Skip to main content

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں


سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں

انسان ازل سے بہتری کی تلاش میں ہے
خوب سے خوب تر کی چاہ میں رہتا ہے۔
 اس خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان جہاں
ترقی کی منازل طے کرتا رہا وہیں ہوس کی بیماری بھی
اسے لاحق ہوئی۔
ہوس نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا یا۔
ہوس نے منافقت، جھوٹ، بے وفائی سکھائی
ایک انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت کی بنیاد
معاشی و معاشرتی حیثیت پر رکھی اور پھر
ہر اس فعل کو جائز قرار دے ڈالا جس سے ا س کی
معاشی و معاشرتی حیثیت کو تقویت پہچتی ہو
لالچ نے جب دلوں میں گھر کیا تو محبت، خلوص
وفا رخصت ہوئی ۔
انسان انسان کا دشمن بنا۔
آج کا انسان اور آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان
ایک جیسا ہی ہے۔
کچھ فرق نہیں۔
نام ، مقام، اور ظاہری اطوار بدل گئے ہیں لیکن
لالچ نے جو اصول اس وقت وضع کیے تھے
وہی آج تک چل رہے ہیں۔
وہی خواب جو آج سے لاکھوں سال پہلے کے انسان نے
دیکھے ہوں گے وہی آج کے انسان کے ہیں
کیا ہمیں صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ، تن پر پہننے کو کپڑا
اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کو خوراک ہی چاہیےنا۔
لیکن ہم جب تک بھوکے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ہمیں کچھ اور نہیں صرف
کھانا چاہیے ہوتا ہے۔
جب پیٹ بھرتا ہے تو پھر ہمیں سردی گرمی سے بچنے کے لئے
ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے۔
جب ٹھکانہ مل جاتا ہے تو ہمین نفسانی خواہشیں ستانے لگتی ہیں
پھر جب یہ بھوک بھی مٹ جائے تو معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے
کی فکر دامن گیر ہو جا تی ہے۔
جب معاشرے میں جھوٹی عزت ، شان و شوکت قائم ہو جاتی ہے۔
ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو احسا س ہو تا ہے۔
ہمارا دامن تو خالی ہے۔ ہم جو عزت کمائی وہ دوسروں کی پگڑی اچھال کر کمائی،
ہم نے دولت کمائی تو ہماری کم اور دوسروں کی زیادہ ہے
وہی دولت جس کو حاصل کرنے میں ہم اپنا ایمان بیچا، ضمیر کا سودا کیا
اپنے رب کو ناراض کیا۔ وہ دولت تو ہماری نہ نکلی ۔
پھر انسان جب اپنے اندر کی آواز سنتا ہے تو وقت بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے
کچھ تو سنبھل جاتے ہیں۔ اپنی دولت ، اپنا سب کچھ معاشرے کو
لوٹانے کی ٹھان لیتے ہیں لیکن
کچھ اندر کی آواز کو دبا کر
مزید دولت کی ہوس میں پڑ جا تے ہیں۔
غریب جو صدیوں سے
تن کے کپڑوں
کی خاطر
تو کبھی
چار نوالوں کی خاطر
بکتا آیا ہے۔
وہ خاک نشیں زرق خا ک ہی ہوتا ہے۔
اس کے خواب کبھی پورے نہ ہوئے
ان کو کبھی تعبیر نہ ملی
کوئی انقلاب کے نعرے لگاتا ہے
تو کوئی انصاف کی آواز بلند کرتا ہے
کوئی مساوات کا درس دیتا ہے
تو ہر خوشہ گندم کو جلانے کی بات کرتا ہے
کیاکسی نے کبھی سوچا
جس نے کائنات بنائی
اس نے اس پر رہنے کے
اس کو برتنے کے
اس پر بسنے والوں کے
ساتھ برتاؤکے
اصول ازل سے وضع کر دیے ہیں
جس کی زمین ہے، وہ جب چاہے زمین کھینچ لے
جس کا دیا ہوا سب کھاتے ہیں وہ جب چاہیے واپس لے لے
سانسوں کی میعاد بخشنے والے کو ہی اختیار ہے
وہ زندگی کے کس موڑ پر شام کردے۔
دل کو بنانے والا ہی دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے۔
دلوں کی بستیوں میں جب اس کے خالق کا نعرہ
گونجتا ہے تو دل آبا د ہوتا ہے۔
ہمیں خواب دکھانے والے کتنے جھوٹے ہیں ۔
سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...