Skip to main content

Posts

Showing posts with the label اپنے اپنے حصے کے سچ ،

اپنے اپنے حصے کے سچ

 اپنے اپنے حصے کے سچ  چراغ اور سایوں کے مسافر رات کا وہ لمحہ تھا جب وقت اپنی سانس روک لیتا ہے۔ قبرستان کے شکستہ گنبد پر چاند کی زرد روشنی یوں جمی تھی جیسے کسی پرانے زخم پر نمک چھڑک دیا گیا ہو۔ نیم کے پتوں کی کڑواہٹ اور گیلی مٹی کی خوشبو ہوا میں گھل کر ایک ایسا بوجھ پیدا کر رہی تھی جو دل پر بیٹھ جائے اور ہلنے نہ دے۔ اس سنسانی کے بیچ، ایک لرزتے دیے کے گرد چار اجنبی بیٹھے تھے۔ اجنبی ضرور تھے، مگر ان کی آنکھوں میں سفر کی تھکن ایک خاموش رشتہ بن چکی تھی۔ دیے کی لو تھرتھراتی تو دیواروں پر ان کے سائے دیو قامت ہیولوں کی طرح ناچنے لگتے۔ پہلا مسافر، جس کا چہرہ زمانے کے تھپیڑوں سے پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا، اپنی قبا سمیٹ کر بولا: "میں اس دیس سے آیا ہوں جہاں وقت ریت نہیں، سانسوں کی طرح پھسلتا ہے۔ وہاں لوگ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی تاریخ لکھوا دیتے ہیں۔ زندگی وہاں ایک تیاری ہے، جینے کا مقصد نہیں۔" دوسرا مسافر، جس کی آنکھیں جھیل کی طرح ساکت تھیں، آہ بھر کر گویا ہوا: "میں جس نگر سے گزرا ہوں، وہاں وقت کو قتل کر دیا گیا ہے۔ نہ ماضی کا بوجھ، نہ مستقبل کا خوف۔ مگر انجام یہ کہ ان کے چہر...