وقت کی پرانی دیوار پر
جہاں یادوں کی کائی جمی ہے
میں نے اپنا نام لکھا تھا
مگر بارشوں نے اسے مٹانے کے بجائے
گہرا کر دیا ہے
تم پوچھتے ہو
کہ میرے لہجے میں یہ تھکن کہاں سے آئی؟
کبھی تم نے اس ندی کو دیکھا ہے
جو صدیوں سے پتھروں کا سینہ چیر رہی
ہے؟
وہ تھکتی نہیں، بس دھیمی پڑ جاتی ہے
جیسے شام کے سائے میں
کسی بوڑھے پیڑ کی دعا
میرے اندر ایک شہر آباد ہے
جس کی گلیوں میں اب کوئی نہیں رہتا
صرف دستکیں باقی رہ گئی ہیں
جو ہواؤں کے ہاتھ سے
میرے بند کواڑوں پر سر پٹختی ہیں
محبت کوئی لفظ نہیں تھی
جو لغت سے چن کر میں تمہاری نذر کر دیتا
محبت تو وہ خالی پن تھا
جو تمہارے جانے کے بعد
میرے کمرے کی دیواروں نے اوڑھ لیا ہے
اب میں اپنی تنہائی کے ملبے پر بیٹھا
ان ستاروں کو گنتا ہوں
جو ٹوٹنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں
کیونکہ انہیں معلوم ہے
کہ ٹوٹ کر بکھر جانے کا فن
میں نے جی کر سیکھا ہے
تم جب بھی آؤ
میرا دروازہ کھلا پاؤ گے
مگر یاد رکھنا
اندر جو انسان تمہیں ملے گا
وہ تمہارے حافظے میں موجود اس شخص سے
بہت مختلف ہوگا
جسے تم نے رستے کے موڑ پر چھوڑا تھا
کیونکہ رائیگانی کے اس سفر میں
میں نے اپنی معصومیت کا بوجھ
دریا برد کر دیا ہے
Comments
Post a Comment