Skip to main content

بہتا ہوا دریا




ہم مٹی کے بنے ہیں، اور مٹی کا ظرف یہ ہے کہ وہ پاؤں تلے روندی جانے کے باوجود گلاب پیدا کرتی ہے۔ ہم انسان کیوں اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ ایک تلخ جملہ ہماری پوری شخصیت کی عمارت ہلا دیتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے اندر "پتھر" جمع کر لیے ہیں اور باہر "شیشے" لگا لیے ہیں۔

آئیے، ایک بار پھر سے فطرت کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس درخت کی طرح بنتے ہیں جو یہ نہیں پوچھتا کہ اسے پانی دینے والا کون ہے، وہ بس سایہ دینا جانتا ہے۔ زندگی کوئی حساب کتاب کی ڈائری نہیں ہے، یہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے ۔۔۔ جس نے بہنا چھوڑ دیا، وہ جوہڑ بن گیا، اور جس نے لہروں کے ساتھ چلنا سیکھ لیا، وہ سمندر کا حصہ بن گیا۔

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر