ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ "برداشت" بڑی فضیلت ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کون سا موڑ ہے جہاں برداشت مصلحت بن جاتی ہے اور مصلحت ہمیں اندر سے مردہ کر دیتی ہے۔ ہماری شخصیت کی تعمیر ان باتوں سے نہیں ہوتی جو ہمارے ساتھ "ہوتی" ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ ہم ان باتوں پر "ردِ عمل" کیا دیتے ہیں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ خاموشی نیم رضامندی ہے، لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ ہر خاموشی صلح جوئی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی ایک بہت بڑا "احتجاج" ہوتی ہے۔ جب ایک باشعور انسان بحث کے بیچ میں چپ ہو جاتا ہے، تو وہ ہار نہیں مان رہا ہوتا، بلکہ وہ سامنے والے کو اس کی "اوقات" دکھا رہا ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ منفی ردِ عمل کو ہی غصہ سمجھا ہے، حالانکہ مثبت ردِ عمل وہ ہے جہاں آپ کسی کی تضحیک کا جواب اپنے "اعمال" سے دیتے ہیں۔ کسی کا آپ کو نیچا دکھانا دراصل آپ کے لیے وہ سیڑھی بن سکتا ہے جسے آپ اپنے عروج کے لیے استعمال کر سکیں۔
لفظ "انا" (Ego) کو ہمارے ہاں ایک گالی بنا دیا گیا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر انسان کے پاس انا نہ ہو، تو وہ ایک خالی بوتل کی طرح ہے جسے کوئی بھی پیروں تلے کچل دے؟ انا کا ایک روشن رخ بھی ہے ۔۔۔اور وہ ہے "خود داری"۔ جب آپ اپنی حدود (Boundaries) طے کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ آپ کے جذبات کے ساتھ کہاں تک کھیل سکتے ہیں، تو یہ آپ کی انا کا مثبت دفاع ہے۔ ہم دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں اپنی انا کو اتنا کچل دیتے ہیں کہ آخر میں آئینہ بھی ہمیں کسی اور کی تصویر دکھاتا ہے۔ اپنی ذات کا احترام کرنا خود غرضی نہیں، بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ "توقعات دکھ دیتی ہیں"۔ یہ ایک پرانی بات ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ توقعات دکھ نہیں دیتیں، بلکہ "غلط جگہ پر سرمایہ کاری" دکھ دیتی ہے۔ ہم اپنا احساس وہاں خرچ کرتے ہیں جہاں اس کی قدر کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم ان لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی برباد کر دیتے ہیں جنہیں ہماری پروا تک نہیں ہوتی۔ جس دن آپ نے اپنی توجہ کا مرکز "دوسروں کی رائے" سے ہٹا کر "اپنی تسکین" پر رکھ دیا، اس دن آپ کو معلوم ہوگا کہ آزادی کس چڑیا کا نام ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ شہروں میں بے حسی ہے اور دیہات میں اپنائیت۔ مگر میرا مشاہدہ اس سے تھوڑا مختلف ہے۔ شہروں میں لوگ "انجان" ہیں، اس لیے وہ آپ کے دکھ میں شریک نہیں ہوتے۔ لیکن دیہات میں لوگ آپ کو "جانتے" ہیں، اس لیے وہاں دکھ اکثر تماشہ بن جاتا ہے۔ شہر کی تنہائی میں ایک وقار ہے، وہاں آپ اپنے زخم خود دھو سکتے ہیں۔ دیہات کی اپنائیت میں کبھی کبھی وہ مداخلت چھپی ہوتی ہے جو آپ کے زخموں کو ناسور بنا دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "تعلق" اور "مداخلت" کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے جسے پار کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے۔
ہم وقت کو سیکنڈوں اور منٹوں میں ناپتے ہیں، لیکن جذباتی طور پر وقت کی پیمائش "کیفیت" سے ہوتی ہے۔ کسی پیارے کے ساتھ گزارا ہوا ایک گھنٹہ ایک لمحے کی طرح گزر جاتا ہے، اور کسی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ گزارے ہوئے پانچ منٹ ایک صدی لگتے ہیں۔ یہ مشاہدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وقت "گزرتا" نہیں ہے، بلکہ وقت ہمیں "محسوس" ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی زندگی کو کیلنڈر کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ ہمیں اسے "کیفیات" کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ جو گھڑی آپ کو سکون نہ دے سکے، اسے اتار پھینکنا ہی بہتر ہے۔
لب لباب یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی آپ کو دکھ دیتا ہے، تو یہ اس کا فعل ہے، مگر اس دکھ کو اپنے اوپر طاری کرنا آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔ اپنے ردِ عمل کو اتنا مہنگا کریں کہ ہر کوئی اسے خرید نہ سکے۔ اپنی شخصیت میں وہ "لچک" پیدا کریں جو ٹوٹنے نہ دے، مگر وہ "سختی" بھی رکھیں جو ہر کسی کو آپ کے وجود میں داخل نہ ہونے دے۔
زندگی کوئی سیدھی لکیر نہیں ہے، یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ہمیں روزانہ یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہمیں کتنا جھکنا ہے اور کہاں تن کر کھڑا ہونا ہے۔ جس دن آپ نے "نا" کہنا سیکھ لیا، اس دن سے آپ کی زندگی کا نیا باب شروع ہوگا۔ اور یہی وہ انفرادیت ہے جو آپ کو اس ہجوم میں ایک "انسان" کے طور پر زندہ رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment