کبھی آپ نے غور کیا ہےکہ ہم زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے ہزاروں چہروں کو دیکھتے ہیں، بہت سوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، کچھ کے ساتھ طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، اور پھر کسی موڑ پر رک کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ایسی تھیں جن کے بعد روح میں ایک عجیب سی خنکی، ایک تسکین اور ایک ناقابل بیان ٹھہراؤ اتر آیا، جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر نے طویل سفر کے بعد بوجھل کندھوں سے گٹھڑی اتار دی ہو۔ اس کے برعکس، کچھ ملاقاتیں ایسی بھی رہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ بوجھل، اداس اور خالی کرجاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، یہ انسانی نفسیات اور روحانی کیمیا کا ایک پیچیدہ سا نچوڑ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جن لوگوں سے مل کر ہمیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ہمارے وجود کے لیے ’آئینہ‘ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہمیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم جیسے ہیں، جس حال میں ہیں، وہ ہمیں اسی طرح قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں محض الفاظ کے تبادلے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ایک ہم آہنگ خاموشی میں بیٹھ جانا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کے سامنے ہوتے ہیں جس کے دل میں آپ کے لی...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی