Skip to main content

Posts

تقسیم اور تکمیل میں مکالمہ

 
Recent posts

سڑکیں اور خالی پن

 

تقسیم اور تکمیل کے درمیان ایک مکالمہ

شام کی نارنجی دھوپ جب پرانے برگد کے چوڑے پتوں سے چھن کر زمین پر نقش و نگار بنا رہی تھی، تو بستی کے کنارے بنے اس کچے مسافر خانے کے تھڑے پر دو شخص بیٹھے تھے۔ ایک کے پاس چمڑے کا بھرا ہوا سفری تھیلا تھا اور سامنے پیتل کا چمکتا ہوا برتن، جس کا ڈھکن مضبوطی سے بند تھا۔ دوسرا شخص بالکل خالی ہاتھ تھا، اس کے سامنے مٹی کا ایک بڑا پیالہ الٹا رکھا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی تھک کر اپنی انا کو زمین پر رکھ دے۔ بھرے ہوئے تھیلے والے شخص نے، جسے ہم صاحبِ اسباب کہہ سکتے ہیں، دوسرے کی حالت کو دیکھ کر ایک گہری ہمدردی والی آہ بھری اور اپنی جیب کی طرف ہاتھ لے جاتے ہوئے بولا: "لگتا ہے قسمت نے اس بار وفا نہیں کی۔ تمہارا برتن تو بالکل خالی ہے، اگر کہو تو میں اپنے زادِ راہ میں سے کچھ حصہ تمہاری نذر کر دوں؟" خالی ہاتھ والے مسافر نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہ اضطراب نہیں تھا جو عام طور پر محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا: " صاحب جی ! شکریہ، مگر برتن کا خالی ہونا ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اس میں کچھ آیا نہیں، کبھی کبھی یہ اس بات کی گ...

نامکمل کاغذ

  ادھوری سطروں سے لکھے کاغذ ہماری ان کہی باتوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں کبھی مکمل ہونے کے ڈر سے خود ہی کھو جاتے ہیں #نوریات

مٹی کا قرض

پرانے درختوں کی جڑیں زمین کا حافظہ ہیں وہ انسانی پاؤں کی چاپ سے کہانیاں بُنتی ہیں اور گہرائی میں اتر کر خاموشی کو ٹرانسلیٹ کرتی ہیں #نوریات

پرانے درختوں کی جڑیں

ہم عموماً درختوں کو ان کے پھیلاؤ، پھلوں یا سائے سے ناپتے ہیں، لیکن ان کی اصل کائنات تو زمین کے نیچے اس تاریک خاموشی میں ہے جہاں جڑیں بستی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جڑیں زمین کی تہوں میں چھپی ان سب باتوں کی امین ہوں گی جنہیں ہم نے دفن کر دیا تھا؟ یہ صرف پانی کی تلاش میں زمین کا سینہ نہیں چیرتیں، بلکہ یہ مٹی کے سینے میں محفوظ قدیم انسانی تہذیبوں کی آہٹیں سنتی ہیں۔ پرانے درختوں کی جڑیں دراصل زمین کا اعصابی نظام ہی ہیں۔ جب ہم اوپر کی دنیا میں نئے شہر بساتے ہیں، پرانی دیواریں گراتے ہیں یا کوئی راز خاک برد کرتے ہیں، تو یہ جڑیں ان سب کو چھو کر گزرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ صدیوں پہلے اس زمین پر چلنے والے کے پاؤں کی چاپ کیسی تھی اور اس نے کس دکھ میں تڑپ کر مٹی پر ہاتھ مارا تھا۔ وہ صرف لکڑی کا ریشہ نہیں، وہ وقت کی وہ ڈوریاں ہیں جنہوں نے زمین کے ماضی کو حال سے سی رکھا ہے۔ کبھی کبھی کسی قدیم برگد کے پاس بیٹھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموش نہیں ہیں، بلکہ وہ مٹی کے ذرات سے وہ کہانیاں کشید کر رہی ہیں جو ہواؤں نے بھلا دیں۔ شاید وہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بقا کا راز بلندی میں نہیں، ب...

سفر جو کبھی کیا ہی نہیں گیا

کچھ راستے نقشوں پر نہیں، صرف ارادوں کی سلوٹوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں، دراصل وہی ہے جس نے ہمیں سب سے زیادہ تھکایا ہے۔ وہ ایک ایسا متوازی رستہ ہے جو ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر جس پر کبھی ہمارے پاؤں کا نشان نہیں پڑتا۔ ہم اکثر ان ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے جو کبھی پلیٹ فارم پر آئی ہی نہیں تھیں، اور ان ہوائوں کے اسیر رہے جن کا کوئی رخ نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ منزل تک پہنچنے والے تو سستانے بیٹھ گئے، مگر وہ جو کہیں روانہ ہی نہ ہوئے، ان کے اعصاب آج بھی کسی انجانی مسافت کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم نے اپنی ممکنہ زندگی میں کرنا تھا۔ وہ انتخاب جو ہم نے نہیں کیے، وہ دروازے جو ہم نے نہیں کھولے، اور وہ لفظ جو ہم نے ہونٹوں کی دہلیز پر ہی روک لیے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس جگہ سب سے زیادہ قیام پذیر ہوں جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں؟ شاید وہ ان دیکھا رستہ ہی ہماری اصل شناخت ہو، کیونکہ حاصل شدہ تو مٹی ہو جاتا ہے، مگر جو لا حاصل رہ جائے، وہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ کسی دن وقت ملے تو خاموشی سے خود سے پوچھیے گا کہ کیا آپ اس مسافر کو جانتے ہیں جو آپ کے اندر بیٹھا اس ب...