Skip to main content

گونگے حروف کا شہر


گھر کی بوڑھی سیڑھیوں پر آج پھر وہی خاموشی بیٹھی تھی جو کئی برسوں سے اس کھردرے لکڑی کے ریشوں میں جذب ہو چکی تھی۔ باقر صاحب نے دھیرے سے قدم رکھا تو ایک چرچراہٹ نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ یہ آواز انہیں اپنے وجود جیسی لگی؛ پرانی، تھکی ہوئی اور غیر ضروری۔ اوپر والے کمرے سے موبائل فون کی ایک مخصوص ’بیپ‘ آئی، جس کا مطلب تھا کہ دانیال جاگ چکا ہے، یا شاید ابھی تک سویا ہی نہیں تھا۔ اس گھر میں اب سورج کھڑکیوں سے نہیں، بلکہ اسمارٹ فون کی نیلی روشنی سے طلوع ہوتا تھا۔

وہ باورچی خانے میں آئے اور چولہا جلایا۔ چائے کی پتی ابلنے کی خوشبو ان کے نتھنوں سے ٹکرائی تو انہیں یاد آیا کہ بیس سال پہلے جب زبیدہ زندہ تھی، تو یہ خوشبو پورے گھر میں ایک زندگی کی لہر دوڑا دیتی تھی۔ تب آوازیں ہوتی تھیں۔ پیتل کے برتنوں کے ٹکرانے کی آواز، زبیدہ کی چوڑیوں کی کھنک، اور صحن میں لگے اس پرانے نیم کے درخت پر پرندوں کا شور۔ اب پرندے تو تھے، مگر ان کی آوازیں دانیال کے کانوں میں لگے ان سفید تاروں (ہیڈ فونز) کے سامنے بے بس ہو چکی تھیں۔

’’دانیال! ناشتہ تیار ہے۔‘‘ باقر صاحب نے کمرے کے دروازے پر دستک دیئے بغیر آواز دی۔

اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ صرف ٹائپنگ کی ایک ہلکی سی آواز آئی، جیسے کوئی چیونٹی سوکھے پتوں پر چل رہی ہو۔ باقر صاحب نے دروازہ تھوڑا سا دھکیلا۔ دانیال بستر پر نیم دراز تھا، تکیہ پیٹھ کے پیچھے لگائے، گردن جھکائے وہ اس چھوٹی سی اسکرین میں گم تھا جہاں شاید پوری کائنات سمٹ آئی تھی۔ اس کے چہرے پر اسکرین کی نیلی چھایا اسے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق بنا رہی تھی۔

’’دانیال؟‘‘

’’جی ابا، بس ایک منٹ۔۔۔ ایک ای میل کر لوں۔‘‘ دانیال نے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔ اس کے لہجے میں وہ سپاٹ پن تھا جو اکثر مشینوں کا خاصہ ہوتا ہے۔

باقر صاحب وہیں چوکھٹ پر رک گئے۔ ’’تمہارے اس ’ایک منٹ‘ نے کئی سال نگل لیے ہیں بیٹا۔ چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔‘‘

دانیال نے ایک گہرا سانس لیا، فون برابر میں رکھا اور سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ ساری رات اس ڈیجیٹل دنیا کے جنگلوں میں بھٹکتا رہا ہے۔ ’’ابا، آپ بھی ناں۔۔۔ بس چھوٹی سی دنیا ہے میری اس میں، آپ کو لگتا ہے میں کہیں کھو گیا ہوں۔‘‘

باقر صاحب مسکرائے، مگر اس مسکراہٹ میں ایک عجیب سی تلخی تھی۔ ’’دنیا چھوٹی نہیں ہوئی دانیال، تمہاری نظر اس اسکرین پر رک گئی ہے۔ تم جانتے ہو، آج گلی میں وہ پرانی حویلی گرائی جا رہی ہے؟ وہ حویلی جہاں تمہارے دادا نے پہلا قدم رکھا تھا۔‘‘

دانیال نے کندھے اچکائے۔ ’’پرانی چیزوں کو تو گرنا ہی ہوتا ہے ابا، نئی بلڈنگ بنے گی، وائی فائی کی اسپیڈ بہتر ہوگی، لائف فاسٹ ہوگی۔‘‘

باقر صاحب خاموشی سے مڑ گئے۔ انہیں لگا جیسے وہ کسی ایسی زبان میں بات کر رہے ہیں جس کے حروف دانیال کے لیے ’ڈیلیٹ‘ ہو چکے ہیں۔ وہ صحن میں آ کر بیٹھ گئے۔ نیم کا درخت اب بوڑھا ہو چکا تھا، اس کی جڑیں فرش کو پھاڑ کر باہر نکل آئی تھیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ خود بھی اس نیم جیسے ہیں۔ جڑیں زمین میں اتری ہوئی، مگر شاخیں اس جدید آسمان سے کٹ چکی ہیں۔

اچانک دانیال باہر آیا، اس کے ہاتھ میں اب بھی فون تھا۔ وہ پودوں کے پاس گیا، ایک گملے میں کھلے زرد پھول کی تصویر کھینچی اور فوراً اسکرین پر کچھ ٹائپ کرنے لگا۔

’’دیکھا ابا! میں نے اسے اپنے پانچ ہزار دوستوں کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ اب سب اسے دیکھیں گے۔‘‘

باقر صاحب نے پوچھا، ’’مگر کیا تم نے خود اس کی خوشبو سونگھی؟ کیا تم نے محسوس کیا کہ اس کی پتیوں پر شبنم کی جو بوند ہے، وہ سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی کیسے تڑپتی ہے؟‘‘

دانیال رک گیا۔ اس نے فون جیب میں ڈالا اور اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ باقر صاحب کے بالوں کی سفیدی ان کی عمر سے زیادہ ان کی تنہائی کا قصہ سنا رہی ہے۔

’’خوشبو کا کوئی ’اپ لوڈ‘ نہیں ہوتا ابا، اور شبنم کی بوند ’لائیک‘ نہیں بٹورتی۔ دنیا بدل گئی ہے۔‘‘

شام ڈھلی تو آسمان پر وہی اداسی پھیل گئی جو اکثر متروک حویلیوں کے گرد منڈلاتی ہے۔ باقر صاحب نے اپنی پرانی ڈائری نکالی۔ وہ ڈائری جس میں انہوں نے برسوں پہلے قلم سے کچھ یادیں لکھی تھیں۔ سیاہی کہیں کہیں سے دھندلا گئی تھی، مگر الفاظ اب بھی سانس لے رہے تھے۔ انہوں نے ایک صفحہ پلٹا جہاں دانیال کے بچپن کا تذکرہ تھا۔ ’دانیال نے آج پہلا لفظ بولا۔۔۔ تیتلی‘۔

باقر صاحب کی پوروں نے اس کاغذ کو چھوا۔ کاغذ کُھردرا تھا، اس میں ایک لمس تھا۔ انہیں لگا جیسے وہ تیتلی ابھی اسی کمرے میں اڑ رہی ہے۔ تبھی دانیال کے کمرے سے ایک زوردار آواز آئی۔ کسی چیز کے گرنے اور ٹوٹنے کی آواز۔

باقر صاحب تیزی سے اوپر بھاگے۔ دانیال فرش پر بیٹھا تھا، اس کا اسمارٹ فون دو ٹکڑوں میں بکھرا پڑا تھا۔ اس کے چہرے پر وہ کرب تھا جیسے کسی کا کل اثاثہ لٹ گیا ہو۔

’’ٹوٹ گیا ابا۔۔۔ سب کچھ چلا گیا۔ میرا سارا ڈیٹا، میری یادیں، میرے رابطے۔۔۔ میں تو بالکل اکیلا ہو گیا۔‘‘ دانیال کی آواز لرز رہی تھی۔

باقر صاحب اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ٹوٹے ہوئے فون کے ٹکڑوں کو نہیں دیکھا، بلکہ اپنے بیٹے کے لرزتے ہوئے ہاتھوں کو تھام لیا۔

’’بیٹا، جو ٹوٹا ہے وہ صرف شیشہ اور پلاسٹک ہے۔ تمہارا ’ڈیٹا‘ تمہارے سامنے بیٹھا ہے۔ تم اکیلے نہیں ہو، تم بس ان دیواروں سے باہر دیکھنا بھول گئے تھے۔‘‘

دانیال نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کوئی پکسل نہیں تھے، کوئی نیلی روشنی نہیں تھی، وہاں صرف ایک گہرا انسانی دکھ اور لامتناہی ممتا تھی۔ اس نے باقر صاحب کا ہاتھ زور سے بھینچ لیا۔ کمرے میں اندھیرا بڑھ رہا تھا، مگر پہلی بار دانیال کو اس اندھیرے میں اپنا باپ صاف نظر آ رہا تھا۔

باہر حویلی گرانے والی مشین کا شور تھم چکا تھا۔ شاید ملبہ اٹھانے کا کام کل پر ٹل گیا تھا۔ مگر اس گھر کے ملبے تلے دبا ہوا ایک انسان دھیرے دھیرے باہر نکل رہا تھا۔

فون ٹوٹے ہوئے تین دن بیت چکے تھے۔ دانیال کے لیے یہ بہتر گھنٹے کسی طویل قیدِ تنہائی کی مانند تھے، مگر اس تنہائی میں ایک عجیب سی تبدیلی واقع ہو رہی تھی۔ پہلے پہل اسے گھبراہٹ ہوتی، ہاتھ بار بار خالی جیب کی طرف جاتے، اور وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتا رہتا۔ اسے لگتا جیسے وہ پوری دنیا سے کٹ گیا ہے، جیسے وہ سانس تو لے رہا ہے مگر اس کا وجود کسی 'ڈیجیٹل نقشے' پر موجود نہیں، اس لیے وہ غائب ہے۔

چوتھے دن کی صبح، دانیال صحن میں نیم کے پیڑ کے نیچے بیٹھے اپنے باپ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ باقر صاحب اخبار پڑھ رہے تھے، یا شاید اخبار کے بہانے سامنے دیوار پر رقص کرتی دھوپ کی پرچھائیوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔

’’ابا، وہ حویلی واقعی گر گئی؟‘‘ دانیال نے بہت دھیمے لہجے میں پوچھا۔

باقر صاحب نے اخبار ایک طرف رکھا۔ ’’ملبہ اٹھ رہا ہے دانیال۔ جو اینٹیں تمہارے دادا نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھیں، وہ اب ٹرکوں میں لاد کر شہر سے باہر پھینکی جا رہی ہیں۔‘‘

’’مجھے وہ حویلی دیکھنی ہے۔‘‘ دانیال کے جملے میں ایک ایسی ضد تھی جو اس کے بچپن کی یاد دلا رہی تھی۔

باپ اور بیٹا دونوں گلی میں نکل آئے۔ شور، گرد اور ملبے کے ڈھیر کے درمیان وہ پرانی حویلی اب ایک ادھورے ڈھانچے کی طرح کھڑی تھی۔ کھڑکیاں اکھاڑی جا چکی تھیں، اور ان کے پیچھے کا سناٹا اب گلی کے شور سے ہم کلام تھا۔ دانیال ملبے کے ایک ڈھیر کے پاس رکا۔ وہاں ایک ٹوٹا ہوا لکڑی کا روشن دان پڑا تھا جس پر نقش و نگار اب بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس نے جھک کر اس لکڑی کو چھوا۔

’’پتا ہے ابا، اسکرین کو چھونے اور اس لکڑی کو چھونے میں کیا فرق ہے؟‘‘ دانیال نے لکڑی کی کُھردرہ سطح پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’اسکرین پر ہاتھ پھسلاؤ تو کچھ محسوس نہیں ہوتا، سب کچھ برابر ہوتا ہے۔ مگر یہاں۔۔۔ یہاں تاریخ کے نشانات پوروں میں چبھتے ہیں۔‘‘

باقر صاحب خاموش رہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کا بیٹا، جو تصویروں کا اسیر تھا، اب حقیقت کے لمس سے آشنا ہو رہا ہے۔

’’انسان جب مٹی سے کٹ جاتا ہے نا بیٹا، تو وہ صرف ڈیٹا بن جاتا ہے۔ اور ڈیٹا کبھی مرتا نہیں، مگر وہ کبھی جیتا بھی نہیں۔‘‘ باقر صاحب نے شکستہ دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ دیواریں گر رہی ہیں، مگر ان کی خوشبو تمہارے اندر ہونی چاہیے۔‘‘

واپسی پر دانیال نے بازار سے نیا فون خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ وہ دونوں ایک چھوٹی سی پرانی دکان پر رکے جہاں قلم اور دواتیں بکتی تھیں۔ دانیال نے ایک لکڑی کا ہولڈر اور سیاہی کی شیشی خریدی۔

’’یہ کس لیے؟‘‘ باقر صاحب نے حیرت سے پوچھا۔

دانیال مسکرایا۔ ’’ابا، میں وہ تیتلی دوبارہ لکھنا چاہتا ہوں جو آپ کی ڈائری میں اڑ رہی تھی۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ سیاہی جب کاغذ پر پھیلتی ہے تو وہ کیسا رقص کرتی ہے۔‘‘

