زندگی اکثر ایسے موڑ پر انسان کو کھڑا کر دیتی ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔ محبت کا سفر کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دری...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی