Skip to main content

مٹی سے ماورا مسافت


کاش شعور کی یہ حدیں کسی ایسے 'وفور' میں ڈھل جائیں جہاں بصارت کا بوجھ آنکھوں کے نور سے آزاد ہو جائے، اور میں لفظوں کے ظاہری پیکر سے نکل کر ان معانی تک جا سکوں جو صرف 'بین السطور' کی خاموشی میں سانس لیتے ہیں۔ یہ جو خود سے دوری کا راستہ ہے، دراصل یہی اپنی اصل تک پہنچنے کی واحد پگڈنڈی ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان اپنی ہستی کے 'تحت الشعور' میں اترتا ہے اور یادوں کی اس بیکراں کھائی سے ہمکنار ہوتا ہے جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ جب عشق اپنی سچائی کی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہ کسی 'قصور' کی گلیوں کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ وہ تو انا کے سارے بت توڑ کر خاکساری کی اس معراج پر لے جاتا ہے جہاں غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اے میری مجبوریوں کے سوداگر! اپنی انا کا یہ بوجھ اٹھا لے اور مجھے میری اس سادہ سی بے بسی کے حوالے کر دے، جو اجل کی تلخی میں بھی زندگی کے سرور کو کشید کرنے کا ہنر جانتی ہے۔

میں ایک بار خود کو ہوش کی بے غبار آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ جنون کا کوئی 'فتور' مجھے اس آسمان کی طرف اڑا لے جائے جس کی وسعتوں کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ ہم تو اس مٹی کے اسیر ہیں، مگر ہماری تڑپ ہمیں اس خلا کی طرف پکارتی ہے جہاں وجود کی حدیں ختم ہوتی ہیں اور صرف ایک بھرپور جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر