Header Ads Widget

Responsive Advertisement

یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا


یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا



 وحشت کو انحصار بقا کر دیا گیا
شعلوں کو ہم مزاجِ ہوا کر دیا گیا
کچھ خواب تھے کہ جن کو حقیقت نگل گئی
کچھ زخم تھے کہ جن کو دوا کر دیا گیا
پھیلا دیے گئے ہیں کئی وسوسوں کے جال
مجھ کو مری نظر میں برا کر دیا گیا
الفاظ کے طلسم میں گم ہو گیا شعور
خاموشیوں کو نذرِ صدا کر دیا گیا
میں نقشِ ناتمام سہی، تھا مرا وجود
تکمیل کر کے مجھ کو فنا کر دیا گیا
خوشبو کی جستجو میں نکلنا محال تھا
زنجیرِ پا کو موجِ صبا کر دیا گیا
انسان کی انا کو میسر ہوا عروج
مٹی کو اس کے بعد خدا کر دیا گیا
آسی مری تپش بھی ہوئی حامل مراد
یعنی مرا وجود ہرا کر دیا گیا

Post a Comment

0 Comments