Skip to main content

بہتا ہوا دریا




ہم مٹی کے بنے ہیں، اور مٹی کا ظرف یہ ہے کہ وہ پاؤں تلے روندی جانے کے باوجود گلاب پیدا کرتی ہے۔ ہم انسان کیوں اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ ایک تلخ جملہ ہماری پوری شخصیت کی عمارت ہلا دیتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے اندر "پتھر" جمع کر لیے ہیں اور باہر "شیشے" لگا لیے ہیں۔

آئیے، ایک بار پھر سے فطرت کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس درخت کی طرح بنتے ہیں جو یہ نہیں پوچھتا کہ اسے پانی دینے والا کون ہے، وہ بس سایہ دینا جانتا ہے۔ زندگی کوئی حساب کتاب کی ڈائری نہیں ہے، یہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے ۔۔۔ جس نے بہنا چھوڑ دیا، وہ جوہڑ بن گیا، اور جس نے لہروں کے ساتھ چلنا سیکھ لیا، وہ سمندر کا حصہ بن گیا۔

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر