Skip to main content

Posts

رنگ

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کائنات سے نام چھین لیے جائیں، تو کیا رنگ باقی بچیں گے؟ ہم نے سرخ کو غصے یا محبت کا پیرہن پہنا دیا اور زرد کو خزاں کی تذلیل سونپ دی، لیکن رنگوں کا اپنا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ وہ تو بس روشنی کے وہ مسافر ہیں جو مادے سے ٹکرا کر اپنی تھکن ظاہر کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ رنگ مجھ پر طاری نہیں ہوتے، بلکہ میں ان کے اندر سے گزرتا ہوں۔ جب میں کسی گہرے نیلے سمندر کو دیکھتا ہوں، تو میں پانی کو نہیں دیکھ رہا ہوتا، بلکہ اپنے اندر کی اس وسعت کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہوں جس کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ نیلا رنگ میرے لیے سکون نہیں، بلکہ ایک سوال ہے کہ "تمہاری گہرائی کہاں ختم ہوتی ہے؟" ہم رنگوں کو باہر تلاش کرتے ہیں، جبکہ رنگ ہمارے اندرونی موسموں کے عکس ہیں۔ جس دن میں اندر سے بنجر ہوتا ہوں، ہرا بھرا باغ بھی مجھے کسی پرانے بلیک اینڈ وائٹ اخبار کی مانند لگتا ہے جس کی سرخیاں مٹ چکی ہوں۔ اور جس دن شعور کے کسی گوشے میں کوئی نئی کھڑکی کھلتی ہے، تو کالی رات کی سیاہی میں بھی مجھے روشنی کے ہزاروں مخفی رنگ رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاہ رنگ اندھیرا نہیں ہے، بلکہ وہ تمام رنگوں کی...
Recent posts

ادھورا آہنگ: وہ گیت جو ابھی گایا نہیں گیا

کبھی کبھی آپ کے اندر ایک ایسی دھن گونجتی ہے جس کا کوئی موسیقار نہیں ہوتا۔ یہ وہ گیت نہیں جو ریڈیو پر بجتا ہے یا جسے کسی نے کاغذ پر اتارا ہو۔ یہ ایک بےآواز ارتعاش ہے جو عین اس وقت بیدار ہوتا ہے جب آپ ہجوم کے درمیان بالکل خاموش کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اسے اکثر 'یاد' یا 'اداسی' کا نام دے کر اس کی وسعت کو محدود کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان امکانات کی دستک ہے جو ابھی وجود میں نہیں آئے۔ یہ دھن ان رستوں کا نقشہ ہے جن پر ہم کبھی چلے نہیں، اور ان لفظوں کا استعارہ ہے جو ہماری زبانوں پر آ کر مکر گئے۔ ہم سب کے اندر ایک ایسی ہی نامکمل تال چل رہی ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ہم جو کچھ 'ہیں'، اس سے کہیں زیادہ وہ ہیں جو ہم 'ہو سکتے تھے'۔ حیرت یہ ہے کہ یہ دھن ہمیں بے چین نہیں کرتی، بلکہ ایک عجیب سا سکون دیتی ہے ۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی پرانی لائبریری میں رکھی ان کتابوں کی خوشبو، جنہیں کبھی کھولا نہ گیا ہو۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات محض مادے کا ڈھیر نہیں، بلکہ ایک وسیع گونج ہے جس کا ایک سرا ہمارے دل کی دھڑکن سے جڑا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب آپ اکیلے ...

حیرت کا منشور

تمہیں کیوں کر لگا! کہ رنگ پیراہنِ گل کے ہیں؟ یا یہ قوسِ قزح جو آسماں پر تان دی گئی ہے فقط اک اتفاقی عکس ہے؟ ذرا ٹھہرو! بصارت کی حدوں سے پار جھانکو تو خبر ہو گی۔۔۔ کہ یہ جتنا تماشا ہے، تمہارے ہی سبب سے ہے تمہارے چشمِ حیراں میں چھپا منشور ایسا ہے جو بے رنگ روشنی کو بانٹ دیتا ہے ہزاروں زاویوں میں، ان گنت احساسِ رنگیں میں! اگر تم کالی راتوں کے کسی اندھے کنویں میں ہو جہاں ذروں کی جنبش بھی دکھائی دے نہیں پاتی تو وہ تاریکی بھی تو اک رنگ ہے تمہاری وسعتِ جاں کا! وہ نیلاہٹ، جو تم بادل کے پیچھے ڈھونڈتے پھرتے ہو تمہارے خواب کی گہرائیوں سے مستعاری ہے اور وہ سرخی۔۔۔ جو تم نے اضطرابِ موجِ خوں کو سونپ رکھی ہے وہ مٹی کی نہیں، اس آگ کی اک لہر ہے جو تمہارے حرفِ حق میں ڈھل نہیں پائی! عجب ہے یہ طلسمِ رنگ و بو بھی کہ ہم خود رنگوں کا منبع ہیں مگر باہر کی اشیاء میں یہ حیرت ڈھونڈتے ہیں کبھی سوچا؟ اگر تم ہی نہ ہو گے، تو ہری شاخوں کی ہریالی کسی بے معنی گونگے پن کا حصہ بن کے رہ جائے نہیں ہے رنگ مادہ ۔۔۔ رنگ تو اک گفتگو ہے! روشنی اور تمہارے لمسِ باطن کا اگر تم اپنے اندر جھانک کر دیکھو تو خود کو ایک ایسی روشنی پاؤ ...

