Skip to main content

Posts

آئنہ خانہ و انا

میں اس کائنات کے عظیم آئنہ خانے میں کھڑا خود کو تلاش کر رہا ہوں، مگر یہاں ہر عکس مجھے میرا ہونے کا دھوکا تو دیتا ہے، میرا ثبوت نہیں بنتا۔ کہیں میں ہوں، اور کہیں صرف میرا گمان ہے۔ یہ جو میرے وجود پر شکست و ریخت کے سلگتے ہوئے نشان ہیں، یہ اس قربت کا نتیجہ ہیں جو میں نے اس 'حقیقتِ مطلق' سے چاہی تھی جس کے قریب جاتے ہی انسان خاک ہو جاتا ہے۔ عجیب تماشہ ہے کہ میں شک اور گمان کے بے شمار جنگلوں سے گزر کر، لفظوں کی صورت میں یقین کی تختی پر کچھ تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر قلم کی جنبش سے پہلے ہی مٹی کی بو پکارتی ہے کہ "تم کچھ بھی نہیں"۔ وجود اور عدم کے اس عالمِ نابود میں ایک طرف میری اپنی انا کا شور ہے جو کہتا ہے "میں ہوں"، اور دوسری طرف کائنات کا سکوت ہے جو پکارتا ہے "نہیں، تم محض ایک سایہ ہو"۔ میں اپنی جبیں پر نیاز اور آرزو کے سجدے لیے ایک ایسے در کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں جو شاید ابھی بنا ہی نہیں، یا شاید وہ در میری اپنی ہی ذات کے کسی بند گوشے میں چھپا ہے۔ میں وہ مسافر ہوں جو اپنی منزل کا نقشہ خود اپنے لہو سے بنا رہا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس آئنہ خان...
Recent posts

ایک مسکراہٹ، ایک فتح

 

ادھوری دستک

چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ کھڑکی کے باہر پھیلی ہوئی مٹیالی دھند میں جذب ہو رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک کسی لوہار کے ہتھوڑے کی طرح اعصاب پر ضرب لگا رہی تھی۔ مرتضیٰ نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی اور سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص کو دیکھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے سگریٹ کے دھوئیں سے ہوا میں غیر مرئی اور الجھی ہوئی لکیریں کھینچ رہا تھا۔ "تمہارا مسئلہ یہ ہے ارسلان، کہ تم ہر بند کواڑ کو ایک چیلنج سمجھتے ہو،" مرتضیٰ نے بالآخر اس سکوت کو توڑا جو کمرے میں کسی بن بلائے مہمان کی طرح ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ اس کا لہجہ دھیما تھا، جیسے وہ خود سے کلام کر رہا ہو۔ ارسلان نے سگریٹ راکھ دانی میں مسل دی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی، وہ تھکن جو میلوں کا سفر کرنے سے نہیں، بلکہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر انتظار کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ "چیلنج نہیں مرتضیٰ، ایک وہم۔ تمہیں پتہ ہے، جب میں اس گلی سے گزرتا ہوں اور وہ پرانا نیلا دروازہ دیکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سانس لے رہا ہے۔ کوئی ہے جو شاید میری آہٹ...

گمان کی دہلیز سے عمل کے افق تک

ہم نے عمر کا سارا اثاثہ اس گمان کی نذر کر دیا، جو کسی بند کواڑ کے پیچھے صرف ایک وہم کی دستک بن کر رہ گیا تھا ہمیں لگا تھا کہ ہر بند دروازہ کھلنے کے لیے ہے مگر کچھ کواڑ تو دیوار کا خلا بھرنے کے لیے ہوتے ہیں جن کے پیچھے مکان نہیں، وقت کی گرد میں اٹی ہوئی خاموش چٹانیں ہوتی ہیں اور چٹان کی اذیت کا ادراک انہیں کیسے ہو جن کی زیست ہمیشہ آسمانوں کے سرد جذبوں میں گزری ہو! اے سائیں! اس دستک اور گمان کے درمیانی فاصلے میں بدن کی آنچ پر رکھے ہوئے وہ سب خواب پگھل گئے جو ہم نے ریشمی پردوں کے پیچھے بیٹھ کر بنے تھے ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کہ کب ہماری انا کی فرعونیت عجز کے دائمی سمندر میں غرق ہو گئی اور کب ہم نے ہواؤں کی پرانی روش پر چلتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا دیا بجھا لیا! اب جب کہ زیست کی کمان سے ہاتھ چھوٹ چکا ہے اور لہریں ساحل کی ٹھوکر کھا کر ہوش میں آ رہی ہیں تو یہ انکشاف ہوا ہے کہ خالی مکانوں میں یادوں کے آسیب نہیں بلکہ ہمارے اپنے بے کار جذبوں کی سسکیاں بستی ہیں وہ جذبے جو عمل کی توفیق نہ پا کر بوجھ بن گئے اور اب ہمارے خون میں کسی موروثی دکھ کی طرح سفر کرتے ہیں پس اے مرے سائیں! مری ان مصروف اور م...

