Skip to main content

ادھورا ناشتہ


میز پر رکھے ہوئے دو پیالے

اب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے

چائے کی بھاپ میں

اب وہ دھندلے چہرے نظر نہیں آتے

جو کبھی ہنستے ہوئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں

اپنا عکس ڈھونڈتے تھے

میں نے آج پھر

کچی روٹی کا وہ ٹکڑا توڑ کر

پلیٹ کے کونے میں رکھ دیا ہے

جیسے کوئی پرانی عادت

کسی نئے دکھ کی دہلیز پر دم توڑ رہی ہو

کھڑکی کے باہر

وہی بوڑھا پودا اب بھی کھڑا ہے

جس کی شاخیں اب دیوار کے اندر جھکنے لگی ہیں

شاید وہ ان سرگوشیوں کو سننا چاہتا ہے

جو ہم نے برسوں پہلے

خاموشی کے نام کر دی تھیں

تم نے ٹھیک ہی کہا تھا

کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

مگر تم نے یہ نہیں بتایا تھا

کہ وقت گزرنے کے بعد

جو خالی کمرے رہ جاتے ہیں

ان کی دیواریں اتنی تنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟

آج میں نے الماری سے

تمہارا وہ پرانا سویٹر نکالا ہے

جس کے دھاگے اب جگہ جگہ سے ادھڑ رہے ہیں

میں نے اسے پہننے کی کوشش کی

مگر وہ مجھے بہت چھوٹا لگا

شاید میں بڑا ہو گیا ہوں

یا شاید میرا دکھ اب اتنا پھیل چکا ہے

کہ تمہاری یادوں کا کوئی بھی پیراہن

میرے وجود کو ڈھانپ نہیں سکتا

باہر گلی میں

بچوں کے شور میں اب وہ کھنک نہیں رہی

یا شاید میرے کانوں میں

اس تغافل کی کرچیاں چبھ گئی ہیں

جو تم نے جاتے ہوئے

بغیر مڑے مجھے تحفے میں دیا تھا

میں اب کسی سے نہیں پوچھتا

کہ تم کہاں ہو، کس کے ساتھ ہو

میں تو اب خود سے بھی نہیں پوچھتا

کہ میں کون ہوں

میں بس ایک ادھورا ناشتہ ہوں

جو کسی ویران میز پر پڑا

اپنی باری کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے

سورج ڈھل رہا ہے

اور کمرے میں وہی کڑوی تاریکی اتر رہی ہے

جو چراغِ دل سے اب

گہرا تعلق نبھانے لگی ہے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر