ناولٹ ایڈونچر محمد نور آسی حصہ دوم آنے والے دنوں میں شہلا کے مکان پرمیرا آنا جانا لگا رہا۔۔۔ اب ہماری بے تکلفی بہت بڑھ چکی تھی۔۔۔ ایک ملاقات میں مجھے شہلا نے اپنی کہانی بھی سنائی وہ جس خاتون کو امی کہتی تھی ۔۔ وہ اس کی حقیقی ماں نہ تھی۔۔۔ نہ وہ اپنی حقیقی ماں کے بارے میں کچھ جانتی تھی۔۔۔ لیکن اتنا وہ جانتی تھی کہ وہ اس گلی سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔ نہ وہ اس ماحول میں خوش تھی۔۔ وہ اس ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔۔ میں اور اکمل اس سلسلے میں اکثر بات کرتے رہتے ۔۔۔ ہمیں اب آغاجی روز کے روز کچھ نہ نقد پیسے بھی دیتے تھے۔۔۔ تنخواہ کی بابت نہ ہم نے پوچھا نہ انہوں نے کوئی بات کی۔۔ ہاں اکمل اب کمیشن پر کام کرنے لگ گیا۔۔۔ وہ کچھ اور کام کی بھی باتیں کرتا تھا۔۔۔ جو وہ ساتھ ساتھ ہی کررہاتھا۔۔ اس نے کبھی اس کی تفصیل نہ بتائی لیکن اس کے پاس پیسے کافی ہوتے تھے۔۔ مجھے تو شہلا کے علاوہ کچھ سوجھتا نہ تھا۔۔۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے محسوس کیا ۔۔ شہلا کی امی کا رویہ اب بدلنے لگا تھا۔۔ ایک دفعہ مجھے کہنے لگی جمیل بیٹے ۔۔۔ بہت مفت کی توڑ لیں۔۔۔ یہاں خالی جیب آنے والوں کی عزت نہیں...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی