Skip to main content

آئنہ خانہ و انا


میں اس کائنات کے عظیم آئنہ خانے میں کھڑا خود کو تلاش کر رہا ہوں، مگر یہاں ہر عکس مجھے میرا ہونے کا دھوکا تو دیتا ہے، میرا ثبوت نہیں بنتا۔ کہیں میں ہوں، اور کہیں صرف میرا گمان ہے۔ یہ جو میرے وجود پر شکست و ریخت کے سلگتے ہوئے نشان ہیں، یہ اس قربت کا نتیجہ ہیں جو میں نے اس 'حقیقتِ مطلق' سے چاہی تھی جس کے قریب جاتے ہی انسان خاک ہو جاتا ہے۔

عجیب تماشہ ہے کہ میں شک اور گمان کے بے شمار جنگلوں سے گزر کر، لفظوں کی صورت میں یقین کی تختی پر کچھ تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر قلم کی جنبش سے پہلے ہی مٹی کی بو پکارتی ہے کہ "تم کچھ بھی نہیں"۔ وجود اور عدم کے اس عالمِ نابود میں ایک طرف میری اپنی انا کا شور ہے جو کہتا ہے "میں ہوں"، اور دوسری طرف کائنات کا سکوت ہے جو پکارتا ہے "نہیں، تم محض ایک سایہ ہو"۔

میں اپنی جبیں پر نیاز اور آرزو کے سجدے لیے ایک ایسے در کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں جو شاید ابھی بنا ہی نہیں، یا شاید وہ در میری اپنی ہی ذات کے کسی بند گوشے میں چھپا ہے۔ میں وہ مسافر ہوں جو اپنی منزل کا نقشہ خود اپنے لہو سے بنا رہا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس آئنہ خانے میں عکس بدلتے رہتے ہیں، حقیقت نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر