Skip to main content

Posts

Showing posts with the label دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں

جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں

جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں غزل  دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم تیرا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لئے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں وہ عمودی ہو یا کہ افقی ہو ترا ہر زاویہ سمجھتے ہیں عشق تھا، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم؟ چل، کسی روز آ، سمجھتے ہیں یہ محبت ردیف ہے صاحب آپ کیوں قافیہ سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں اب بھی یوسف کے کچھ برادر ہیں "دوستی کو برا سمجھتے ہیں" ہم فقط شعر ہی تو کہتے ہیں لوگ ہیں کیا سے کیا سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ترے زیر پا سمجھتے ہیں گرچہ ہم جانتے ہیں عاصی ہیں لوگ ہیں! پارسا سمجھتے ہیں محمد نورآسی 14-09-2019