بوجھ سے رہائی

معافی کا لفظ جب کسی کی زبان سے ادا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنی انا کا بوجھ آپ کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔ اس لمحے ہمارا دل اکثر ایک منصف بن کر یہ تولنے لگتا ہے کہ اس کے لفظوں میں سچ کتنا ہے اور دکھاوا کتنا؟ ہم سامنے والے کے ماتھے کی شکنوں میں شرمندگی تلاش کرتے ہیں، جیسے کوئی ادھوری تحریر میں چھپے ہوئے معنی ڈھونڈ رہا ہو۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ کسی کے سینے کے اندر جھانکنے کا ہنر انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔ جب کوئی آپ سے اپنے عمل کی معذرت کر لے، تو اس کی نیت کی تلاشی لینا آپ کا کام نہیں۔ معاف کر دینا دراصل دوسرے پر احسان نہیں، بلکہ اپنے آپ کو اس ذہنی قید سے نکالنا ہے جو غصے اور بدلے کی صورت میں ہمیں جکڑے رکھتی ہے۔ جب ہم کسی کے کہے ہوئے "معذرت" کے لفظ کو قبول کر لیتے ہیں، تو ہم دراصل زندگی کے ایک الجھے ہوئے باب کو بند کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ کتنا سچا ہے، کیونکہ دلوں کے حال پر اس کی حکمرانی ہے جو شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ راستے کے کچھ پتھر ہٹا دینے ہی میں عافیت ہوتی ہے، ورنہ ٹھوکر کا ڈر ہمیشہ پیچھا کرتا رہتا ہے۔ کسی کو معاف کر کے آگے بڑھ جانا اس لیے ضروری ہے تا...

ادھورا ناشتہ

میز پر رکھے ہوئے دو پیالے اب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے چائے کی بھاپ میں اب وہ دھندلے چہرے نظر نہیں آتے جو کبھی ہنستے ہوئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنا عکس ڈھونڈتے تھے میں نے آج پھر کچی روٹی کا وہ ٹکڑا توڑ کر پلیٹ کے کونے میں رکھ دیا ہے جیسے کوئی پرانی عادت کسی نئے دکھ کی دہلیز پر دم توڑ رہی ہو کھڑکی کے باہر وہی بوڑھا پودا اب بھی کھڑا ہے جس کی شاخیں اب دیوار کے اندر جھکنے لگی ہیں شاید وہ ان سرگوشیوں کو سننا چاہتا ہے جو ہم نے برسوں پہلے خاموشی کے نام کر دی تھیں تم نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا مگر تم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وقت گزرنے کے بعد جو خالی کمرے رہ جاتے ہیں ان کی دیواریں اتنی تنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟ آج میں نے الماری سے تمہارا وہ پرانا سویٹر نکالا ہے جس کے دھاگے اب جگہ جگہ سے ادھڑ رہے ہیں میں نے اسے پہننے کی کوشش کی مگر وہ مجھے بہت چھوٹا لگا شاید میں بڑا ہو گیا ہوں یا شاید میرا دکھ اب اتنا پھیل چکا ہے کہ تمہاری یادوں کا کوئی بھی پیراہن میرے وجود کو ڈھانپ نہیں سکتا باہر گلی میں بچوں کے شور میں اب وہ کھنک نہیں رہی یا شاید میرے کانوں میں اس تغافل کی کرچیاں چبھ گئی ہ...

ادھورا کینوس

کمرے کے کونے میں رکھی وہ پرانی میز اب بھی اسی طرح ڈگمگاتی تھی جیسے برسوں پہلے جب اس پر پہلی بار سیاہی گری تھی۔ حامد نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں بستی کی شام کسی میلے کچیلے کپڑے کی طرح لٹک رہی تھی۔ پرندے خاموشی سے اپنے گھونسلوں کی طرف جا رہے تھے، مگر ان کی پرواز میں وہ تیزی نہیں تھی جو کسی خوشخبری کے لانے والے میں ہوتی ہے۔ حامد کی انگلیاں میز پر پڑے ایک خالی کاغذ کو سہلا رہی تھیں۔ یہ کاغذ پچھلے کئی دنوں سے اسی طرح سفید اور بے جان پڑا تھا۔ اسے یاد آیا کہ کبھی اس کے پاس لفظوں کا ایک لامتناہی ذخیرہ ہوتا تھا، جو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی مٹی کی خوشبو کی طرح مہک اٹھتا تھا۔ اب تو یہ حال تھا کہ ایک جملہ لکھنے کے لیے بھی اسے یادوں کے ملبے میں گہرا اترنا پڑتا۔ "چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے،" زینب کی آواز کچن سے آئی۔ زینب، جو پچھلے بیس سالوں سے حامد کے سکوت اور اس کی تحریروں کے درمیان ایک پل بنی رہی تھی، اب خود بھی ایک خاموش تصویر کی طرح لگتی تھی۔ حامد نے پیالی اٹھائی۔ چائے کی کڑواہٹ اس کے حلق میں اتری تو اسے محسوس ہوا کہ یہ کڑواہٹ چائے کی نہیں، بلکہ ان کہی باتوں کی ہے جو ان دونوں کے درمیان ایک...