Skip to main content

خالی کرسی


انسانی وجود بھی کتنا عجیب ہے، ہم ساری عمر اپنے اندر ایک ایسی خالی کرسی لیے پھرتے ہیں جس پر بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم اسے سجاتے ہیں، اس پر محبت کا رنگ و روغن کرتے ہیں، اور امید کے جھاڑو سے اس کی گرد جھاڑتے رہتے ہیں کہ کبھی تو کوئی آئے گا جو ٹھیک اسی ناپ کا ہوگا جو اس کرسی کا ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آنے والے یا تو بہت بڑے ہوتے ہیں یا بہت چھوٹے، کوئی اس پر پورا نہیں بیٹھتا۔
ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہمارے جذبات کی پیمائش ہی غلط ہے، یا شاید ہم نے توقعات کا فریم بہت اونچا بنوا لیا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مسافر تھوڑی دیر کو تھکن اتارنے بیٹھتا بھی ہے، تو ہم اسے عمر بھر کا مکین سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب وہ اٹھ کر اپنے راستے پر ہول لیتا ہے، تو وہ خالی کرسی پہلے سے زیادہ ویران اور بڑی لگنے لگتی ہے۔
اصل دکھ وہ شخص نہیں ہوتا جو چلا گیا، بلکہ وہ "خالی جگہ" ہوتی ہے جو اب دوبارہ نمائش کے لیے لگ گئی ہوتی ہے۔ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے لیے نئے خواب ، نئی امیدیں اور نئی توقعات تراشتے ہیں، مگر وجود کے اندر پڑی وہ کرسی ہمیں بتاتی رہتی ہے کہ کچھ خلا ایسے ہوتے ہیں جنہیں کائنات بھی نہیں بھر سکتی۔ انسان دراصل جذبات کا قیدی نہیں، بلکہ اس مستقل انتظار کا نام ہے جو وہ ایک ایسی دستک کے لیے کرتا ہے، جو شاید کبھی ہونی ہی نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر