رمضان المبارک کا چاند ابھی افق پر نمودار نہیں ہوتا کہ ہمارے واٹس ایپ کی "ڈیجیٹل خانقاہوں" میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس جو سارا سال کسی متروکہ حویلی کی طرح سائیں سائیں کرتے ہیں اور جن میں آخری میسج پچھلی عید پر کسی دور کے کزن نے "خیر مبارک" کا بھیجا تھا، اچانک مردہ خانہ سے نکل کر میدانِ جنگ بن جاتے ہیں۔ جیسے ہی رویتِ ہلال کمیٹی کے مولانا صاحب دوربین سے چاند برآمد کرتے ہیں، ادھر واٹس ایپ پر مبارک بادوں کا ایسا ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے کہ بندے کا فون تھرتھرا کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ یہ گروپس دراصل ہماری سماجی زندگی کا وہ نچوڑ ہیں جہاں عبادت، عقیدت اور خالص دیسی مزاح کا ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوتا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی لیبارٹری میں نہیں ملتی۔ رمضان میں ان گروپس کا سب سے خطرناک کردار وہ "سحری بیدار فورس" ہوتی ہے جنہیں اللہ نے شاید نیند کی نعمت سے محروم کر کے دوسروں کی نیندیں حرام کرنے پر مامور کیا ہوتا ہے۔ ابھی سحری میں دو گھنٹے باقی ہوتے ہیں کہ گروپ میں "اٹھو مومنو سحری کا وقت ہوا چاہتا ہے" کے دیدہ زیب پوسٹرز کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ ان پوس...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی