ۔۔۔ پیڑ نہ گنو۔۔
میں سب زیور لے کر جب شہلا کے مکان پر گیا تو
سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔ یہ مجھے نہ دو۔۔ یہ سب امی کو دو۔۔
وہ امی کو اندر بلانے گئی۔۔۔۔
اتنے میں اتنے ایک میں سوٹڈ بوٹد نوجوان اندر آیا۔۔
مجھے دیکھ کر کافی گھورتا رہا۔۔
بولا کچھ نہیں۔۔۔
جب شہلا اور اس کی امی آئیں تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
شہلا کی امی بھی اسے دیکھ کر گویا نہال ہو گئیں۔۔۔
اور اپنے بندوں کو آوازیں دینے لگیں۔۔۔
کسی کو کچھ لانےکو کہا کسی کو کچھ۔۔۔
ایسے میں ، میں اسے بھول چکا تھا۔۔۔
پھر شہلا نے امی کو میری طرف متوجہ کیا اور بتا یا کہ میں کیا لایا ہوں۔۔۔
وہ دیکتھی رہی۔۔۔اس کی آنکھوں کی چمک سے میں نے اندازہ لگایا۔۔
وہ خوش ہے۔۔
پھر اس نے وہ ڈبے اس نوجوان کی طرف بڑھائے
"
چوہدری صاحب۔۔۔۔
یہ زیور اپنی شہلا کے لئے آئے ہیں۔۔۔ یہ جمیل لایا ہے۔۔۔
چوہدری صاحب نے کھاجانے والی نظروں سے مجھے دیکھا

اور
اونہ کہ کر اٹھ گیا ۔۔۔
شہلا کی امی بھی اٹھ گئی اور اس کی خوشامد یں کرنے لگی ۔۔۔
شہلا نے مجھے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
پھر میرے کانوں میں کہا کہ یہاں سے اب جلدی سے چلے جاؤ

میرا دل تو نہ مان رہا تھا۔۔۔
پر شہلا کا کہنا کیسے ٹالتا ۔۔

میرا ذہن الجھ رہا تھا۔۔۔۔
یہ چوہدری کون ہے؟
اس کی اتنی آؤ بھگت کیوں رہی ہے؟
اور شہلا نے مجھے جانے کا کیوں کہا؟


میں اکمل سے سب کچھ شیئر کرنے کا پروگرام بناکر شہلا کے مکان سے
واپس آگیا ۔۔۔۔۔ لیکن واپسی پر ایک بہت ہی پریشان کن خبر میری منتظر تھی

کاؤئنٹر پر بیٹھے کلرک نے مجھے دیکھتے ہی اپنے پاس بلا لیا۔۔
اور رازداری سے بتایا کہ پولیس آج اکمل کو ہوٹل کے باہر سے پکڑ کر لے گئی ہے

میرا تو یہ خبر سنتے ہی خون خشک ہوگیا۔۔۔

مگر کیوں ۔۔۔ اکمل نے کیا کیا تھا؟

پتہ نہیں ۔۔۔ مختلف باتیں سننے میں آرہی ہیں۔۔۔
لیکن پچھلی گلی والے ہوٹل میں دودن پہلے ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ایک فیملی کے
سونے کے زیورات چوری ہو گئے تھے۔۔۔
وہاں سے سٹاف کے کچھ لوگ تو پولیس اسی دن پکڑکر لے گئی تھی۔۔۔
شاید اسی سلسلے میں اکمل کو بھی لے گئی ہو۔۔۔
ویسے بھی اکمل اس ہوٹل والوں کے لئے وقتافوقتا کام کرتا تھا۔۔۔

میں بڑی مشکل سے اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔
سر چکرا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔۔۔
یہ کیا ہو گیا ہے۔۔۔
اب پولیس کہیں مجھے بھی نہ پکڑ لے۔۔۔۔
جی میں آئی شہلا کے پاس چلاجاؤں ۔۔۔
اسے ساری بات بتا کر اس سے مشورہ یا مد د لوں
پھر سوچا
اسے کیوں پریشان کروں ۔۔۔ وہ لڑکی ہے کیا کرسکے گی

یا اللہ پھر کیا کروں؟
ڈربھی لگ رہا تھا۔۔۔۔
کبھی خیال آتا ۔۔۔ فورا یہاں‌ سے بھاگ جاؤں
پھر سوچتا۔۔
اکمل میرا دوست ہے اسے مصیبت میں چھوڑ کرنہیں بھاگنا چاہیے۔۔

اسکو میری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔
ہاں مجھے اسکی کسی بھی طرح مدد کرنی چاہیے۔۔۔
میں نےاللہ سے دعا کی کہ مجھے اور میرے دوست کو اس پریشانی سے نجات دلا
پھر میرے ذہن میں آیا
کیوں نہ آغا جی سے بات کروں۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔
ہمت کرکے اٹھا اور آغا کے پاس چلا گیا۔۔
انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا
"
آؤ جمیل بیٹے ۔۔۔۔
اکمل کے بارے میں بات کرنے آئے ہو"
میں نے اثبات میں سر ہلا یا۔۔
میرے چہرے پر موجود پریشانی کو شاید وہ دیکھتے ہی سمجھ گئے تھے
مجھے حوصلہ دینے لگے ۔۔
میں تو ان کی شفیق باتوں کو سنتے ہی دھاڑیں مارمارکر رونے لگا۔۔۔
وہ بھی پریشان ہوگئے۔۔
باہر سے بھی لڑکے آگئے ۔۔
آغا جی نے سب کو فورا ہی واپس بھیج دیا۔۔
اور مجھے بہت دیر تک پیار کرتے رہے۔۔

جب میں پرسکون ہوا تو کہنے لگے
"
جمیل بیٹے ۔۔۔ تو بھی میرے بیٹے کی ہی طرح ہے۔۔۔پر سچ تو یہ ہے کہ
تجھ میں اور اکمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔
میں کاروبار میں اتنا مصروف ہوتا ہوں کہ تم لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔۔۔
اکمل بہت ہوشیار ہے۔۔۔ ۔۔۔ اس کی حرکتیں مجھ سے چھپی نہ تھیں ۔۔۔
وہ دیگر ہوٹلزکے لئے بھی کام کرتا تھا۔۔ میں نے منع نہ کیا کیونکہ اس کے آنے کے
بعد ہمارے ہوٹل کے کمرے سب سے پہلے ہی بک ہو جاتے تھے۔۔۔
یقینا ہمارے بزنس کی بہتری میں اس کا کردار بھی تھا۔۔
یہی وجہ تھی کہ میں اس کی کئی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا۔۔۔
لیکن مجھے علم نہ تھا کہ وہ کسی چوری جیسے جرم میں بھی شامل ہو سکتا ہے
خیر۔۔۔ میں دیکھتا ہوں
آج ہی میں تھانے جاتا ہوں۔۔۔
سنا ہے انہوں نے ساتھ والے ہوٹل کے کئی سٹاف کے لوگوں کو بھی تھانے میں شک کی بنیا د پر بند کیا ہوا ہے۔۔۔۔ میرے کئی واقف تو ہیں۔۔
تم پریشان نہ ہو۔۔۔ "

میرے تو سر سے گویا کسی نے بھاری پتھر ہٹادیا ہو۔۔۔
ان کے کمرے سے نکلا تو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا۔۔۔

اور سیدھا اپنی رہائش پر آکر لیٹ گیا۔۔۔

سوچتا رہا۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔؟
پھر ایک دم ہی ایک خیال ذہن میں آیا تو

تو جیسےپورےجسم میں سرسراہٹ دوڑ گئی یوں جیسے کرنٹ لگا ہو۔۔۔۔

میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔ پورا وجود تھرتھر کانپ رہا تھا۔۔۔۔

توکیا وہ۔۔۔۔۔ زیور ۔۔۔
جو میں شہلا کے لئے لے گیاتھا۔۔۔
وہ اکمل نے چوری کیے تھے؟
یہ وہ خیال تھا جس نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

ہاں ایسا ہی ہوگا۔۔۔
بھلا اتنے قیمی زیورات اکمل کہاں سے خرید سکتا تھا۔۔۔۔
تو وہ میری وجہ سے پکڑا گیا۔۔۔
میری آنکھیں برسنے لگیں۔۔۔
یااللہ میرے دوست کو بچالے۔۔۔ اس نے یہ جرم میری وجہ سے کیا ہے
یا اللہ اسے بچالے۔۔۔
میں رہا تھا ور دعائیں مانگ رہا تھا۔۔۔۔

رات کے دس بجے ایک سٹاف کا لڑکا آیا تو اس نے لائٹ جلائی
مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔
جمیل تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔
آج ڈیوٹی پر نہیں گئے ۔۔۔
تمھاری طیعت تو ٹھیک ہے۔۔
اس نے تو سوالات کی بھرمارکردی۔۔۔
پھر خود ہی کہنے لگا۔۔۔
اچھا چھپ کر بیٹھے ہو۔۔۔
تمھارا دوست جوپولیس پکڑکر لے گئی ہے۔۔۔۔۔
پھروہ استہزائیہ ہنسی ہنسنے لگا۔۔۔
میں تو اس کی باتیں سنتا رہا
کچھ بھی نہ بولا
بولتا بھی کیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا
میں باہر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔
کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے سے معذرت کی ۔۔۔ آج میں ڈیوٹی پر جو لیٹ آیا
اس نے خوش دلی سے کہا
کوئی بات نہیں۔۔۔۔مجھے تمھاری پریشانی کا اندازہ ہے۔۔۔
جاؤ پہلے کھانا وغیرہ کھالو۔۔۔ پھر آجانا
پر میرا تو کچھ کھانے کو بھی جی نہیں تھا۔۔۔
بس اسی کے پاس بیٹھا رہا۔۔۔
گاہک آتے رہے ۔۔۔ جی بہلا رہا
رات کے تقریبا ساڑھے گیارہ بجے آغا جی آئے تو میں دوڑ کر ان کے پاس گیا
وہ مجھے ساتھ لیتے ہوئے اپنے آفس میں چل دیے
پھر انہوں نے مجھے بتا یا کہ وہ تھانے گئے تھے۔۔۔
تھانے والے تو ہتھے سے ہی اکھڑے ہوئے تھے۔۔۔
جس فیملی کے زیورات چوری ہوئے ہیں وہ کافی تگڑی پارٹی ہے۔۔۔
اور وہ تھانے والوں کو پریشرائز کررہے ہیں۔۔۔
میرے پاس اکمل کےلئے بہت مضبوط پوائنٹ یہی تھا کہ وہ میرے ہاں ملازم ہے
وہ تو اس ہوٹل کا ملازم ہی نہیں ۔۔۔
لیکن شاید اس ہوٹل کے کسی ملازم نے اسے چوری والے دن اس ہوٹل میں دیکھا تھا۔۔
تھانیدار کو کچھ پیسے دینے پڑیں گے۔۔۔
امید ہے کل تک وہ اکمل کو چھوڑ دیں گے۔۔۔
کیونکہ ان کے پاس اکمل کے حوالے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ۔۔۔

میں ان کا شکریہ ادا کرکے باہرآگیا۔۔۔۔

اورواپس کمرے میں آکر میں آکر اللہ کے آگے سجدے میں جھک گیا۔۔۔

دوسرے دن میں دن میں صبح ہی اٹھ گیا۔۔۔
بہت دنوں کے بعد فجر کی نماز پڑھی۔۔۔
آخری نماز داتا دربار میں پڑھی تھی۔۔۔۔
نماز کے بعد بہت دیر تک دعائیں مانگتا رہا۔۔۔
دل کو کافی سکون ملا
آغا جی کی رہائش ہوٹل کے قریب ہی تھی وہ۔۔۔
اکثر صبح لیٹ ہی آتے تھے۔۔۔
میں اس لئے پھر چارپائی پر لیٹ گیا۔۔۔
اور سوگیا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔۔ شاید آغا جی کی تسلی اور اللہ سے دعا کے
بعد میں بہت پرسکون ہو گیا تھا۔۔ میں بہت دیر تک سوتا رہا۔۔۔
شاید دن کے بارہ بجے ہوں گے کہ مجھے کسی نے جگایا۔۔۔
ہوٹل کا ہی ایک ملازم تھا۔۔
اس نے کہا
مجھے آغا جی بلا رہے ہیں۔۔
میں نے جلدی سے ہاتھ منہ دھویا۔۔
اور آغا جی کے آفس پہنچ گیا۔۔۔
وہاں اکمل بھی موجود تھا۔۔۔
اسے دیکھ کر تو مجھے ایسے لگا۔۔۔۔
جیسے وہ صدیوں بعد ملا ہو۔۔۔ سچی بہت خوشی ہوئی
میں نے اسے بہت دیر تک اپنے سینے سے لگائے رکھا۔۔

آنسو اسکی پشت کو گیلا کرتے رہے۔۔۔
آغا جی یہ سب دیکھ کر مسکراتے رہے۔۔۔

پھر کہا
جمیل تمھارا دوست اب تو میں لے آیا ہوں۔۔۔
اسے سمجھا دے۔۔۔ ۔۔۔ یہ کام میں دوبارہ نہیں کروں گا۔۔۔
اور ہاں ۔۔۔
اب میں تم لوگوں کے بارے میں مکمل معلومات کےلئے جلد ہی کسی کو
آپ کے دیے گئے پتے پر بھی بھیجتا ہوں۔۔۔
ابھی جاؤ۔۔۔ اور اسکی ٹکور شکور کرو۔۔
پولیس نے "پیار" تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔

میں اکمل کو لے کر کمرے میں آگیا ۔۔۔
میرا خیال تھا۔۔۔ اکمل کی نظروں میں شرمندگی ہوگی۔۔
اور وہ مجھے اس بات کی وضاحت کرے گا۔۔۔ کہ یہ کام اس نے میری وجہ سے کیا

پر اکمل کا لہجہ تو اب کچھ اور ہی تھا۔۔۔
مجھے کہنے لگا
"
اور سناؤ سجنو۔۔۔۔ تمھاری محبوبہ کا کیا حال ہے؟"

میں تو حیران رہ گیا۔۔۔۔
اور اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔
مجھے اکمل کے اندر کچھ عجیب سا لگا۔۔۔
وہ اب لڑکا نہیں ۔۔۔۔
ایک میچور نوجوان دکھنے لگا۔۔۔
اسکے چہرے پر بھی عجیب ہی بے حسی دکھائی دے رہی تھی۔۔

ویسے شاید یہ پہلے کئی دن سے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کے انداز بدل رہے تھے۔۔۔
پر آج تو مجھے کچھ زیادہ ہی محسوس ہوا۔۔
مجھے اپنی طرف اتنی غور سے دیکھنے پر بولا

کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔کیا میرے سینگ نکل آئے ہیں۔۔۔

میں ہنس پڑا

سینگ تو نہیں ۔۔۔ پر کچھ عجیب تو ہے۔۔۔۔

ارے چھوڑو یار۔۔۔۔
کچھ عجیب نہیں۔۔۔
تو بتا نا۔۔۔
تیری محبت کا کیا حال ہے۔۔۔ چکر لگاتے رہتے ہو

ہاں ۔۔۔ میں پرسوں گیا تھا۔۔۔
پھر مجھے ایک دم خیال آیا۔۔۔۔۔
اررے میں نے تو اکمل سے بہت سی باتیں شیئر کرنی تھیں۔۔۔
پھر میں نے اسے ساری بات بتائی ۔۔۔
خاص طور پر چوہدری کے حوالے سے۔۔۔

وہ سنتا رہا۔۔۔
کہنے لگا۔۔۔ تمھیں میں نے اب تک تو نہ روکا پر اب تمھیں یہی کہوں گا ۔۔ کہ چھوڑ دے۔۔ اس لڑکی کا خیال۔۔۔
وہ لالچی لوگ ہیں۔۔۔۔ ۔۔۔ پہلے پیسے اکٹھے کر ۔۔۔پھر عشق کرنا۔۔۔
تو سادہ ہے۔۔۔ اب چالاکی سیکھ۔۔ ورنہ ۔۔۔۔

ورنہ کیا۔۔۔۔؟ میں نے بے تابی سے پوچھا۔۔

ارے پگلے یہ لاہور ہے۔۔۔ لوگ یہاں بندے بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
تو اب گاؤں میں نہیں ہے۔۔۔
اچھا خیر۔۔۔ تجھے میں سب کچھ سکھا دوں گا۔۔۔

پھر اس نے اپنی قمیص اتاری تو اس کے جسم پر نیل دیکھ کر میں تو پریشان ہوگیا۔۔

وہ مجھے پریشان دیکھ کر ہنسنے لگا ۔۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ یہ تو ابتدا ہے یار۔۔۔۔

وہ شاید راستے سے کچھ دوائیاں اور لوشن سے لے کر آیا تھا۔۔
میں اسکی کافی دیر تک مالش کرتا رہا۔۔۔
جب وہ سو گیا تو میں باہر کاؤنٹر پر آگیا ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دن کے تین بجے میں واپس کمرے میں گیا۔۔
میں نے سوچا کہ جمیل کو بھی جگا دوں
اس نے کھانا بھی کھانا ہو گا
اور شاید دوائی بھی لینی ہو

جمیل کو بڑی مشکل سے جگایا۔۔۔
اور اسے کھانے کے بعد دوائی وغیرہ دی

وہ کچھ تھکن، درد کے ساتھ ساتھ عنودگی محسو س کر رہا تھا
شاید دوائیوں کا اثرتھا۔۔۔
وہ پھر سے سو گیا۔۔۔
میں بھی اس کے پا س ہی لیٹ گیا۔۔۔

ذہن میں مختلف سوچیں گردش کررہی تھیں۔۔۔
اکمل کا تھانے جانا اور واپس آنا
ایک بہت ہی پریشان کن واقعہ تھا۔۔
میں اس بارے میں بہت غور کرتا رہا۔۔۔
مجھ لگ رہا تھا۔۔۔ اب ہمارا یہاں رہنا کافی خطرناک ہے۔۔۔
لیکن یہ بات اکمل سے کرنا ضروری تھا۔۔۔
ابھی تو اس کی طبیعت سبھلنا ضروری تھا۔۔۔

پھر میں نے سوچا ۔۔
آج مجھے شہلا کے ہاں بھی جانا چاہیے
دودن سے نہ گیا تھا۔۔۔
وہ تو بہت پریشان ہوگی۔۔
اکمل مجھے اسے بھول جانے کا کہ رہا تھا۔۔۔
ناممکن۔۔۔
یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
میرے لئے اکمل کا یہ مشورہ قابل قبول نہ تھا۔۔۔

پانج بجے کا وقت ہوگا کہ ہوٹل کا ایک ملازم مجھے بلانے آیا
کوئی بندہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔
میں حیران ہوگیا
میرا یہاں کوئی جاننے والا نہ تھا۔۔۔۔
پھرکون ملنے آگیا۔۔۔۔۔
اکمل کی طرف دیکھا تو وہ بے ہوش سویا ہوا تھا۔۔۔۔
خیر۔۔۔ باہر کاؤنٹر پر آیا۔۔۔
تو وہاں ایک آدمی کھڑا تھا۔۔۔۔ اسے میں نے اکثر شہلا کے مکان پر دیکھا تھا۔۔۔
وہ بھی مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا۔۔۔

فورا ہی میرے پاس آیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔۔۔
پھر جیب سے ایک لفافہ نکال کر مجھے دیا

یہ شہلا بی بی نے آپ کے لئے دیا ہے۔۔۔

میں چکرا سا گیا۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے شہلا کو اپنے ہوٹل کا پتہ سچ بتا یا تھا۔۔۔ اسے میں نے اپنے سارے
حالا ت سچ سچ بتائے تھے۔۔۔ پر اسے منع بھی کیا تھا کہ یہ بات کسی اور سے نہ کرے
آج اس بندے کو اپنے ہوٹل میں دیکھ کر میرا پریشان ہونا فطری تھا۔۔۔

میں نے اس کو ادھر ہی ایک صوفے پر بٹھایا۔۔۔ اور خود کمرے میں آگیا
لفافے کو کھولا تو ایک خط نکلا

میرے پیارے جمیل

تم دودن سے نہیں آرہے تھے۔ میں بہت پریشان تھی۔۔۔ ادھر حالا ت بہت گمبھیر ہو گئے
ہیں۔ اس دن جو بندہ تمھیں ہمارے مکان پر ملا تھا۔۔۔ اس کا نام فواد چوہدری ہے۔ بہت
مالدار ہے۔۔ وہ کافی عرصہ سے میرے پیچھے پڑا ہے ۔۔کہ مجھ سے شادی کرے گا۔۔
مجھے وہ بالکل پسند نہیں ۔پھر امی بھی میرے جیسی سونے کی چڑیا کو کب ہاتھ سے
جانے دیتی ہے۔۔ وہ اس سے مال تو بٹورتی رہی ۔۔ پر شادی کی بات پر ٹرخاتی رہی ۔

جب سے تم آئے ہو۔۔ امی کچھ پریشان ہے۔۔ وہ تمھاری لئے میری آنکھوں میں پائی جانے والی سچی محبت کو جانتی ہے۔ پر اس کا خیال تھا تم کسی غریب خاندان کے ہو
اسی لئے تمھیں زیور لانے کا بولا۔ اس کا خیال تھا۔ تم زیور تو کجا۔۔۔ اب شاید ہمارے
مکان پر بھی نہ آؤ۔۔۔
جب تم زیور لے آئے تو اتفاق سے اسی دن چوہدری فواد بھی آگیا۔۔۔ اب وہ اور بھی زور
دینے لگا۔۔۔ امی کی سوچ بھی بدل گئی ہے۔۔۔ وہ بہت سا مال لے کر مجھے بیچنا چاہتی ہے۔وہ اب مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں چوہدری سے شادی کرلوں۔۔۔
میرا دل اس گندے ماحول سے تنگ آچکا ہے۔۔۔ میں نے زندگی میں پہلی اور آخری بار تم سے محبت کی ہے۔۔۔ خدا کے لئے مجھے اس ماحول سے نکالو۔۔۔
میں ہرطرح کے حالات میں جی لوں گی۔۔۔ تم جہاں لے جاؤ گے۔۔چلوں گی تمھارے سنگ۔ اب میں مزید یہاں نہیں رہ سکتی
جمیل وقت بہت کم ہے۔۔۔ بلکہ وقت ہے ہی نہیں۔۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا ۔۔۔
میں آج ہی یہاں سے بھاگنا چاہتی ہوں۔۔۔ میں روز پہلا گانا گا کر ساڑھے گیارہ بجے
نیچے آتی ہوں ۔۔ اس وقت سب لوگ اوپر محفل میں ہوتے ہیں۔۔۔۔ بس یہی وقت مناسب ہے کہ میں گھر سے نکل چلوں۔۔۔
تم ساڑھے گیارہ بجے گلی کی نکڑ پر پہنچ جانا۔۔۔۔
اب اپناجواب فورا اس بندے کے ہاتھ بھیج دو۔۔۔
پلیز جمیل مجھے مایوس نہ کر نا۔۔۔۔

صرف تمھاری
شہلا

میں سن ہو کر رہ گیا۔۔۔
میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھاحالات مجھے اس موڑ پر لے آئیں گے۔۔۔۔

میں نے اکمل کو جگایا اور اسے سارے حالات بتائے۔۔۔
وہ بہت اطمینان سے ساری بات سنتا رہا۔۔۔
اور خط بھی پڑھا۔۔۔

تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے مجھ سے پوچھا۔۔
میں شہلاکے بغیراب زندگی کا تصوربھی نہیں کرسکتا ۔۔۔میرا لہجہ اٹل تھا

اکمل نے پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔۔
اور کہا
یار جمیل ۔۔۔ تیرے ساتھ یاری تو بچپن کی ہے نا۔۔۔۔ ۔۔ یہ یاری مرتے دم تک چلے گی
یہی ہم دونوں کا وعدہ ہے۔۔۔
تو فکرنہ کر۔۔۔ تیرا یہ دوست اب ۔۔۔۔ بہت کچھ سیکھ گیا ہے۔۔۔
گرچہ میں لڑکیوں سے محبت وحبت کے چکرسے تمھیں دور ہی رکھنا چاہتا تھا
پر کیا کریں ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ کچھ زیادہ ہی انوالو ہو گیا ہے۔۔۔

ایسا ہے کہ تو اس بندے کو واپسی جواب میں لکھ دے کہ تو رات ساڑھے گیارہ سے
پہلے گلی کی نکڑ پہ پہنچ جائے گا۔۔۔۔ ۔۔۔

جا اس کو فارغ کر ۔۔۔پھر میں کچھ پلان بناتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

میں اکمل کے گلے لگ کر بے اختیار اسے چومنے لگا۔۔۔
اس نے زبردستی مجھے پیچھے ہٹا یا۔۔۔
یار کچھ تو خیال کر ۔۔۔ میں پولیس کی مار کھا کر آیا ہوں۔۔۔
تیری اٹکھیلیاں میرے لئے تکلیف دہ ہیں۔۔۔

میں نے فوری جواب لکھا اور اسے لفافے میں بند کرکے اس بندے کے حوالے کیا۔۔۔
جو شہلا کے پاس سے آیا تھا۔۔۔
اسے ساتھ میں کچھ پیسے بھی دیے ۔۔۔ اور وہ چلا گیا۔۔۔
میں دوبارہ اکمل کے پاس آیا ۔۔۔
وہ اپنے بیگ میں سے کچھ کا غذ نکال رہا تھا۔۔۔۔
پھر اس نے اس میں سے دوتین ٹیلی فون نمبر نوٹ کیے ۔۔۔

اور کہا چلوباہر چلتے ہیں ۔۔۔

باہر آکر اس نے ایک پی سی او سے کچھ ٹیلی فون کالیں کیں

پھر واپس ہوٹل آگئے ۔۔۔ اس نے کہا
تمھارا کام بن گیاہے۔۔۔

وہ کیسے ؟
کہنے لگا ۔۔
تم آج شہلا کو لے اس ایڈریس پر چلے جانا ۔۔۔ اپنے دوست شاکی کا ڈیرہ ہے
وہاں وہ تمھیں ایک رات کے لئے جگہ دیں گے۔۔۔
پھر صبح سویرے وہاں سے تمھیں اور شہلا کو ٹیکسی کردیں گے۔۔۔
اور تمھیں شاہدرہ سے آگے شیخوپورہ روڈ پر ایک علاقے بیگم کوٹ میں جانا ہو گا۔۔
وہاں کا مکمل ایڈریس تمھیں شاکی سمجھادے گا۔۔۔۔۔
تم وہاں تسلی سے دودن رہو۔۔۔ میں بھی تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہاں رہنا ہمارے لئے ویسے بھی خطرناک ہے۔۔۔ تھانے میں نام آگیا ہے۔۔
اور آغا جی بھی کہ رہے تھے کہ وہ ہمارے گاؤں سے ہمارا پتہ کروائیں گے۔۔
اس سے پہلے کہ حالات زیادہ خراب ہوں ۔۔
یہاں سے نکل جانا ٹھیک رہے گا۔۔۔

تو بے فکر ہوکر بیگم کوٹ چلا جا۔۔۔۔۔
اور وہاں رہ۔۔۔
اور خبردار جو شہلا کے حوالے سے کوئی کمزوری دکھائی ۔۔۔
کہنا کہ تمھاری بیوی ہے۔۔۔۔۔
لیکن نہیں یار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں چلے گا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔
ایسا کر سچ ہی بول دینا ۔۔۔۔
پر راستے میں اگر کوئی پوچھے تو بیوی بولنا۔۔۔
اس نے مجھے اور بھی کچھ باتیں بتائیں۔۔۔۔

میں نے اسے کہا کہ کیا میں آغا جی سے مل کر انہیں بتادوں کہ میں جارہا ہوں۔۔۔

اکمل تو ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا۔۔

ارے بدھو۔۔۔ ۔۔۔۔
یار تو بھی کمال ہے۔۔۔۔
بالکل نہیں‌بتا نا۔۔۔۔

پر یار وہ تو بہت اچھے ہیں ۔۔۔ سچی بہت اچھے ہیں مجھے اپنے اپنے سے لگے ہیں
انہوں نے ہم پر بہت احسان کیا ہے۔۔

چھوڑو یار یہ اپنا۔۔۔پرایا ۔۔۔
اور احسان وحسان۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوتا یہ سب کچھ۔۔
سب مطلب کے بندے ہوتے ہیں جانی۔۔۔ مطلب کے

تو ٹھوکر کھائے گا تو سیکھ جائے گا۔۔۔۔ کوئی کسی کا نہیں ۔۔۔
ہم جو اتنے مخلص ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے کوئی لالچ نہیں
جس دن لالچ ہمارے بیچ آگیا۔۔۔ اس دن تم دیکھنا ۔۔۔
اور یہ آغاجی اور باقی لوگ۔۔۔
یہ شہری لوگ ہیں ۔۔۔۔ یہ مطلب کے وقت بچے کو باپ اور باپ کو چچا بنالیتے ہیں۔۔

سیکھ جاؤ گے جلدی سیکھ جاؤ گے۔۔۔

میں الجھن میں پڑ گیا۔۔۔
دل تو کہ رہا تھا کہ آغاجی ایسے نہیں ہیں ۔۔۔ لیکن اکمل کی باتیں بھی ٹھیک ہی لگ رہی تھیں۔۔۔

مجھے الجھن میں دیکھ کر اکمل نے میری پیٹھ تھپتھائی ۔۔۔اور کہا

چھوڑدو سب سوچوں کو۔۔۔ بس اب تیاری کرو۔۔۔
اور یہ بات کسی کو بھی نہیں بتانی ۔۔۔
پھر اس نے بیگ میں سے کچھ پیسے نکالے۔۔۔ اور مجھے دیے
کہ رکھ لو۔۔۔

پھر کہا کہ تم یہاں سے خالی ہاتھ ہی جانا۔۔۔ تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔۔
میں بھی موقع دیکھ کر کل تک نکل جاؤں گا۔۔
ہاں تیرے پاس شاید دو دن بعد آؤں ۔۔۔ کچھ کام بھی ہے اور کچھ حالات کا جائزہ بھی لوں گا۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس دن سورج ڈوبنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
میں نےکئی بار باہر نکل کر چکرلگائے۔۔۔
باہرفاروق کے پاس بھی کھڑا رہا۔۔
پھر دوتین بار کاؤنٹر پر بھی آیا۔۔

لیکن وقت تو گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اکمل تو پھرسے لیٹ گیا ۔۔۔۔
اس کی دوائیوں میں کچھ خواب آورچیز ہوگی۔۔۔ کہ وہ باربار سو جاتا تھا۔۔

میں جو یوں باربار ادھر ادھر آرہاتھا تو کاؤنٹر پر بیٹھے میرے ساتھی ملازم نے
مجھے بلا لیا۔۔۔

جمیل کیا بات ہے؟
کیوں باربار اندر باہر آ جارہے ہو؟
کسی نے آنا ہے کیا؟

نہیں تو۔۔۔۔ بس ویسے ہی۔۔۔ میں گڑبڑا سا گیا۔۔۔

اچھا۔۔۔؟ لگتا ہے کچھ مسئلہ ہے تمھارے ساتھ۔۔۔۔
اور وہ بندہ کون تھا۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے آیا تھا۔۔۔
تمھارا تو ادھر کوئی جاننے والا کبھی نہیں آیا

سچی بات ہے میں تو گھبرا گیا۔۔۔
کہیں اسے پتہ نہ چل جائے۔۔۔ ۔۔۔ ورنہ اکمل بہت ناراض ہوگا۔۔

میں نے اسے کچھ باتیں بناکر مطمئن تو کرنے کی کوشش کی۔۔
لیکن مجھے لگا نہیں کہ وہ مطمئن ہوا ہوگا۔۔۔

بلکہ میری باتوں کے دوران وہ مجھےبہت عجیب نظروں سے دیکھتا رہا۔۔۔

وہ توشکرہے کہ اس کی ڈیوٹی رات آٹھ بجے ختم ہو جانی تھی۔۔۔

میں اب محتاط ہو گیا ۔۔۔اور اندر اپنے رہانشی کمرے میں چلا گیا۔۔۔

اکمل حسب سابق سویاہوا ہی تھا۔۔۔
اسے سوتا دیکھتا رہا۔۔۔
اور سوچتا رہا۔۔۔
یہ میرا دوست اکمل بھی کیا چیز ہے؟

میں جو کل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔کہ
یہ کچھ عجیب سا ہو گیا ہے۔۔۔
تو وہ اتنا غلط بھی نہیں ۔۔۔ تھا۔۔
اس کے تعلقات تو اب وسیع ہو گئے تھے۔۔
پر میرے لئے تو یہ بہت فائدہ مند ہیں
میں سوچنے لگا۔۔۔
اگرمیں اکیلا ہوتا تو شاید شہلا کو کبھی کہیں نہ لے جا سکتا ۔۔

اور اب ۔۔؟
میں آنے والے حالا ت کے بارے میں سوچتے ہی الجھن میں پڑ گیا۔۔۔
میں اس کے ساتھ کسی اجنبی جگہ پر کیسے رہوں گا۔۔
پھر اسے سا تھ لے کر کیسے بیگم کوٹ تک جاؤں گا۔؟

باتیں تو پریشان کن تھیں۔۔۔ پر یہ سوچ ہمت بندھاتی تھی کہ شہلا کو
اس ماحول سے نکالنا ہے ، بلکہ شہلا کو نہیں اپنی محبت کو۔۔۔
ہاں ۔۔۔ اس کو مجھ پرمان ہے۔۔۔ میری محبت پر اعتماد ہے
سو مجھے اس اعتماد پر پورا اترنا ہے۔۔۔

میں نے غور کیا ۔۔۔ اب میری سوچ بھی بہتر ہوتی جا رہی تھی
اب مجھ میں بھی ہمت آتی جا رہی تھی۔۔
لاہور مجھے بھی بدل رہا تھا۔۔۔
اب آنے والے وقت اور کتنا بدلے گا۔۔۔؟

میں خود ہی مسکرانے لگا۔۔۔

اچانک ہی اکمل کی آواز آئی۔۔۔

میرامجنوں ۔۔۔ کیا سوچ کے مسکرا رہا ہے؟

وہ۔۔ وہ مم میں۔۔۔۔ تم جاگ گئے ہو اکمل

چلو اچھا ہوا۔۔۔ میں نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو آٹھ سے اوپر رہے تھے۔۔
آج میری ویسے بھی چھٹی تھی ۔۔۔ اور اکمل تو تھا ہی چھٹیوں پر

ہم نے کچھ دیرباتیں کیں۔۔۔
پھر کھانے کے لئے اوپر گئے ۔۔۔ کھانا وغیرہ کھاتے کھاتے اور باتیں کرتے
رات کے دس بج گئے۔۔۔۔
میں نے اکمل سے کہا مجھے اب چلنا چاہیے ۔۔
وہ کہنے لگا
ہاں ٹھیک ۔۔۔ کچھ پہلے ہی پہنچ جاؤ۔۔۔
لیکن وہاں اپنے آپ کو مشکوک نہ بنانا۔۔۔ نہ کسی کی نظروں میں آنا
شہلا کو ساتھ لے کر فورا ہی رکشہ پر دیے گئے پتے پر پہنچ جانا۔۔۔

میں اللہ کا نام لے کر ہوٹل سے نکل آیا۔۔۔
اور طے شدہ مقام پر گیارہ بجے کے لگ بھگ پہنچ گیا۔۔۔
اب مجھے شہلا کا انتظار تھا۔۔۔

پونے بارہ بجے کے لگ بھگ ایک سیاہ چادر میں ملبوس شہلا میرے پاس پہنچ گئی
اس نے مجھے دیکتھے ہی کہا۔۔
جلدی سے یہاں سے نکلو۔۔۔
میں نےاکمل کی ہدائت کے مطابق باہرروڈ پر آکر ایک رکشہ کیا
اور اسے ایڈریس بتا یا۔۔۔۔
دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
کبھی ایسے حالا ت سے پہلے گذرا ہی نہ تھا۔۔۔۔
راستے بھر کوئی بات نہ ہوئی ۔۔۔
شہلا بھی بالکل چپ بیٹھی رہی ۔۔۔
لیکن گھبرائی ہوئی اور بے چین سی محسوس ہورہی تھی
مجھے تو اکمل نے منع کیا تھا کہ راستے میں حتی الوسع خاموش ہی رہنا

کافی دیرکے بعد ہم اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے
ایک بہت پرانے مکانوں پر مشتمل آبادی تھی۔۔۔
ہمیں رکشے والے ایک گلی کے موڑ پر اتارا اور کہا۔۔۔
"
صاحب یہی جگہ ہے نا؟"
میں تو پہلی دفعہ آیا تھا پر اسے بول دیا کہ ٹھیک ہے۔۔۔
پیسے دے کر اسے فارغ کیا ۔۔۔

پھر آگے بڑھے ۔۔۔ مجھے اکمل نے مکان کی ایک نشانی بتائی تھی۔۔۔
میں نے جلدہی وہ مکان دیکھ لیا۔۔۔
گھنٹی بجائی تو اندر سے ایک بدمعاش قسم کا بندہ باہر آیا۔۔۔
میں ایک دفعہ تو اسے دیکھ کرہی بدحواس ہو گیا۔۔۔
لیکن اس نے مجھے غور سے دیکھا پھر میرے پیچھے کھڑی شہلا کی طرف دیکھا
اور کہا
آپ اکمل کے دوست ہو نا۔۔۔
میں نے فورا ہی کہا
جی ۔۔ہاں
کہنے لگا۔۔۔
اندر آجائیں ۔۔۔ ہم آپ کا ہی انتظارکررہے تھے۔۔
یہ کہتے ہی اس نے دروازہ کھول دیا۔۔
اندر آتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک کھلا صحن ہے۔۔۔ جسکے صرف ایک
طرف تین کمرے سے بنے تھے۔۔۔
صحن میں ایک طرف شاید باتھ روم بنا ہوا تھا۔۔۔
وہ مجھے کہنے لگا۔۔
بہن جی کو ۔۔۔ سامنے والے کمرے میں بھیج دیں۔۔۔
ادھر کوئی نہیں اور آپ ادھر آجائیں۔۔۔
پہلے استاد شاکی کو سلام دعاکرلیں۔۔۔

شہلا کچھ جھجک سی رہی تھی۔۔
میں نے اس آدمی سے کہا
آپ ایک منٹ رکیں۔۔۔
میں انہیں کمرے میں چھوڑ آؤں۔۔
پھر شہلا کے ساتھ اندر کمرے میں گیا۔۔
ایک سادہ سا کمرہ تھا۔۔۔لیکن کافی کھلا تھا۔۔
اس میں نیچے زمیں پر ہی گدے اور چادریں بچھی ہوئی تھیں۔۔۔
ایک طرف ٹیبل پر پانی کا جگ اور گلاس تھے ۔۔۔ ساتھ ہی دو تین کرسیاں پڑی تھیں
کمرے میں ایک ٹیوب جل رہی تھی جس سے کافی روشنی آرہی تھی۔۔
ایک طر ف کچھ خالی ڈبے سے پڑے تھے۔۔۔ اور ایک الماری تھی جو بند تھی۔۔۔
میں نے شہلا کو کہا۔۔
یہ میرے دوست اکمل کے جاننے والے ہیں
تم بے فکر ہو کے ادھر بیٹھو یا لیٹ جاؤ
میں استاد شاکی سے مل کر آتا ہوں

پتہ نہیں یہ شہلا کی قربت کا اثر تھا کہ کیا تھا
میں کافی پر اعتماد انداز سے بول بھی رہا تھا۔۔۔ اور مجھے اپنے اندر
کافی توانائی بھی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
شہلا میرے کہنے پر ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
میں باہر نکل آیا۔۔

پھر ساتھ والے کمرے گیا تو وہاں چار آدمی اور بھی موجود تھے
سب نے اٹھ کر مجھے خوش آمدید کہا اور بہت عزت سے ملے

