مٹی کی ریاضت اور پوروں کا لمس
آنگن کے اس کچے گوشے میں، جہاں ہوا بھی سانس روک کر گزرتی تھی، مٹی کی ہانڈی لکڑیوں کی مدہم لو پر کسی صوفی کی طرح مراقبے میں بیٹھی رہتی۔ وہ محض مٹی کا برتن نہ تھا، وہ تو ایک "ننھی خانقاہ" تھی جہاں اناج کے دانے ذائقے کی منزل پانے کے لیے تپسیا کرتے تھے۔
وہاں دھاتی چمچوں کی کوئی چیخ پکار نہ تھی، بلکہ لکڑی کی وہ پرانی "ڈوئی" جب ہانڈی کی دیوار سے مس ہوتی، تو ایک ایسی دھیمی لوری سنائی دیتی جیسے مٹی اپنے ہی وجود کے بکھرے ہوئے حصوں کو سینے سے لگا رہی ہو۔
آج شہر میں چمکدار، بے روح برتنوں میں رزق "پک" تو جاتا ہے مگر اس میں "رچاؤ" کی وہ خوشبو نہیں آتی۔ یہاں کی آگ میں صرف حرارت ہے، وہ تپش نہیں جو روح کے مساموں کو کھول دے۔ ہم پیٹ بھرتے ہیں، مگر یادوں کی پیاس تشنہ ہی رہتی ہے۔
ماں اکثر کہا کرتی تھی:
"بیٹا! مٹی فطرتاً ٹھنڈی ہے، مگر یہ آگ کو اپنے اندر جذب کرنا جانتی ہے۔"
آج زندگی کی دھوپ میں کھڑے ہو کر سمجھ آیا کہ وقت کی ہانڈی پر دھرے ہوئے ہم انسان بھی بالکل ویسے ہی ہیں۔ ذائقہ صرف ان کا بنتا ہے جو دھیمی آنچ پر، خاموشی کے ساتھ سلگنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اب بھی کبھی کبھی کھانے کھاتے ہویے مٹی کی وہ سوندھی مہک میرے حلق میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ رزق کا اصل جوہر تو اس سالن میں تھا ہی نہیں ۔ وہ تو ماں کے ہاتھوں کا " محبت بھر لمس" تھا، جو دھوئیں کے مرغولوں میں بیٹھ کر پھونکنی سے میری تقدیر کی تلخیوں کو شہد کر رہی تھیں۔


0 Comments