اندر کا میلہ رات کے اُس پہر میں، جب شہر کی سڑکیں اپنی تھکن کی چادر اوڑھ کر سو جاتی ہیں، میں اپنے اندر اُٹھنے والے اُس سمندر کے کنارے کھڑا ہوتا ہوں جس کی لہریں بے آواز ہیں مگر بے وزن نہیں۔ یہاں، خاموشی کوئی خلا نہیں؛ یہ تو ایک بھری ہوئی لائبریری ہے، جس کے ہر طاق میں کوئی نہ کوئی کہانی سانس لیتی ہے۔ کبھی یہ خاموشی بچپن میں ایک سزا تھی—کمرے کے کونے میں دیوار سے باتیں کرتا وہ بچہ جو ڈرتا تھا کہ شاید بولنا بھول جائے گا۔ پھر جوانی نے اسے فرار کا راستہ بنا دیا—ہجوم سے چھٹکارے کی ایک سرگوشی۔ اور اب؟ اب خاموشی ایک وطن ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی سرحدیں میرے اندر شروع ہوتی ہیں اور میرے اندر ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ دیکھئے، خاموشی کی بھی تہیں ہوتی ہیں۔ پہلی تہہ وہ ہے جو دروازہ بند کرتے ہی ہوا میں جمنے لگتی ہے۔ دوسری تہہ دل کی لاشعوری گہرائیوں میں گونجتی ہے، جہاں شور بھی ہے مگر سنائی نہیں دیتا۔ تیسری تہہ وجودی ہے—وہ مقام جہاں آدمی اپنی اصل سے آمنے سامنے ہوتا ہے۔ بچپن میں یہ خاموشی کھیل کے بیچ اچانک آ جاتی تھی، جیسے دنیا نے سانس روک لیا ہو۔ جوانی میں یہی چبھتی ہوئی ہو گئی، جیسے اندر کہیں خراب سائلنٹ...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی