کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دنیا کے سارے ہنگامے تھم جائیں، بارود کا شور تھک کر سو جائے اور انسان صرف اپنی سانسوں کی چاپ سن سکے۔ ہم نے ترقی کے نام پر آسمان تو مسخر کر لیے، مگر زمین پر اپنے دکھوں کا مداوا کرنا بھول گئے۔ ہم نے آوازیں اتنی بلند کر لیں کہ اب ہمیں ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی۔ امن کوئی بیرونی شے نہیں جسے ہم کسی نقشے پر تلاش کریں۔ امن تو وہ سکون ہے جو اس وقت میسر آتا ہے جب ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھتے ہوئے یہ بھول جائیں کہ اس کا رنگ کیا ہے یا اس کا عقیدہ کیا ہے۔ نفرت دراصل تھکے ہوئے ذہنوں کا سودا ہے، جو بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ انہیں زندگی کی خوبصورتی نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔ آئیے، تھوڑی دیر کے لیے ہتھیاروں کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکیں۔ وہاں آپ کو دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی طرح کا ایک خوف زدہ اور پیاسا انسان نظر آئے گا۔ وہی انسان جو رات کو اپنے بچوں کے لیے سکون کی نیند مانگتا ہے اور صبح ایک بہتر مستقبل کی امید لے کر جاگتا ہے۔ محبت کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں، یہ تو: لہجے کی وہ نرمی ہے جو پگھلتے ہوئے برفاب جیسی ہو۔ وہ خاموشی ہے جو ک...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی