Skip to main content

میں ہار جاؤں محبت میں کب گوارا ہے

 میں ہار جاؤں محبت میں کب گوارا ہے

عجیب کھیل ہے یہ جیت بھی خسارا ہے

ہر ایک شخص سے ملتا ہے اس تپاک کیساتھ

ہر ایک شخص سمجھتا ہےوہ ہمارا پے

بچھڑنے والے تجھے وہ بھی سونپ دیتا ہوں

جو چشم نم میں مری آخری ستارا ہے

عجب گلی ہے جہاں روشنی نہیں جاتی

کہیں پہ اشک کہیں پر کوئی ستارہ ہے

کہیں سمٹنے میں آئے تو سانس لیں ہم بھی

یہ زندگی ہے کہ دکھ درد کا کھلارا ہے

قدم قدم نئے لہجے ہیں اپنی مٹی کے

ہراک زباں میں الگ ذائقہ ہمارا ہے

یہ چاند تارے توہیں صرف میرا عکس جمال

یہ آسماں میری مٹی کا استعارہ ہے

گذر کے ایا ہے کس کرب سے یہ سوچ ذرا

ہمارا اشک اگر ذائقے میں کھارا ہے

بھنور مزاج ہیں ہم اور ہمیں بتایا گیا

کہ اس طرف نہ چلیں جس طرف کنارا ہے

تمھارا سانحہ تاریکیوں میں لٹنا تھا

ہمارا المیہ ہےیہ ،روشنی نے مارا ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...