صدا کا قید خانہ: قدیم کنویں کی بازگشت
بستی کے آخری سرے پر، جہاں بوڑھے برگد کی جڑیں زمین کا سینہ
چاک کر کے باہر نکل آئی ہیں، وہ قدیم کنواں آج بھی موجود ہے۔ یہ محض ایک کنواں نہیں،
زمین کا وہ دہانہ ہے جس نے صدیوں کا پیاسا سکوت پی رکھا ہے۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ
یہ کنواں 'بنیادِ عالم' سے جڑا ہے، مگر میرا خیال ہے کہ یہ کائنات کا وہ کان ہے جو
صرف سرگوشیاں سنتا ہے۔
شام کی زرد روشنی جب کنویں کی منڈیر پر گرتی ہے، تو اس کے بوسیدہ پتھر کسی قدیم مقبرے کے کتبوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔ منڈیر پر جمی کائی محض نباتات نہیں، بلکہ وقت کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جسے کوئی پڑھ نہیں پایا۔ میں اکثر اس کی منڈیر پر بیٹھتا ہوں۔ نیچے، اتھاہ گہرائی میں، سیاہ پانی ایک منجمد آنکھ کی طرح اوپر دیکھتا ہے۔ وہ پانی نہیں، پگھلا ہوا وقت ہے جس میں عکس تو بنتے ہیں مگر ابھرتے نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس کنویں سے آوازیں آتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ جنات کی محفل ہے، کوئی اسے ہواؤں کا شور قرار دیتا ہے۔ مگر میں نے جب بھی اس کے دہانے پر کان دھرا، مجھے محسوس ہوا کہ یہ آوازیں باہر سے نہیں، بلکہ میرے اندر کے کسی خالی کمرے سے آ رہی ہیں۔
ایک شام، جب آسمان پر تارے کسی بکھری ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح چمک رہے تھے، میں نے کنویں کی گہرائی میں ایک پتھر پھینکا۔ پتھر نیچے گیا... جاتا رہا... مگر اس کے پانی سے ٹکرانے کی آواز نہیں آئی۔ اس کے بجائے ایک دھیمی سی صدا ابھری: "تم اب آئے ہو؟"
میں سہم گیا۔ آواز میں وہ کھنک تھی جو ٹوٹے ہوئے شیشے کے بکھرنے میں ہوتی ہے۔ "تم کون ہو؟" میں نے منڈیر پر جھک کر پوچھا۔ نیچے سے ایک گہرا قہقہہ ابھرا، جیسے خشک پتے پیروں تلے کچلے جا رہے ہوں۔ "میں وہ آواز ہوں جسے تم نے برسوں پہلے خاموشی کے خوف سے اندر دبا دیا تھا۔ میں تمہارا وہ سچ ہوں جو تم بول نہ سکے، وہ التجا ہوں جو ہونٹوں تک آ کر لوٹ گئی۔"
میں نے اپنے گرد دیکھا۔ برگد کے پتے ساکت تھے۔ ہوا جیسے تھم گئی تھی۔ "کیا اس کنویں میں سب کی آوازیں قید ہیں؟" میں نے حیرت سے پوچھا۔
جواب آیا: "یہ کنواں نہیں، کائنات کا 'ردِ عمل' ہے۔ یہاں وہ لفظ پناہ لیتے ہیں جنہیں زمین پر جگہ نہیں ملتی۔" اس کے بعد گہرائی سے آوازوں کا ایک پیچیدہ شور ابھرا، ہر صدا اپنی الگ کہانی سنا رہی تھی۔
ایک گونج، ریشم سی نرم: "وہ جو ہلکی سی سرگوشی ہے، کیا تم نے سنی؟ وہ ایک بیٹی کی ہے جس نے باپ کے سائے میں جیتے ہوئے کبھی کھل کر خواب نہیں دیکھے۔ اس کے خواب کنویں کی دیواروں میں گھومتے ہیں، ایک گمنام تتلی کی طرح جو کبھی اڑ نہیں پائی۔" پھر ایک کھرکھراہٹ، جیسے ریت بکھر رہی ہو: "اور وہ جو ایک گرج سی سنائی دے رہی ہے؟ وہ اس جنگجو کی حسرت ہے جو میدانِ جنگ میں تو فاتح رہا، مگر گھر لوٹ کر اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اپنا خوف نہ دیکھ سکا۔ اس نے اپنے آنسو اس کنویں میں پھینک دیے، اور اب وہ ہنسی کی صورت میں لوٹتے ہیں۔" ایک لمبی آہ، کسی پرانے ساز کی طرح: "وہ جو لرزتی ہوئی گونج ہے؟ وہ اس محبوب کی ہے جس نے اپنی محبت کو زبان نہ دی، یہ سوچ کر کہ شاید دوسرا نہ سمجھے۔ وہ الفاظ کنویں کی گہرائی میں جا کر پتھر بن گئے ہیں، ہر ضرب کے ساتھ ایک اداس نغمہ چھیڑتے ہیں۔" اور پھر ایک دھیمی ٹیس، کانوں کو چھوتی ہوئی: "وہ ایک بچے کا بے ساختہ سوال ہے جو اس کے ننھے ذہن میں ابھرا، مگر کسی بڑے نے اسے نظر انداز کر دیا۔ وہ سوال کنویں کی تہہ میں آج بھی جواب کا منتظر ہے۔"
میں نے غور سے سنا۔ اب مجھے صرف ایک آواز نہیں، بلکہ آوازوں کا ایک سمندر سنائی دے رہا تھا۔ ہزاروں سال کے دکھ، سکھ، محبتیں اور نفرتیں ایک ہی تال پر رقص کر رہی تھیں۔ "تمہارا مطلب ہے کہ آواز کبھی مرتی نہیں؟" میں نے پوچھا۔
"آواز توانائی ہے، اور توانائی صرف راستہ بدلتی ہے۔ تم جسے خاموشی کہتے ہو، وہ دراصل آوازوں کا ہجوم ہے جو اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ تمہاری سماعت اسے سن نہیں پاتی۔"
اس قدیم کنویں کی گہرائی دراصل انسانی ضمیر کی گہرائی ہے۔ ہم سب کے اندر ایک ایسا ہی کنواں ہے جہاں ہم اپنی ناپسندیدہ یادیں، ادھورے خواب اور خاموش احتجاج پھینکتے رہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ دفن ہو گئے، مگر وہ وہاں زندہ رہتے ہیں، ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور وقت آنے پر کسی بوڑھے کنویں کی طرح ہماری تنہائی میں گونجنے لگتے ہیں۔
میں نے ایک اور پتھر اٹھایا، مگر اس بار پھینکنے کے بجائے اسے مٹھی میں بھینچ لیا۔ "کیا ان آوازوں کو رہائی مل سکتی ہے؟"
میں اٹھ کھڑا ہوا۔ رات بھیگ چکی تھی۔ برگد کی جڑیں اب مجھے زمین کی رگیں لگ رہی تھیں۔ میرے اندر کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔ شاید میں نے اپنی زندگی کا کوئی ایک گمنام خوف اس کنویں کے حوالے کر دیا تھا۔
گھر کی طرف لوٹتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ کنواں اب بھی وہیں ہے، ایک ساکت گواہ کی طرح۔ اس کی گہرائی سے آنے والی آوازیں ہمیں بتاتی ہیں: "جو کچھ کہا نہیں گیا، وہ مرتا نہیں۔ وہ زندہ رہتا ہے، اور گونجتا رہتا ہے"


0 Comments