سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں انسان ازل سے بہتری کی تلاش میں ہے خوب سے خوب تر کی چاہ میں رہتا ہے۔ اس خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان جہاں ترقی کی منازل طے کرتا رہا وہیں ہوس کی بیماری بھی اسے لاحق ہوئی۔ ہوس نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا یا۔ ہوس نے منافقت، جھوٹ، بے وفائی سکھائی ایک انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت کی بنیاد معاشی و معاشرتی حیثیت پر رکھی اور پھر ہر اس فعل کو جائز قرار دے ڈالا جس سے ا س کی معاشی و معاشرتی حیثیت کو تقویت پہچتی ہو لالچ نے جب دلوں میں گھر کیا تو محبت، خلوص وفا رخصت ہوئی ۔ انسان انسان کا دشمن بنا۔ آج کا انسان اور آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان ایک جیسا ہی ہے۔ کچھ فرق نہیں۔ نام ، مقام، اور ظاہری اطوار بدل گئے ہیں لیکن لالچ نے جو اصول اس وقت وضع کیے تھے وہی آج تک چل رہے ہیں۔ وہی خواب جو آج سے لاکھوں سال پہلے کے انسان نے دیکھے ہوں گے وہی آج کے انسان کے ہیں کیا ہمیں صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ، تن پر پہننے کو کپڑا اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کو خوراک ہی چاہیےنا۔ لیکن ہم جب تک بھوکے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ہمیں کچھ اور نہیں ص...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی