Skip to main content

ادھوری دستک



چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ کھڑکی کے باہر پھیلی ہوئی مٹیالی دھند میں جذب ہو رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک کسی لوہار کے ہتھوڑے کی طرح اعصاب پر ضرب لگا رہی تھی۔ مرتضیٰ نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی اور سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص کو دیکھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے سگریٹ کے دھوئیں سے ہوا میں غیر مرئی اور الجھی ہوئی لکیریں کھینچ رہا تھا۔
"تمہارا مسئلہ یہ ہے ارسلان، کہ تم ہر بند کواڑ کو ایک چیلنج سمجھتے ہو،" مرتضیٰ نے بالآخر اس سکوت کو توڑا جو کمرے میں کسی بن بلائے مہمان کی طرح ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ اس کا لہجہ دھیما تھا، جیسے وہ خود سے کلام کر رہا ہو۔
ارسلان نے سگریٹ راکھ دانی میں مسل دی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی، وہ تھکن جو میلوں کا سفر کرنے سے نہیں، بلکہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر انتظار کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ "چیلنج نہیں مرتضیٰ، ایک وہم۔ تمہیں پتہ ہے، جب میں اس گلی سے گزرتا ہوں اور وہ پرانا نیلا دروازہ دیکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سانس لے رہا ہے۔ کوئی ہے جو شاید میری آہٹ کا منتظر ہے، یا شاید کوئی ادھوری فہرست مکمل کر رہا ہے جس میں میرا نام سب سے آخر میں ہے۔"
مرتضیٰ مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں ہمدردی کم اور تلخ آگاہی زیادہ تھی۔ "اور اگر وہاں کوئی نہ ہو تو؟ اگر وہاں صرف خاموشی کی تہیں ہوں، یا کوئی ایسی دیوار جسے وقت نے اینٹوں سے نہیں، بلکہ فراموشی کے ملبے سے چن دیا ہو؟"
"تو کیا ہوا؟" ارسلان نے چونک کر اسے دیکھا۔ "کیا دستک دینا صرف اس لیے ضروری ہے کہ کوئی اندر سے جواب دے؟ کبھی کبھی دستک صرف اپنی موجودگی کا ایک اعلان ہوتی ہے۔ یہ بتانے کے لیے کہ میں یہاں کھڑا ہوں، میں ابھی اس گمان سے دستبردار نہیں ہوا۔"
کھڑکی کے باہر ایک کوا منڈیر پر آ بیٹھا اور اپنی چونچ پروں میں چھپانے لگا۔ باہر کی سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم ہو چکا تھا، جیسے شہر نے تھک کر کسی پرانی یاد کے آغوش میں سر رکھ دیا ہو۔
ارسلان نے کھڑکی سے باہر پھیلے ہوئے دھندلکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "ہم کتنے عجیب لوگ ہیں مرتضیٰ۔ ہم نے اپنی پوری زندگی 'شاید' اور 'کاش' کے درمیان وقف کر دی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جڑے ہوئے ہیں، ہم سب سے رابطے میں ہیں۔ مگر حقیقت میں ہم صرف اپنی تنہائیوں کو ایک دوسرے سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم نے ایسے چہرے بنا لیے ہیں جن پر کوئی شکن نہیں ہوتی، مگر اندر ایک پورا قبرستان آباد ہے جہاں ہر روز ایک نئی خواہش دفن ہوتی ہے۔"
"تم حد سے زیادہ گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتے ہو،" مرتضیٰ نے ٹھنڈی ہوتی ہوئی چائے کا ایک آخری سپ لیا۔ "زندگی کو اتنا پیچیدہ مت بناؤ۔ یہ تو ایک سادہ سا راستہ ہے جس پر ہمیں بس چلتے جانا ہے۔"
"سادہ راستہ؟" ارسلان نے پلٹ کر پوچھا۔ "تمہیں یاد ہے، جب ہم بچپن میں مٹی کے گھروندے بناتے تھے؟ وہ گھروندے ٹوٹ جاتے تھے تو ہم روتے تھے، مگر ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ ہم دوبارہ بنا لیں گے۔ اب جب ہمارے اندر کے گھروندے ٹوٹتے ہیں، تو ہمیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کرچیاں کہاں گری ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو وہ لفظ بھیجتے ہیں جن میں تاثیر نہیں ہوتی، اور ایسی مسکراہٹیں بانٹتے ہیں جن کے پیچھے صرف کھوکھلا پن ہوتا ہے۔"
کمرے میں دوبارہ وہی بوجھل خاموشی چھا گئی۔ مرتضیٰ اٹھا اور کتابوں کی گرد آلود الماری کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اس نے ایک پرانی جلد والی کتاب نکالی اور اس کے صفحات بے خیالی میں پلٹنے لگا۔ "میں اکثر سوچتا ہوں ارسلان، کہ کچھ زخم ایسے کیوں ہوتے ہیں جو کبھی بھرتے نہیں۔ آرنیکا کی طرح، جو جسم کے اندرونی نیل کو پگھلاتی ہے، ہمیں کسی ایسی شے کی ضرورت ہے جو ہماری روح کے ان لوتھڑوں کو پگھلا سکے جو برسوں کی تلخیوں نے جما دیے ہیں۔"
ارسلان ہنسا، ایک ایسی ہنسی جس میں درد کی ایک لہر نمایاں تھی۔ "میرے خیال میں ہمیں کسی دوا کی نہیں، بلکہ ایک نئی آنکھ کی ضرورت ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک فرعون پالے بیٹھے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ دنیا، یہ ستارے، یہ سب ہمارے ہی گرد رقص کر رہے ہیں۔ مگر جب کوئی حادثہ ہوتا ہے، جب کوئی 'راہِ مسدود' ہمارے تمام راستے چھین لیتی ہے، تب ہمیں اپنی اوقات یاد آتی ہے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم تو صرف ریت کے وہ ذرے ہیں جنہیں سمندر کی ایک لہر ہمیشہ کے لیے مٹا سکتی ہے۔"
"مگر راہِ مسدود ہی تو وہ مقام ہے جہاں سے نئے امکان جنم لیتے ہیں،" مرتضیٰ نے کتاب واپس رکھتے ہوئے کہا۔ "تم نے کبھی غور کیا ہے؟ جب سامنے کی دیوار بلند ہو جائے، تبھی انسان دائیں بائیں دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر راستہ صاف ہو، تو ہم تو کبھی مڑ کر بھی نہ دیکھیں کہ پیچھے کیا چھوٹ گیا ہے۔"
"ہو سکتا ہے،" ارسلان نے سر ہلایا۔ "مگر کبھی کبھی وہ بند راستہ ہی آخری سچ ہوتا ہے۔ تم نے کبھی کسی ایسی چٹان کو دیکھا ہے جس پر وقت کی بارش نے گہرے نشان بنا دیے ہوں؟ وہ پتھر چلاتا نہیں ہے، وہ صرف سہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم بھی اس چٹان کی طرح ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ساکت اذیت، جسے سب دیکھ سکتے ہیں مگر محسوس کوئی نہیں کر سکتا۔"
"تمہاری یہ باتیں بہت بوجھل ہیں ارسلان،" مرتضیٰ نے اپنی جیکٹ اٹھاتے ہوئے کہا۔ "چلو، باہر چلتے ہیں۔ اس گھٹن زدہ کمرے سے باہر بھی ایک دنیا ہے۔ سنا ہے شہر کے اس پرانے حصے میں ابھی کچھ ایسی گلیاں باقی ہیں جہاں ہوا اب بھی پرانی کہانیاں سناتی ہے۔ وہاں کے کواڑ شاید ابھی اتنے بے حس نہیں ہوئے ہوں گے۔"
وہ دونوں کمرے سے باہر نکل آئے۔ سیڑھیوں پر اندھیرا تھا، مگر نیچے سڑک پر لیمپ پوسٹ کی مدھم اور زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ گلی میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے سب کچھ ٹھہر گیا ہو۔
"تمہیں پتہ ہے،" ارسلان نے سڑک پر چلتے ہوئے کہا۔ "میں اکثر سوچتا ہوں کہ معافی کیا ہے۔ کیا یہ صرف ایک لفظ ہے؟ یا ایک مصلحت؟"
"معافی ایک خلا ہے،" مرتضیٰ نے جواب دیا۔ "جب تم کسی کی نیت کا پوسٹ مارٹم کرنا چھوڑ دیتے ہو، جب تم یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والے کے ماتھے پر ندامت کا پسینہ ہے یا نہیں، بلکہ تم صرف اس لیے اسے چھوڑ دیتے ہو کہ تمہارا اپنا وجود اس نفرت کے بوجھ سے ہلکا ہو جائے—وہ اصل معافی ہے۔"
"مگر یہ تو بہت کٹھن ہے،" ارسلان نے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا محسوس کیا۔ "ہمارا خمیر بدلے کی آگ سے گندھا ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جتنا کرب ہم نے سہا، دوسرا بھی اس کے برابر کی قیمت چکائے۔"
"اسی لیے تو ہم تھکے ہوئے ہیں،" مرتضیٰ نے سڑک پار کرتے ہوئے کہا۔ "ہم نے اپنی زندگی کو ایک ترازو بنا لیا ہے جس پر ہم دوسروں کے اخلاق اور رویوں کو تولتے رہتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہونا ضروری نہیں، کبھی کبھی ایک پلڑے کو خالی چھوڑ دینا ہی اصل توازن پیدا کرتا ہے۔"
وہ ایک پارک کے پاس پہنچے جہاں بینچ بالکل خالی پڑے تھے۔ گھاس پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے، بالکل ان آنسوؤں کی طرح جو کسی کی یاد میں رات بھر پلکوں کی منڈیر پر بیٹھے رہتے ہیں۔
"دیکھو،" ارسلان نے ایک بینچ کی طرف اشارہ کیا۔ "وہاں کوئی اپنی ڈائری چھوڑ گیا ہے۔"
انہوں نے قریب جا کر دیکھا، ایک پرانی ڈائری کھلی پڑی تھی جس کے صفحات ہوا کے تھپیڑوں سے بے ترتیب پھڑپھڑا رہے تھے۔ ارسلان نے اسے اٹھایا۔ روشنی میں ایک جملہ صاف نظر آ رہا تھا: 'دستک سے پہلے سوچ لیجئے، ہر دروازہ دستک کے قابل نہیں ہوتا۔'
ارسلان نے وہ ڈائری سینے سے لگا لی۔ "یہ شاید کسی ایسے شخص کی ہے جو حقیقت اور گمان کے درمیان کا فرق مٹانا چاہتا تھا۔"
"یا شاید وہ جانتا تھا کہ زندگی کا کوئی منطقی انجام نہیں ہوتا،" مرتضیٰ نے کہا۔ "صرف ایک تسلسل ہوتا ہے۔ ایک ادھوری دستک سے دوسری نامکمل پکار تک کا سفر۔"
وہ دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔ شہر کی روشنیاں اب مدھم ہو رہی تھیں۔ ان کے سائے سڑک پر لمبے ہوتے گئے اور پھر اندھیرے کے ایک گہرے سمندر میں غائب ہو گئے۔ پیچھے صرف وہ خالی بینچ رہ گیا، اور وہ ہوا جو اب بھی ان صفحات کو الٹ پلٹ رہی تھی جن پر ابھی بہت کچھ لکھنا باقی تھا۔
سڑک کے موڑ پر ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا جس کے پتے خاموشی سے گر رہے تھے۔ ارسلان نے رک کر اس درخت کو دیکھا۔ "مرتضیٰ، اگر یہ درخت بول سکتا، تو کیا یہ ہمیں معاف کر دیتا؟ ہم نے اس کے سائے کی قیمت کبھی ادا نہیں کی۔"
مرتضیٰ نے ارسلان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "درخت معافی نہیں مانگتے اور نہ ہی دیتے ہیں، وہ صرف چھاؤں بانٹتے ہیں۔ شاید ہمیں بھی درختوں جیسا بننا چاہیے۔ یہ سوچے بغیر کہ نیچے بیٹھنے والا کون ہے اور اس کے دل میں کیا چھپا ہے۔"
وہ آگے بڑھ گئے، جہاں سڑک ختم ہو رہی تھی اور ایک نیا راستہ شروع ہو رہا تھا، جس پر ابھی کسی کے قدموں کے نشان نہیں تھے۔ فضا میں ایک آخری آواز گونجی، جیسے کوئی کسی کو دور سے پکار رہا ہو، مگر وہ پکار کسی نام کی نہیں، بلکہ ایک احساس کی تھی جو گلیوں کی خاموشی میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گئی تھی۔
"تم کہاں جا رہے ہو؟" ارسلان کی آواز دھند میں لرز رہی تھی۔
"وہیں، جہاں کوئی دستک گمان میں نہ بدلے،" مرتضیٰ کا جواب ہوا میں لہراتا ہوا آیا۔
اور پھر وہ دونوں ایک ایسے موڑ پر مڑ گئے جہاں سے واپسی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پیچھے صرف وہ پرانی گھڑی کی ٹک ٹک رہ گئی تھی، جو اب بھی وقت کے کسی ان دیکھے زخم پر نمک چھڑک رہی تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر