Skip to main content

Posts

Showing posts with the label یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا،

یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا

یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا   وحشت کو انحصار بقا کر دیا گیا شعلوں کو ہم مزاجِ ہوا کر دیا گیا کچھ خواب تھے کہ جن کو حقیقت نگل گئی کچھ زخم تھے کہ جن کو دوا کر دیا گیا پھیلا دیے گئے ہیں کئی وسوسوں کے جال مجھ کو مری نظر میں برا کر دیا گیا الفاظ کے طلسم میں گم ہو گیا شعور خاموشیوں کو نذرِ صدا کر دیا گیا میں نقشِ ناتمام سہی، تھا مرا وجود تکمیل کر کے مجھ کو فنا کر دیا گیا خوشبو کی جستجو میں نکلنا محال تھا زنجیرِ پا کو موجِ صبا کر دیا گیا انسان کی انا کو میسر ہوا عروج مٹی کو اس کے بعد خدا کر دیا گیا آسی مری تپش بھی ہوئی حامل مراد یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا #نوریات