Skip to main content

اُمید کی اوٹ میں ٹھہرا ہوا مَان



روٹھنا دراصل ایک خاموش اعترافِ محبت ہے، ایک ایسا نازک موڑ جہاں انسان اپنی خودداری کو کسی دوسرے کی توجہ کے صدقے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ ایک معصوم سی پکار ہے جو لفظوں کا سہارا نہیں لیتی۔ روٹھنے والا اس مسافر کی مانند ہے جو گھنی چھاؤں میں صرف اس لیے تھم گیا ہو کہ کوئی پیچھے سے آئے گا، ہاتھ تھامے گا اور مسافتوں کی ساری تھکن ایک لمس سے مٹا دے گا۔
اس کیفیت کے پیچھے چھپی منائے جانے کی امید ہی وہ ڈوری ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ جو خاموش ہو کر بیٹھ گیا، وہ دراصل اپنی ہستی کو آپ کے حوالے کر چکا۔ اس کی ناراضی ایک کچی دیوار کی طرح ہوتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اب بھی اس کی تلاش میں کوئی درِ دل پر دستک دیتا ہے؟ یہ لمحہ انا کا نہیں بلکہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ روٹھنے والا اپنی انا کی قربانی دے کر ہی تو اس اُمید کی اوٹ میں بیٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی روٹھ رہا ہے، اس کا مان سلامت ہے۔ المیہ تب نہیں ہوتا جب گفتگو بند ہو جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب روٹھنے والا منائے جانے کی اُمید ترک کر دے۔ جس دن خاموشی میں اُمید کا یہ دیا بجھ جائے، اس دن روٹھنا ختم ہو جاتا ہے اور وہاں سے ایک ایسی بے حسی جنم لیتی ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ کسی کے روٹھے ہوئے مان کو سنبھال لینا، دراصل اس کے اس اعتبار کی لاج رکھنا ہے کہ دنیا کے ہجوم میں اب بھی کوئی اسے ڈھونڈ نکالنے کا ہنر جانتا ہے۔

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر