Skip to main content

خاموشی کی صدا: ایک التجا


کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دنیا کے سارے ہنگامے تھم جائیں، بارود کا شور تھک کر سو جائے اور انسان صرف اپنی سانسوں کی چاپ سن سکے۔ ہم نے ترقی کے نام پر آسمان تو مسخر کر لیے، مگر زمین پر اپنے دکھوں کا مداوا کرنا بھول گئے۔ ہم نے آوازیں اتنی بلند کر لیں کہ اب ہمیں ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی۔
امن کوئی بیرونی شے نہیں جسے ہم کسی نقشے پر تلاش کریں۔ امن تو وہ سکون ہے جو اس وقت میسر آتا ہے جب ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھتے ہوئے یہ بھول جائیں کہ اس کا رنگ کیا ہے یا اس کا عقیدہ کیا ہے۔ نفرت دراصل تھکے ہوئے ذہنوں کا سودا ہے، جو بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ انہیں زندگی کی خوبصورتی نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔
آئیے، تھوڑی دیر کے لیے ہتھیاروں کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکیں۔ وہاں آپ کو دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی طرح کا ایک خوف زدہ اور پیاسا انسان نظر آئے گا۔ وہی انسان جو رات کو اپنے بچوں کے لیے سکون کی نیند مانگتا ہے اور صبح ایک بہتر مستقبل کی امید لے کر جاگتا ہے۔
محبت کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں، یہ تو:
لہجے کی وہ نرمی ہے جو پگھلتے ہوئے برفاب جیسی ہو۔
وہ خاموشی ہے جو کسی کی بات کو توجہ سے سننے میں صرف ہو۔
وہ دھیمی مسکراہٹ ہے جو کسی اجنبی کو یہ احساس دلائے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔
جنگیں صرف بستیاں اجاڑتی ہیں۔ اصل فتح تو دلوں کو مسخر کرنا ہے، اور دل کبھی جبر سے نہیں جیتے جاتے۔ امید کی شمع کو اپنے اندر روشن رکھیے، کیونکہ جب باہر گھپ اندھیرا ہو، تبھی آپ کے اندر کا اجالا دوسروں کو راستہ دکھا سکتا ہے۔
آئیں کہ آج ہم عہد کریں۔ ہم نفرت کا جواب نفرت سے نہیں، بلکہ ایک ایسی پُر وقار خاموشی سے دیں گے جس میں معافی کی خوشبو ہو۔ ہم لفظوں کو تیر کی طرح نہیں، بلکہ شبنم کی طرح استعمال کریں گے جو کلیوں کو چٹخنے میں مدد دیتی ہے، انہیں مسلتی نہیں۔
کیونکہ اس کائنات کی سب سے بڑی سچائی صرف یہ ہے کہ ہم سب مسافر ہیں، اور مسافروں کو ایک دوسرے کے راستے کی رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا سہارا ہونا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر