ہم سب ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص بولنا چاہتا ہے، لیکن کوئی سننا نہیں چاہتا۔ یہ ایک عجیب و غریب تماشہ ہے جہاں آوازوں کا شور تو ہے، لیکن معنویت کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ہم بولتے ہیں تاکہ خود کو ثابت کر سکیں، خود کو منوا سکیں، اور اپنی ذات کی پہچان کروا سکیں۔ بولنے میں ایک نشہ ہے، ایک ایسی لذت ہے جو انسان کو یہ گمان دیتی ہے کہ وہ کائنات کا محور ہے۔ مگر دوسری طرف سننا ہے، جو آج کے دور میں ایک بھولی ہوئی اور کٹھن ریاضت بن چکا ہے۔ انسانی جبلت میں اظہار کی خواہش سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجود کے دائرے کو پھیلا رہے ہیں۔ لبوں سے نکلتا ہر لفظ ایک روشنی کی کرن کی طرح ہوتا ہے، جو ہمارے اندر کے اندھیروں کو دور کرتا ہے اور دوسروں پر اپنی چھاپ چھوڑتا ہے۔ یہ بولنا محض آوازوں کا تکرار نہیں، بلکہ اپنی انا کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جتنا ہم بولیں گے، اتنے ہی ہم موجود رہیں گے۔ ایک ماہر نفسیات کے زاویے سے دیکھیں تو بولنا خود کو دنیا کے سامنے ڈیزائن کرنے کا عمل ہے۔ ہم اپنی پسندیدہ کہانیاں سناتے ہیں، اپنے دکھوں کا اظہار کرتے ہیں، اور اپنی ...
زندگی کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔ یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سا...