Skip to main content

Posts

مٹی سے ماورا مسافت

کاش شعور کی یہ حدیں کسی ایسے 'وفور' میں ڈھل جائیں جہاں بصارت کا بوجھ آنکھوں کے نور سے آزاد ہو جائے، اور میں لفظوں کے ظاہری پیکر سے نکل کر ان معانی تک جا سکوں جو صرف 'بین السطور' کی خاموشی میں سانس لیتے ہیں۔ یہ جو خود سے دوری کا راستہ ہے، دراصل یہی اپنی اصل تک پہنچنے کی واحد پگڈنڈی ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان اپنی ہستی کے 'تحت الشعور' میں اترتا ہے اور یادوں کی اس بیکراں کھائی سے ہمکنار ہوتا ہے جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب عشق اپنی سچائی کی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہ کسی 'قصور' کی گلیوں کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ وہ تو انا کے سارے بت توڑ کر خاکساری کی اس معراج پر لے جاتا ہے جہاں غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اے میری مجبوریوں کے سوداگر! اپنی انا کا یہ بوجھ اٹھا لے اور مجھے میری اس سادہ سی بے بسی کے حوالے کر دے، جو اجل کی تلخی میں بھی زندگی کے سرور کو کشید کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ میں ایک بار خود کو ہوش کی بے غبار آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ جنون کا کوئی 'فتور' مجھے اس آسمان کی طرف اڑا لے جائے جس کی وسعتوں کا ابھی کوئی نام ...
Recent posts

اُمید کی اوٹ میں ٹھہرا ہوا مَان

روٹھنا دراصل ایک خاموش اعترافِ محبت ہے، ایک ایسا نازک موڑ جہاں انسان اپنی خودداری کو کسی دوسرے کی توجہ کے صدقے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ ایک معصوم سی پکار ہے جو لفظوں کا سہارا نہیں لیتی۔ روٹھنے والا اس مسافر کی مانند ہے جو گھنی چھاؤں میں صرف اس لیے تھم گیا ہو کہ کوئی پیچھے سے آئے گا، ہاتھ تھامے گا اور مسافتوں کی ساری تھکن ایک لمس سے مٹا دے گا۔ اس کیفیت کے پیچھے چھپی منائے جانے کی امید ہی وہ ڈوری ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ جو خاموش ہو کر بیٹھ گیا، وہ دراصل اپنی ہستی کو آپ کے حوالے کر چکا۔ اس کی ناراضی ایک کچی دیوار کی طرح ہوتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اب بھی اس کی تلاش میں کوئی درِ دل پر دستک دیتا ہے؟ یہ لمحہ انا کا نہیں بلکہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ روٹھنے والا اپنی انا کی قربانی دے کر ہی تو اس اُمید کی اوٹ میں بیٹھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی روٹھ رہا ہے، اس کا مان سلامت ہے۔ المیہ تب نہیں ہوتا جب گفتگو بند ہو جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب روٹھنے والا منائے جانے کی اُمید ترک کر دے۔ جس دن خاموشی میں اُمید کا یہ دیا...

آخری سرحد کا سکوت

شہر کی آخری حد پر بنے اس پرانے مکان کی چھت سے جب سورج ڈھلتا تھا، تو دیواروں پر پڑنے والے سائے کسی نوحے کی طرح طویل ہو جاتے تھے۔ زویا نے کھڑکی کے پٹ بند کیے تو لکڑی کی چرچراہٹ نے کمرے کے سناٹے میں ایک لرزہ پیدا کر دیا۔ باہر سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم پڑ چکا تھا، مگر اس کے اندر کی دنیا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی شور سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ میز پر رکھے تانبے کے گلدان میں مرجھائے ہوئے پھول اپنی آخری خوشبو چھوڑ چکے تھے۔ زویا نے ان کی پتیوں کو چھوا۔ وہ خشک ہو کر جھڑ رہی تھیں۔ اسے لگا وہ خود بھی ان پتیوں جیسی ہے، جو شاخ سے ٹوٹنے کے بعد زمین کی مٹی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن نہیں، مٹی ہونا تو تسلیمِ خم ہے، اور وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی تھی۔ تین سال پہلے جب وہ اس گھر میں آئی تھی، تو وہ موم جیسی تھی۔ اتنی نرم کہ سامنے والے کی ایک آہ پر پگھل جاتی۔ وہ حارث کی خوشی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کے فن سے واقف تھی۔ حارث کو چائے میں چینی کم پسند تھی، تو زویا نے اپنی زندگی سے مٹھاس کم کر دی۔ اسے اونچی آواز ناپسند تھی، تو زویا نے اپنی ہنسی کو سرگوشیوں میں بدل لیا۔ یہ اس کی کمزوری نہیں تھی...

سرکاری فائلیں اور انسانی خواب

  اسلام آباد کی سرد و گرم دوپہروں میں، جب سورج کی شعاعیں سرکاری دفاتر کی گرد آلود کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو وہ اکثر ان کاغذوں کے پلندے پر پڑتی ہیں جنہیں ہم فائل کہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں زندگی اپنے پورے شور و ہنگامے کے ساتھ رواں اداں ہوتی ہے، مگر ان دفتروں کی الماریوں میں ایک عجیب سی خاموشی دفن ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کاغذوں کی نہیں ہے، یہ ان خوابوں کی سسکیاں ہیں جو برسوں سے ایک دستخط کے منتظر ہیں۔ عام آدمی کے لیے فائل محض کاغذوں کا ایک پلندہ، ایک ہندسہ یا ایک بے جان اندراج ہوتی ہے۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ان پیلے پڑتے کاغذوں کے پیچھے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چھپے ہوتے ہیں؟ کسی فائل کے اندر ایک بیوہ کے وظیفے کا سوال ہوتا ہے جس سے اس کے چولہے کی آگ وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بستے میں ایک نوجوان کی ملازمت کا پروانہ دبا ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی معائنے میں ایک دیانتدار اہلکار کی ترقی کا معاملہ ہوتا ہے جو تیس سال کی خدمت کے بعد صرف ایک جائز حق کا طالب ہوتا ہے۔ ہم جب کسی فائل پر اعتراض لگا کر اسے ایک میز سے دوسری میز پر منتقل کرتے ہیں،...

خسارے کی نمائش

ہماری ساری عمر دراصل ایک پرشکوہ پردہ داری کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہم اس خوف کے مارے اپنے گرد لفظوں، ڈگریوں اور دانائی کے جھوٹے حصار تعمیر کرتے ہیں کہ کہیں کوئی ہماری اس معصوم جہالت کو نہ دیکھ لے، جو ہمیں پیدائشی طور پر ودیعت ہوئی تھی۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے بجائے اسے ڈھانپنے کے فن میں طاق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی ہم خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پراسرار عالم ثابت کرتے ہیں اور کبھی غیر ضروری بحث کی گرد اڑا کر اپنی نادانی کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی تنہائی میں ٹھہر کر سوچیے کہ اگر ہم اپنے اس کم علمی یا معصوم جہالت کو ایک بوجھ کے بجائے ایک وسعت سمجھ لیتے، تو زندگی کتنی سہل ہوتی؟ ہم نے تو اپنی کم علمی کو ایک عیب بنا لیا ہے، حالانکہ یہی وہ واحد رستہ تھا جو سچی حیرت کی طرف کھلتا تھا۔ ہم نے پختگی کا وہ نقاب پہن رکھا ہے جو ہمیں کھل کر ہنسنے دیتا ہے اور نہ ہی نادان بن کر سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ کے شریکِ سفر ہیں جہاں جیت کا معیار یہ ہے کہ کون اپنی محرومی کو کتنے سلیقے سے چھپا سکتا ہے۔ جب سفر تمام ہونے کو ہوتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ جس سچ کو ...

ننگے پاؤں کی بادشاہت اور بارش کے دن

انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔ جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم ...

احساس اور الفاظ کا فاصلہ

کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...