Skip to main content

نیا اعتراف

 زندگی کی سب سے بڑی صداقت کسی فلسفے یا کتاب میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپی ہوتی ہے جب پوروں سے نکلنے والا لمس روح کی سرسراہٹ بن جائے۔ کبھی کبھی لفظ اپنے معنی کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے اور مطالب کی حدوں سے نکل کر ایک ایسے جہاں میں جا بستے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ ہماری آنکھوں کے زاویوں تک محدود وہ خاموش پیغام، کسی بھی طویل گفتگو سے زیادہ بلیغ اور پُرتاثیر ہوتا ہے۔ ہم نے عمر بھر ایسے سفر بھی کیے جہاں منزل کی تمنّا نہیں تھی، بلکہ وہ راستہ ہی خود میں ایک منزل تھا۔

کسی ملگجی شام، زندگی کے شور سے کٹ کر، ایک دوسرے کے شانے پر سر رکھے ہوئے جب دنیا کے تمام عکس دھندلا گئے، تو یہ عقدہ کھلا کہ آگہی کے آسمان پر چمکتے ستارے بھی ہماری حیرت پر حیران تھے۔ وقت کی پرکار نے ہمارے دلوں پر جو قوس کھینچی، اس نے زندگی کے فرسودہ زاویوں کو بدل کر رکھ دیا۔ پھر ایک معمولی ڈھابے کی چائے بھی کسی طلسمی مشروب جیسی خاص ہو گئی اور کتابوں پر پڑے ہمارے ہاتھوں کے لمس آپس میں بدلنے لگے۔ اب ہم الگ الگ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے احساس میں پیوست ہو کر ساتھ چلنے لگے ہیں، جہاں ہر قدم ایک نئی دریافت اور ہر سانس ایک نیا اعتراف ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر