Skip to main content

چابی، دریا اور کرایہ دار: ایک مکان کی ہجرت کا نوحہ



انسان کی پوری زندگی دراصل ایک "عارضی قیام" کا نام ہے، لیکن اس آفاقی سچائی کا سب سے زیادہ ادراک اس بدنصیب کو ہوتا ہے جسے لوگ پیار سے "کرایہ دار" کہتے ہیں。 مالکِ مکان کے لیے مکان محض ایک سرمایہ یا اینٹ پتھر کا ڈھیر ہوتا ہے، لیکن ایک کرایہ دار کے لیے وہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی چھوٹی سی بستی بساتا ہے。 مگر افسوس کہ اس بستی کی عمر اکثر مالکِ مکان کے موڈ یا اس کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی اچانک واپسی کی خبر تک ہی محدود ہوتی ہے。

عمومی زندگی میں کرایہ داری ایک ایسا "جذباتی جوا" ہے جس میں ہار ہمیشہ کرایہ دار کی ہی ہوتی ہے。 آپ جب کسی نئے مکان میں منتقل ہوتے ہیں، تو آپ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ان دیواروں کو اپنی پہچان دے سکیں。 آپ کیل ٹھونکتے ہیں، تصویریں لٹکاتے ہیں اور الماریوں میں اپنی زندگی کی کتابیں سجاتے ہیں。 لیکن جیسے ہی ہتھوڑی کی پہلی ضرب پڑتی ہے، مالکِ مکان کے دل میں ایک ایسی ٹیس اٹھتی ہے جیسے آپ نے کیل دیوار میں نہیں بلکہ اس کے جگر میں ٹھونک دی ہو。 وہ فوراً "ایگریمنٹ" کی وہ شق یاد دلاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی。 اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ کیا انسان اپنی یادوں کو ہوا میں لٹکا دے؟

کرایہ دار کی زندگی کا ایک بڑا المیہ وہ "سہ ماہی ملاقات" ہے جب مالکِ مکان کرایہ وصول کرنے کے بہانے "سرسری معائنہ" کرنے آتا ہے。 اس وقت کرایہ دار کی حالت اس مجرم جیسی ہوتی ہے جو عدالت میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہو。 آپ اسے چائے پلاتے ہیں، اس کے بچوں کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور اس دوران آپ کی نظریں مسلسل دیوار کے اس داغ پر ہوتی ہیں جو آپ کے چھوٹے بیٹے نے پچھلے ہفتے پنسل سے بنایا تھا。 مالکِ مکان کی نظریں کسی عقاب کی طرح فرش کی ٹائلوں اور چھت کے پنکھوں کا طواف کرتی ہیں。 اس لمحے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ جس چھت کے نیچے سوتے ہیں، اس پر آپ کا کوئی حق نہیں ہے。

فکاہیہ پہلو یہ ہے کہ کرایہ دار ہمیشہ ایک "مستقل گھر" کی تلاش میں رہتا ہے، مگر اس کی پوری زندگی ٹرکوں پر سامان لادنے اور اتارنے میں گزر جاتی ہے。 سامان کی پیکنگ کا مرحلہ بذاتِ خود ایک انشائیہ ہے。 وہ کراکری جو سال بھر بڑے سلیقے سے رکھی رہی، اب اخباروں کے ردی کاغذوں میں لپٹی ہوئی کسی یتیم بچے کی طرح لگتی ہے。 فرج کے پیچھے وہ یادیں نکلتی ہیں جو برسوں سے گم تھیں، اور صوفے کے نیچے سے وہ کھلونے برآمد ہوتے ہیں جن کے مالک اب خود جوان ہو چکے ہوتے ہیں。 ٹرک پر لدا ہوا سامان دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ایک جیتی جاگتی زندگی کا جنازہ نکل رہا ہو، مگر کرایہ دار اسے "نقل مکانی" کا نام دے کر دل کو تسلی دیتا ہے。

ایک منفرد انسانی مشاہدہ یہ بھی ہے کہ کرایہ دار اور مالکِ مکان کے درمیان ایک عجیب و غریب "خاموش جنگ" جاری رہتی ہے。 مالک چاہتا ہے کہ کرایہ بڑھے اور سہولیات کم ہوں، جبکہ کرایہ دار چاہتا ہے کہ دیواروں کا رنگ نہ اترے اور پانی کی موٹر کبھی خراب نہ ہو。 جب کبھی پانی کی موٹر جواب دے جاتی ہے، تو کرایہ دار کو ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے。 وہ ڈرتے ڈرتے مالک کو فون کرتا ہے، اور دوسری طرف سے جواب آتا ہے کہ "بھائی صاحب، استعمال کرنے والے آپ ہیں، ہم تو یہاں رہتے ہی نہیں"。 یہ وہ جملہ ہے جو کرایہ دار کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لیے کافی ہوتا ہے。

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کرایہ دار کی کوئی جڑیں نہیں ہوتیں。 وہ ایک ایسے پودے کی طرح ہے جسے بار بار ایک گملے سے نکال کر دوسرے گملے میں منتقل کیا جاتا ہے。 لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرایہ دار کی جڑیں اس کے اندر ہوتی ہیں。 وہ جہاں جاتا ہے، اپنے ساتھ اپنا ایک الگ جہان لے کر جاتا ہے。 وہ خالی دیواروں کو قہقہوں سے بھر دیتا ہے اور کچی چھتوں کو امیدوں کی مضبوطی عطا کرتا ہے。 لیکن جب بچھڑنے کا وقت آتا ہے، تو اسے وہ چابی مالک کے حوالے کرنی پڑتی ہے جس نے اسے مہینوں یا برسوں تحفظ کا احساس دیا ہوتا ہے。

اس کالم کا سب سے دکھ بھرا پہلو وہ لمحہ ہے جب ایک کرایہ دار کسی مکان کو چھوڑتے وقت اپنی "چابی دریا میں پھینکنے" کا سوچتا ہے。 یہ وہ انتہا ہے جہاں انسان کو لگتا ہے کہ اب اسے کسی اور چھت کا بوجھ نہیں اٹھانا。 وہ تھک چکا ہے ان سوالوں سے کہ "آپ کے کتنے بچے ہیں؟" یا "آپ کے ہاں مہمان کتنے آتے ہیں؟"۔ انسانی احساسات کی ترجمانی اس وقت ممکن ہے جب ہم یہ سمجھیں کہ ایک کرایہ دار صرف کرایہ نہیں دیتا، بلکہ وہ اس مکان کی ویرانی دور کرنے کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال بھی وہاں صرف کرتا ہے。

آج کے مشینی دور میں، جہاں مکانات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، کرایہ دار ایک ایسا کردار بن چکا ہے جو صرف ایگریمنٹ کے کاغذات پر زندہ ہے。 وہ ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو اپنے خون پسینے کی کمائی ایک اجنبی کے ہاتھ میں تھماتا ہے اور بدلے میں تیس دن کی "مہلتِ زندگی" خریدتا ہے。 فکاہیہ بات یہ ہے کہ وہ مالکِ مکان کی ہر برائی کو اس لیے سہتا ہے کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اسے ایک بار پھر "رکشہ اور مزدوری" کا بندوبست کرنا پڑے گا。

آخر میں، یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا ہم سب اس دنیا میں کرایہ دار نہیں ہیں؟ یہاں کوئی مالک نہیں، سب مسافر ہیں。 بس فرق اتنا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس اپنی ملکیت کے کاغذات ہیں اور کچھ کے پاس صرف یادوں کا ایک ڈھیر。 ایک کرایہ دار کا دکھ اس وقت سب سے زیادہ ہوتا ہے جب وہ اپنے بچوں کو یہ سمجھاتا ہے کہ "بیٹا، دیوار پر لکیریں مت بناؤ، یہ ہمارا اپنا گھر نہیں ہے"。 یہ وہ جملہ ہے جو ایک بچے کے لاشعور میں بے گھری کا پہلا بیج بو دیتا ہے。

کرایہ داری محض ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ ہے。 یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی چیز سے دل لگانا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے جب آپ جانتے ہوں کہ یہ آپ کی نہیں ہے。 لیکن انسان پھر بھی دل لگاتا ہے。 وہ ان دیواروں سے باتیں کرتا ہے، ان کھڑکیوں سے آنے والی دھوپ کا منتظر رہتا ہے اور اس گھر کے کونے کونے میں اپنی موجودگی کے نشان چھوڑ جاتا ہے。 چاہے وہ چابی دریا میں پھینک دے یا کسی اور کے سپرد کر دے، اس کے وجود کا ایک حصہ ہمیشہ اسی مکان کی فضائوں میں بھٹکتا رہتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر