ہ میں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ "برداشت" بڑی فضیلت ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کون سا موڑ ہے جہاں برداشت مصلحت بن جاتی ہے اور مصلحت ہمیں اندر سے مردہ کر دیتی ہے۔ ہماری شخصیت کی تعمیر ان باتوں سے نہیں ہوتی جو ہمارے ساتھ "ہوتی" ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ ہم ان باتوں پر "ردِ عمل" کیا دیتے ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ خاموشی نیم رضامندی ہے، لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ ہر خاموشی صلح جوئی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی ایک بہت بڑا "احتجاج" ہوتی ہے۔ جب ایک باشعور انسان بحث کے بیچ میں چپ ہو جاتا ہے، تو وہ ہار نہیں مان رہا ہوتا، بلکہ وہ سامنے والے کو اس کی "اوقات" دکھا رہا ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ منفی ردِ عمل کو ہی غصہ سمجھا ہے، حالانکہ مثبت ردِ عمل وہ ہے جہاں آپ کسی کی تضحیک کا جواب اپنے "اعمال" سے دیتے ہیں۔ کسی کا آپ کو نیچا دکھانا دراصل آپ کے لیے وہ سیڑھی بن سکتا ہے جسے آپ اپنے عروج کے لیے استعمال کر سکیں۔ لفظ "انا" (Ego) کو ہمارے ہاں ایک گالی بنا دیا گیا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر انسان کے پاس انا نہ ہو، تو وہ ایک خال...
انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ آزادی اور وسعت کا خواہشمند رہا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انتخاب کی بے پناہ آزادی ملتی جا رہی ہے، ہماری ذہنی آسودگی اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ اب ایک عام سے انسان کو بھی صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک سینکڑوں ایسے فیصلوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ماضی میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ کبھی وقت تھا کہ بازار میں کپڑے کی دو چار دکانیں ہوتی تھیں، جوتا لینا ہوتا تو ایک دو معروف نام ہی کافی سمجھے جاتے تھے اور اگر گھر کے لیے دال یا صابن خریدنا ہوتا تو پرچون والے کے پاس موجود محدود مال ہی ہمارے لیے غنیمت تھا۔ ہم خوش تھے، اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بہت کچھ تھا، بلکہ اس لیے کہ ہمیں یہ فکر نہیں تھی کہ جو ہم نے خریدا ہے اس سے بہتر بھی کچھ ہو سکتا تھا۔ آج کی زندگی ایک لامتناہی فہرست بن چکی ہے۔ آپ ایک عام سے ہوٹل میں چلے جائیں تو چائے کی دس قسمیں آپ کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ موبائل فون لینا ہو تو اس کی خصوصیات اور قیمتوں کا ایسا جنگل سامنے آتا ہے کہ انسان خریدنے سے پہلے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ کثرتِ...