Skip to main content

Posts

Showing posts with the label اختیار اور انکار اور فیصلہ،

اختیار اور انکار اور فیصلہ

اختیار اور انکار اور فیصلہ شام کی زرد روشنی اب کمرے کی دیواروں پر لکیریں سی بنا رہی تھی، جیسے وقت خود اپنا حساب لکھ رہا ہو۔ میز پر پڑی چائے سے بھاپ اٹھنا بند ہو چکی تھی، مگر ہمارے درمیان پھیلی خاموشی میں ایک ارتعاش تھا۔۔وہ سوال جو ادھورا رہ گیا تھا۔ اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا، "تم جس انکار کو فتح کہہ رہے ہو، وہ دنیا کی نظر میں ایک فرار ہے۔ تم جانتے ہو نا کہ اختیار کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے اثر و رسوخ، وہ طاقت جس سے تم حالات کو موڑ سکو۔ تم نے ایک موقع گنوا دیا، اور اسے فلسفے کا لبادہ پہنا رہے ہو۔" میں نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر دور نظر آنے والے ایک بوڑھے نیم کے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ "اس درخت کو دیکھو۔ اس کا اختیار کیا ہے؟ کیا یہ ہواؤں کا رخ بدل سکتا ہے؟ نہیں! اس کا اصل اختیار یہ ہے کہ یہ اپنی جڑوں میں کتنا گہرا ہے اور کن شاخوں کو اسے جھاڑ دینا ہے۔ ہم انسان اختیار کو 'تسخیر' سمجھتے ہیں، حالانکہ اختیار اصل میں 'انتخاب' کا نام ہے۔" میں تھوڑا سا آگے جھکا اور لہجے میں دھیمے پن کے ساتھ تسلسل پیدا ...