ابھی تو دشتِ امکاں میں بہت سے موڑ باقی ہیں
کئی گمنام ساحل، ان سنی رت، ان چھوئے سپنے
مری آنکھوں کےدھارے بن رہے ہیں اک نیا نقشہ
جہاں نقشے کی حد سے ماورا بھی کچھ جزیرے ہیں
جزیرے بھی کہ جو نایافت ہیں اب تک
کسی گزرے ہوئے لمحے کا کوئی عکس اترا ہے
نہ کوئی حرف کی تتلی ، نہ کوئی رقص معنی ہے
وہاں کی چپ میں صدیوں کا کوئی خاموش نغمہ ہے
وہاں کے پیڑ اپنی چھاؤں سے خود بات کرتے ہیں
پرندے جن کے پر، رنگِ وفا سے بڑھ کے اجلے ہیں
وہاں کی جھیل کا نیلا بدن ، اک گہرا جادو ہے
جہاں جذبے کسی لرزش کے ڈر سے مٹ نہیں پاتے
وہاں احساس کی موجیں، ابھی بیدار ہوتی ہیں
کسی انجان خواہش کے پرے، ان کی حقیقت ہے!
تخیل کا پرندہ پھڑپھڑاتا ہے
انہی نیلے جزیروں کی طرف اڑنے کو کہتا ہے
جہاں نہ وقت کا پہرا، نہ ہیں یادوں کی زنجیریں
جہاں پر خواب میں ملفوف ہیں خوابوں کی تعبیریں
مگر کوئی صدا اندر کے گنبد سے ابھرتی ہے
نہیں جانا ، نہیں جانا کسی نایافت ساحل پر
اگر جانا ہی ہے تو دھیان کی سیڑھی لگا کر
اندر اتر جاؤ
سکوتِ ذات میں گُم، ایک لافانی سفر ہوگا
Comments
Post a Comment