Skip to main content

بہتا ہوا دریا




ہم مٹی کے بنے ہیں، اور مٹی کا ظرف یہ ہے کہ وہ پاؤں تلے روندی جانے کے باوجود گلاب پیدا کرتی ہے۔ ہم انسان کیوں اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ ایک تلخ جملہ ہماری پوری شخصیت کی عمارت ہلا دیتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے اندر "پتھر" جمع کر لیے ہیں اور باہر "شیشے" لگا لیے ہیں۔

آئیے، ایک بار پھر سے فطرت کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس درخت کی طرح بنتے ہیں جو یہ نہیں پوچھتا کہ اسے پانی دینے والا کون ہے، وہ بس سایہ دینا جانتا ہے۔ زندگی کوئی حساب کتاب کی ڈائری نہیں ہے، یہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے ۔۔۔ جس نے بہنا چھوڑ دیا، وہ جوہڑ بن گیا، اور جس نے لہروں کے ساتھ چلنا سیکھ لیا، وہ سمندر کا حصہ بن گیا۔

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...