ترلائی کے شہیدوں کے نام

 اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی فضا کل ایک ایسے زخم سے چور ہوئی جس کی ٹیسیں پوری قوم کے دل میں محسوس کی جا رہی ہیں۔ ایک مقدس جگہ، عبادت کا وقت اور معصوم انسان ۔۔۔۔ جنہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ محو عبادت تھے اور آسان ٹارگٹ تھے۔ یہ محض ایک دھماکہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت، امن اور ہماری مشترکہ قدروں پر بزدلانہ وار تھا۔ جب ہم ان گھروں کا تصور کرتے ہیں جہاں کل شام چراغ نہیں جلے، جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر تھیں اور بچے اپنے باپ کی دستک سننے کو بے قرار تھے، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ترلائی کی اس مسجد کی در و دیوار نے جو منظر دیکھا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جائے نماز پر بکھرا خون اور فضا میں پھیلی آہیں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی انسانیت۔ وہ صرف خوف بانٹنا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دکھ کی یہ گھڑی ہمیں توڑنے کے بجائے مزید جوڑ دیتی ہے۔ ایسے سانحات پر صرف آنسو بہانا کافی نہیں۔ یہ وقت ہے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا اور اس عزم کو دہرانے کا کہ ہم نفرت کی اس آگ کو اپنے اتحاد کی شبنم سے ٹھنڈا کریں گے۔ ہمیں مسلکوں، فرقوں ا...

خاندانی تصویری البم

  پرانی تصویروں کی وہ بوسیدہ البم، جو الماری کے کسی اندھیرے گوشے میں دبے ہوئے 'خاندانی راز' کی طرح پڑی ہوتی ہے، دراصل ایک ایسی پٹاری ہے جسے کھولتے ہی ماضی کی روحیں چیخ و پکار شروع کر دیتی ہیں۔ آج کے دور میں جہاں سمارٹ فون کی گیلری میں ہزاروں تصویریں 'کلاؤڈ' پر تیر رہی ہیں، اس پرانی البم کی حیثیت اس ریٹائرڈ بزرگ جیسی ہے جو گھر کے کونے میں بیٹھا خاموشی سے نئی نسل کی بے راہ روی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس البم کو کھولنے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنے خلاف گواہیاں اکٹھی کرنے کا رسک لے لیا ہے۔ پہلا صفحہ الٹتے ہی جو پہلی تصویر سامنے آتی ہے، وہ عام طور پر کسی ایسی 'تقریبِ سعید' کی ہوتی ہے جس میں آپ کے ابا جی نے کلف لگی شلوار قمیض پہن رکھی ہوتی ہے اور ان کے بالوں کا سٹائل دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حجام کے پاس صرف ایک ہی ڈیزائن  ہوتا تھا، اور وہ تھا 'کٹورا کٹ'۔ ابا جی کی اس تصویر میں جو رعب اور دبدبہ نظر آتا ہے، وہ آج کے 'فلٹرز' اور 'ایڈٹنگ' کے دور میں ناپید ہے۔ اس وقت کی کیمرہ مین کی ہدایات بھی بڑی جابرانہ ہوتی تھیں۔ "ہلئے گا مت"، ...

سانس کی لہر

سانس لینا محض پھیپھڑوں کی ایک میکانکی حرکت نہیں، بلکہ کائنات کے ساتھ ہمارا وہ خفیہ معاہدہ ہے جو ہر لمحہ تجدید مانگتا ہے۔ ہم ایک ایسے سمندر کی تہہ میں رہتے ہیں جس کا پانی نظر نہیں آتا، مگر ہمہ وقت ہمیں اپنی آغوش میں لیے رکھتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم سانس اندر کھینچتے ہیں، تو ہم دراصل باہر کی کائنات کو اپنے وجود کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں؟ اور جب ہم اسے باہر نکالتے ہیں، تو اپنے وجود کا ایک حصہ کائنات کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ لین دین اتنا خاموش اور خودکار ہے کہ ہم اس کے اعجاز سے غافل ہو چکے ہیں۔ غور کریں تو ہر سانس ایک خود مختار 'موت' اور 'زندگی' کا مجموعہ ہے۔ ایک لمحے کے لیے ہوا کا رک جانا ہمیں عدم کی سرحد پر کھڑا کر دیتا ہے، اور اگلا ہی لمحہ ہمیں دوبارہ ہستی کے دربار میں لا بٹھاتا ہے۔ یہ ایک مسلسل دستک ہے جو ہمارے سینے کے اندر بجتی رہتی ہے، مگر ہم اسے تبھی سنتے ہیں جب یہ تھمنے لگتی ہے۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس ہوا کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرتے جو ہماری رگوں میں زندگی کا رقص جاری رکھتی ہے، پھر بھی ہم خود کو زندگی کا 'مالک' سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہ...