یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا
وحشت کو انحصار بقا کر دیا گیا
شعلوں کو ہم مزاجِ ہوا کر دیا گیا
کچھ خواب تھے کہ جن کو حقیقت نگل گئی
کچھ زخم تھے کہ جن کو دوا کر دیا گیا
پھیلا دیے گئے ہیں کئی وسوسوں کے جال
الفاظ کے طلسم میں گم ہو گیا شعور
خاموشیوں کو نذرِ صدا کر دیا گیا
میں نقشِ ناتمام سہی، تھا مرا وجود
تکمیل کر کے مجھ کو فنا کر دیا گیا
خوشبو کی جستجو میں نکلنا محال تھا
زنجیرِ پا کو موجِ صبا کر دیا گیا
انسان کی انا کو میسر ہوا عروج
مٹی کو اس کے بعد خدا کر دیا گیا
آسی مری تپش بھی ہوئی حامل مراد
یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا

0 Comments