گردِ راہ میں گم ہوتی بصیرت
تئیس اپریل کے روز جب میں شہر کی ایک قدیم لائبریری کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تو میرے کانوں میں ٹریفک کا شور کسی دور دراز سمندر کی گرج کی طرح سنائی دے رہا تھا۔ باہر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں، ہنگاموں اور جدید آلات کی برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں تھی، مگر جیسے ہی میں نے اس عمارت کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے کو دھکیلا، ایک ایسی دنیا نے میرا استقبال کیا جہاں وقت ساکت ہو چکا تھا۔ وہاں کی ہوا میں ایک مخصوص بو تھی—وہ خوشبو جو صرف پرانے کاغذوں، گتے کی جلدوں اور تنہائی کے باہمی ملاپ سے جنم لیتی ہے۔ لیکن اس بار اس خوشبو کے ساتھ ایک عجیب سی اداسی بھی نتھی تھی، ایک ایسی خاموشی جو محض شور کی غیر موجودگی نہیں تھی، بلکہ ایک باقاعدہ نوحہ تھی۔ میں ان راہداریوں میں گھومنے لگا جہاں الماریاں اب یادداشت کے کتبے معلوم ہوتی تھیں۔ ان الماریوں پر سجی کتابوں پر گرد کی ایک ایسی دبیز اور مخملی تہہ جمی تھی جیسے کسی متروک بستی کے کھنڈرات پر کائی جم جاتی ہے۔ میں نے جب ایک شیلف سے ایک بھاری بھرکم جلد کو نکالا، تو میرے ہاتھوں کی پوروں نے اس مٹی کو محسوس کیا جو محض مٹی نہیں تھی، بلکہ ہماری اس اجتماعی بے حسی کا اشتہار تھی جو ہم نے اپنی عارضی چمک دمک اور سستی تفریح کے بدلے میں اپنی اصل میراث پر تان رکھی ہے۔
کتابوں پر جمی یہ گرد ہمیں ایک بہت بڑے سماجی اور فکری المیے کی خبر دیتی ہے۔ یہ کوئی معمولی دھول نہیں ہے جو کھڑکیوں سے اڑ کر یہاں آگئی ہو، بلکہ یہ درحقیقت وہ پردہ ہے جو ہم نے اپنی بصارت اور بصیرت کے درمیان حائل کر لیا ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کا سیلاب ہے، مگر دانائی کا قحط۔ ہم اسکرینوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہمیں کاغذ کے ریشوں میں چھپے جہانوں کو دریافت کرنے کی زحمت گراں گزرتی ہے۔ آج کا انسان ہندسہ شماری کے زندان میں قید ہے، جہاں وہ ایک لمحے میں سینکڑوں مناظر دیکھتا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی اس کے اندر اتر کر اس کے شعور کا حصہ نہیں بنتی۔ اس کے برعکس، کتاب کا مطالعہ ایک عملِ رفاقت ہے۔ جب آپ کسی کتاب کو کھولتے ہیں، تو آپ درحقیقت کسی دوسرے انسان کے ذہن کے ساتھ مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کے دکھوں، اس کے مشاہدات اور اس کے تجربات میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج ہم نے اس مکالمے کی جگہ ان بے جان آلات کو دے دی ہے جہاں ہر کوئی بول تو رہا ہے، مگر سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں۔
ہمیں یہ فریب دیا گیا ہے کہ اب سب کچھ انگلیوں کی پوروں پر موجود ہے، لہٰذا لائبریری جانے یا کتاب خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ ہم عجلت میں پڑھتے ہیں، وہ زیادہ تر سطحی معلومات ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں جاننے کا احساس تو دلاتی ہیں، مگر سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہیں۔ کتاب ہمیں صبر سکھاتی ہے۔ وہ ہمیں ایک نکتے پر ٹھہرنا اور غور کرنا سکھاتی ہے۔ جبکہ موجودہ دور کی جلد بازی ہمیں سطحی پن کا خوگر بناتی ہے۔ لائبریری کی ان ویران الماریوں میں سجی ہر کتاب ایک ایسا وجود ہے جو کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔ ہر حرف ایک پکار ہے کہ کوئی آئے، اس کی دھول جھاڑے اور اسے دوبارہ زندگی بخشے۔ جب کوئی قاری ان کتابوں کو نہیں چھوتا، تو حرف مرنے لگتے ہیں۔ خیالات اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ یہ المیہ صرف کاغذ اور سیاہی کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کا ہے جو اپنی جڑوں سے کٹ رہی ہے۔ وہ معاشرہ جو اپنی کتابوں سے رشتہ توڑ لیتا ہے، وہ بہت جلد اپنی تاریخ اور اپنی شناخت سے بھی بیگانہ ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور پہلو وہ ہے جس کا تعلق کتاب کی صنعت سے جڑے لوگوں سے ہے۔ آج کا پبلشر پریشان ہے کہ وہ کتاب چھاپے تو کس کے لیے؟ آج کا لکھاری بددل ہے کہ وہ لکھے تو کس کے لیے؟ جب پڑھنے والے کم ہو جائیں، تو تخلیق کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ کتابوں کی دکانیں کم ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ دیگر کاروباری مراکز بڑھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے فکر پر مادیت کو فوقیت دے دی ہے۔ ہم نے ان آلات کو اپنا آقا بنا لیا ہے، جبکہ اسے ہمارا خادم ہونا چاہیے تھا۔ ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں وہ کھلونے تھما دیے ہیں جو ان کے تخیل کو بنجر بنا رہے ہیں۔ ایک بچہ جب کتاب پڑھتا ہے، تو وہ اپنے ذہن میں کرداروں کی تصویریں بناتا ہے، وہ مناظر کو تخلیق کرتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی اسکرین پر سب کچھ بنا بنایا دیکھتا ہے، تو اس کی تخلیقی قوتیں معطل ہو جاتی ہیں۔
لائبریری صرف کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی، یہ ایک تہذیبی مرکز ہوتا ہے جہاں نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں امیر اور غریب کا فرق مٹ جاتا ہے، جہاں ہر انسان کو علم کے سمندر تک برابر رسائی حاصل ہوتی ہے۔ مگر آج ہماری لائبریریاں ویران ہیں۔ ان کی دیواروں پر پینٹ اکھڑ رہا ہے، ان کی چھتوں سے سیپ ٹپک رہی ہے اور ان کی الماریاں گرد سے اٹی ہوئی ہیں۔ یہ ہماری ترجیحات کا نوحہ ہے۔ ہم نے شاہراہوں اور عمارتوں پر تو اربوں روپے خرچ کیے، مگر انسانی ذہن کی تعمیر کے لیے ان مراکز کو فراموش کر دیا۔ میں جب اس لائبریری سے باہر نکلا، تو سورج ڈھل رہا تھا۔ شہر کی روشنیاں جلنے لگی تھیں۔ ہر طرف ایک مصنوعی چمک تھی، مگر میرے ذہن میں اب بھی وہ خاموش راہداریاں اور وہ دھول اوڑھے کتابیں گردش کر رہی تھیں۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کتابیں مجھ سے سوال کر رہی ہوں کہ کیا تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے جو ہمیں بھول چکے ہیں؟ یا تم اپنے حرف سے، اپنے قلم سے اس مٹی کو صاف کرنے کی کوشش کرو گے؟
