روٹھنا دراصل ایک خاموش اعترافِ محبت ہے، ایک ایسا نازک موڑ جہاں انسان اپنی خودداری کو کسی دوسرے کی توجہ کے صدقے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ ایک معصوم سی پکار ہے جو لفظوں کا سہارا نہیں لیتی۔ روٹھنے والا اس مسافر کی مانند ہے جو گھنی چھاؤں میں صرف اس لیے تھم گیا ہو کہ کوئی پیچھے سے آئے گا، ہاتھ تھامے گا اور مسافتوں کی ساری تھکن ایک لمس سے مٹا دے گا۔
اس کیفیت کے پیچھے چھپی منائے جانے کی امید ہی وہ ڈوری ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ جو خاموش ہو کر بیٹھ گیا، وہ دراصل اپنی ہستی کو آپ کے حوالے کر چکا۔ اس کی ناراضی ایک کچی دیوار کی طرح ہوتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اب بھی اس کی تلاش میں کوئی درِ دل پر دستک دیتا ہے؟ یہ لمحہ انا کا نہیں بلکہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ روٹھنے والا اپنی انا کی قربانی دے کر ہی تو اس اُمید کی اوٹ میں بیٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی روٹھ رہا ہے، اس کا مان سلامت ہے۔ المیہ تب نہیں ہوتا جب گفتگو بند ہو جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب روٹھنے والا منائے جانے کی اُمید ترک کر دے۔ جس دن خاموشی میں اُمید کا یہ دیا بجھ جائے، اس دن روٹھنا ختم ہو جاتا ہے اور وہاں سے ایک ایسی بے حسی جنم لیتی ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ کسی کے روٹھے ہوئے مان کو سنبھال لینا، دراصل اس کے اس اعتبار کی لاج رکھنا ہے کہ دنیا کے ہجوم میں اب بھی کوئی اسے ڈھونڈ نکالنے کا ہنر جانتا ہے۔
#نوریات
Comments
Post a Comment