Skip to main content

Posts

Showing posts from 2024

اشک روکا ہوا ہے ، درد چھپا یا ہوا ہے

 

اب شہر میں وہ چپ ہے کہ دل ڈوب رہا ہے

 

تمھارا غم ، مرے غم کے برابر ہو نہیں سکتا

 

تب کتابوں میں فقط پھول نہیں رکھتے تھے

 

دوستی کے کئی جزیرے ہیں

 

جہڑا چسکا راہوں وچ اے

 

اک نام گرامی ہے جو پہچان کرم ہے

 

کچھ الگ سا ہے ہمارے یار میں

 

مدحت کا حرف حرف محبت سے چوم کر

 

لبوں کو صل علی ورد مل گیا جب سے

 

شجر کو کاٹ کے پتھر اگائے جاتے ہیں

 

پھر کرم ایسے ہوا ان پہ پیغمبرﷺ اترا

 

ابھی سفر کے بتاؤ نہ استخارے مجھے

 

پرندے سارے ہجرت کر گئے تھے

 

خود سے ملنے کے لئے وقت کہاں ہوتا ہے

 

یہاں پر اب ہمارا کچھ نہیں ہے

 

لوگ سن لیں ، کلیجے پھٹ جائیں

 

پھر ایک روز کسی سمت سے گلہ آیا

 

میں چپ رہوں تو مجھے حرف گدگداتا ہے

 

ورنہ اس چوڑی کی قیمت کیا ہے؟

 ورنہ اس چُوڑی کی قیمت کیا ہے؟

رقص میں عمر تلک ایک صدا نے رکھا

 رقص میں عمر تلک ایک صدا نے رکھا

ذکر اس آنکھ کی بلاغت کا

 ذکر اس آنکھ کی بلاغت کا

سلام بحضور امام حسین

 سلام بحضور امام حسین

تمھیں بھی دکھ رلاتا ہے کسی کا

 تمھیں بھی دکھ رلاتا ہے کسی کا

جہاں میں مارا گیا ہوں ، وہاں میں زندہ ہوں

  جہاں میں مارا گیا ہوں ، وہاں میں زندہ ہوں

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

نگہ میں خواب نہیں ہیں ، دلوں میں پیار نہیں

 نگہ میں خواب نہیں ہیں ، دلوں میں پیار نہیں

آواز دے ، بتا مجھے ، صورت فرار کی

  آواز دے ، بتا مجھے ، صورت فرار کی 

ہزار لہجے سہے ، حرف مرہمی کے لئے

 ہزار لہجے سہے ، حرف مرہمی کے لئے

دیے کی دھیمی دھیمی لو کا قائل ہونا پڑتا ہے

 دیے کی دھیمی دھیمی لو کا قائل ہونا پڑتا ہے

خواب خرامی

 خواب خرامی

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اسے بھی مجھ سے گلہ ہوا تھا

 اسے بھی مجھ سے گلہ ہوا تھا

حرف کے پاؤں حرف پڑتا ہے

 حرف کے پاؤں حرف پڑتا ہے

خاک آسودہ جس کے اندر تھا

 خاک آسودہ جس کے اندر تھا

سب دیے جب بجھائے جاتے ہیں

 سب دیے جب بجھائے جاتے ہیں

رابطے آسان ہو جائیں گے کیا

 رابطے آسان  ہو جائیں گے کیا

مٹی کا اک چراغ ہے ، سورج نہیں کوئی

مٹی کا اک چراغ ہے ، سورج نہیں کوئی 

اک قدم ہے اگر خزانے پر

اک قدم ہے اگر خزانے پر  

بھری بہار تھی اور ہماری جھولی پھول سے خالی تھی

بھری بہار تھی اور ہماری جھولی پھول سے خالی تھی  

حرفوں سے نکل ، سوچ کو تمثیل بھنور کر

 حرفوں سے نکل ، سوچ کو تمثیل بھنور کر

عین ممکن مدینے لے جائے

 عین ممکن مدینے لے جائے

ہار از محمد نور آسی

 ہار  از محمد نور آسی

انوار میں گوندھی ہوئی طیبہ کی فضا ہے

انوار میں گوندھی ہوئی طیبہ کی فضا ہے  

مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

  مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا ڈاکٹر عزیز فیصل پیر کی یہ سہ پہر اچانک تم کو مہنگی پڑ سکتی ہے ناک شریف پہ کوئی دبوڑی لڑ سکتی ہے چھیمو، رانو والے رقعے بیوی یکدم پھڑ سکتی ہے بات سسر تک بڑھ سکتی ہے نیلے کپڑوں والی بھکارن سے محتاط ہی رہنا آج اسے کہہ دینا۔۔ بہنا۔۔۔ دفتر سے جب واپس گھر کو آنا رستے بھر میں تم لاحول ہی پڑھتے جانا منگل کے دن کوئی شخص ڈبل شہ بن کر ایک منٹ کے اندر تم کو ٹھگ سکتا ہے کچھ داندان کو کیڑا مکوڑا لگ سکتا ہے انڈا تمھارے منہ کے اندر پھنس سکتا ہے عین چول سا بندہ تم پر ہنس سکتا ہے بدھ کو دور کے پنڈ سے کوئی گیسٹ آئے گا اپنے ساتھ سسر کے علاوہ نو دس بچے بھی لائے گا سارا ٹبر دسویں دن کو شام کا کھانا کھا کر واپس گھر جائے گا دائیں ہاتھ تمھارا یکدم دروازے میں آ سکتا ہے کوا تمھارے گنج کے اوپر اپنی بیٹ گرا سکتا ہے شک پڑنے پر ہمسائی کا وہمی شوہر تھانے میں بھی جا سکتا ہے کوئی ریڈ کرا سکتا ہے اور پولیس تمھارے دولت خانے پر بھجوا سکتا ہے جمعرات کو شام کے ساڑھے چار بجے تک کوئی تمھاری گندی وڈیو لیک کرے گا بالکل ٹھیک کرے گا آڈیو کال بھی منظر عام پہ آ سکتی ہے مس معصومہ تمھارا...

اچھے میاں کا سہرا

  اچھے میاں کا سہرا صاحبو ! افتاب قدر یعنی اچھے میاں، مہتاب قدر یعنی پیارے میاں (دونوں بھائی اپنے اخری ایام تک اسلام اباد میں F-6 میں رہائش پذیر تھے، یہ دونوں بھائی اور دلاور فگار مرحوم ہم عمر بھی تھے، بدایوں شریف میں ساتھ اسکول میں پڑھتے بھی تھے اور رشتہ داریاں بھی تھیں اپس میں۔ افتاب قدر یعنی اچھے میاں میرے سگے پھوپھا تھے۔ دلاور فگار مرحوم کو شرارت سوجھی اور ایک نقشہ کھینچا کہ دلاور فگار کے پاس ایک شاگرد بڑی بدحواسی میں ایا ہے اور کہہ رہا ہے کہ استاد ِ محترم، اچھے میاں کی اج شادی ہے اور پیارے میاں کا انتقال ہوگیا ہے، اسلیے اپ جلدی سے مجھے ایک تو سہرا لکھوادیں اور ایک مرثیہ لکھوادیں۔ دلاور فگار بہت غصہ ہوئے کہ ہمیشہ ایسی ہی بدحواسی میں اتے ہو، چلو جلدی جلدی لکھو، جب دلاور فگار مصرعہ بول رہے تھے تو شاگرد نے سہرا اور مرثیہ گڈمڈ کردیا اسکےکچھ مصرعے ادھر اور اسکے کچھ مصرعے اِدھر۔ پھر شاعر پہنچتا ہے اچھے میاں اور پیارے میاں کے گھراور بڑی ہی جلدی میں سہرا اور مرثیہ کچھ ایسے پڑھتا ہے: شاعر : دلاور فگار اچھے میاں کا عقد ہوا ہے بہار میں کہدو کسی سے پھول بچھادے مزار میں روئے حسیں پہ سہرے سے...

نثرانچہ سکون

 نثرانچہ  سکون

جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ

 جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ

کنبے کے ساتھ شہر مدینہ کو چھوڑ کر

کنبے کے ساتھ شہر مدینہ کو چھوڑ کر  نعت رسول ﷺ

اندھیرے میں وہی تو رکھ رہے تھے

 اندھیرے میں وہی تو رکھ رہے تھے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

دیوار بھی بولے گی ابھی سوچ رہی ہے

 دیوار بھی بولے گی ابھی سوچ رہی ہے

باہر شکست و ریخت کو کیسے سنبھالتا

باہر شکست و ریخت کو کیسے سنبھالتا