کتاب کی خوشبو اور کاغذ کا لمس وہ تجربات ہیں جن کا کوئی متبادل ممکن نہیں۔ جب ہم ایک کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہیں، تو ہم صرف ایک شے کو نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک ٹکڑے کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ قدیم یونان کے فلسفیوں سے لے کر بغداد کے دانشوروں تک، اور دلی و لکھنؤ کے ادیبوں سے لے کر آج کے جدید مفکرین تک، یہ سب اسی کاغذی پیرائے میں زندہ ہیں۔ لیکن جب ہم ان پر گرد کی تہیں جمنے دیتے ہیں، تو ہم دراصل ان تمام صدیوں کی دانش پر مٹی ڈال رہے ہوتے ہیں۔ یہ گرد بصیرت کا حجاب بن جاتی ہے جو ہمیں یہ دیکھنے نہیں دیتی کہ ہم کس تیزی سے اپنی جڑوں سے کٹ کر ایک ایسے خلا میں جا رہے ہیں جہاں صرف آوازیں ہیں، معنی نہیں۔
آج کا دور اشتہار بازی کا دور ہے۔ ہر چیز کو بیچا جا رہا ہے، یہاں تک کہ جذبات اور خیالات کو بھی۔ اس بازار میں کتاب جیسی سنجیدہ چیز کی جگہ کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ پبلشر اب وہ کتاب نہیں چھاپتا جو معاشرے کی ذہنی آبیاری کرے، بلکہ وہ چھاپتا ہے جو 'مارکیٹ' میں چلے۔ لکھاری اب وہ نہیں لکھتا جو اس کے اندر کا سچ ہوتا ہے، بلکہ وہ لکھتا ہے جو پسند کیا جائے۔ اس دوڑ میں وہ معیار کہیں کھو گیا ہے جو کبھی اردو ادب کا خاصہ تھا۔ وہ تراکیب، وہ محاورے اور وہ زبان کی چاشنی اب ان کتابوں میں دب کر رہ گئی ہے جو لائبریری کے کسی اندھیرے کونے میں پڑی گرد چاٹ رہی ہیں۔
وقت اب بھی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔ ہمیں اپنے گھروں میں چھوٹے ہی سہی، مگر کتابوں کے گوشے بنانے ہوں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو تحفے میں ان آلات کے بجائے کتابیں دینی ہوں گی جو ان کے ذہن کی گرہیں کھول سکیں۔ ہمیں ان ویران لائبریریوں کی طرف واپس مڑنا ہوگا، کیونکہ یہ مٹی صرف کتابوں پر نہیں جمی، یہ ہمارے شعور پر جم رہی ہے۔ اگر ہم نے اس گرد کو نہ جھاڑا، تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسے گروہ کے طور پر یاد رکھیں گی جس کے پاس دیکھنے کو بہت کچھ تھا مگر سوچنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ کتابوں پر جمی یہ دھول دراصل ہماری فکری موت کی دستک ہے۔ آئیے! اس سے پہلے کہ یہ مٹی ہمیں اور ہمارے حرفوں کو ہمیشہ کے لیے نگل لے، ہم مطالعے کی اس دم توڑتی روایت میں دوبارہ روح پھونکیں۔ کیونکہ جینے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں، سوچنا اور سمجھنا بھی ضروری ہے، اور یہ راستہ صرف کتابوں کی ان خاموش گلیوں سے ہوکر گزرتا ہے جو فی الوقت ہماری توجہ کی منتظر ہیں۔
کتاب کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف پڑھنے کا نہیں، بلکہ ایک تہذیبی تسلسل کا رشتہ ہے۔ یہ وہ زنجیر ہے جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتی ہے اور مستقبل کے لیے راستہ دکھاتی ہے۔ جب ہم ایک کتاب کی گرد صاف کرتے ہیں، تو ہم درحقیقت اپنی تاریخ کے ماتھے سے مٹی جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس عمل میں جو سکون اور جو بصیرت پوشیدہ ہے، وہ دنیا کی کسی اور رنگینی میں میسر نہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ان خاموش دوستوں کو دوبارہ اپنی زندگیوں میں شامل کریں گے اور ان ویران الماریوں کو دوبارہ زندگی کی چہل پہل سے آباد کریں گے۔
Comments
Post a Comment