Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2015

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گے شاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں جی ہاں ۔۔  آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہے مگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہے بہت منفرد سا ہے عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں  اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے  جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیں وہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہے آنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں  کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

ماں کی یا د کے 36 آنسو

ماں کی یا د کے 36 آنسو  محمد نور آسی آج میں آپ سے اپنے آنسو شیئر کرنا چاہتا ہوں یہ آنسو میری ماں کی یا د کے آنسو ہیں میں نے یہ اشعار اپنی ماں کی یا د میں لکھے ہیں۔ اور بہتے آنسووں کے ساتھ لکھےہیں ۔ یہ اشعار ان تمام بھائیوں ، بہنوں ، دوستوں کے نام جن کی مائیں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یقینا میرے آنسوان سب کو رلا دیں گے۔ جن کے غم میرے جیسے ہیں۔ یہ 36 مصرعے نہیں ، 36 آنسوہیں بہت چھوٹا سا تھا جب میں، میری دنیا بھی چھوٹی تھی میری ہستی کا کل سا ما ں ، تیری آغوش ہو تی تھی تیرے سینے سے لگ کرمیں ہر اک غم بھول جا تا تھا تیرے چہرے کو تک کرمیرے دل کی پیاس بجھتی تھی تیری دنیا فقط میں تھا ، میری دنیا فقط تو تھی میں تجھ کو دیکھ جیتا تھا، تو مجھ کو دیکھ جیتی تھی تیرے وہ پھول سے بازو، مجھے خوابوں میں لے جاتے تیرے چہرے پہ بکھرے نور سے ہو تی سحر میری میں بھوکا ہوں کہ پیاسا ہوں، میں خوش ہوں یا کہ افسردہ فقط اک تیری ہستی تھی، جسے سب تھی خبر میری تیرا چہرہ جو ہوجاتا، اگر اک پل کہیں اوجھل تو ہرآہٹ پہ چونک اٹھتی تھی یہ بے چیں نظر میری تیرا رس گھولتا لہجہ ، میری تسکین کا ساماں تیرا دستِ مسیحائی ، میرے ہ...

حصہ اول ۔ ایک سیاہ رات کی کہانی

حصہ اول ۔ ایک سیاہ رات کی کہانی محمد نور آسی وہ ایک سیاہ اندھیر ی رات تھی۔ وہ سب دوست گاوں کے چوپال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ گپوں میں جنوں بھوتوں کا ذکر نکل آیا۔ اسد کہنے لگا۔ میرے دادا جی بتاتے تھے کہ گاوں سے باہر پانی والی بھن (تالاب نما جگہ جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہو جائے) کے پاس جنوں کا ڈیرہ ہے ۔ وہ ایک رات کو بہت دیرسے وہاں سے گذرے تو وہاں ڈھول بجانے کی آوازیں آرہی تھی۔ شاید کسی جن کی شادی تھی۔ دادا بہت مشکل سے جان بچاکر آئےتھے۔ شہباز بولا بکواس ۔ میں کئی مرتبہ وہاں گیا ۔ وہاں کچھ بھی نہیں ۔ یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے- اسد بولا۔ تم دن کے وقت جاتے ہو۔ دن کو سب ہی لوگ جاتے ہیں۔ جن تو وہاں رات کو ہوتے ہیں۔ اکرم بھی نے ہاں میں ہاں ملائی شہباز ٹھیک کہتاہے۔ جن تو وہاں رات کو ہی ہو تے ہیں۔ دن کو وہ جگہ خالی کر دیتے ہیں ۔ اسد اپنی بات پر اڑا رہا۔ اتنے میں تنویر بولا۔ یارو کیوں بحث کرتے ہو۔ یہ جن ون سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ کیا آپ میں سے کسی کا جن سے سامنا ہوا ہے۔؟ اس کا جواب تو نفی میں تھا- لیکن شہباز کب ہار ماننے والا تھا۔ اگ...

ایک سیاہ رات کی کہانی

ایک سیاہ رات کی کہانی  حصہ دوم  از: محمد نور آسی اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔ وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔ سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔ بالاخر مولوی صاحب بولے۔۔  فجر کی نماز میں تھوڑا سا وقت ہے۔۔ یہ سب لوگ۔۔ اسد اور تنویر کے منہ سے واقعات کی تفصیل سننا چاہتے ہیں۔۔ اگر اسد بیٹا اب بہتر محسوس کررہا ہے تو ساری بات بتائے تاکہ لوگ گھر جائیں اور نماز کی تیاری کریں اسد سے پہلے تنویر بولا جی مولوی صاحب میں بتاتاہوں۔۔ ہم لوگ جب اکرم اور شہباز کو بتا کر نکلے تو ہمارے ذہن خوف سے خالی تھے۔ ہم بہت پر اعتماد انداز سے بھن پر پہنچ گئے۔۔۔ وہاں پہنچے تو ایک ہولناک۔۔خاموشی کا سحر ہرسو طاری تھا۔۔ بھن کے ساتھ ہی واقع پہاڑی بہت بڑی ، اپنے حجم سے بہت بڑی لگ رہی تھی۔۔ پھر ہوا چلنے لگی۔۔ سرسراتی ہوا۔۔ پھراچانک ہمیں ایسا لگا ۔۔۔ جیسے کچھ آوازیں آ رہی ہوں۔۔۔۔ جیسے کوئی بول رہا ہو-۔۔ پتہ نہیں کیوں ہمیں کچھ کچھ خوف محسوس ہوا۔۔ لیکن اسد نے بھن سے بیس قدم گن کر ڈنڈے کو زمین میں ایک پتھر لے کر دبا نا شروع کیا ۔۔۔ میں بھی اسد کے پاس ہی تھا۔۔ ہر سوگھپ اندھیرا۔۔۔ ہوا چل رہی تھی۔۔ اور پتہ ن...

فرشتہ

فرشتہ تحریر: محمد نور آسی رات کے پچھلے پہر، جب کائنات خاموشی کی چادر اوڑھے محوِ خواب تھی، اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی کی سوئیوں نے بتایا کہ ابھی ساڑھے تین بجے ہیں۔ یہ محض بیداری نہ تھی، ایک حیرت تھی؛ کیونکہ میری صبح تو ہمیشہ موبائل فون کے بے ہنگم الارم کی دستک سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے دوبارہ نیند کی آغوش میں پناہ لینی چاہی، مگر نیند تو جیسے کوسوں دور کسی انجان دیس سدھار گئی تھی۔ ذہن کے دریچوں پر سوال دستک دینے لگے کہ آخر اس بے وقت بیداری کا سبب کیا ہے؟ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا؟ میں نے یادداشت پر بہت زور دیا، ماضی اور حال کے دھندلکوں میں جھانکا، مگر کسی خواب کا کوئی عکس، کوئی دھندلا سا منظر بھی گرفت میں نہ آیا۔ ایک عجیب سی بے کلی اور مبہم سی الجھن تھی جو روح میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔ میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا، مگر نہ تو نیند لوٹ کر آئی اور نہ ہی وہ اضطراب تھما۔ اسی کشمکش میں فضاؤں میں اذانِ فجر کے مقدس ارتعاش گونجنے لگے۔ ایک وجدانی فیصلے کے تحت میں نے بستر چھوڑ دیا، وضو کی سعادت سے شاد کام ہو کر جب کمرے میں لوٹا تو بیگم بیدار ہو چکی تھیں۔ ان کی نظروں میں حیرت، ہلکا سا غصہ او...