Skip to main content

Posts

Showing posts from 2015

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گے شاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں جی ہاں ۔۔  آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہے مگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہے بہت منفرد سا ہے عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں  اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے  جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیں وہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہے آنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں  کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

ماں کی یا د کے 36 آنسو

ماں کی یا د کے 36 آنسو  محمد نور آسی آج میں آپ سے اپنے آنسو شیئر کرنا چاہتا ہوں یہ آنسو میری ماں کی یا د کے آنسو ہیں میں نے یہ اشعار اپنی ماں کی یا د میں لکھے ہیں۔ اور بہتے آنسووں کے ساتھ لکھےہیں ۔ یہ اشعار ان تمام بھائیوں ، بہنوں ، دوستوں کے نام جن کی مائیں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یقینا میرے آنسوان سب کو رلا دیں گے۔ جن کے غم میرے جیسے ہیں۔ یہ 36 مصرعے نہیں ، 36 آنسوہیں بہت چھوٹا سا تھا جب میں، میری دنیا بھی چھوٹی تھی میری ہستی کا کل سا ما ں ، تیری آغوش ہو تی تھی تیرے سینے سے لگ کرمیں ہر اک غم بھول جا تا تھا تیرے چہرے کو تک کرمیرے دل کی پیاس بجھتی تھی تیری دنیا فقط میں تھا ، میری دنیا فقط تو تھی میں تجھ کو دیکھ جیتا تھا، تو مجھ کو دیکھ جیتی تھی تیرے وہ پھول سے بازو، مجھے خوابوں میں لے جاتے تیرے چہرے پہ بکھرے نور سے ہو تی سحر میری میں بھوکا ہوں کہ پیاسا ہوں، میں خوش ہوں یا کہ افسردہ فقط اک تیری ہستی تھی، جسے سب تھی خبر میری تیرا چہرہ جو ہوجاتا، اگر اک پل کہیں اوجھل تو ہرآہٹ پہ چونک اٹھتی تھی یہ بے چیں نظر میری تیرا رس گھولتا لہجہ ، میری تسکین کا ساماں تیرا دستِ مسیحائی ، میرے ہ...

حصہ اول ۔ ایک سیاہ رات کی کہانی

حصہ اول ۔ ایک سیاہ رات کی کہانی محمد نور آسی وہ ایک سیاہ اندھیر ی رات تھی۔ وہ سب دوست گاوں کے چوپال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ گپوں میں جنوں بھوتوں کا ذکر نکل آیا۔ اسد کہنے لگا۔ میرے دادا جی بتاتے تھے کہ گاوں سے باہر پانی والی بھن (تالاب نما جگہ جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہو جائے) کے پاس جنوں کا ڈیرہ ہے ۔ وہ ایک رات کو بہت دیرسے وہاں سے گذرے تو وہاں ڈھول بجانے کی آوازیں آرہی تھی۔ شاید کسی جن کی شادی تھی۔ دادا بہت مشکل سے جان بچاکر آئےتھے۔ شہباز بولا بکواس ۔ میں کئی مرتبہ وہاں گیا ۔ وہاں کچھ بھی نہیں ۔ یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے- اسد بولا۔ تم دن کے وقت جاتے ہو۔ دن کو سب ہی لوگ جاتے ہیں۔ جن تو وہاں رات کو ہوتے ہیں۔ اکرم بھی نے ہاں میں ہاں ملائی شہباز ٹھیک کہتاہے۔ جن تو وہاں رات کو ہی ہو تے ہیں۔ دن کو وہ جگہ خالی کر دیتے ہیں ۔ اسد اپنی بات پر اڑا رہا۔ اتنے میں تنویر بولا۔ یارو کیوں بحث کرتے ہو۔ یہ جن ون سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ کیا آپ میں سے کسی کا جن سے سامنا ہوا ہے۔؟ اس کا جواب تو نفی میں تھا- لیکن شہباز کب ہار ماننے والا تھا۔ اگ...

ایک سیاہ رات کی کہانی

ایک سیاہ رات کی کہانی  حصہ دوم  از: محمد نور آسی اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔ وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔ سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔ بالاخر مولوی صاحب بولے۔۔  فجر کی نماز میں تھوڑا سا وقت ہے۔۔ یہ سب لوگ۔۔ اسد اور تنویر کے منہ سے واقعات کی تفصیل سننا چاہتے ہیں۔۔ اگر اسد بیٹا اب بہتر محسوس کررہا ہے تو ساری بات بتائے تاکہ لوگ گھر جائیں اور نماز کی تیاری کریں اسد سے پہلے تنویر بولا جی مولوی صاحب میں بتاتاہوں۔۔ ہم لوگ جب اکرم اور شہباز کو بتا کر نکلے تو ہمارے ذہن خوف سے خالی تھے۔ ہم بہت پر اعتماد انداز سے بھن پر پہنچ گئے۔۔۔ وہاں پہنچے تو ایک ہولناک۔۔خاموشی کا سحر ہرسو طاری تھا۔۔ بھن کے ساتھ ہی واقع پہاڑی بہت بڑی ، اپنے حجم سے بہت بڑی لگ رہی تھی۔۔ پھر ہوا چلنے لگی۔۔ سرسراتی ہوا۔۔ پھراچانک ہمیں ایسا لگا ۔۔۔ جیسے کچھ آوازیں آ رہی ہوں۔۔۔۔ جیسے کوئی بول رہا ہو-۔۔ پتہ نہیں کیوں ہمیں کچھ کچھ خوف محسوس ہوا۔۔ لیکن اسد نے بھن سے بیس قدم گن کر ڈنڈے کو زمین میں ایک پتھر لے کر دبا نا شروع کیا ۔۔۔ میں بھی اسد کے پاس ہی تھا۔۔ ہر سوگھپ اندھیرا۔۔۔ ہوا چل رہی تھی۔۔ اور پتہ ن...

فرشتہ

فرشتہ تحریر: محمد نور آسی رات کے پچھلے پہر، جب کائنات خاموشی کی چادر اوڑھے محوِ خواب تھی، اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی کی سوئیوں نے بتایا کہ ابھی ساڑھے تین بجے ہیں۔ یہ محض بیداری نہ تھی، ایک حیرت تھی؛ کیونکہ میری صبح تو ہمیشہ موبائل فون کے بے ہنگم الارم کی دستک سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے دوبارہ نیند کی آغوش میں پناہ لینی چاہی، مگر نیند تو جیسے کوسوں دور کسی انجان دیس سدھار گئی تھی۔ ذہن کے دریچوں پر سوال دستک دینے لگے کہ آخر اس بے وقت بیداری کا سبب کیا ہے؟ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا؟ میں نے یادداشت پر بہت زور دیا، ماضی اور حال کے دھندلکوں میں جھانکا، مگر کسی خواب کا کوئی عکس، کوئی دھندلا سا منظر بھی گرفت میں نہ آیا۔ ایک عجیب سی بے کلی اور مبہم سی الجھن تھی جو روح میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔ میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا، مگر نہ تو نیند لوٹ کر آئی اور نہ ہی وہ اضطراب تھما۔ اسی کشمکش میں فضاؤں میں اذانِ فجر کے مقدس ارتعاش گونجنے لگے۔ ایک وجدانی فیصلے کے تحت میں نے بستر چھوڑ دیا، وضو کی سعادت سے شاد کام ہو کر جب کمرے میں لوٹا تو بیگم بیدار ہو چکی تھیں۔ ان کی نظروں میں حیرت، ہلکا سا غصہ او...

غلطی کہاں ہوئی

غلطی کہاں ہوئی محمد نور آسی آج صبح بیگم کو اٹھایا اور اس سے پوچھا جان! واک کیلئے میرے ساتھ چلو گی؟  بیگم نے نیم غنودگی میں جواب دیا " کیا مطلب؟ تمھارا خیال ہے میں موٹی ہو گئی ہوں؟ " نہیں ، نہیں۔۔ واک صحت کے لئے اچھی ہے"  بیگم: اوہ۔۔۔ اس کا مطلب ہے میں بیمار ہوں  میں: قطعا نہیں۔۔ میری جان اگر تم واک پہ نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات نہیں۔  بیگم: تو تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ میں سست ہوں۔ ہیں؟  میں: بالکل نہیں ۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ تم بلاوجہ الجھ رہی ہو  بیگم: واہ واہ۔۔۔ ۔۔تو گویا میں لڑاکا بیوی ہوں۔بس لڑنے کا بہانہ ڈھوندتی ہوں ۔ ہیں نا؟  میں: اچھا چھوڑو۔ بہتر یہی ہے کہ میں بھی واک پہ نہ جاؤں  بیگم: ہوں ں ں ۔۔۔ تو یوں کہو نا ۔ تم خود واک پہ جانا نہیں چاہ رہے۔ پھر مجھے کیوں الزام دے رہے ہو  میں: اچھا بابا۔ تم پھر آرام سے سوتی رہو۔ میں واک پہ جا رہا ہوں  بیگم: روہانسے انداز میں ۔ تم ہمیشہ اکیلے ہی ہر جگہ جاتے ہو۔ تم تو چاہتے ہی یہی ہو  میں: افوہ۔۔۔ میر ا تو دم گھٹنے لگا ہے صبح صبح ۔  بیمگم: دیکھا؟ میں...

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...

لنگر کے چاول

لنگر کے چاول محمد نور آسی اس دن صبح سے ہی ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور موسم بہت دلفریب ہورہا تھا۔ ایسے میں سفر کا مزہ اور دوبالا ہو جاتا  ہے لیکن میرے لئے وہ شخص بہت الجھن کا باعث بن رہا تھا۔ میں نے اپنے ایک عزیز کو ملنے کے لئے لاہور جانا تھا۔ اسلام آباد سے ایک معروف کمپنی کی بس میں سوار ہوا تو موسم کی منا سبت سے ایک دھن خود بخود میرے ہونٹوں پر تھرکنے لگی ۔ بہت خوشگوار موڈ کے ساتھ جب اپنی سیٹ پر بیٹھا تو کچھ ہی دیر بعد جو صاحب میرے ساتھ آکر بیٹھے وہی میرے لئے کوفت اور الجھن کا سبب بن گئے۔جھٹ سے آتے ہی فرمانے لگے " آپ کہاں جارہے ہیں" نہ سلام نہ دعا  ۔ مجھے نجانے کیوں ایک دم غصہ آگیا ۔ "ظاہر ہے بس لاہور جارہی ہے تو میں پشاور جانے سے تو رہا۔ لاہور ہی جارہا ہوں" " گڈ۔ اس کا مطلب ہے آپ کے ساتھ سفر کافی اچھا گذرے گا۔ " "کیا مطلب؟ " " سادہ سی بات ہے۔ آپ بہت خوش مزاج لگ رہے ہیں سو آپ کے ساتھ اگلے کچھ گھنٹے بات چیت کرکے مزا آئے گا" میں تو تلملا کر رہ گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی واقف کار نظر آئے تو سیٹ بدل لوں ۔ لیکن سب چہرے ...