ہم عموماً درختوں کو ان کے پھیلاؤ، پھلوں یا سائے سے ناپتے ہیں، لیکن ان کی اصل کائنات تو زمین کے نیچے اس تاریک خاموشی میں ہے جہاں جڑیں بستی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جڑیں زمین کی تہوں میں چھپی ان سب باتوں کی امین ہوں گی جنہیں ہم نے دفن کر دیا تھا؟ یہ صرف پانی کی تلاش میں زمین کا سینہ نہیں چیرتیں، بلکہ یہ مٹی کے سینے میں محفوظ قدیم انسانی تہذیبوں کی آہٹیں سنتی ہیں۔ پرانے درختوں کی جڑیں دراصل زمین کا اعصابی نظام ہی ہیں۔ جب ہم اوپر کی دنیا میں نئے شہر بساتے ہیں، پرانی دیواریں گراتے ہیں یا کوئی راز خاک برد کرتے ہیں، تو یہ جڑیں ان سب کو چھو کر گزرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ صدیوں پہلے اس زمین پر چلنے والے کے پاؤں کی چاپ کیسی تھی اور اس نے کس دکھ میں تڑپ کر مٹی پر ہاتھ مارا تھا۔ وہ صرف لکڑی کا ریشہ نہیں، وہ وقت کی وہ ڈوریاں ہیں جنہوں نے زمین کے ماضی کو حال سے سی رکھا ہے۔ کبھی کبھی کسی قدیم برگد کے پاس بیٹھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموش نہیں ہیں، بلکہ وہ مٹی کے ذرات سے وہ کہانیاں کشید کر رہی ہیں جو ہواؤں نے بھلا دیں۔ شاید وہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بقا کا راز بلندی میں نہیں، ب...