پیشی کی تھکن عدالت کی طرف سے دی گئی ہر نئی تاریخ روح کے پاؤں میں ایک نیا چھالا ڈال دیتی ہے پیشی کے انتظار میں سائل کا چہرہ کسی پرانی عمارت کی طرح جھڑنے لگتا ہے عدالت کے برآمدے میں پھیلی ہوئی خاموشی وقت کے ضیاع کا ایک لمبا نوحہ ہے یہاں عمریں بیت جاتی ہیں مگر حق کی دہلیز تک فاصلہ کبھی ختم نہیں ہوتا تھکن جب حد سے گزرتی ہے تو انسان انصاف کی آرزو سے بھی دستبردار ہو جاتا ہے #نوریات
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی