Skip to main content

مہکتا ہوا سچ


وہ جو ایک بے جان تکرار میں کٹ رہی ہے
اس زندگی کی دھول اڑاتے ہوئے
ہم نے سائے جوڑ کر جتنی شامیں بنائیں
وہ سب مصلحتوں کے بوجھ تلے دب گئیں
رستے کے پرانے پیڑ اب ہمیں نہیں پہچانتے
کہ ہم نے اپنی انا کی دیواریں اتنی بلند کر لیں
کہ اب ایک دوسرے کو پکارنا بھی
محض ایک سرگوشی کے سوا کچھ نہیں
کیسے عجیب لوگ ہیں ہم!
جو بھرے ہوئے شہر میں بھی خالی ہاتھ پھرتے ہیں
اور اپنی ہی بستیوں میں اجنبیوں کی طرح بستے ہیں
ہم نے یادوں کی جن کرچیوں کو سمیٹا تھا
آج وہی ہماری پوروں سے اپنا لہو مانگتی ہیں
اور ضمیر کی وہ کال کوٹھری
جس سے نکل کر ہمیں کائنات تخلیق کرنی تھی
اب ایک بے نام وحشت کا مسکن بن چکی ہے
مگر سنو!
ابھی گندم کی بالیوں میں وہ سنہرا پن باقی ہے
ابھی ڈھلتے چیت کی دھوپ میں وہ نشہ موجود ہے
جو ہمیں بتاتا ہے کہ لمحے ادھورے نہیں چھوڑنے
آؤ کہ اس سے پہلے کہ وجود کا یہ گداز پتھر ہو جائے
ہم بیزاری کے انبار سے اپنا آپ نکالیں
اور کسی وصلِ نو کے اس نور میں نہا جائیں
جہاں "میں" اور "تو" کے سب جھگڑے مٹ جائیں
جہاں زندگی کسی مجبوری کا عنوان نہیں
بلکہ ایک مہکتا ہوا سچ بن جائے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر