Skip to main content

Posts

Showing posts from 2026

خاموش دریا اور حرفِ آرزو

زندگی اکثر ایسے موڑ پر  انسان کو کھڑا کر دیتی  ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔ محبت کا سفر  کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دری...

ملاقاتوں کے بوجھ

کبھی آپ نے غور کیا ہےکہ ہم زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے ہزاروں چہروں کو دیکھتے ہیں، بہت سوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، کچھ کے ساتھ طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، اور پھر کسی موڑ پر رک کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ایسی تھیں جن کے بعد روح میں ایک عجیب سی خنکی، ایک تسکین اور ایک ناقابل بیان ٹھہراؤ اتر آیا، جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر نے طویل سفر کے بعد بوجھل کندھوں سے گٹھڑی اتار دی ہو۔ اس کے برعکس، کچھ ملاقاتیں ایسی بھی رہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ بوجھل، اداس اور خالی کرجاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، یہ انسانی نفسیات اور روحانی کیمیا کا ایک پیچیدہ سا نچوڑ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جن لوگوں سے مل کر ہمیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ہمارے وجود کے لیے ’آئینہ‘ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہمیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم جیسے ہیں، جس حال میں ہیں، وہ ہمیں اسی طرح قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں محض الفاظ کے تبادلے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ایک ہم آہنگ خاموشی میں بیٹھ جانا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کے سامنے ہوتے ہیں جس کے دل میں آپ کے لی...

توازن کا نا دیدہ ہاتھ۔ کالم

 

چابی، دریا اور کرایہ دار: ایک مکان کی ہجرت کا نوحہ

انسان کی پوری زندگی دراصل ایک "عارضی قیام" کا نام ہے، لیکن اس آفاقی سچائی کا سب سے زیادہ ادراک اس بدنصیب کو ہوتا ہے جسے لوگ پیار سے "کرایہ دار" کہتے ہیں。 مالکِ مکان کے لیے مکان محض ایک سرمایہ یا اینٹ پتھر کا ڈھیر ہوتا ہے، لیکن ایک کرایہ دار کے لیے وہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی چھوٹی سی بستی بساتا ہے。 مگر افسوس کہ اس بستی کی عمر اکثر مالکِ مکان کے موڈ یا اس کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی اچانک واپسی کی خبر تک ہی محدود ہوتی ہے。 عمومی زندگی میں کرایہ داری ایک ایسا "جذباتی جوا" ہے جس میں ہار ہمیشہ کرایہ دار کی ہی ہوتی ہے。 آپ جب کسی نئے مکان میں منتقل ہوتے ہیں، تو آپ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ان دیواروں کو اپنی پہچان دے سکیں。 آپ کیل ٹھونکتے ہیں، تصویریں لٹکاتے ہیں اور الماریوں میں اپنی زندگی کی کتابیں سجاتے ہیں。 لیکن جیسے ہی ہتھوڑی کی پہلی ضرب پڑتی ہے، مالکِ مکان کے دل میں ایک ایسی ٹیس اٹھتی ہے جیسے آپ نے کیل دیوار میں نہیں بلکہ اس کے جگر میں ٹھونک دی ہو。 وہ فوراً "ایگریمنٹ" کی وہ شق یاد دلاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان کی حا...

جوہرِ انسانیت

اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات

اکتارہ

سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان بھی عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے ثقیل ہو جاتے ہیں کہ پہاڑ بھی راستہ بدل لیں، اور کبھی اتنے ہلکے کہ کسی کی ایک مسکراہٹ یا شعر کا کوئی اچھوتا مصرع ہمیں ہواؤں میں اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی ہماری یہ زندگی خود ایک پیچیدہ "بحر" بن چکی ہے، بالکل کسی غزل کی طرح۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوزان اور تقطیع کے تمام قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، اور کبھی اچانک پتا چلتا ہے کہ وقت کی کسی سنگین غلطی نے ہمیں "خارج از بحر" مصرعے کی طرح اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ ہم سارا دن ڈیٹا، اسکرینوں، سودے بازیوں اور معیشت کے محاصرے میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، ہمارے اندر کا وہ پرانا انسان جاگ اٹھتا ہے جو کسی گلی کی سوندھی مٹی اور پیپل کی چھاؤں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یہ شاید ہماری فطرت کا وہ گوشہ ہے جسے ہم دنیا کی تمام تر پروفیشنل چکا چوند سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دن بھر بڑے دانشور بن کر پھرتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی پرانی یاد ذہن کے کسی فولڈر پر دستک دیتی ہے، ہماری ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ پھر ہم وہی بچے بن جات...

انتخاب کا بوجھ

میں نے جب بھی راستوں کی کثرت دیکھی میرے قدم وہیں ٹھہر گئے ہم اس نسل سے ہیں جو اپنی پسند کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی ضرورت ہی بھول گئی ہماری میز پر پھیلے ہوئے سینکڑوں رنگ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ تصویر کیا بنانی ہے بلکہ یہ جتاتے ہیں کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کر دیا کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ ندی جو صرف ایک سمت بہتی تھی ہم سے زیادہ آزاد تھی! #نوریات

حرمتِ حرف

الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے یہ تو وہ تراشیدہ پتھر ہیں جو اگر میزانِ عقل میں تولے جائیں تو منکر کو بھی قائل کر لیتے ہیں اور اگر انہیں محبت کی خوشبو میں بسایا جائے تو سنگ دلوں کو بھی مائل کر لیتے ہیں! مگر یاد رکھنا! الفاظ کے دھارے دو دھاری تلوار بھی ہیں تلخ لہجے کی نوک پر رکھے ہوئے حرف روح کے اس مقام پر زخم لگاتے ہیں جہاں کوئی مرہم نہیں پہنچ پاتا یہ جیتے جاگتے انسان کو گھائل کر دیتے ہیں! الفاظ برتنے والے جانتے ہیں کہ کب انہیں ڈھال بنانا ہے اور کب انہیں وہ تیر جو کمان سے نکلنے کے بعد واپس نہیں لوٹتے! #نوریات

