گردِ راہ میں گم ہوتی بصیرت تئیس اپریل کے روز جب میں شہر کی ایک قدیم لائبریری کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تو میرے کانوں میں ٹریفک کا شور کسی دور دراز سمندر کی گرج کی طرح سنائی دے رہا تھا۔ باہر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں، ہنگاموں اور جدید آلات کی برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں تھی، مگر جیسے ہی میں نے اس عمارت کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے کو دھکیلا، ایک ایسی دنیا نے میرا استقبال کیا جہاں وقت ساکت ہو چکا تھا۔ وہاں کی ہوا میں ایک مخصوص بو تھی—وہ خوشبو جو صرف پرانے کاغذوں، گتے کی جلدوں اور تنہائی کے باہمی ملاپ سے جنم لیتی ہے۔ لیکن اس بار اس خوشبو کے ساتھ ایک عجیب سی اداسی بھی نتھی تھی، ایک ایسی خاموشی جو محض شور کی غیر موجودگی نہیں تھی، بلکہ ایک باقاعدہ نوحہ تھی۔ میں ان راہداریوں میں گھومنے لگا جہاں الماریاں اب یادداشت کے کتبے معلوم ہوتی تھیں۔ ان الماریوں پر سجی کتابوں پر گرد کی ایک ایسی دبیز اور مخملی تہہ جمی تھی جیسے کسی متروک بستی کے کھنڈرات پر کائی جم جاتی ہے۔ میں نے جب ایک شیلف سے ایک بھاری بھرکم جلد کو نکالا، تو میرے ہاتھوں کی پوروں نے اس مٹی کو محسوس کیا جو محض مٹی نہیں تھی، بلکہ ہما...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی