Skip to main content

Posts

Showing posts with the label قدیم کنویں کی بازگشت،

قدیم کنویں کی بازگشت

  صدا کا قید خانہ: قدیم کنویں کی بازگشت   بستی کے آخری سرے پر، جہاں بوڑھے برگد کی جڑیں زمین کا سینہ چاک کر کے باہر نکل آئی ہیں، وہ قدیم کنواں آج بھی موجود ہے۔ یہ محض ایک کنواں نہیں، زمین کا وہ دہانہ ہے جس نے صدیوں کا پیاسا سکوت پی رکھا ہے۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہ کنواں 'بنیادِ عالم' سے جڑا ہے، مگر میرا خیال ہے کہ یہ کائنات کا وہ کان ہے جو صرف سرگوشیاں سنتا ہے۔ شام کی زرد روشنی جب کنویں کی منڈیر پر گرتی ہے، تو اس کے بوسیدہ پتھر کسی قدیم مقبرے کے کتبوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔ منڈیر پر جمی کائی محض نباتات نہیں، بلکہ وقت کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جسے کوئی پڑھ نہیں پایا۔ میں اکثر اس کی منڈیر پر بیٹھتا ہوں۔ نیچے، اتھاہ گہرائی میں، سیاہ پانی ایک منجمد آنکھ کی طرح اوپر دیکھتا ہے۔ وہ پانی نہیں، پگھلا ہوا وقت ہے جس میں عکس تو بنتے ہیں مگر ابھرتے نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کنویں سے آوازیں آتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ جنات کی محفل ہے، کوئی اسے ہواؤں کا شور قرار دیتا ہے۔ مگر میں نے جب بھی اس کے دہانے پر کان دھرا، مجھے محسوس ہوا کہ یہ آوازیں باہر سے نہیں، بلکہ میرے اندر کے کسی خالی کمرے سے...