زندگی کی سب سے بڑی صداقت کسی فلسفے یا کتاب میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپی ہوتی ہے جب پوروں سے نکلنے والا لمس روح کی سرسراہٹ بن جائے۔ کبھی کبھی لفظ اپنے معنی کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے اور مطالب کی حدوں سے نکل کر ایک ایسے جہاں میں جا بستے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ ہماری آنکھوں کے زاویوں تک محدود وہ خاموش پیغام، کسی بھی طویل گفتگو سے زیادہ بلیغ اور پُرتاثیر ہوتا ہے۔ ہم نے عمر بھر ایسے سفر بھی کیے جہاں منزل کی تمنّا نہیں تھی، بلکہ وہ راستہ ہی خود میں ایک منزل تھا۔
کسی ملگجی شام، زندگی کے شور سے کٹ کر، ایک دوسرے کے شانے پر سر رکھے ہوئے جب دنیا کے تمام عکس دھندلا گئے، تو یہ عقدہ کھلا کہ آگہی کے آسمان پر چمکتے ستارے بھی ہماری حیرت پر حیران تھے۔ وقت کی پرکار نے ہمارے دلوں پر جو قوس کھینچی، اس نے زندگی کے فرسودہ زاویوں کو بدل کر رکھ دیا۔ پھر ایک معمولی ڈھابے کی چائے بھی کسی طلسمی مشروب جیسی خاص ہو گئی اور کتابوں پر پڑے ہمارے ہاتھوں کے لمس آپس میں بدلنے لگے۔ اب ہم الگ الگ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے احساس میں پیوست ہو کر ساتھ چلنے لگے ہیں، جہاں ہر قدم ایک نئی دریافت اور ہر سانس ایک نیا اعتراف ہے۔
Comments
Post a Comment