Skip to main content

Posts

Showing posts from 2026

کتابوں کا عالمی دن

 گردِ راہ میں گم ہوتی بصیرت تئیس اپریل کے روز جب میں شہر کی ایک قدیم لائبریری کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تو میرے کانوں میں ٹریفک کا شور کسی دور دراز سمندر کی گرج کی طرح سنائی دے رہا تھا۔ باہر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں، ہنگاموں اور جدید آلات کی برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں تھی، مگر جیسے ہی میں نے اس عمارت کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے کو دھکیلا، ایک ایسی دنیا نے میرا استقبال کیا جہاں وقت ساکت ہو چکا تھا۔ وہاں کی ہوا میں ایک مخصوص بو تھی—وہ خوشبو جو صرف پرانے کاغذوں، گتے کی جلدوں اور تنہائی کے باہمی ملاپ سے جنم لیتی ہے۔ لیکن اس بار اس خوشبو کے ساتھ ایک عجیب سی اداسی بھی نتھی تھی، ایک ایسی خاموشی جو محض شور کی غیر موجودگی نہیں تھی، بلکہ ایک باقاعدہ نوحہ تھی۔ میں ان راہداریوں میں گھومنے لگا جہاں الماریاں اب یادداشت کے کتبے معلوم ہوتی تھیں۔ ان الماریوں پر سجی کتابوں پر گرد کی ایک ایسی دبیز اور مخملی تہہ جمی تھی جیسے کسی متروک بستی کے کھنڈرات پر کائی جم جاتی ہے۔ میں نے جب ایک شیلف سے ایک بھاری بھرکم جلد کو نکالا، تو میرے ہاتھوں کی پوروں نے اس مٹی کو محسوس کیا جو محض مٹی نہیں تھی، بلکہ ہما...

کچی مٹی کا نوحہ

میرے ہاتھوں کی پوروں میں کسی قدیم مٹی کی بو اب تک باقی ہے وہ مٹی جس سے پہلا کالبد ڈھالا گیا تھا اور جس کے سینے میں ساہ لینے کی آرزو نے پہلا شگاف ڈالا تھا میں کوئی ٹھہرا ہوا پانی نہیں ہوں جس میں تم اپنا عکس دیکھ کر مطمئن ہو جاؤ میں تو وہ ریگزار ہوں جو ہر لمحہ اپنی حدیں بدلتا ہے اور جس کے ذرے ہواؤں کے ساتھ ہمکلام ہونے کے لیے اپنے ہی وجود سے بغاوت کرتے ہیں تم مجھے لفظوں کے پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہو؟ مگر یاد رکھو خون کی گردش کا کوئی گرامر نہیں ہوتا اور نہ ہی آنکھوں میں اترنے والے خوابوں کو کسی لغت کی ضرورت ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب بیج زمین کا سینہ چاک کرتا ہے تو کوئی شور نہیں ہوتا مگر ایک کائنات لرز اٹھتی ہے تخلیق کا یہ کرب کسی خاموشی کا نہیں، بلکہ ایک مسلسل پکار کا نام ہے وہ پکار جو مٹی کو گوشت پوست بناتی ہے اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ دھوپ کو مٹھی میں کیسے قید کرتے ہیں اور کیسے اپنی ہی پرچھائی کے تعاقب میں ستاروں کی سرحدیں عبور کی جاتی ہیں میں وہ مسافر ہوں جس نے اپنی منزل کی تلاش میں راستے کے تمام سنگِ میل اکھاڑ دیئے ہیں تاکہ...

خاموشی کا کتبہ

وقت کی پرانی دیوار پر جہاں یادوں کی کائی جمی ہے میں نے اپنا نام لکھا تھا مگر بارشوں نے اسے مٹانے کے بجائے گہرا کر دیا ہے تم پوچھتے ہو کہ میرے لہجے میں یہ تھکن کہاں سے آئی؟ کبھی تم نے اس ندی کو دیکھا ہے جو صدیوں سے پتھروں کا سینہ چیر رہی ہے؟ وہ تھکتی نہیں، بس دھیمی پڑ جاتی ہے جیسے شام کے سائے میں کسی بوڑھے پیڑ کی دعا میرے اندر ایک شہر آباد ہے جس کی گلیوں میں اب کوئی نہیں رہتا صرف دستکیں باقی رہ گئی ہیں جو ہواؤں کے ہاتھ سے میرے بند کواڑوں پر سر پٹختی ہیں محبت کوئی لفظ نہیں تھی جو لغت سے چن کر میں تمہاری نذر کر دیتا محبت تو وہ خالی پن تھا جو تمہارے جانے کے بعد میرے کمرے کی دیواروں نے اوڑھ لیا ہے اب میں اپنی تنہائی کے ملبے پر بیٹھا ان ستاروں کو گنتا ہوں جو ٹوٹنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ٹوٹ کر بکھر جانے کا فن میں نے جی کر سیکھا ہے تم جب بھی آؤ میرا دروازہ کھلا پاؤ گے مگر یاد رکھنا اندر جو انسان تمہیں ملے گا وہ تمہارے حافظے میں موجود اس شخص سے بہت مختلف ہوگا جسے تم نے رستے کے موڑ پر چھوڑا تھا...

گواہی

ہمارے ہاتھ، جن سے ہم دن بھر رزق چنتے ہیں جب رات کی تنہائی میں اپنی پیشانی پہ رکھتے ہیں تو ان کی پوریں، سارے دن کے دکھ پہچان لیتی ہیں #نوریات

تعلق کی آبنائے ہرمز

شاہراہ حیات پر کئی موڑ ایسے بھی آتے ہیں جو آبنائے ہرمز کی مانند بہت مختصر، مگر بہت اہم ہوتے ہیں ایک طرف انا کا سمندر تو دوسری طرف مصلحت کی خلیج اور بیچ میں تعلق کی ناؤ ایسے میں بند راستے کھولنے اور نئے راستے بنانے پڑتے ہیں جذبات کو سفارت کاری سکھانا اور احساسات کو مذاکرات کی میز پر لانا پڑتا ہے #نوریات

آگہی کا لمحہ

سبھی شور تھم گیا ہے دریا کے تلاطم میں ایک ٹھہراؤ ہے اب کوئی تمنا نہیں کہ ساحل ملے یا نہ ملے آگہی کے اس جزیرے پر صرف میں ہوں اور میرا خدا ہے جہاں وقت کی قید ہے نہ یادوں کا بوجھ صرف ایک ابدی لمحہ ہے جو سانس کی ڈور سے بندھا ہوا ہے اور یہی زندگی ہے! #نوریات

سچا احساس

انسانی لب و لہجہ صرف آواز کا اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، یہ تو باطن کے موسموں کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی لہجے میں اتنی تپش ہوتی ہے کہ برسوں کی ہریالی پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہے، اور کبھی کوئی ایک جملہ، کوئی ایک دھیمی پکار، بنجر ہوتے ہوئے وجود میں امید کی کونپلیں پھوٹنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی بنیاد مٹی یا پتھر پر نہیں، بلکہ احساس کی اس ملائم ڈور پر کھڑی ہوتی ہے جو ذرا سی تلخی کی تاب نہیں لا سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کے اس پر آشوب سفر میں ہمیں کسی "لاجواب" کر دینے والے منطقی استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی اس ایک دل آویز مسکراہٹ کی ہوتی ہے جو یہ کہہ سکے کہ "میں تمہاری ان کہی باتوں کا محرم ہوں"۔ احساس کا آنگن تبھی روشن رہتا ہے جب ہم عیبوں پر مصلحت کی چادر تاننے کے بجائے، اپنے اندر کے آئینے کو صاف رکھنے کی جسارت کریں۔ لہجوں میں وہ نمو پیدا کریں جو زخم لگانے کے بجائے مرہم بننا جانتی ہو۔ کیونکہ جب آوازیں تھم جائیں گی اور یادوں کی دھول بیٹھ جائے گی، تو صرف وہی ایک حرفِ معتبر باقی رہ جائے گا جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے نہایت خاموشی سے ادا ...

بازیافت

وہ گلیاں اب بھی وہیں ہیں جہاں میرے پیروں کے نشان گرد کی تہوں میں دب کر خاموشی کا حصہ بن چکے ہیں مگر ان گلیوں کے دہانے پر کھڑی حویلیاں اب ایسی بوڑھی عورتوں کی طرح لگتی ہیں جو اپنے دکھ چھپانے کے لئے دیواروں پر سفیدی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر اندر کے ٹوٹے ہوئے چوبارے اب بھی پرانی یادوں کے ملبے سے اپنا وجود بچانے کی تپسیا میں مصروف ہیں تم نے دیکھا ہے کبھی؟ کہ پگڈنڈیاں کسی منزل کی طرف نہیں جاتیں بلکہ وہ ماضی کے ان زخموں کا راستہ ہیں جو پیروں تلے روندی جانے کے باوجود کبھی نہیں بھرتیں اور ان پگڈنڈیوں کے کنارے کھڑا وہ برگد جس کی جڑیں زمین کے باطن میں نہیں بلکہ میرے وجود میں اتری ہوئی ہیں وہ اب بھی ہوا کے ہر جھونکے سے یہی پوچھتا ہے کہ کیا کوئی مسافر اپنے سائے کو بھی کبھی پیچھے چھوڑ سکا ہے؟ میں نے چوباروں کی ان کھڑکیوں سے کئی بار خود کو باہر جھانکتے دیکھا ہے مگر وہاں کوئی نہیں تھا سوائے اس سناٹے کے جو کسی خالی برتن میں گرنے والی بوند کی طرح اپنا ہی ماتم کر رہا تھا عجیب ہے ناں! کہ وہ حویلیاں جو کبھی آباد تھیں اب محض ایک ایسی بساط معلوم ہوتی ہیں جس پر وقت نے تمام مہرے الٹ دیئے ہیں دیکھو! میں نے ا...

