Skip to main content

فرشتہ

فرشتہ

تحریر: محمد نور آسی

رات کے پچھلے پہر، جب کائنات خاموشی کی چادر اوڑھے محوِ خواب تھی، اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی کی سوئیوں نے بتایا کہ ابھی ساڑھے تین بجے ہیں۔ یہ محض بیداری نہ تھی، ایک حیرت تھی؛ کیونکہ میری صبح تو ہمیشہ موبائل فون کے بے ہنگم الارم کی دستک سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے دوبارہ نیند کی آغوش میں پناہ لینی چاہی، مگر نیند تو جیسے کوسوں دور کسی انجان دیس سدھار گئی تھی۔

ذہن کے دریچوں پر سوال دستک دینے لگے کہ آخر اس بے وقت بیداری کا سبب کیا ہے؟ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا؟ میں نے یادداشت پر بہت زور دیا، ماضی اور حال کے دھندلکوں میں جھانکا، مگر کسی خواب کا کوئی عکس، کوئی دھندلا سا منظر بھی گرفت میں نہ آیا۔ ایک عجیب سی بے کلی اور مبہم سی الجھن تھی جو روح میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔

میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا، مگر نہ تو نیند لوٹ کر آئی اور نہ ہی وہ اضطراب تھما۔ اسی کشمکش میں فضاؤں میں اذانِ فجر کے مقدس ارتعاش گونجنے لگے۔ ایک وجدانی فیصلے کے تحت میں نے بستر چھوڑ دیا، وضو کی سعادت سے شاد کام ہو کر جب کمرے میں لوٹا تو بیگم بیدار ہو چکی تھیں۔ ان کی نظروں میں حیرت، ہلکا سا غصہ اور الجھن کے ملے جلے تاثرات تھے؛ گویا وہ میری اس "غیر روایتی" بیداری کی وجہ تلاش کر رہی ہوں۔

میں نے ان کے سوالیہ انداز کو نظر انداز کیا اور کمرے سے باہر قدم نکالا۔ پیچھے سے ایک آواز آئی: "کہاں کا ارادہ ہے؟" میں نے مڑ کر دیکھا اور دھیمے لہجے میں جواب دیا: "نماز کے لیے مسجد جا رہا ہوں۔" وہ شاید جواب سن کر مزید حیرت کے گرداب میں پھنس گئیں، اور میں انہیں اسی عالم میں چھوڑ کر باہر نکل آیا۔

نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد جب میں مسجد کی سیڑھیوں سے اترا، تو محلے کے ایک واقف کار سے سامنا ہوا۔ سلام دعا کے بعد جب میں نے ان سے حال دریافت کیا، تو ان کے چہرے پر پھیلی زردی اور آنکھوں کی وحشت نے سب کچھ بیاں کر دیا۔ انہوں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں بتایا کہ ان کی شریکِ حیات ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ ڈاکٹر جراحی (آپریشن) کے لیے تیار ہیں، مگر مسئلہ "او نیگیٹو" (O-ve) خون کا ہے، جو نایاب پتھروں کی طرح ڈھونڈے سے نہیں مل رہا۔ ڈاکٹروں کا تقاضا چھ بوتل خون کا ہے، جبکہ وہ اپنی بساط بھر کوشش کے باوجود ناکام لوٹے تھے۔ ہسپتال انتظامیہ نے دو بوتل خون کے بدلے آٹھ بوتل دیگر گروپوں کے خون کا مطالبہ کیا تھا، اور وہ بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔

ان کی گفتگو سنتے ہی وقت کی گرد بیٹھی اور میرے سامنے چند سال پرانا ایک منظر روشن ہو گیا۔ میں بھی اسی طرح ایک ہسپتال کی سنگلاخ دیواروں کے سائے میں اپنی ماں کی زندگی کے لیے پریشان کھڑا تھا، جب ایک نوجوان نے میرے قریب آ کر بڑے ادب سے پوچھا تھا: "سر! خیریت تو ہے؟ آپ یہاں اس حال میں؟"

جب میں نے اسے اپنی ماں کی ضرورت اور خون کی نایابی کا بتایا، تو اس نے مسکرا کر ایک ایسی بات کہی جو آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتی ہے: "سر! اگر ایک بوتل چاہیے تو میں ابھی حاضر ہوں، اور اگر زیادہ کی ضرورت ہے تو مجھے صرف ایک گھنٹہ دیں، میں اپنے تمام دوستوں کو ابھی یہاں اکٹھا کر لیتا ہوں۔" اس دن میں نے پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی لباس میں دیکھا تھا۔

ماضی کی اس لہر نے مجھے ساکت کر دیا تھا۔ مجھے خاموش اور سوچوں میں گم دیکھ کر وہ صاحب بولے: "لگتا ہے میری پریشانی نے آپ کو بھی افسردہ کر دیا؟" میں نے فوراًٰ نفی میں سر ہلایا اور کہا: "نہیں نہیں! ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ بس مجھے ہسپتال کا نام، وارڈ اور بیڈ نمبر بتائیں۔ ان شاء اللہ خون کا انتظام ہو جائے گا۔"

وہ ایک دم ٹھٹک کر رہ گئے، جیسے انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔ "کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں؟" ان کی آواز لرز رہی تھی۔ میں نے انہیں یقین دلایا اور وہ طریقہ کار بتایا جس کے ذریعے میں ان کے لیے اس نایاب خون کا انتظام کر سکتا تھا۔ یہ میرے لیے شاید ایک فون کال یا ایک رابطے کی دوری پر تھا، مگر ان کے لیے یہ زندگی کی نوید تھی۔ ان کی آنکھیں تشکر سے بھر آئیں، انہوں نے بے اختیار مجھے گلے لگا لیا اور روندھی ہوئی آواز میں کہا: "خدا کی قسم! میں نے آج اپنی زندگی میں پہلی بار کسی فرشتے کو انسان کی شکل میں دیکھا ہے۔"

میں خاموش تھا، مگر میرے اندر کی الجھن اب سکون میں بدل چکی تھی۔ مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ آج صبح ساڑھے تین بجے میری آنکھ کیوں کھلی تھی اور قدرت نے مجھے الارم سے پہلے کیوں جگا دیا تھا۔ کائنات کے اس عظیم نظام میں کچھ بھی اتفاقیہ نہیں ہوتا۔

Comments

  1. اللہ نے جو کام کرنا ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے اور انسان حیران ہوتا رہتا ہے ۔ سُبحان اللہ ۔ بے کسوں کا والی صرف اللہ ہے

    http://www.theajmals.com

    ReplyDelete
  2. بہت بہت شکریہ جناب

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...