Skip to main content

Posts

چھوٹا آدمی ۔ بڑا آدمی

  کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم مل...
Recent posts

آسانیاں

ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔ آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔ #نوریات

سفرہی زندگی ہے

سفر کی سچائی قدموں کی تھکن میں نہیں، بلکہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں چھپی ہوتی ہے جو ہمارے اندر جنم لیتا ہے۔ ہم منزل کو مرکزِ نگاہ بنا لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاؤں تلے کچلی جانے والی مٹی، راستے میں ملنے والے اجنبی چہرے اور وہ پگڈنڈیاں جو اچانک ختم ہو گئیں، دراصل ہمیں نئے سرے سے تخلیق کر رہی تھیں۔ جس طرح دریا کا مقصد صرف سمندر میں گرنا نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بننے والی لہروں، اٹھنے والے تھپیڑوں اور کنارے کی ریت سے مکالمہ کرنا ہے، اسی طرح انسانی جستجو بھی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر آپ منزل تک نہیں پہنچ جائے تو بھی سفر ضائع نہیں ہوا۔ منزل تک نہ پہنچنا بھی دراصل ایک خاموش اشارہ ہے کہ آپ کا ظرف ابھی کچھ اور ان کہی سچائیوں کا منتظر ہے۔ راستہ جب اپنی طوالت سے ہمیں تھکاتا ہے، تو وہ دراصل ہماری انا کے فالتو بوجھ کو جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم جب گھر سے نکلتے ہیں تو کوئی اور ہوتے ہیں، اور جب کسی ناکام موڑ پر رکتے ہیں، تو ہماری آنکھوں میں وہ چمک ہوتی ہے جو صرف وہی پا سکتا ہے جس نے دھوپ اور دھول سے دوستی کی ہو۔ کون کہتا ہے کہ حاصل ہی سب کچھ ہے؟ کبھی کبھی نارسائی ہی ہمیں بے کراں وسعتوں سے آشنا...

ادھورا پن

یہی جانا ہے سانسوں کےسفر میں کہ کوئی راستہ بے سود کب ہے؟ رسائی ہو نہ ہو، لیکن تھکن بھی ہمیں جینے کا فن سکھلا رہی ہے مسافت در مسافت جستجو ہے کتابِ زیست کے ہر اک ورق پر نیا اک رنگ بھرتی جا رہی ہے ادھورا پن ہی شاید زندگی ہے! #نوریات

گنے کے رس سے سوڈا واٹر تک

  پنجاب کے دیہی و شہری معاشرت میں ہونے والے تغیرات کی کہانی محض چند برسوں کا قصہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کے ڈھلنے اور دوسری کے ابھرنے کی داستان ہے۔ ایک وہ دور تھا جب اس خطے کی پہچان مادیت پرستی نہیں بلکہ وہ خالص پن تھا جو یہاں کے رسم و رواج، خوراک اور باہمی تعلقات سے چھلکتا تھا۔ اس زمانے میں بناسپتی گھی یا ڈالڈا کا گھر میں آنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی۔ شادی بیاہ کے مواقع پر اگر کسی میزبان نے غلطی سے بھی ڈالڈا گھی کے پکوان پیش کر دیے تو یہ بات پورے علاقے میں تذکرے کا باعث بنتی اور بعض من چلے تو اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے کھانے کا بائیکاٹ کر کے اٹھ جاتے۔ دیسی گھی اس وقت محض چکنائی کا ذریعہ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، تمکنت اور اعلیٰ سماجی مرتبے کی علامت تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس خالص پن پر جدیدیت کے سائے لہرانے لگے۔ پہلے پنجاب کا سب سے بہترین اور مقبول ترین مشروب گنے کا تازہ رس ہوتا تھا۔ دیہاتوں میں جب گنے کی کٹائی کا سیزن شروع ہوتا تو کھیتوں کے قریب نصب ویلنے (گنا پیلنے والی مشین) ایک سماجی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتے تھے۔ بیلوں کی جوڑی جب ایک مخصوص تال کے ساتھ دائروں میں گھومتی ا...

افریقی ڈھول

  کائنات کی پہلی آواز کیا تھی؟ شاید کسی ستارے کے ٹوٹنے کی گونج، یا پہلی بارش کے قطرے کی زمین سے ہم آغوشی۔ مگر انسانی تہذیب کی پہلی آواز یقیناً دھڑکنا تھی۔ ماں کے پیٹ میں بچے نے موسیقی کا پہلا سبق اس کے دل کی دھڑکن سے سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان نے ہوش سنبھالا، تو اس نے کائنات کے اس تال ( Rhythm ) کو نقل کرنے کی کوشش کی۔ کہیں بانس کی پوروں میں سوراخ کر کے ہوا کو قید کیا گیا، تو کہیں لکڑی کے کھوکھلے تنے پر جانور کی کھال منڈھ کر ایک ایسی صدا پیدا کی گئی جس نے صدیوں تک انسانی روح کو تڑپائے رکھا۔ موسیقی محض سروں کا مجموعہ نہیں ہے، یہ کسی بھی قوم کا وہ شناختی کارڈ ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ آپ جاپان کے کوتو ( Koto ) کی تاروں کو چھیڑیں تو آپ کو وہاں کی برف پوش چوٹیوں کی خاموشی محسوس ہوگی۔ آپ سپین کے فلیمنگو گٹار کی تپش سنیں تو اندلس کی تاریخ کا جلال اور جمال آنکھوں میں رقص کرنے لگے گا۔ لیکن صاحب! اگر آپ نے زندگی کے اصل جوہر، اس کی کچی سچائی اور کائنات کی قدیم ترین نبض کو محسوس کرنا ہے، تو کبھی افریقہ کے جنگلوں، صحراؤں اور بستیوں سے اٹھنے والے ان ڈھولوں کی آواز سنیں، جو زمین...

عکس کے قیدی