اداکاریاں

زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ سے حال پوچھیں گے تو اس انداز میں گویا آپ کی صحت کی رپورٹ سیدھی عالمی ادارہِ صحت کو بھیجنی ہے، لیکن جوں ہی آپ نے خلوصِ نیت سے اپنے سر درد کا تذکرہ چھیڑا، ان کی آنکھوں میں وہ بیزاری جھلکنے لگتی ہے جو ایک طالب علم کے چہرے پر ریاضی کے مشکل سوال کو دیکھ کر آتی ہے۔ دراصل ہم سب ایک ایسی عجیب دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں "کیسے ہیں آپ؟" کا جواب "ٹھیک ہوں" کے علاوہ کچھ بھی دینا ایک معاشرتی جرم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنے جذبات پر بھی ضبط کمال حاصل ہوتا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی جو صاحب بچوں پر دھاڑ رہے ہوتے ہیں، وہ کال اٹھاتے ہی اچانک لہجے میں شہد بھر لیتے ہیں ۔ لہجے کی یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک لمحے پہلے کا غصہ اگلے ہی لمحے "جی فرمائیے" کی ایسی لوری میں بدل جاتا ہے کہ سننے والا اسے دنیا کا معصوم ترین انسان سمجھ لے۔ پھر کچھ وہ احباب ہیں جو سادگی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی امارت کی ایسی نمائش کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا رہ جائے کہ یہ عاجزی ہے یا کوئی اشتہاری مہم۔ "بھئی ہم تو بہت سادہ لوگ ہیں، بس یہ دو چار کنال کا گھر ...

مزدوری

سونے کی کان میں کام کرنے والے نے جب دھوپ میں آ کر ہاتھ پھیلائے تو اس کی ہتھیلیوں پر صرف مٹی تھی #نوریات

بنیاد

دیوار پر لگا ہوا وہ آخری پتھر بظاہر بہت بلند اور معتبر ہے مگر اس کا سارا بوجھ بنیاد کی مٹی پر ہے #نوریات

جدید آلات اور ہم

آج کل کی دنیا میں "انسان" ہونا ایک اضافی بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ اب تو ہم صرف ایک "یوزر نیم" ہیں جس کے پیچھے دو چار سو جی بی ڈیٹا چھپا ہوا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، مابدولت ایک نفیس سی محفل میں بیٹھے تھے جہاں ایک صاحب "انسان کی عظمت" پر بھاشن دے رہے تھے کہ اچانک جیب میں رکھے اسمارٹ فون نے "تھرتھراہٹ" کے ذریعے اطلاع دی کہ آپ کی عظمت اپنی جگہ، لیکن آپ کی بیٹری محض 2 فیصد رہ گئی ہے۔ بس پھر کیا تھا، ان کی ساری فلسفیانہ گفتگو ایک طرف رہ گئی اور وہ کسی "چارجر" کی تلاش میں یوں ہانپتے کانپتے پھرنے لگے جیسے کوئی پیاسا صحرا میں نخلستان ڈھونڈ رہا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ جدید آلات نے ہمیں "آٹو میٹک" تو بنا دیا ہے، مگر "آٹومیٹک بے وقوف"۔ اس میں سب سے بڑا مجرم یہ "آٹو کوریکٹ" نامی بلا ہے۔ یہ ایک ایسا خودسر منشی ہے جو آپ کے جذبات کا خون کرنے میں ذرا برابر تامل نہیں کرتا۔ پرسوں ایک عزیز دوست کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ ہم نے بڑے خلوص سے میسج ٹائپ کیا: "ماشاء اللہ، اللہ بخت بلند کرے"۔ ظالم آٹو کوریکٹ نے پتا نہیں کس انتقام کی آ...

دیوار

ایک ذرا سی غلط فہمی نے اپنوں کے درمیان ضد کی ایک اینٹ رکھ دی پھر انا کا گارا اسے مضبوط کرتا گیا یہاں تک کہ وہ ایک دیوار بن گئی اب دیوار کے دونوں طرف پچھتاوا ایک آسیب بن کر رہتا ہے #نوریات

آئینہ

شکوہ کرنا ایک ایسا زہر ہے جسے ہم خود پیتے ہیں اور توقع دوسروں کے مرنے کی کرتے ہیں محبت کی ریاضت کرو کہ یہی وہ آئینہ ہے جس میں خدا دکھتا ہے #نوریات

اخلاص کی جاگیر

ہم نے کبھی دلوں کا سودا نہیں کیا ہم اہل محبت ہیں اور ہماری جائیداد صرف اخلاص ہے ہم اسے بانٹتے ہوئے حساب نہیں رکھتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو بانٹ دیا وہ ہمارا ہے اور جو بچا لیا وہ مٹی ہے #نوریات

گلی میں آج چاند اترا

تمہارا آنا کسی کچے مکان کی منڈیر پر پہلی کرن کے اترنے جیسا ہے کتنی ہی مدت سے اس گلی میں خاک اڑتی رہی اور وقت کے پیروں تلے یادوں کے تارے کچلتے رہے مگر آج۔۔۔ جب تم نے اس بنجر راستے پر قدم رکھا ہے تو یوں لگا ہے جیسے کسی سوکھے ہوئے پیڑ پر کوئی ہرا زخم پھر سے کلی بن گیا ہو ہاں! بہت دنوں بعد میری وحشت زدہ گلی میں ایک چاند اترا ہے! #نوریات