رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے ...
رنگوں کی کائنات محض بصارت کا دھوکا نہیں، بلکہ یہ روح کے نہاں خانوں میں اتر جانے والی وہ خاموش زبان ہے جو لفظوں کے سہارے کے بغیر دل کا حال کہہ دیتی ہے۔ کائنات کے کینوس پر بکھرا ہوا ہر رنگ اپنی ایک الگ تاثیر، اپنی ایک الگ داستان اور اپنا ایک منفرد نفسیاتی پس منظر رکھتا ہے۔ جب ہم قدرت کی صناعی پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اس دنیا کو صرف کالا اور سفید نہیں بنایا، بلکہ اسے قوسِ قزح کے رنگوں سے سجا کر انسانی فطرت کے تضادات اور میلانات کی تسکین کا سامان کیا ہے۔ رنگوں کا انسانی موڈ اور نفسیات پر اثر محض کوئی شاعرانہ تخیل یا مفروضہ نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی سائنسی تحقیقات اور نفسیاتی تجربات نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ رنگ ہمارے عصبی نظام، ہمارے فیصلوں اور یہاں تک کہ ہمارے خون کے دباؤ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انسان کا رنگوں کے ساتھ تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود شعورِ انسانی۔ قدیم تہذیبوں میں رنگوں کو علاج معالجے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جہاں نیلا رنگ سکون کے لیے اور سرخ رنگ توانائی کی بحالی کے لیے مخصوص تھا۔ آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی اور...