کائنات کی وسیع و عریض بساط پر رنگ محض ا دھوکا نہیں، بلکہ یہ اس کائناتی نغمگی کے استعارے ہیں جو خاموشی کی زبان میں ہم سے کلام کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو انسانی جبلت اور کائنات کے رنگوں کے درمیان ایک ایسا ازلی رشتہ ہے جو شعور کی آنکھ کھلنے سے بھی پہلے قائم ہو چکا تھا۔
اس رنگارنگ سفر کا آغاز نیلے پن کی اس اتھاہ گہرائی سے ہوتا ہے جہاں روح اپنے سکون کی تلاش میں کسی سمندر کی طرح پھیل جاتی ہے۔ یہ نیلاہٹ بصیرت کا وہ مقام ہے جہاں آسمان اور زمین کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ مگر جوں ہی زندگی نمو کی طرف قدم بڑھاتی ہے، سبز رنگ ایک مقدس دعا کی طرح ہمارے چاروں طرف چھا جاتا ہے۔ یہ ہریالی محض شجر و حجر کی زینت نہیں، بلکہ یہ اس روحانی بالیدگی کی علامت ہے جو انسانی ارادوں کو نئی زندگی بخشتی ہے۔
لیکن زندگی صرف سکون اور نمو کا نام نہیں۔ اس میں زرد رنگ کی وہ اداسی بھی شامل ہے جو خزاں کے پتوں کی طرح انسانی چہرے پر اترتی ہے تو اسے جدائی کے سچ سے آشنا کرتی ہے۔ یہ زردی دراصل وہ عینک ہے جس سے انسان کو غم کی قدر اور خوشی کی قیمت معلوم ہوتی ہے۔ اور جب یہی انسان ظلم، جبر یا جذبے کی انتہا سے ٹکراتا ہے، تو ایک سرخ لکیر نمودار ہوتی ہے۔ یہ سرخی کبھی مقتل میں جراتِ اظہار کا لہو بن کر چمکتی ہے، تو کبھی کسی رومانوی لمحے میں حیا اور تمنا کی حدِ فاصل بن جاتی ہے۔ یہ وہ ریڈ لائن ہے جسے عبور کرنا ایک نیا جنم لینے کے مترادف ہے۔
جہاں شور ختم ہوتا ہے، وہاں سفید رنگ اپنی اجلی چادر بچھائے سحرِ نو کی نوید بن کر آتا ہے۔ یہ امن، پاکیزگی اور ان جذبوں کی عکاسی ہے جو کسی بھی آلائش سے پاک ہوں۔ مگر اس سفیدی کا تضاد وہ کالا جادو ہے جو رات کی زلفوں میں چھپا ہے؛ یہ کالی رنگت جہاں ہولناکی کی علامت ہے، وہیں یہ اس پراسرار لاشعور کا پردہ بھی ہے جس کی کوکھ سے نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔
جب نارنجی دھوپ ڈھلتی ہے اور یادوں کا خاکستری دھواں فضا میں لہراتا ہے، تو انسان پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ تمام رنگ تو محض پردے تھے۔ اصل حسن تو اس بے رنگی میں ہے جہاں پہنچ کر تمام تضادات مٹ جاتے ہیں۔ یہ بے رنگی وہ مقامِ وحدت ہے جہاں رنگوں کا کثرت بھرا میلا ختم ہوتا ہے اور روح اپنی اصل حقیقت، یعنی نورِ مطلق سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔
رنگوں کا سفر دراصل خود شناسی کا وہ راستہ ہے جو ہمیں باہر کی رنگینی سے گزار کر اندر کی اس لافانی سچائی تک لے جاتا ہے -
#نوریات
Comments
Post a Comment