افسانہ: سکرول
رات کے تین بج رہے تھے، لیکن کمرے کی نیلی روشنی دیواروں پر کسی بھوتنی کے ناچ کی طرح لرز رہی تھی۔ زریاب کے چہرے پر اسمارٹ فون کی اسکرین کا عکس جم چکا تھا۔ اس کی آنکھیں تھک کر سرخ ہو چکی تھیں، لیکن انگوٹھا ایک میکانی انداز میں اوپر سے نیچے 'سکرول' کر رہا تھا۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور اسکرین پر ایک نیا 'پول' اپ لوڈ کیا: "اگلے دو گھنٹے: سونا چاہیے یا ایک اور ویب سیریز دیکھنی چاہیے؟"
نیچے دو آپشنز تھے: ۱۔ سو جاؤ (تم تھک چکے ہو)۔ ۲۔ ایک قسط اور (زندگی مختصر ہے)۔
صرف پانچ منٹ میں سینکڑوں ووٹ آ گئے۔ زریاب نے اپنے وجود کو ان ووٹوں کے حوالے کر دیا۔ اسے اب یاد بھی نہیں تھا کہ آخری بار اس نے اپنی مرضی سے پانی کا گلاس کب پیا تھا۔ اس کی زندگی کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ—ناشتے میں آملیٹ کھانا ہے یا پراٹھا، نیلی قمیض پہننی ہے یا کالی، یہاں تک کہ اپنی ماں کی دوا کس وقت لینی ہے—اب اس کے پانچ لاکھ 'فالوورز' طے کرتے تھے۔
"زریاب۔۔۔ بیٹا، ذرا پانی دینا۔" برابر کے کمرے سے اس کی ماں کی نحیف آواز آئی۔
زریاب کا ہاتھ اٹھا، لیکن رک گیا۔ اس نے فوراً ٹویٹر پر ایک فوری سوال ڈالا: "ماں پانی مانگ رہی ہیں، لیکن میں ایک بہت ضروری لائیو اسٹریم دیکھ رہا ہوں۔ کیا کروں؟" ووٹنگ شروع ہوئی۔ 60 فیصد لوگوں نے لکھا: "ماں کو پانی دو، انسانیت پہلے ہے۔" 40 فیصد نے کہا: "لائیو اسٹریم دوبارہ نہیں ملے گی، ماں خود بھی پی سکتی ہیں۔"
زریاب اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا۔ وہ اب ایک جیتا جاگتا انسان نہیں، بلکہ ایک ریموٹ کنٹرول کھلونا تھا جس کا ریموٹ ہزاروں گمنام ہاتھوں میں تھا۔
صبح ہوئی تو زریاب نے ایک نیا تجربہ کرنے کا سوچا۔ اس نے انسٹاگرام لائیو پر آکر اپنے فالوورز سے پوچھا: "آج میں اپنے دفتر سے استعفیٰ دے دوں؟ آپ کے 'ہاں' یا 'ناں' پر میری نوکری کا منحصر ہے۔"
اس کے باس، مسٹر قریشی، جو خود بھی اسے فالو کرتے تھے، یہ دیکھ کر آگ بگولا ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد زریاب کے پاس میسج آیا: "تمہیں استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں، تمہیں نکالا جا رہا ہے۔"
زریاب کے چہرے پر کوئی ملال نہیں تھا۔ اس نے فوراً اسٹیٹس ڈالا: "آج میں بے روزگار ہو گیا۔ ری ایکشنز دکھائیں!" لوگوں نے 'ہارٹ' اور 'سلیبریٹ' کے ایموجیز بھیجے۔ زریاب کو لگا جیسے وہ کوئی ہیرو ہے جس کی قربانی پر دنیا جھوم رہی ہے۔ اسے احساس ہی نہیں تھا کہ ان ایموجیز کے پیچھے بیٹھے لوگ اپنے اپنے کمروں میں پاپ کارن کھاتے ہوئے محض ایک تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
شام کو وہ پارک میں بیٹھا تھا جب اس کی ملاقات سارہ سے ہوئی۔ سارہ، جو کبھی اس کی منگیتر تھی اور اب محض ایک 'میوٹڈ' کانٹیکٹ بن چکی تھی۔
"زریاب، یہ تم نے کیا حال بنا لیا ہے؟" سارہ نے اس کی بے نور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ "تمہارے پاس اپنے لیے کوئی وقت، کوئی فیصلہ بچا بھی ہے؟"
زریاب نے خاموشی سے فون نکالا اور سارہ کے سامنے کر دیا۔ اسکرین پر لکھا تھا: "ایک پرانی دوست نصیحت کر رہی ہے۔ سنوں یا اٹھ کر چلا جاؤں؟"
سارہ کا رنگ فق ہو گیا۔ "تم میری بات سننے کے لیے بھی ان اجنبیوں سے پوچھو گے؟" "سارہ، تم نہیں سمجھوگی،" زریاب کا لہجہ دھیما اور خالی تھا، "یہ اجنبی نہیں ہیں، یہ میرا ضمیر ہیں۔ جب تک یہ مجھے 'لائک' کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے میں موجود ہوں۔ جس دن ووٹ آنا بند ہو گئے، میں مٹ جاؤں گا۔"
سارہ نے تلخی سے کہا، "تم مٹ چکے ہو زریاب۔ تم ایک اشتہاری بورڈ بن چکے ہو جس پر لوگ اپنی پسند کے رنگ مل دیتے ہیں۔ تمہارا اپنا کوئی رنگ نہیں بچا۔"
رات کو گھر واپسی پر زریاب کو ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی۔ اسے لگا جیسے کمرے کی دیواریں اسے کھا جائیں گی۔ اس نے آخری اور سب سے خطرناک 'پول' بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا ذہن ماؤف تھا، انگلیاں لرز رہی تھیں۔
اس نے کیمرہ آن کیا اور چھت سے لٹکے پنکھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: "زندگی بہت بوجھل ہو گئی ہے۔ کیا آج رات یہ سکرول ختم کر دوں؟" آپشنز تھے: ۱۔ ہاں (آزادی پاؤ)۔ ۲۔ نہیں (ابھی تماشہ باقی ہے)۔
ووٹوں کی برسات شروع ہو گئی۔ 'ہاں' کا گراف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ کچھ لوگ کمنٹس میں اسے بزدل کہہ رہے تھے، کچھ اسے 'لیجنڈ' قرار دے رہے تھے، اور کچھ اسے محض 'توجہ حاصل کرنے کا طریقہ' اٹینشن سیکر سمجھ کر مذاق اڑا رہے تھے۔
نیلی روشنی میں زریاب کا چہرہ کسی لاش کی طرح سفید لگ رہا تھا۔ وہ بار بار اسکرین ریفریش کر رہا تھا۔ 55 فیصد 'ہاں'۔۔۔ 58 فیصد 'ہاں'۔۔۔ 62 فیصد 'ہاں'۔
اچانک اس کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی اور اسکرین سیاہ ہو گئی۔
کمرے میں دم گھٹتی ہوئی خاموشی چھا گئی۔ اب کوئی نیلی روشنی نہیں تھی، کوئی سکرول نہیں تھا، کوئی ووٹ نہیں تھا۔ زریاب نے اندھیرے میں اپنا ہاتھ ٹٹولا۔ اسے اپنی نبض محسوس ہوئی۔ وہ زندہ تھا، لیکن اسے لگ رہا تھا کہ وہ مر چکا ہے، کیونکہ اب اسے بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ اسے اگلا سانس لینا ہے یا نہیں۔
وہ گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے اور فرش پر گرے، لیکن اسے دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ وہ تنہا ہے، دکھ اس بات کا تھا کہ وہ اس منظر کی 'ریل' بنا کر اپ لوڈ نہیں کر سکتا تھا۔
باہر گلی میں کسی گاڑی کا ہارن بجا، ایک کتا بھونکا، زندگی اپنی روانی میں چل رہی تھی، مگر زریاب اس تاریک کمرے میں ایک ایسی فائل بن چکا تھا جس کا 'ڈیٹا' کرپٹ ہو چکا ہو۔ اس نے محسوس کیا کہ اسکرین کے اس پار بیٹھے پانچ لاکھ لوگ اب کسی اور کے لائیو اسٹریم پر 'ایموجیز' برسا رہے ہوں گے۔ تماشائی کبھی نہیں روتے، وہ صرف دوسرا تماشہ ڈھونڈتے ہیں۔

0 Comments