الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے
یہ تو وہ تراشیدہ پتھر ہیں
جو اگر میزانِ عقل میں تولے جائیں
تو منکر کو بھی قائل کر لیتے ہیں
اور اگر انہیں محبت کی خوشبو میں بسایا جائے
تو سنگ دلوں کو بھی مائل کر لیتے ہیں!
مگر یاد رکھنا!
الفاظ کے دھارے دو دھاری تلوار بھی ہیں
تلخ لہجے کی نوک پر رکھے ہوئے حرف
روح کے اس مقام پر زخم لگاتے ہیں
جہاں کوئی مرہم نہیں پہنچ پاتا
یہ جیتے جاگتے انسان کو گھائل کر دیتے ہیں!
الفاظ برتنے والے جانتے ہیں
کہ کب انہیں ڈھال بنانا ہے
اور کب انہیں وہ تیر
جو کمان سے نکلنے کے بعد
واپس نہیں لوٹتے!
Comments
Post a Comment