Skip to main content

اب کے ہم انسان بن کر ملیں گے


میں نے سوچا ہے کہ اب جب تم سے ملوں گا
تو کوئی بڑا دعویٰ نہیں کروں گا
نہ یہ کہوں گا کہ تم میری کائنات ہو
اور نہ یہ کہوں گا کہ تمہارے بغیر جی نہیں پاؤں گا
کیونکہ یہ سب لفظ اب پرانے ہو چکے ہیں
میں بس تمہارے سامنے بیٹھ جاؤں گا
اور تمہیں اس طرح دیکھوں گا
جیسے ایک انسان، دوسرے انسان کو دیکھتا ہے
جس کی آنکھوں میں تھکن بھی ہوتی ہے اور ڈھیروں ادھوری باتیں بھی
میں تمہارا ہاتھ تھام کر یہ نہیں کہوں گا کہ یہ گلاب کے پھول ہیں
بلکہ یہ کہوں گا کہ دیکھو! تمہارے ہاتھ کتنے گرم ہیں
اور ان میں زندگی کیسی صاف سنائی دے رہی ہے
مجھے اب ان کہانیوں سے ڈر لگتا ہے
جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے مر مٹتے ہیں
میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے لیے زندہ رہیں
میں تمہارے دکھ کو سننا چاہتا ہوں
اس لیے نہیں کہ میں اسے ختم کر دوں گا
(کیونکہ میں جانتا ہوں، میں ایسا نہیں کر سکتا)
بلکہ صرف اس لیے کہ تمہیں یہ معلوم ہو
کہ اس زمین پر ایک شخص ایسا بھی ہے
جو تمہارے درد کو سمجھتا ہے اور
تمھاری باتوں کو توجہ سے سنتا ہے
آؤ، ہم نفرت کے ان تمام اسباب کو بھول جائیں
جو ہمیں دوسروں نے سکھائے ہیں
ہم ایک دوسرے سے یہ نہ پوچھیں کہ ہم کس قبیلے سے ہیں
یا ہم کس نظریے کے ماننے والے ہیں
بس اتنا کافی ہونا چاہیے
کہ تمہیں بھی بھوک لگتی ہے، مجھے بھی پیاس لگتی ہے
تمہیں بھی زخم درد دیتا ہے، اور میں بھی ٹوٹنے پر روتا ہوں
یہی وہ رشتہ ہے جو ہمیں جوڑ سکتا ہے
بغیر کسی شرط کے، بغیر کسی مفاد کے
صرف ایک خاموش احساس کے ساتھ
کہ ہم دونوں اس وقت یہاں موجود ہیں
اور ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں
آؤ کہ آج ہم لفظوں کی نمائش بند کریں
اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کر لیں
یہی وہ خلوص ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے
اور یہی وہ محبت ہے جو سچی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر