Skip to main content

مہکتا ہوا سچ


وہ جو ایک بے جان تکرار میں کٹ رہی ہے
اس زندگی کی دھول اڑاتے ہوئے
ہم نے سائے جوڑ کر جتنی شامیں بنائیں
وہ سب مصلحتوں کے بوجھ تلے دب گئیں
رستے کے پرانے پیڑ اب ہمیں نہیں پہچانتے
کہ ہم نے اپنی انا کی دیواریں اتنی بلند کر لیں
کہ اب ایک دوسرے کو پکارنا بھی
محض ایک سرگوشی کے سوا کچھ نہیں
کیسے عجیب لوگ ہیں ہم!
جو بھرے ہوئے شہر میں بھی خالی ہاتھ پھرتے ہیں
اور اپنی ہی بستیوں میں اجنبیوں کی طرح بستے ہیں
ہم نے یادوں کی جن کرچیوں کو سمیٹا تھا
آج وہی ہماری پوروں سے اپنا لہو مانگتی ہیں
اور ضمیر کی وہ کال کوٹھری
جس سے نکل کر ہمیں کائنات تخلیق کرنی تھی
اب ایک بے نام وحشت کا مسکن بن چکی ہے
مگر سنو!
ابھی گندم کی بالیوں میں وہ سنہرا پن باقی ہے
ابھی ڈھلتے چیت کی دھوپ میں وہ نشہ موجود ہے
جو ہمیں بتاتا ہے کہ لمحے ادھورے نہیں چھوڑنے
آؤ کہ اس سے پہلے کہ وجود کا یہ گداز پتھر ہو جائے
ہم بیزاری کے انبار سے اپنا آپ نکالیں
اور کسی وصلِ نو کے اس نور میں نہا جائیں
جہاں "میں" اور "تو" کے سب جھگڑے مٹ جائیں
جہاں زندگی کسی مجبوری کا عنوان نہیں
بلکہ ایک مہکتا ہوا سچ بن جائے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر