کائنات، اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود، محض کچھ بنیادی عناصر کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا کینوس ہے جس پر فطرت نے رنگوں کے بے شمار نقوش ثبت کر رکھے ہیں۔ ہم جب صبح آنکھ کھولتے ہیں تو آسمان کا نیلا پن، سورج کی سنہری کرنیں، اور گھاس کی ہریالی ہمارے حواس کو جس طرح جکڑتی ہیں، وہ کوئی اتفاقی عمل نہیں ہے۔ یہ رنگ خاموش زبان بولتے ہیں۔ یہ ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں اترتے ہیں، ہماری نبض کی رفتار کو تبدیل کرتے ہیں، اور ہمارے مزاج کے موسموں کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ مقامات پر جا کر آپ کو بے سبب سکون کیوں ملتا ہے؟ یا کسی خاص رنگ کا لباس پہن کر آپ کے اندر خود اعتمادی کی ایک لہر کیوں دوڑ جاتی ہے؟ یہ رنگوں کا نفسیاتی جادو ہے۔ انسانی دماغ رنگوں کے معاملے میں حد درجہ حساس ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو رنگ روشنی کی مختلف طول موج (wavelengths) ہیں، لیکن نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ جذبات کی ترجمانی ہیں۔ جب آپ سرخ رنگ کو دیکھتے ہیں، تو آپ کا دماغ فوراً ایک ارتقائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ سرخ، جو آگ اور خون کا رنگ ہے، ہمارے اندر جوش، بھوک اور کبھی کبھی غصہ پیدا کرت...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی