Skip to main content

گمان کی دہلیز سے عمل کے افق تک


ہم نے عمر کا سارا اثاثہ

اس گمان کی نذر کر دیا، جو کسی بند کواڑ کے پیچھے

صرف ایک وہم کی دستک بن کر رہ گیا تھا

ہمیں لگا تھا کہ ہر بند دروازہ کھلنے کے لیے ہے

مگر کچھ کواڑ تو دیوار کا خلا بھرنے کے لیے ہوتے ہیں

جن کے پیچھے مکان نہیں، وقت کی گرد میں اٹی ہوئی خاموش چٹانیں ہوتی ہیں

اور چٹان کی اذیت کا ادراک انہیں کیسے ہو

جن کی زیست ہمیشہ آسمانوں کے سرد جذبوں میں گزری ہو!

اے سائیں!

اس دستک اور گمان کے درمیانی فاصلے میں

بدن کی آنچ پر رکھے ہوئے وہ سب خواب پگھل گئے

جو ہم نے ریشمی پردوں کے پیچھے بیٹھ کر بنے تھے

ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کہ کب ہماری انا کی فرعونیت

عجز کے دائمی سمندر میں غرق ہو گئی

اور کب ہم نے ہواؤں کی پرانی روش پر چلتے ہوئے

اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا دیا بجھا لیا!


اب جب کہ زیست کی کمان سے ہاتھ چھوٹ چکا ہے

اور لہریں ساحل کی ٹھوکر کھا کر ہوش میں آ رہی ہیں

تو یہ انکشاف ہوا ہے کہ خالی مکانوں میں یادوں کے آسیب نہیں

بلکہ ہمارے اپنے بے کار جذبوں کی سسکیاں بستی ہیں

وہ جذبے جو عمل کی توفیق نہ پا کر بوجھ بن گئے

اور اب ہمارے خون میں کسی موروثی دکھ کی طرح سفر کرتے ہیں

پس اے مرے سائیں!

مری ان مصروف اور منتشر سوچوں کو اب وہ ہمت دے

کہ یہ محض لفظوں کے طلسم میں قید نہ رہیں

بلکہ کسی گرتے ہوئے وجود کے لیے بیساکھی بن جائیں

تاکہ جب مقدر کی باغبانی میں سایہ نہ ملے

تو کم از کم یہ احساس تو سلامت رہے

کہ ہم نے بنجر زمین پر کسی شجر کی امید تو زندہ رکھی تھی!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...