Header Ads Widget

Responsive Advertisement

مٹی کی ریاضت اور پوروں کا لمس

 مٹی کی ریاضت اور پوروں کا لمس



آنگن کے اس کچے گوشے میں، جہاں ہوا بھی سانس روک کر گزرتی تھی، مٹی کی ہانڈی لکڑیوں کی مدہم لو پر کسی صوفی کی طرح مراقبے میں بیٹھی رہتی۔ وہ محض مٹی کا برتن نہ تھا، وہ تو ایک "ننھی خانقاہ" تھی جہاں اناج کے دانے ذائقے کی منزل پانے کے لیے تپسیا کرتے تھے۔
میں نے اپنی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب ماں کی کھردری پوریں اس پر نمک اور دیگر مسالے چھڑکتی تھیں، تو وہ کوئی پیمانہ نہیں ہوتا تھا، وہ تو "جذبوں کا حساب" تھا جو کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ ان انگلیوں میں شاید رزق کی تقسیم کا کوئی ازلی نقشہ چھپا تھا، جو ترازو کے بغیر ہی عدل کر دیا کرتا تھا۔
وہاں دھاتی چمچوں کی کوئی چیخ پکار نہ تھی، بلکہ لکڑی کی وہ پرانی "ڈوئی" جب ہانڈی کی دیوار سے مس ہوتی، تو ایک ایسی دھیمی لوری سنائی دیتی جیسے مٹی اپنے ہی وجود کے بکھرے ہوئے حصوں کو سینے سے لگا رہی ہو۔
آج شہر میں چمکدار، بے روح برتنوں میں رزق "پک" تو جاتا ہے مگر اس میں "رچاؤ" کی وہ خوشبو نہیں آتی۔ یہاں کی آگ میں صرف حرارت ہے، وہ تپش نہیں جو روح کے مساموں کو کھول دے۔ ہم پیٹ بھرتے ہیں، مگر یادوں کی پیاس تشنہ ہی رہتی ہے۔
ماں اکثر کہا کرتی تھی:
"بیٹا! مٹی فطرتاً ٹھنڈی ہے، مگر یہ آگ کو اپنے اندر جذب کرنا جانتی ہے۔"
آج زندگی کی دھوپ میں کھڑے ہو کر سمجھ آیا کہ وقت کی ہانڈی پر دھرے ہوئے ہم انسان بھی بالکل ویسے ہی ہیں۔ ذائقہ صرف ان کا بنتا ہے جو دھیمی آنچ پر، خاموشی کے ساتھ سلگنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اب بھی کبھی کبھی کھانے کھاتے ہویے مٹی کی وہ سوندھی مہک میرے حلق میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ رزق کا اصل جوہر تو اس سالن میں تھا ہی نہیں ۔ وہ تو ماں کے ہاتھوں کا " محبت بھر لمس" تھا، جو دھوئیں کے مرغولوں میں بیٹھ کر پھونکنی سے میری تقدیر کی تلخیوں کو شہد کر رہی تھیں۔

Post a Comment

0 Comments