ان میں ایک بڑی بڑی مونچھوں والا جو شکل سے کافی خطرناک دکھ رہا تھا۔۔۔
اس کا تعارف شاکی استاد کے طور پر کروایا گیا۔۔۔
انہوں نے مجھ سےپوچھا کہ کیا میں آسانی سے پہنچ گیا۔۔کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی
میں نے انہیں بتا یا کہ نہیں اکمل نے سب سمجھا دیا تھا۔۔۔
پھر استاد شاکی نے اکمل کے بارے میں پوچھا۔۔۔
اس کی طبیعت کیسی ہے؟
میں نے خیریت بتائی تو کہنے لگا
یار بہت دلیر اور سمجھدار آدمی ہے۔۔۔
میری اس سے پہلے بھی ایک دو دفعہ ملاقات ہوئی ۔ پھر اتفاق سے جیل میں بھی ایک رات اکٹھے گذاری۔ میں بھی کل ہی اپنی سسرال سے واپس آیا ہوں۔ اور ہنسنے لگا۔۔۔۔
اس کے ساتھی بھی اس کے سا تھ ہنس رہے تھے۔۔۔
مجھے کافی الجھن ہونے لگی ۔۔
مجھے اکمل نے بتا یا تو تھا۔۔۔
اور یہ بھی یقین دلا یا تھا۔۔۔ کہ
یہ لوگ قابل اعتما د ہیں اور پورا تعاون کریں گے۔۔۔
پھربھی میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔۔۔
انہوں نے مجھ سے کھانے کا پوچھا۔۔۔
میں تو کھا چکا تھا۔۔۔ پر شہلا کا مجھے پتہ نہ تھا۔۔۔
میں نے پھربھی انہیں منع کردیا کہ ہم کھانا کھا چکےہیں۔۔۔
انہوں نے بہت ضد کی ۔۔ پھر ان کے کہنے پر میں نے چائے کا کہ دیا۔۔۔
اور کہا کہ اگر برا نہ منائیں تو میں ادھر دوسرے میں کمرے میں ہی چائے پیوں گا۔۔
استاد شاکی نے کہا
کوئی مسئلہ نہیں سوہنیو۔۔
جیسے آپ چاہیں۔۔۔
اگر موڈ بنے تو ایک بازی تاش کی لگانے آجانا ۔۔
ورنہ سونا ہے تو سو جاؤ۔۔
میں واپس شہلا کے پاس آگیا۔۔۔

اس نے چادر اتار دی تھی اور جو ایک طرف رکھی تھی
اور نیچے گدے پر بیٹھی تھی
اس کے پاس ایک چھوٹا سا بیگ بھی تھا ۔۔۔ اور ایک پرس بھی وہ اس نے پاس ہی رکھا تھا۔ میں بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
اور اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔
وہ خاموش رہی۔۔
کچھ بات نہ سوجھ رہی تھی۔۔۔
اتنے میںدروازہ کھٹکا۔۔۔
میں اٹھ کر گیا تو باہر وہی بندہ کھڑا تھا جس سے سب سے پہلے ملاقات ہوئی تھی
اس کا نام ہاشو پتہ چلا تھا۔۔۔
اس نے چائے کی کیتلی اور دو کپ مجھے دیے ۔۔۔
میں چائے لے کر شہلا کے پاس آیا
اور اس سے پوچھا۔۔
کیا تم نے کھانا کھا لیا تھا۔۔۔
اس نے اثبات میں گردن ہلائی
میں اسے چائے دی۔۔
اور خود بھی ڈال کر پینے لگا۔۔۔
چائے پی کر ۔۔۔۔ شہلا بھی کچھ بہتر ہوگئی۔۔

کہنے لگی۔۔۔
یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ اور کہاں لے آئے ہو۔۔؟

بتایا تو ہے ۔۔۔ اکمل کے دوست ہیں ۔۔۔ اور اسی کے بقول قابل اعتما د ہیں
پھر میں نے اسے سارا پروگرام بتا یا۔۔۔

وہ کچھ مطمئن ہوئی ۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔
اچھا ہوتا ہم رات کو ہی نکل جاتے ۔۔۔
میں نے اسے تسلی دی۔۔
اللہ بہتر کرے گا۔۔۔
تم فکر نہ کرو۔۔۔

وہ مسکرائی اور کہا۔۔۔
جب تم ساتھ ہو نا جمیل ۔۔ تو مجھے کچھ بھی فکر نہیں۔۔۔
پر تم اسے نہیں جانتے ۔۔۔ جسے میں امی کہتی رہی ہوں۔۔
وہ بہت تیز اور بہت چالا ک ہے۔۔۔
اس کے تعلقات بھی بہت وسیع ہیں۔۔۔
اسے جب پتہ چلے گا تو وہ ۔۔۔ سارے شہر کی پولیس کو ہلا دے گی۔۔
مجھے بس اسی سے ڈر ہے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں بھی پریشان ہوگیا۔۔۔
لیکن اس کا اظہار نہ کیا۔۔۔
اسے کہا۔۔

جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔۔
بس اب تم ساری باتیں چھوڑو ۔۔۔ اور سوجاؤ۔۔

اس نے کہا۔۔
جمیل میں یہ کچھ زیور اور پیسے ساتھ لائی ہوں۔۔۔
انہیں سنبھال لو۔۔۔

میں نےاس کا بیگ ایک گدے کے نیچے کر دیا۔۔۔

اور شہلا کے قریب ہی لیٹ گیا۔۔۔

سا تھ والے کمرے سے باتوں اور قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔۔۔
میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں
بہت دیرتک آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔۔۔
اور سوچتا رہا۔۔۔۔
آنے والے حالات کے بارے میں ۔۔۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دورتھی۔۔۔
اچانک پیاس محسوس ہوئی تو اٹھا۔۔
اور اٹھ کر پانی پیا۔۔۔
شہلا بالکل بچوں کی سی نیند سورہی تھی۔۔ بے سدھ۔۔
اس کے چہرے پر بچوں جیسی سادگی اور اطمینان تھا۔۔۔
اس وقت شہلا مجھے اتنی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ گویا اس سے پہلے میں نے کبھی
ایسا حسین چہرہ نہ دیکھا ہو۔۔۔

میں سوچنے لگا۔۔۔
مجھے ہر حال میں شہلا کو لاہور سے نکال کر لے جانا ہے۔۔۔
پھر خیال آیا کہ اب تک تو اس کی امی کو سب پتہ چل گیا ہوگا۔۔۔
یقینا اس نے پولیس کو بھی اطلاع کر دی ہوگی۔۔۔
کہیں ایسا نہ ہو۔۔
پولیس یہاں تک آجائے۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی میں پریشان ہو گیا۔۔۔
مجھے صبح کا انتظار نہیں کر نا چاہیے۔۔۔ ابھی پولیس شاید اتنی متحرک نہ ہوئی ہو
بہتر ہوگا میں جلدی سے لاہور شہرسے باہر نکل جاؤں۔۔
یہ خیال آتے ہی میری بے چینی بڑھ گئی۔۔۔
اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگا۔۔۔
ساتھ والے کمرے سے شاکی لوگوں کی آوازیں ابھی تک آرہی تھیں
میں ان کے پاس چلا گیا۔۔۔
مجھے دیکتھے ہی وہ سب میری طرف متوجہ ہوگئے
ان کے سامنے تاش بکھری ہوئی تھی۔۔۔
شاکی نے مجھ سے پوچھا۔۔
کیوں سوہنیو۔۔ خیرتو ہے؟
کیا تاش کی بازی کا موڈ بن گیا ہے۔۔۔
میں نے انہیں بتا یا کہ میرے ساتھ میری کزن ہے۔۔۔
مجھے خطرہ ہے کہ کہیں پولیس ہمارے پیچھے نہ آجائے
اس لئے میں چاہ رہا تھا کہ میں رات کو ہی یہاں سے نکل جاؤں۔۔۔

شاکی استاد نے میری پیٹھ تھپتھپائی
کیوں فکرکرتے ہو ۔۔۔ جگر
تم اب شاکی کے ڈیرے پر ہو۔۔ میری ذمہ داری میں ہو۔۔۔
پولیس کا خیال چھوڑو۔۔
اول تووہ یہاں آئیں گے نہیں بالفرض آبھی گئے تو ان سے نبٹنا ہمارا روز کا کام ہے

پھربھی ۔۔ میں یہاں سے جلد ازجلد نکل کر بیگم کوٹ جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔

شاکی استاد کہنے لگا۔۔۔
میں نے اپنے ایک بندے سے شام کو ہی بات کرلی تھی ۔۔ وہ آپ لوگوں کو کل صبح
بیگم کوٹ لے جائے گا۔۔۔
بہرحال تم کہتے ہو۔۔ تو ایسا ہے کہ میں اسے ابھی بلا لیتا ہوں۔۔۔
ویسے بھی رات کے ڈھائی بج رہے ہیں ۔۔۔
تیار ہوتے اور نکلتے تین بج جائیں گے۔۔۔

