ہمارا رشتہ
اس دھاگے کی مانند ہے
جو ٹوٹا تو نہیں
مگر جس میں اتنی گرہیں لگ چکی ہیں
کہ اب اگر اسے چھو بھی لیا جائے
تو انگلیاں لہولہان ہو جاتی ہیں
گرہیں کھولنا ممکن تو ہے
مگر ڈر ہے
گرہیں کھولتے کھولتے کہیں دھاگہ ہی نہ ٹوٹ جائے
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی
Comments
Post a Comment