Skip to main content

Posts

Showing posts with the label مٹی کی ریاضت، پوروں کا لمس،

مٹی کی ریاضت اور پوروں کا لمس

  مٹی کی ریاضت اور پوروں کا لمس آنگن کے اس کچے گوشے میں، جہاں ہوا بھی سانس روک کر گزرتی تھی، مٹی کی ہانڈی لکڑیوں کی مدہم لو پر کسی صوفی کی طرح مراقبے میں بیٹھی رہتی۔ وہ محض مٹی کا برتن نہ تھا، وہ تو ایک "ننھی خانقاہ" تھی جہاں اناج کے دانے ذائقے کی منزل پانے کے لیے تپسیا کرتے تھے۔ میں نے اپنی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب ماں کی کھردری پوریں اس پر نمک اور دیگر مسالے چھڑکتی تھیں، تو وہ کوئی پیمانہ نہیں ہوتا تھا، وہ تو "جذبوں کا حساب" تھا جو کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ ان انگلیوں میں شاید رزق کی تقسیم کا کوئی ازلی نقشہ چھپا تھا، جو ترازو کے بغیر ہی عدل کر دیا کرتا تھا۔ وہاں دھاتی چمچوں کی کوئی چیخ پکار نہ تھی، بلکہ لکڑی کی وہ پرانی "ڈوئی" جب ہانڈی کی دیوار سے مس ہوتی، تو ایک ایسی دھیمی لوری سنائی دیتی جیسے مٹی اپنے ہی وجود کے بکھرے ہوئے حصوں کو سینے سے لگا رہی ہو۔ آج شہر میں چمکدار، بے روح برتنوں میں رزق "پک" تو جاتا ہے مگر اس میں "رچاؤ" کی وہ خوشبو نہیں آتی۔ یہاں کی آگ میں صرف حرارت ہے، وہ تپش نہیں جو روح کے مساموں کو کھول دے۔ ہم پیٹ بھ...