Skip to main content

Posts

عکس کا قیدی اور خالی آئینے

 عکس کا قیدی اور خالی آئینے انسانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے خود کو دریافت کرنے کے بجائے خود کو ایجاد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسی بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ لیے کھڑا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھ رہا، بلکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ دوسرے اس کے آئینے میں کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور انفرادی سکون کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بچپن میں ہم سب نے وہ کہانی سنی تھی کہ ایک بادشاہ کے پاس ایسا لباس تھا جو صرف اس کے وزیروں اور مشیروں کو نظر آتا تھا۔ آج ہم سب اسی بادشاہ کی طرح ڈیجیٹل اور سماجی ساکھ کا وہ نادیدہ لباس پہن کر گھوم رہے ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں، مگر ہم اس کے معیار اور استر پر دن رات بحث کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو ایک کینوس سمجھنے کے بجائے ایک شو کیس سمجھ لیا ہے۔ سماجی تضاد کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ہماری محفلیں اب مکالمے کے لیے نہیں بلکہ منظر کشی کے لیے سجتی ہیں۔ دسترخوان پر رکھا ہوا کھانا اب پیٹ کی بھوک مٹانے سے پہلے کیمرے کی آنکھ کی پیاس بجھاتا ہے۔ ہم ذائقے سے مح...
Recent posts

کرائے کا مسافر

ہم سب نے اپنے اندر ایک ایسا کمرہ بنا رکھا ہے جس کا کرایہ ہم اپنی بہترین صلاحیتوں اور خوابوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، مگر وہاں قیام کبھی نہیں کرتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس کمرے کو سنوارنے میں عمر گزار دیتے ہیں؛ دیواروں پر اپنی پسند کے رنگ سجاتے ہیں، کھڑکیوں پر اُمید کے پردے لٹکاتے ہیں اور فرش پر گزرے ہوئے کل کی نرم قالین بچھاتے ہیں، لیکن خود ہمیشہ دہلیز پر کھڑے رہ کر اندر کی ترتیب کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے کبھی آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنی زندگی کے اصل لمحات میں موجود کیوں نہیں ہوتے؟ جب ہم ہنس رہے ہوتے ہیں تو ہمارا ایک حصہ اس ہنسی کے ختم ہونے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے، اور جب ہم روتے ہیں تو ہم یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا۔ مجھے کیوں ایسے لگتا ہے اصل زندگی وہ نہیں جو ہم جی رہے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم جینا بھول گئے ہیں۔ وہ جو کسی پرانی کتاب کے دو صفحات کے درمیان دبی ہوئی خشک پتی کی طرح خاموش ہے، مگر جس کی خوشبو آج بھی ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آئے گا اور ہمیں ہمارے ہی گھر کا راستہ دکھائے گا، جبکہ چابی ہمیشہ سے ہماری اپنی جیب میں موجود ہے...

خواب در خواب

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک خواب سے جاگتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے خواب کی گرفت میں ہیں۔ کیا شعور کی اس تہہ در تہہ بستی میں ہماری آنکھوں میں پلنے والے یہ خواب بھی اپنی کوئی الگ اور خودمختار زندگی رکھتے ہیں؟ کیا وہ بھی ہماری طرح تھک کر کسی سائبان کی تلاش میں رہتے ہوں گے؟ میں کچھ الگ ہی سوچتا ہوں اور گمان رکھتا ہوں کہ خواب محض تصویریں نہیں، بلکہ وہ وجود ہیں جو ہمارے لاشعور کے لمس سے جنم لیتے ہیں۔ جب ہم جاگ جاتے ہیں، تو وہ خواب مرتے نہیں بلکہ ہجرت کر جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی کسی ایسی کائنات کی تمنا کرتے ہوں جہاں انہیں ادھورا نہ چھوڑا جاتا ہو۔ جہاں کوئی سائرن، کوئی الارم یا کوئی مادی ضرورت ان کا گلا نہ گھونٹتی ہو۔ وہ خواب جو ہم ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، شاید اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لیے خود بھی خواب دیکھتے ہوں گے۔ ایک ایسے انسان کا خواب جو انہیں مکمل کر سکے۔ ہم خواب کو اپنے شعور یا لاشعور کی تخلیق سمجھتے ہیں، لیکن کیا عجب کہ ہم خود کسی بڑے خواب کے ہجرتی پرندے ہوں؟ ہم زندگی بھر جن تمناؤں کے پیچھے بھاگتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ ہمیں نہیں بلکہ ہم انہیں خواب میں دکھائی دے رہے ہوں۔ یہ جو ہ...

پہلی گواہی

رات کے آخری پہر جب نیند اور بیداری کی سرحدیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتی ہیں، کائنات ایک عجیب سے سکوت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اچانک ہوا کے دوش پر ایک باریک سا ارتعاش لہراتا ہے۔۔ ایک چڑیا کی پہلی چہچہاہٹ۔ یہ محض پرندے کی آواز نہیں، بلکہ عدم کے سناٹے میں وجود کا پہلا دستخط ہے۔ ہم انسان، جو روشنی کو سورج کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں، شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دن کا آغاز بصارت سے نہیں بلکہ سماعت سے ہوتا ہے۔ چڑیوں کا یہ شور، جسے ہم صبح کی سلامی کہ سکتے ہیں، دراصل کائنات کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو منطق کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ننھی جانیں کسی معاوضے یا ستائش کی طلب گار نہیں ہوتیں۔ ان کا گیت کسی اسٹیج کا محتاج نہیں۔ وہ تو بس اس لیے گاتی ہیں کہ وہ "ہیں۔" ان کی چہچہاہٹ میں ایک عجیب سی بے نیازی چھپی ہوتی ہے۔ وہ کل کے مہیب اندھیرے کا نوحہ نہیں پڑھتیں اور نہ ہی آنے والے طوفانوں کا حساب لگاتی ہیں۔ وہ تو صرف اس ایک لمحے کو، جو ان کی مٹھی میں ہے، اپنی آواز سے بھر دیتی ہیں اور خاموشی کے سینے پر نغمے کاڑھتی ہیں۔ کبھی سوچیے گا کہ کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسا نغمہ ہے جو کسی غرض، کسی صلے اور کسی خو...

ٹریکف اور ہماری انا

 

شہر کی ٹریفک اور ہماری انا

روز جب ماہ رمضان میں شام کو  سورج  مغرب میں غروب ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ایک ایسا "کاک ٹیل" تیار ہوتا ہے جس میں بارود کی بو، پٹرول کا دھواں اور انسانی انا کا غبار برابر مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک کا وہ آخری پہر ہے جب نیکیوں کا گراف بلند ہو رہا ہوتا ہے اور بلڈ پریشر کا پارہ آسمان چھو رہا ہوتا ہے۔ آپ گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے ہوں یا موٹر سائیکل کے ہینڈل تھامے ہوں، آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سڑک پر نہیں بلکہ کسی قدیم رومی اکھاڑے  میں موجود ہیں جہاں ہر دوسرا ڈرائیور آپ کا حریف ہے اور ہر لال بتی ایک ذاتی توہین۔ رمضان کے ان مبارک دنوں میں، جب صبر کی مشق ہونی چاہیے تھی، ہماری انا ہائی وے پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ عجب تماشا ہے کہ جس پیٹ کو ہم نے اللہ کی رضا کے لیے خالی رکھا، اسی پیٹ میں جانے والی افطاری کے لیے ہم دوسرے کا راستہ کاٹتے، گالیاں دیتے اور قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ رمضان کی ٹریفک کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے بعد ہر ڈرائیور خود کو "فارمولا ون...

بلندیوں کے پہرے دار اور ہمارے عہد کا اضطراب

اسلام آباد کی صبح جب اپنے گداز ہاتھوں سے مارگلہ کے ماتھے پر جمی دھند کو ہٹاتی ہے، تو فضا میں ایک ایسی خوشبو بیدار ہوتی ہے جو نہ تو مٹی کی ہوتی ہے اور نہ ہی پھولوں کی۔ یہ خوشبو خاموشی کی ہوتی ہے۔۔۔ وہ خاموشی جو صرف ان کو سنائی دیتی ہے جو شہر کے ہنگاموں کی گرد جھاڑ کر ان پگڈنڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ مارگلہ کی ٹریل فائیو پر پہلا قدم رکھتے ہی انسان ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وقت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے اور مادی وجود کی گھڑیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ یہ ٹریل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ ایک خود شناس سفر ہے۔ جوں جوں بلندی کی طرف قدم بڑھتے ہیں، پھیپھڑوں میں اترنے والی تازہ ہوا روح کے ان گوشوں کو چھوتی ہے جنہیں ہم نے سیمنٹ اور سریے کے جنگلوں میں کہیں گم کر دیا تھا۔ پاؤں تلے چرچرانے والے خشک پتے اور راستے میں پڑے وہ قدیم پتھر، جن پر وقت نے اپنی جھریاں لکھ دی ہیں، آپ سے کلام کرنے لگتے ہیں۔ یہ پتھر ساکت نہیں ہیں؛ یہ صدیوں کے شاہد ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے مسافروں کے پیروں کی چاپ سنی اور انہیں خاموشی سے گزرتے دیکھا۔ ان پتھروں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔۔ایک ایسی گہرائی جہاں انس...