گونگے حروف کا شہر

گھر کی بوڑھی سیڑھیوں پر آج پھر وہی خاموشی بیٹھی تھی جو کئی برسوں سے اس کھردرے لکڑی کے ریشوں میں جذب ہو چکی تھی۔ باقر صاحب نے دھیرے سے قدم رکھا تو ایک چرچراہٹ نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ یہ آواز انہیں اپنے وجود جیسی لگی؛ پرانی، تھکی ہوئی اور غیر ضروری۔ اوپر والے کمرے سے موبائل فون کی ایک مخصوص ’بیپ‘ آئی، جس کا مطلب تھا کہ دانیال جاگ چکا ہے، یا شاید ابھی تک سویا ہی نہیں تھا۔ اس گھر میں اب سورج کھڑکیوں سے نہیں، بلکہ اسمارٹ فون کی نیلی روشنی سے طلوع ہوتا تھا۔ وہ باورچی خانے میں آئے اور چولہا جلایا۔ چائے کی پتی ابلنے کی خوشبو ان کے نتھنوں سے ٹکرائی تو انہیں یاد آیا کہ بیس سال پہلے جب زبیدہ زندہ تھی، تو یہ خوشبو پورے گھر میں ایک زندگی کی لہر دوڑا دیتی تھی۔ تب آوازیں ہوتی تھیں۔ پیتل کے برتنوں کے ٹکرانے کی آواز، زبیدہ کی چوڑیوں کی کھنک، اور صحن میں لگے اس پرانے نیم کے درخت پر پرندوں کا شور۔ اب پرندے تو تھے، مگر ان کی آوازیں دانیال کے کانوں میں لگے ان سفید تاروں (ہیڈ فونز) کے سامنے بے بس ہو چکی تھیں۔ ’’دانیال! ناشتہ تیار ہے۔‘‘ باقر صاحب نے کمرے کے دروازے پر دستک دیئے بغیر آواز دی۔ اندر سے کوئی...

ڈیجیٹل عہد کی دہلیز اور معصومیت کا بحران

انسانی تاریخ کے ہر دور میں نسلِ نو کی تربیت ایک چیلنج رہی ہے، لیکن اکیسویں صدی کی تیسری دہائی جس تیزی  کے ساتھ نمودار ہوئی ہے، اس نے والدین، اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات کے لیے مروجہ ضابطوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی فاصلے تو سمٹ گئے ہیں، مگر شعور کی سرحدوں پر ایک ایسی یلغار ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی ڈھالیں اب ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل آلات کی فراوانی نے جہاں زندگی کے پہیے کو تیز کیا ہے، وہیں بچوں کی نفسیات اور اخلاقیات کے خمیر میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں جن کے اثرات دور رس اور کسی حد تک تشویشناک بھی ہیں۔ بچپن کا تصور ہمیشہ سے کھیل کود، فطرت سے رغبت اور کہانیوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ لیکن آج کا بچہ جس ماحول میں آنکھ کھول رہا ہے، وہاں مٹی کی خوشبو کی جگہ سکرین کی نیلی روشنی (Blue Light) اور نانی اماں کی کہانیوں کی جگہ الگورتھم کے تیار کردہ ویڈیوز نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذرائع کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ادراک اور حسیات کی تبدیلی ہے۔ جب ایک ننھا بچہ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے لیے ایک مشین یا گیجیٹ کا محتاج ہ...

عہدِ نو کی نفسیات اور مصلحت کے سائے

عصرِ حاضر کے سماجی ڈھانچے میں اگر گہرائی سے جھاتی ماری جائے تو ایک عجیب صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ بظاہر مادی ترقی اور چکا چوند نے انسانی زندگی کو سہولیات سے بھر دیا ہے، لیکن اس کے بطن میں چھپی ہوئی نفسیاتی الجھنیں اور سماجی شکستگی ایک ایسے المیے کی نشان دہی کر رہی ہیں جس کا ادراک شاید ابھی عام سطح پر نہیں ہو سکا۔ انسانی معاشرت، جو کبھی خلوص اور براہِ راست تعلق پر استوار تھی، اب مصلحتوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انسانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور رشتوں میں در آنے والا مصنوعی پن ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی معاشرے کی اساس اس کے بولے جانے والے الفاظ اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے ارادوں پر ہوتی ہے۔ الفاظ محض حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ توانائی ہیں جو سماج کی رگوں میں دوڑتی ہے۔ جب الفاظ اپنی تاثیر کھو دیں یا انہیں صرف مصلحت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگے، تو معاشرے میں نفاق اور بے یقینی کا زہر گھلنے لگتا ہے۔ دورِ جدید کا انسان گفتگو تو بہت کرتا ہے، مگر اس گفتگو میں وہ شفافیت مفقود ہے جو دلوں کو جوڑنے کا سبب بنتی تھی۔ اب کہی جانے ...

نایافت جزیروں کی جستجو

  ابھی تو دشتِ امکاں میں بہت سے موڑ باقی ہیں کئی گمنام ساحل، ان سنی رت، ان چھوئے سپنے مری آنکھوں کےدھارے بن رہے ہیں اک نیا نقشہ جہاں نقشے کی حد سے ماورا بھی کچھ جزیرے ہیں جزیرے بھی کہ جو نایافت ہیں اب تک کسی گزرے ہوئے لمحے کا کوئی عکس اترا ہے نہ کوئی حرف کی تتلی ، نہ کوئی رقص معنی ہے وہاں کی چپ میں صدیوں کا کوئی خاموش نغمہ ہے وہاں کے پیڑ اپنی چھاؤں سے خود بات کرتے ہیں پرندے جن کے پر، رنگِ وفا سے بڑھ کے اجلے ہیں وہاں کی جھیل کا نیلا بدن ، اک گہرا جادو ہے جہاں جذبے کسی لرزش کے ڈر سے مٹ نہیں پاتے وہاں احساس کی موجیں، ابھی بیدار ہوتی ہیں کسی انجان خواہش کے پرے، ان کی حقیقت ہے! تخیل کا پرندہ پھڑپھڑاتا ہے انہی نیلے جزیروں کی طرف اڑنے کو کہتا ہے جہاں نہ وقت کا پہرا، نہ ہیں یادوں کی زنجیریں جہاں پر خواب میں ملفوف ہیں خوابوں کی تعبیریں مگر کوئی صدا اندر کے گنبد سے ابھرتی ہے نہیں جانا ، نہیں جانا کسی نایافت ساحل پر اگر جانا ہی ہے تو دھیان کی سیڑھی لگا کر اندر اتر جاؤ سکوتِ ذات میں گُم، ایک لافانی سفر ہوگا #نوریات

رنگوں کا رقص: کائنات سے ذات تک

کائنات کی وسیع و عریض بساط پر رنگ محض ا دھوکا نہیں، بلکہ یہ اس کائناتی نغمگی کے استعارے ہیں جو خاموشی کی زبان میں ہم سے کلام کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو انسانی جبلت اور کائنات کے رنگوں کے درمیان ایک ایسا ازلی رشتہ ہے جو شعور کی آنکھ کھلنے سے بھی پہلے قائم ہو چکا تھا۔ اس رنگارنگ سفر کا آغاز نیلے پن کی اس اتھاہ گہرائی سے ہوتا ہے جہاں روح اپنے سکون کی تلاش میں کسی سمندر کی طرح پھیل جاتی ہے۔ یہ نیلاہٹ بصیرت کا وہ مقام ہے جہاں آسمان اور زمین کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ مگر جوں ہی زندگی نمو کی طرف قدم بڑھاتی ہے، سبز رنگ ایک مقدس دعا کی طرح ہمارے چاروں طرف چھا جاتا ہے۔ یہ ہریالی محض شجر و حجر کی زینت نہیں، بلکہ یہ اس روحانی بالیدگی کی علامت ہے جو انسانی ارادوں کو نئی زندگی بخشتی ہے۔ لیکن زندگی صرف سکون اور نمو کا نام نہیں۔ اس میں زرد رنگ کی وہ اداسی بھی شامل ہے جو خزاں کے پتوں کی طرح انسانی چہرے پر اترتی ہے تو اسے جدائی کے سچ سے آشنا کرتی ہے۔ یہ زردی دراصل وہ عینک ہے جس سے انسان کو غم کی قدر اور خوشی کی قیمت معلوم ہوتی ہے۔ اور جب یہی انسان ظلم، جبر یا جذبے کی انتہا سے ٹکراتا ہے، تو ایک سرخ لکیر نم...