Skip to main content

Posts

Showing posts with the label کائنات، خالق اور انسانی وجود،

کائنات، خالق اور انسانی وجود

کائنات، خالق اور انسانی وجود: ایک ابدی و جذباتی مکالمہ سکوتِ ازل اور حرفِ تمنا کائنات کی اس طویل داستان کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں نہ کوئی رنگ تھا، نہ کوئی خوشبو، اور نہ ہی وقت کی کوئی لکیر۔ ایک ایسا مہیب اور گہرا سناٹا جو خود اپنے بوجھ سے دبا جا رہا تھا۔ عدم کے اس اتھاہ سمندر میں، اے میرے خالق! صرف تو ہی تھا جو اپنی وحدت کے جلال میں پوشیدہ تھا۔ پھر اچانک، تیری قدرت کے ماتھے پر ایک ارادہ چمکا، ایک ایسی خواہش جو ظہور کی متمنی تھی۔ تو نے چاہا کہ تو پہچانا جائے، تو نے چاہا کہ تیرے حسن کی تجلی کو کوئی دیکھنے والی آنکھ میسر آئے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے عدم کی بنیادیں ہلا دیں۔ تیرے لبوں سے "کُن" کی وہ صدا نکلی جس نے سکوتِ ازل کے پرخچے اڑا دیئے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں تھا، یہ ایک ایسا انفجار (Explosion) تھا جس سے روشنی کے اربوں فوارے پھوٹے، زمان و مکان کی چادریں بنیں، اور ستاروں کی دھول فضاؤں میں رقص کرنے لگی۔ کہکشائیں وجود کے ساحل پر لہروں کی طرح بکھرتی گئیں اور کائنات نے اپنی پہلی سانس لی۔ لیکن اس مہیب وسعت میں، اس بے پناہ نور اور آگ کے کھیل میں، ایک ایسی کمی تھی جسے صرف مٹی کا ا...