Skip to main content

مٹی سے ماورا مسافت


کاش شعور کی یہ حدیں کسی ایسے 'وفور' میں ڈھل جائیں جہاں بصارت کا بوجھ آنکھوں کے نور سے آزاد ہو جائے، اور میں لفظوں کے ظاہری پیکر سے نکل کر ان معانی تک جا سکوں جو صرف 'بین السطور' کی خاموشی میں سانس لیتے ہیں۔ یہ جو خود سے دوری کا راستہ ہے، دراصل یہی اپنی اصل تک پہنچنے کی واحد پگڈنڈی ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان اپنی ہستی کے 'تحت الشعور' میں اترتا ہے اور یادوں کی اس بیکراں کھائی سے ہمکنار ہوتا ہے جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ جب عشق اپنی سچائی کی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہ کسی 'قصور' کی گلیوں کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ وہ تو انا کے سارے بت توڑ کر خاکساری کی اس معراج پر لے جاتا ہے جہاں غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اے میری مجبوریوں کے سوداگر! اپنی انا کا یہ بوجھ اٹھا لے اور مجھے میری اس سادہ سی بے بسی کے حوالے کر دے، جو اجل کی تلخی میں بھی زندگی کے سرور کو کشید کرنے کا ہنر جانتی ہے۔

میں ایک بار خود کو ہوش کی بے غبار آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ جنون کا کوئی 'فتور' مجھے اس آسمان کی طرف اڑا لے جائے جس کی وسعتوں کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ ہم تو اس مٹی کے اسیر ہیں، مگر ہماری تڑپ ہمیں اس خلا کی طرف پکارتی ہے جہاں وجود کی حدیں ختم ہوتی ہیں اور صرف ایک بھرپور جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر