کائنات کی پہلی آواز کیا تھی؟ شاید کسی ستارے کے ٹوٹنے کی گونج، یا پہلی بارش کے قطرے کی زمین سے ہم آغوشی۔ مگر انسانی تہذیب کی پہلی آواز یقیناً دھڑکنا تھی۔ ماں کے پیٹ میں بچے نے موسیقی کا پہلا سبق اس کے دل کی دھڑکن سے سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان نے ہوش سنبھالا، تو اس نے کائنات کے اس تال ( Rhythm ) کو نقل کرنے کی کوشش کی۔ کہیں بانس کی پوروں میں سوراخ کر کے ہوا کو قید کیا گیا، تو کہیں لکڑی کے کھوکھلے تنے پر جانور کی کھال منڈھ کر ایک ایسی صدا پیدا کی گئی جس نے صدیوں تک انسانی روح کو تڑپائے رکھا۔ موسیقی محض سروں کا مجموعہ نہیں ہے، یہ کسی بھی قوم کا وہ شناختی کارڈ ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ آپ جاپان کے کوتو ( Koto ) کی تاروں کو چھیڑیں تو آپ کو وہاں کی برف پوش چوٹیوں کی خاموشی محسوس ہوگی۔ آپ سپین کے فلیمنگو گٹار کی تپش سنیں تو اندلس کی تاریخ کا جلال اور جمال آنکھوں میں رقص کرنے لگے گا۔ لیکن صاحب! اگر آپ نے زندگی کے اصل جوہر، اس کی کچی سچائی اور کائنات کی قدیم ترین نبض کو محسوس کرنا ہے، تو کبھی افریقہ کے جنگلوں، صحراؤں اور بستیوں سے اٹھنے والے ان ڈھولوں کی آواز سنیں، جو زمین...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی