جنگل میں بکھرے رنگوں سے ملاقات
جنگل کی خاموشی میں ایک عجیب سی گفتگو ہوتی ہے، جہاں درخت صرف پہرہ نہیں دے رہے ہوتے بلکہ آپ سے سرگوشیاں کرتے ہیں۔ میں اس پگڈنڈی پر اکیلا نہیں تھا، میرے ساتھ کچھ ہمراہی تھے جنہیں ہم عام طور پر صرف ’دیکھتے‘ ہیں، کبھی ’سنتے‘ نہیں۔
وہ رنگ تھے۔
راستے کے آغاز پر ایک قدیم پیپل کا درخت تھا جس کے پتے زرد ہو کر زمین پر ایک قالین بچھا چکے تھے۔ میں نے قدم رکھا تو ایک خشک پتے نے چہک کر کہا، "آہستہ میاں! ہم بوڑھے ضرور ہیں، بے جان نہیں۔"
میں ٹھٹک کر رک گیا۔ یہ زرد رنگ تھا۔ اس کی آواز میں خزاں کی تھکن تھی مگر لہجہ کسی صوفی جیسا تھا۔
"تم لوگ گرتے کیوں ہو؟" میں نے پوچھا۔
زرد رنگ مسکرایا (یا شاید ہوا نے پتوں کو جنبش دی): "گرنا ہمیشہ زوال نہیں ہوتا۔ ہم اس لیے گرتے ہیں تاکہ درخت کو بوجھ سے بچا سکیں۔ ہم وہ قربانی ہیں جو بہار کے وعدے پر دی جاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ پیلا پڑ جانا بیماری ہے، جبکہ یہ تو تسلیم و رضا کی معراج ہے۔ ہم نے سورج کی ساری تپش جذب کر لی، اب اسے مٹی کو لوٹا رہے ہیں۔"
اس فلسفے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہماری زندگیوں میں بھی تو کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جو زرد پڑ کر گر جاتے ہیں، اور ہم انہیں ’ناکامیاں‘ سمجھ کر روتے رہتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ وہ نئی ہریالی کے لیے جگہ بنا رہے ہیں۔
آگے بڑھا تو گھنی جھاڑیوں اور کائی لگی چٹانوں نے میرا استقبال کیا۔ یہاں سبز رنگ کی حکمرانی تھی۔ وہ زرد کے برعکس بہت توانا اور ذرا ضدی معلوم ہوتا تھا۔
"تمہارے پاس وقت کم ہے،" سبز نے جیسے میرے کان میں کہا۔ "دیکھو، میں زندگی ہوں۔ میں لچک ہوں اور میں ہی جنون ہوں۔"
میں نے ایک مخملی کائی پر ہاتھ پھیرا۔ "تم اتنے پر اعتماد کیوں ہو؟"
سبز نے جواب دیا: "کیونکہ میں حال میں جیتا ہوں۔ میں ماضی کی راکھ (سیاہ) اور مستقبل کے خوف (سفید) کے درمیان ایک توازن ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جڑیں زمین میں گہری ہوں تو طوفان صرف رقص کا بہانہ بنتے ہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ’ہونے‘ (Being) کے بجائے ’بننے‘ (Becoming) کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔ میں بس ’ہوں‘۔ اسی لیے میں سکون دیتا ہوں۔"
پگڈنڈی اب ذرا دشوار گزار ہو چلی تھی۔ اچانک ایک جھاڑی پر کھلے جنگلی گلابوں نے میری توجہ کھینچی۔ وہ سرخ رنگ تھا۔ اس کی آواز میں ایک تپش تھی، ایک للکار تھی۔
"تمہاری نبض اتنی دھیمی کیوں ہے؟" سرخ نے پوچھا۔
"میں سکون کی تلاش میں ہوں،" میں نے جواب دیا۔
سرخ رنگ ہنسا: "سکون موت کا دوسرا نام ہے۔ زندگی تو ارتعاش ہے، تڑپ ہے، لہو کی گردش ہے۔ میں وہ آگ ہوں جو سینوں میں تڑپتی ہے اور وہ محبت ہوں جو مقتل میں رقص کرتی ہے۔ یاد رکھو، جس دن تمہارے اندر کا سرخ رنگ پھیکا پڑ گیا، تم چلتی پھرتی لاش بن جاؤ گے۔ توازن ضروری ہے، مگر تپش کے بغیر تخلیق ممکن نہیں۔"
جنگل کے اس حصے میں جہاں درختوں کے درمیان سے آسمان کا ایک ٹکڑا نظر آ رہا تھا، وہاں نیلا رنگ بکھرا ہوا تھا۔ وہ بہت دور تھا، مگر بہت وسیع۔
"تم اتنے خاموش کیوں ہو؟" میں نے بلندی کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
نیلے رنگ نے گہری وسعت سے جواب دیا: "میں وہ سچ ہوں جسے الفاظ کی ضرورت نہیں۔ میں ٹھہراؤ ہوں۔ میں وہ گہرائی ہوں جہاں شور ڈوب جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ زمین پر پاؤں مارتا ہے، لکیریں کھینچتا ہے، سرحدیں بناتا ہے۔ مگر میری طرف دیکھو، میں بے سرحد ہوں۔ میں تمہیں یاد دلاتا ہوں کہ تمہاری اوقات ایک ذرے سے زیادہ نہیں، مگر تمہاری روح کی وسعت مجھ جیسی ہو سکتی ہے۔"
اس کی گفتگو میں وہ گہرائی تھی جو انسان کو اپنی انا (Ego) سے باہر نکال کر کائنات کے عظیم ڈیزائن کا حصہ بنا دیتی ہے۔
سورج ڈھل چکا تھا۔ پگڈنڈی اب دھندلی ہو رہی تھی۔ یہاں سیاہ رنگ دبے پاؤں آ رہا تھا، اور کہیں کہیں چاند کی پہلی کرن کا سفید رنگ جھلک رہا تھا۔
سیاہ نے بڑے وقار سے کہا: "مجھ سے ڈرنا مت۔ میں فنا نہیں ہوں، میں آرام ہوں۔ میں وہ پردہ ہوں جس کے پیچھے قدرت اگلے دن کی تیاری کرتی ہے۔"
اور سفید نے اس کی بات مکمل کی: "اور میں وہ شفافیت ہوں جو تمام رنگوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ جب تم سب رنگوں کو قبول کر لیتے ہو، تو تم سفید ہو جاتے ہو۔"
میں جب اس پگڈنڈی سے باہر نکلا تو میرے اندر ایک عجب روشنی تھی۔ میں نے سیکھا کہ زندگی ان تمام رنگوں کا امتزاج ہے۔
ہمیں کبھی زرد بن کر پرانی یادوں کو جھاڑنا پڑتا ہے۔
کبھی سبز بن کر لچک دکھانی پڑتی ہے۔
کبھی سرخ بن کر اپنے حق کے لیے تڑپنا پڑتا ہے۔
اور کبھی نیلے کی طرح خاموش وسعت اختیار کرنی پڑتی ہے۔
جنگل پیچھے رہ گیا تھا، مگر رنگوں کی وہ محفل اب بھی میرے ساتھ تھی۔ اور میرے کانوں میں سر گوشیوں کر رہی تھی
کاش ہم اپنی زندگی کے کینوس پر ان تمام رنگوں کو اسی طرح توازن سے بھر سکیں، جیسے قدرت اس جنگل کی پگڈنڈی پر بھرتی ہے۔


0 Comments