میں نے کہا
ہاں میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ہم ابھی روانہ ہوجائیں

ٹھیک ہے۔۔ شاکی استاد بولا
جیسے تم چاہتے ہو۔۔ ویسے ہی ہو جائےگا۔۔
پھر ہاشو کو کہاکہ جاؤ اور ناظم کو بلا کر لاؤ۔۔
بلکہ اسے کہوکہ اپنی گاڑی لیتا آئے۔۔۔

ہاشواٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔

پھر شاکی استاد مجھے پتہ سمجھانے لگا۔۔۔
اس نے مجھے ایک دو نشانیاں بتائیں اور کہا
ناظم ہمارے اس ڈیرے پرپہلے بھی جا چکا ہے۔۔
لیکن احتیاطا وہ تمھیں کچھ پہلے اتار دے گا۔۔۔
آپ لوگ پیدل ہی ڈیرے تک چلے جانا۔۔۔
وہاں بلوبھائی ہوگا۔۔ اسے میں فون کر چکا ہوں ۔۔۔
تم وہاں جتنے دن چاہو رہو۔۔۔
بالکل محفوط جگہ ہے۔۔۔

میں شکریہ اداکرکے اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔
شہلا اسی اطمینان سے سورہی تھی۔۔۔
یوں لگتا تھا۔۔۔ شاید کئی دن کی جاگی ہوئی تھی۔۔۔

جی تو نہ چاہا کہ اسے جگاؤں پر مجبوری تھی۔۔
اسے جگا یا تو پہلے تو کسمکائی پھرآنکھیں کھولیں تو
مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔ خالی خالی آنکھوں سے۔۔۔
پھر ایک دم اٹھ کر چونک سی گئی ۔۔

میں بھی محویت اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
چند لمحوں بعد اسے احسا س ہوا کہ وہ کہاں ہے تو مسکرائی اور پوچھا
اتنی اچھی نیند میں تھی۔۔۔ کیوں‌جگا دیا؟
میں نے اسے سب بات بتائی تو کہنے لگی
تمھاری سوچ بالکل ٹھیک ہے۔۔
ہمیں جلدی نکل جانا چاہیے۔۔۔
پتہ مجھے پہلے ہی تمھیں کہنا چاہیے تھا کہ جلدی نکل جائیں۔۔۔۔
پھروقفے سے بولی۔۔۔ شاید تمھیں ساتھ دیکھ سب کچھ ذہن سے محو ہوگیا۔۔
ا سکی جلترنگ جیسی ہنسی زندگی کی بھرپوررمق تھی۔۔۔
لگتاہی نہیں تھا۔۔ وہ اپنے گھرسے دورایک بدمعاش کے ڈیرے پر ہے۔۔۔
کیا محبت ایسا ہی پرسکون احساس ہے کہ جب
محبت کرنے والے ایک دوجے کے پاس ہوں تو
کسی بات کی پریشانی نہیں رہتی ۔۔۔
انسان اپنے آپ کو بہت خوش بہت محفوظ سمجھتا ہے۔۔۔
ہاں جن سے اپنائیت کا تعلق ہو۔۔ ان کے پاس رہ کر سکون ہی سکون ملتا ہے۔۔
اورانسان اپنے کو کتنا مضبوط، کتنا توانا محسوس کرنے لگتا ہے۔۔۔
گویا۔۔۔ دینا کی ہر چیزسے ٹکرا جائے گا اور سب کچھ پاش پاش کردے گا۔۔۔

میں نے اسے کہا ۔۔ جلدی سے تیار ہوجاؤ

پھر اس جلدی سے اپنا سامان سنبھالا
اور کمرے میں پڑے جگ کے پانی سے ہی منہ پر چھینٹے مارکر منہ صاف کیا۔۔

اب ہم انتظار کرنے لگے ۔۔۔۔کہ کب ہاشوآئے
اور ہم یہاں سے کوچ کریں

کافی دیرگذر گئی لیکن ہاشو نہ پلٹا
میں شاکی استاد کے پاس گیا۔۔۔
وہ بھی کہنے لگا کہ ہاشوکو اتنی دیرنہیں لگانی چاہیے تھی۔۔۔

پھر اس نے ایک اور ساتھی سے کہا کہ وہ جائے اور پتہ کرے
ہاشو کو کیا ہواہے؟ ہاشو اور ناظم کو جلدی بلاؤ

میں اسے کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
دل میں کچھ ہورہا تھا۔۔۔

تھوڑی دیربعد ہاشو آگیا ۔۔۔
اس کے چہرے پر سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

پولیس شاید ادھر ہی آرہی ہے۔۔۔ وہ کہنے لگا۔۔۔
میں جب ناظم کی طرف جارہا تھا۔۔۔
تو میں نےکچھ پولیس والوں کو آگے تیسری گلی میں جاتے دیکھا۔۔۔
وہاں شاہیے کا ڈیرہ ہے۔۔۔ مجھے شک ہوا تو میں ایک دیوار کی آڑ لے کر انہیں
دیکھنے لگا۔۔۔۔
وہ واقعی شاہیے کے ڈیرے پر ہی گئے ۔۔۔
میں چھپا رہا کیوں مجھے وہیںسے آگے ۔۔۔ ناظم کو بلانے جانا تھا۔۔۔

پولیس والے کافی دیر تک اندر رہے ۔۔۔پھر میں دوسری گلی سے ناظم کے پاس گیا
اس نے کہا کہ اب وہ باہر نہیں نکل سکتا ۔۔۔
استا د شاکی کو کہ دینا کہ مہمانوں کو جلدی سے آگے پیچھے کردے۔۔۔
حالا ت دیکھ کر کرکچھ کیا جاسکتا ہے
ایڈونچر۔ ناولٹ
از ایم نور آسی
حصہ دوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
میرے دل کی ڈھرکن دھک دھک کرنے لگی ۔۔۔
لیکن میں نےاپنے آپ کو حوصلہ دیا۔۔۔

استا د شاکی نے فورا ہی مجھے کہا کہ اپنی کزن کو لے کر باہر آؤ
پھر اس نے مجھے کہا آپ کو ہم فورا ہی دوسری جگہ شفٹ کرتے ہیں
پولیس کو نبٹ لیں پھر آگے کی سوچتے ہیں
پھر اس نے مجھے اور شہلا کو پچھلی دیوار سے دوسر ی گلی میں اترنے کا کہا
میں نے شہلا کو سہارا دے کر دیوار پر چڑھایا۔۔۔ دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی
پھر خود دوسری طرف چھلانگ لگا کر شہلا کو نیچے اتارا۔۔
استاد شاکی کا ایک بندہ ساتھ تھا وہ ہمیں ایک اور گھرمیں لے گئے۔۔۔
یہ ایک بیٹھک نما کمرہ تھا جس میں صرف صوفے وغیرہ پڑے تھے
اس نے ہمیں اس کمرے میں بند کیا اور باہرکنڈی یا شاید تالا لگا دیا۔۔۔

حالا ت کافی خطرناک رخ اختیار کرتے جارہے تھے۔۔۔
میں گرچہ بہت پریشان تھا۔ لیکن باربار دل کو تسلی دے رہاتھا کہ
مجھے شہلا کی خاطر اپنے آپ کو مضبوط رکھنا ہے۔۔۔


ہمیں اس کمرے میں تقریبا ایک گھنٹہ سے زائد وقت گذرا ہو گا کہ اچانک باہر
دروازہ کا کنڈہ کھولنے کی آواز آئی۔۔۔ میں چوکنا ہوگیا اور فورا ہی اٹھ کر دروازے کے ساتھ ہو گیا۔
اندرداخل ہونے والا استاد شاکی کا بندہ تھا۔
اس نے کہا
حالات ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ پولیس والے بہت بپھرے ہوئے ہیں ۔ وہ استاد شاکی کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔
اور ان کے دو ساتھی ابھی ہمارے ڈیرے پر ہی ہیں۔
میں بہت مشکل سے بچ بچا کے آیا ہوں
آپ جیسے بھی ہو ۔ یہاں سے نکل جائیں۔ اور بیگم کوٹ پہنچنے کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس یہاں تک پہنچ جائے ۔
میں نے گھڑی دیکھی ساڑھے چار سے اوپر کا ٹائم تھا۔
میں اس آدمی کا شکریہ ادا کیا ۔
اس نے ہمیں راستہ سمجھایا اور کہا کہ آپ تھوڑا سا حلیہ بدل لیں
پھراس نے مجھے اپنی ٹوپی دی ایک چادر بھی دی۔ میں نے چادر اوڑھ لی۔
شہلا نے بھی اپنے جسم کو مکمل ڈھانپ لیا
اور ہم اللہ کا نام لے اس کمرے سے باہر نکل آئے
حیرت انگیز بات تھی۔ میں اب نہ تو اتنا پریشان ہو رہا تھا۔ نہ میرے دل کی ڈھرکن بے ترتیب تھی
بلکہ میں اپنے بہت توانائی محسوس کر رہا تھا۔
شہلا کی موجودگی، اور اس کی حفاظت کے خیال نے مجھے بہت حوصلہ اور ہمت دی تھی
ہم مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک روڈ پر آگئے ۔
صبح کی ہلکی روشنی چارسوپھیلی ہوئی تھی۔ میں نے ایک رکشے والے کو روکا اور اسے
بادامی باغ چلنے کو کہا۔
راستے میں مجھے شہلا کہنے لگی ۔ ہمیں بادامی باغ جانے کے بجائے کوئی ٹیکسی پکڑ کر
سیدھا بیگم کوٹ چلنا چاہیے ۔ کہیں پولیس بادامی باغ اڈے پر نہ ہو۔
میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میرے خیال میں بس وغیرہ میں جانا زیادہ مناسب ہوگا
میں رکشے والے سے پوچھا کہ ہمیں شیخوپورہ جانے والی گاڑی کہاں سے ملے گی۔
کہنے لگا
آپ نے شیخوپورہ جانا ہے۔
ہاں ۔ میں نے جان بوجھ کر بیگم کوٹ نہ بتایا۔
اس نے کہا کہ میں آپ کو ایک ویگن کےاڈے پر لے چلتا ہوں
وہاں سے آپ کو فورا گاڑی مل جائے گی
میں نے اسے کہا ٹھیک ہے
رکشہ والے نے ٹھیک کہا تھا۔ ہمیں ایک ویگن مل گئی ۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے بیگم کوٹ
جانا ہے تو اس نے کہا کہ ہم راستے کی سواریاں نہیں بٹھاتے ۔
میں نے اسے کہا کہ آپ بے شک ہم کرایہ پورا لے لو
اس پر فورا ہی راضی ہوگیا۔
ویگن میں بیٹھے تو شہلا میرے ساتھ ہی بیٹھی ۔
ہمارے آگے ایک آدمی نے ہمیں ویگن میں سوار ہوتے وقت بہت غور سے دیکھا۔
میں نے زیادہ خیال نہ کیا۔
لیکن جب راستے میں دوتین باراس آدمی نے مڑکر شہلا کو دیکھا اور پھر مجھے بھی دیکھا تو
مجھے الجھن ہونے لگی ۔
لیکن میں خاموش رہا۔ شہلا بھی خاموش ہی تھی۔
اس کی دھیان کسی طرف نہ تھا۔
میں نے جب کنڈکٹر کو دوبارہ یا د دہانی کرائی کہ مجھے بیگم کوٹ اتارنا ہے۔ تو وہ بندہ پیچھے مڑا
اور کہنے لگا۔
آپ لوگ بیگم کوٹ جارہے ہو۔
مجھے اس کا یہ سوال پوچھنا بہت برا لگا۔ لیکن میں نے تحمل سے کام لیتے ہوئے کہا
جی نہیں ۔ ہمیں جانا تو شیخوپورہ ہے۔ لیکن بیگم کوٹ میں کچھ کام ہے ۔
پھروہ کہنے لگا
آپ شیخوپورہ کے رہنے والے ہو۔
مجھے اب غصہ آنے لگا ۔ ساتھ ہی ٹینشن بھی ہورہی تھی۔
کچھ اور سواریاں بھی بھی ہماری طرف متوجہ ہو گئی تھیں
میں دل میں سوچا مجھے حوصلے سے کام لینا ہے
اور اپنے آواز اور لہجے سے کسی کمزوری کا احسا س نہیں ہونے دینا
چنانچہ میں نے جواب دیا
جی نہیں ہم شیخوپورہ کے نہیں ہیں۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتا میں نے کنڈکٹر سے کہا
بھائی صاحب ادھرویگن میں پانی آپ نے رکھا ہوا ہے۔
تو اس کہا۔ جی نہیں
ایک سواری نے پیچھے سے مجھے کہا کہ میرے پاس ہے
میں نے اس سے پانی لے پیا۔
اتنے میں ویگن شاید شاہدرہ کے علاقے مین پہنچ گئی تھی کیوں کہ کنڈکٹر
نے ڈرائیور سے کہا
استادجی دوسواریاں دی جگہ ہے۔ شاہدرے توں ویکھ لیناں
یہاں ایک دومنٹ کے لئے ویگن رکی ۔
میرے دل میں خوف تھا کہ کہیں ویگن کو پولیس چیک نہ کررہی ہو
لیکن خدا کا شکرہے یہاں تک تو سفر بخیریت گذرا تھا۔
یہاں سے دوسواریاں اور ویگن میں سوار ہوئیں
اور پھر گاڑی چل پڑی ۔
جب کنڈکٹر نے بیگم کوٹ سٹا پ پر گاڑی رکوائی اور ہم اتررہے تھے تو
وہی آگے بیٹھا ہوا بندہ ہمیں پھر غور سے دیکھنے لگا
میں نے پرواہ نہ کی اور گاڑی سے اتر آیا
یہاں سے آگے میں بتائی گئی تفصیلات کے مطابق ایک محلے میں پہنچ گیا
لیکن مکان کو کافی دیرتلاش کرنے کے باوجود مکان نہ ملا
میں اب کے بار کچھ پریشان ہوا
سورج نکل آیا تھا۔
اور لوگ آجارہے تھے۔ میں احتیاطا کسی سے پوچھنا نہ چاہ رہا تھا
لیکن جب دوچار گلیاں پھر چکے تو شہلا بھی گھبرا گئی ۔
کہنے لگی
جمیل کیا گھما رہےہو۔ کدھر رہ گیاوہ مکان ؟
میں نے اسے بتا یا کہ میں مکان کو تلا ش کررہا ہوں اس کی یہ نشانی ہے
لیکن ایسا مکان مل نہیں رہا۔
شہلا نے کہا
ایسا کرو ۔ وہ سامنے جنرل سٹور سے پوچھ لو
میں جھجھک رہا تھا۔
بہرحال میں سٹور والے کے پا س چلا گیا اور اس سے مکان کے بارے میں پوچھا
اس نے ایک دوسوال مکان کے حوالے سے کیے اور پھر حیران ہو کر مجھے کہنے لگا
آپ بلو بھائی کے مکان کی بات تو نہیں کررہے ۔
میں نے خوشی سے کہا
ہاں ہاں اسی کی بات کررہا ہوں
وہ فورا ہی دوکان سے باہر نکل آیا ۔
اور مجھے کہا کہ آپ بلوبھائی کے مہمان ہیں تو آئیں پیچھے آجائیں
میں آپ کو خود ادھر چھوڑ کر آتا ہوں
میں شہلا کو بھی اشارہ کیا
وہ ہمیں نزدیک ہی ایک گلی میں ایک مکان میں لے گیا ۔ خود ہی بیل بجائی
اور جب اندر سے بندہ نکلا تو اسے بتایا کہ جی یہ بلوبھائی کے مہمان ہیں

میں اس کے رویے پر حیران تو ہوا۔
میرا تو یہی خیال تھا
کہ بلوبھائی کوئی بدمعاش ٹائپ ہی آدمی ہوگا۔ لیکن اس بندے کے
انداز سے مجھے لگا کہ شاید معاملہ کچھ اور ہو
خیر ہم مکان میں پہنچ گئے
اور ہماری آؤ بھگت جس انداز کی گئی وہ ہم دونوں کےلئے
حیران کن تھی

No comments:

Post a Comment