Skip to main content

اُمید کی اوٹ میں ٹھہرا ہوا مَان



روٹھنا دراصل ایک خاموش اعترافِ محبت ہے، ایک ایسا نازک موڑ جہاں انسان اپنی خودداری کو کسی دوسرے کی توجہ کے صدقے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ ایک معصوم سی پکار ہے جو لفظوں کا سہارا نہیں لیتی۔ روٹھنے والا اس مسافر کی مانند ہے جو گھنی چھاؤں میں صرف اس لیے تھم گیا ہو کہ کوئی پیچھے سے آئے گا، ہاتھ تھامے گا اور مسافتوں کی ساری تھکن ایک لمس سے مٹا دے گا۔
اس کیفیت کے پیچھے چھپی منائے جانے کی امید ہی وہ ڈوری ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ جو خاموش ہو کر بیٹھ گیا، وہ دراصل اپنی ہستی کو آپ کے حوالے کر چکا۔ اس کی ناراضی ایک کچی دیوار کی طرح ہوتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اب بھی اس کی تلاش میں کوئی درِ دل پر دستک دیتا ہے؟ یہ لمحہ انا کا نہیں بلکہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ روٹھنے والا اپنی انا کی قربانی دے کر ہی تو اس اُمید کی اوٹ میں بیٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی روٹھ رہا ہے، اس کا مان سلامت ہے۔ المیہ تب نہیں ہوتا جب گفتگو بند ہو جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب روٹھنے والا منائے جانے کی اُمید ترک کر دے۔ جس دن خاموشی میں اُمید کا یہ دیا بجھ جائے، اس دن روٹھنا ختم ہو جاتا ہے اور وہاں سے ایک ایسی بے حسی جنم لیتی ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ کسی کے روٹھے ہوئے مان کو سنبھال لینا، دراصل اس کے اس اعتبار کی لاج رکھنا ہے کہ دنیا کے ہجوم میں اب بھی کوئی اسے ڈھونڈ نکالنے کا ہنر جانتا ہے۔

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...