دیوار کی پپڑیوں سے جھڑتا ہوا چونا میز پر بچھے ان سفید کاغذوں پر ایک باریک گرد کی صورت جمع ہو رہا تھا جن پر ہاشم گھنٹوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یہ لکیریں آپس میں گتھم گتھا تھیں، کہیں سیدھی، کہیں دائروں کی صورت مڑتی ہوئی اور کہیں ناخنوں سے کریدی گئی خراشوں جیسی۔ باہر گلی میں کسی نے بھاری بوٹوں سے چلتے ہوئے لوہے کے گیٹ کو تھپتھپایا تو ہاشم کے ہاتھ میں تھمی پنسل کا سکہ کاغذ کے ساتھ جھٹکا کھا کر کڑک سے ٹوٹ گیا۔ "کتنی بار کہا ہے، اس دروازے کی زنجیر بدلوا دیں،" ثریا کی آواز کچن کی دھاتی آوازوں کے درمیان سے ابھری۔ "یہ چڑچڑاہٹ اب ہڈیوں میں اترنے لگی ہے۔" ہاشم نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں پنسل کے ٹوٹے ہوئے سکے پر جمی تھیں جو کاغذ پر گرے ہوئے کوئلے کے ایک ذرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیم کے بوڑھے درخت کی ٹہنیاں ہوا کے دوش پر کسی نوحہ گر کے ہاتھوں کی طرح ہل رہی تھیں۔ نیچے گلی میں کھڑے میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک باقاعدہ ترتیب سے گونج رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ یہ آواز اسے اس دوپہر میں لے گئی جب بادلوں کا رنگ بالکل ایسا ہی گہرا سرمئی تھا جی...
وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا! کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا یہ دستخط نہیں تھے! یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر میری بربادی کے قصے رقم کرے یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا مِرا نصیب ہے! میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال...