Skip to main content

Posts

کتابوں کا عالمی دن

 گردِ راہ میں گم ہوتی بصیرت تئیس اپریل کے روز جب میں شہر کی ایک قدیم لائبریری کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تو میرے کانوں میں ٹریفک کا شور کسی دور دراز سمندر کی گرج کی طرح سنائی دے رہا تھا۔ باہر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں، ہنگاموں اور جدید آلات کی برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں تھی، مگر جیسے ہی میں نے اس عمارت کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے کو دھکیلا، ایک ایسی دنیا نے میرا استقبال کیا جہاں وقت ساکت ہو چکا تھا۔ وہاں کی ہوا میں ایک مخصوص بو تھی—وہ خوشبو جو صرف پرانے کاغذوں، گتے کی جلدوں اور تنہائی کے باہمی ملاپ سے جنم لیتی ہے۔ لیکن اس بار اس خوشبو کے ساتھ ایک عجیب سی اداسی بھی نتھی تھی، ایک ایسی خاموشی جو محض شور کی غیر موجودگی نہیں تھی، بلکہ ایک باقاعدہ نوحہ تھی۔ میں ان راہداریوں میں گھومنے لگا جہاں الماریاں اب یادداشت کے کتبے معلوم ہوتی تھیں۔ ان الماریوں پر سجی کتابوں پر گرد کی ایک ایسی دبیز اور مخملی تہہ جمی تھی جیسے کسی متروک بستی کے کھنڈرات پر کائی جم جاتی ہے۔ میں نے جب ایک شیلف سے ایک بھاری بھرکم جلد کو نکالا، تو میرے ہاتھوں کی پوروں نے اس مٹی کو محسوس کیا جو محض مٹی نہیں تھی، بلکہ ہما...
Recent posts

کچی مٹی کا نوحہ

میرے ہاتھوں کی پوروں میں کسی قدیم مٹی کی بو اب تک باقی ہے وہ مٹی جس سے پہلا کالبد ڈھالا گیا تھا اور جس کے سینے میں ساہ لینے کی آرزو نے پہلا شگاف ڈالا تھا میں کوئی ٹھہرا ہوا پانی نہیں ہوں جس میں تم اپنا عکس دیکھ کر مطمئن ہو جاؤ میں تو وہ ریگزار ہوں جو ہر لمحہ اپنی حدیں بدلتا ہے اور جس کے ذرے ہواؤں کے ساتھ ہمکلام ہونے کے لیے اپنے ہی وجود سے بغاوت کرتے ہیں تم مجھے لفظوں کے پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہو؟ مگر یاد رکھو خون کی گردش کا کوئی گرامر نہیں ہوتا اور نہ ہی آنکھوں میں اترنے والے خوابوں کو کسی لغت کی ضرورت ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب بیج زمین کا سینہ چاک کرتا ہے تو کوئی شور نہیں ہوتا مگر ایک کائنات لرز اٹھتی ہے تخلیق کا یہ کرب کسی خاموشی کا نہیں، بلکہ ایک مسلسل پکار کا نام ہے وہ پکار جو مٹی کو گوشت پوست بناتی ہے اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ دھوپ کو مٹھی میں کیسے قید کرتے ہیں اور کیسے اپنی ہی پرچھائی کے تعاقب میں ستاروں کی سرحدیں عبور کی جاتی ہیں میں وہ مسافر ہوں جس نے اپنی منزل کی تلاش میں راستے کے تمام سنگِ میل اکھاڑ دیئے ہیں تاکہ...

خاموشی کا کتبہ

وقت کی پرانی دیوار پر جہاں یادوں کی کائی جمی ہے میں نے اپنا نام لکھا تھا مگر بارشوں نے اسے مٹانے کے بجائے گہرا کر دیا ہے تم پوچھتے ہو کہ میرے لہجے میں یہ تھکن کہاں سے آئی؟ کبھی تم نے اس ندی کو دیکھا ہے جو صدیوں سے پتھروں کا سینہ چیر رہی ہے؟ وہ تھکتی نہیں، بس دھیمی پڑ جاتی ہے جیسے شام کے سائے میں کسی بوڑھے پیڑ کی دعا میرے اندر ایک شہر آباد ہے جس کی گلیوں میں اب کوئی نہیں رہتا صرف دستکیں باقی رہ گئی ہیں جو ہواؤں کے ہاتھ سے میرے بند کواڑوں پر سر پٹختی ہیں محبت کوئی لفظ نہیں تھی جو لغت سے چن کر میں تمہاری نذر کر دیتا محبت تو وہ خالی پن تھا جو تمہارے جانے کے بعد میرے کمرے کی دیواروں نے اوڑھ لیا ہے اب میں اپنی تنہائی کے ملبے پر بیٹھا ان ستاروں کو گنتا ہوں جو ٹوٹنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ٹوٹ کر بکھر جانے کا فن میں نے جی کر سیکھا ہے تم جب بھی آؤ میرا دروازہ کھلا پاؤ گے مگر یاد رکھنا اندر جو انسان تمہیں ملے گا وہ تمہارے حافظے میں موجود اس شخص سے بہت مختلف ہوگا جسے تم نے رستے کے موڑ پر چھوڑا تھا...

گواہی

ہمارے ہاتھ، جن سے ہم دن بھر رزق چنتے ہیں جب رات کی تنہائی میں اپنی پیشانی پہ رکھتے ہیں تو ان کی پوریں، سارے دن کے دکھ پہچان لیتی ہیں #نوریات

تعلق کی آبنائے ہرمز

شاہراہ حیات پر کئی موڑ ایسے بھی آتے ہیں جو آبنائے ہرمز کی مانند بہت مختصر، مگر بہت اہم ہوتے ہیں ایک طرف انا کا سمندر تو دوسری طرف مصلحت کی خلیج اور بیچ میں تعلق کی ناؤ ایسے میں بند راستے کھولنے اور نئے راستے بنانے پڑتے ہیں جذبات کو سفارت کاری سکھانا اور احساسات کو مذاکرات کی میز پر لانا پڑتا ہے #نوریات

آگہی کا لمحہ

سبھی شور تھم گیا ہے دریا کے تلاطم میں ایک ٹھہراؤ ہے اب کوئی تمنا نہیں کہ ساحل ملے یا نہ ملے آگہی کے اس جزیرے پر صرف میں ہوں اور میرا خدا ہے جہاں وقت کی قید ہے نہ یادوں کا بوجھ صرف ایک ابدی لمحہ ہے جو سانس کی ڈور سے بندھا ہوا ہے اور یہی زندگی ہے! #نوریات

سچا احساس

انسانی لب و لہجہ صرف آواز کا اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، یہ تو باطن کے موسموں کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی لہجے میں اتنی تپش ہوتی ہے کہ برسوں کی ہریالی پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہے، اور کبھی کوئی ایک جملہ، کوئی ایک دھیمی پکار، بنجر ہوتے ہوئے وجود میں امید کی کونپلیں پھوٹنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی بنیاد مٹی یا پتھر پر نہیں، بلکہ احساس کی اس ملائم ڈور پر کھڑی ہوتی ہے جو ذرا سی تلخی کی تاب نہیں لا سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کے اس پر آشوب سفر میں ہمیں کسی "لاجواب" کر دینے والے منطقی استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی اس ایک دل آویز مسکراہٹ کی ہوتی ہے جو یہ کہہ سکے کہ "میں تمہاری ان کہی باتوں کا محرم ہوں"۔ احساس کا آنگن تبھی روشن رہتا ہے جب ہم عیبوں پر مصلحت کی چادر تاننے کے بجائے، اپنے اندر کے آئینے کو صاف رکھنے کی جسارت کریں۔ لہجوں میں وہ نمو پیدا کریں جو زخم لگانے کے بجائے مرہم بننا جانتی ہو۔ کیونکہ جب آوازیں تھم جائیں گی اور یادوں کی دھول بیٹھ جائے گی، تو صرف وہی ایک حرفِ معتبر باقی رہ جائے گا جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے نہایت خاموشی سے ادا ...