گھر آ کر دانیال نے اپنے کمرے کی کھڑکی پوری کھول دی۔ باہر شام کا رنگ گہرا ہو رہا تھا۔ اس نے کاغذ بچھایا، قلم سیاہی میں ڈبویا اور پہلا لفظ لکھا۔ قلم کی نب جب کاغذ سے ٹکرائی تو ایک ہلکی سی آواز آئی، جیسے کوئی پرانا ساز بج اٹھا ہو۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ سے نکلنے والی تحریر اس کے دل کی دھڑکنوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی 'آٹو کوریکٹ' نہیں تھا، کوئی 'بیک اسپیس' نہیں تھا۔ جو لکھا گیا، وہ اٹل تھا۔

رات کے کھانے پر آج میز پر کوئی فون نہیں تھا۔ صرف دو انسان تھے اور ان کے درمیان صدیوں پرانی گفتگو تھی۔

’’ابا، آپ نے کہا تھا کہ 'ایک منٹ' نے کئی سال نگل لیے۔ آج مجھے احساس ہوا کہ وہ 'منٹ' دراصل ایک خوف تھا۔ رابطوں میں رہنے کا خوف، اکیلے رہ جانے کا ڈر۔ ہم ہزاروں لوگوں سے جڑے تھے، مگر اپنے ہی گھر کے کوریڈور میں اجنبی بن چکے تھے۔‘‘

باقر صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک آ گئی۔ ’’بیٹا، ٹیکنالوجی برا نہیں ہے، وہ تو ایک وسیلہ ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب وسیلہ ہی منزل بن جائے۔ ہم نے چاند پر قدم تو رکھ دیا، مگر پڑوسی کے دل تک کا راستہ بھول گئے۔‘‘

کئی ماہ گزر گئے۔ دانیال نے نیا فون تو لے لیا، مگر اب وہ اس کا قیدی نہیں تھا۔ اس کا فون اب اس کی جیب میں ہوتا تھا، اس کے حواس پر نہیں۔ وہ اب بھی تصویریں کھینچتا تھا، مگر تصویر کھینچنے سے پہلے وہ اس منظر کو جیتا تھا۔ وہ اب اپنی بیٹی کے ساتھ جب پارک جاتا، تو اسے موبائل نہیں دکھاتا تھا، بلکہ اسے مٹی کے گھروندے بنانا سکھاتا تھا۔

ایک شام، جب دانیال اپنے آفس سے لوٹا، تو اس نے دیکھا کہ باقر صاحب نیم کے درخت کے نیچے اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ ان کا سر ایک طرف ڈھلکا ہوا تھا، اور گود میں وہی پرانی ڈائری کھلی ہوئی تھی۔ دانیال دھیرے سے ان کے پاس گیا۔ اس نے باقر صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ وہ ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ ان کی روح اس 'خاموش لَے' میں تحلیل ہو چکی تھی جس کا ذکر وہ اکثر کیا کرتے تھے۔

دانیال کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا اور باقر صاحب کی ڈائری کے اس صفحے پر جذب ہو گیا جہاں 'تیتلی' لکھا تھا۔ دانیال نے فون نکالا۔ اس کے پاس ایک آپشن تھا کہ وہ اس غم کو فوراً 'اسٹیٹس' پر لگا دے اور سینکڑوں سیڈ ایموجیز سمیٹ لے۔ مگر اس نے فون واپس جیب میں ڈال دیا۔

اس نے اپنے باپ کا ہاتھ تھاما، اسے اپنے ماتھے سے لگایا اور دیر تک اسی خاموشی میں بیٹھا رہا۔ اس نے اس دکھ کو 'شیئر' نہیں کیا، بلکہ اسے 'محسوس' کیا۔

گلی میں نئی بلڈنگ کا کام شروع ہو چکا تھا، وائی فائی کے سگنل اب پہلے سے زیادہ تیز تھے، مگر دانیال کے گھر کے صحن میں اب بھی وہی پرانی خاموشی آباد تھی، جو اب گونگی نہیں تھی، بلکہ بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ دانیال نے ڈائری بند کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے اب کسی اسکرین کی ضرورت نہیں تھی، اس کے پاس ایک مکمل 'انسان' کی میراث تھی۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر