محبت اور ملکیت محبت کے عام انسانی تصورات اکثر ملکیت کے گرد گھومتے ہیں، لیکن کائنات کے وسیع کینوس پر بے لوثی کا ایک بالکل الگ رنگ بکھرا ہوا ہے جو ہم انسانوں کی سمجھ سے اکثر بالاتر رہتا ہے۔ آسمان کی نیلاہٹ میں تیرتے بادل کو دیکھیے؛ وہ کسی بنجر زمین پر برستا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ نیچے بسنے والے اس کے شکر گزار ہوں گے یا نہیں۔ وہ خود کو لٹا کر فنا ہو جاتا ہے تاکہ ہریالی کا جنم ہو سکے۔ بادل کا وجود ایک مسلسل ہجرت ہے، وہ مٹی سے محبت تو کرتا ہے مگر اس پر ٹھہر کر اسے بوجھل نہیں کرتا۔ کیا انسان کے پاس ایسا کوئی جذبہ ہے جو بغیر کسی معاوضے یا اعتراف کے خود کو مٹا دینے پر آمادہ ہو؟ پھر ان پرندوں کا مشاہدہ کریں جو شام ڈھلے بادلوں کے سائے میں اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہیں۔ پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھتا ہے تو شاخ کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتا، اور جب وہاں سے اڑتا ہے تو شاخ پر اپنا کوئی نقش چھوڑنے کی ضد بھی نہیں کرتا۔ پرندے کی محبت پرواز سے ہے، کسی مستقل ٹھکانے سے نہیں۔ وہ جھیل سے پانی پیتا ہے اور بدلے میں اسے اپنی چہچہاہٹ کی صورت ایک نغمہ دے جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں مادی نفع نقصان کا کوئی خا...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی