Skip to main content

خاموشی کا کتبہ


وقت کی پرانی دیوار پر

جہاں یادوں کی کائی جمی ہے

میں نے اپنا نام لکھا تھا

مگر بارشوں نے اسے مٹانے کے بجائے

گہرا کر دیا ہے

تم پوچھتے ہو

کہ میرے لہجے میں یہ تھکن کہاں سے آئی؟

کبھی تم نے اس ندی کو دیکھا ہے

جو صدیوں سے پتھروں کا سینہ چیر رہی ہے؟

وہ تھکتی نہیں، بس دھیمی پڑ جاتی ہے

جیسے شام کے سائے میں

کسی بوڑھے پیڑ کی دعا

میرے اندر ایک شہر آباد ہے

جس کی گلیوں میں اب کوئی نہیں رہتا

صرف دستکیں باقی رہ گئی ہیں

جو ہواؤں کے ہاتھ سے

میرے بند کواڑوں پر سر پٹختی ہیں

محبت کوئی لفظ نہیں تھی

جو لغت سے چن کر میں تمہاری نذر کر دیتا

محبت تو وہ خالی پن تھا

جو تمہارے جانے کے بعد

میرے کمرے کی دیواروں نے اوڑھ لیا ہے

اب میں اپنی تنہائی کے ملبے پر بیٹھا

ان ستاروں کو گنتا ہوں

جو ٹوٹنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں

کیونکہ انہیں معلوم ہے

کہ ٹوٹ کر بکھر جانے کا فن

میں نے جی کر سیکھا ہے

تم جب بھی آؤ

میرا دروازہ کھلا پاؤ گے

مگر یاد رکھنا

اندر جو انسان تمہیں ملے گا

وہ تمہارے حافظے میں موجود اس شخص سے

بہت مختلف ہوگا

جسے تم نے رستے کے موڑ پر چھوڑا تھا

کیونکہ رائیگانی کے اس سفر میں

میں نے اپنی معصومیت کا بوجھ

دریا برد کر دیا ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر