Skip to main content

Posts

غذائی تہوار یا ماہ رمضان

  ابھی شعبان المعظم  کا آخری ہفتہ شروع ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی 'صالحانہ افراتفری' کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلالِ رمضان کی رویت کا اعلان نہیں ہونے والا، بلکہ کسی ایٹمی جنگ کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے اور پوری قوم نے اگلے تیس دن کسی زیرِ زمین بنکر میں محصور ہو کر گزارنے ہیں۔ بازاروں کا نقشہ بدل جاتا ہے، گلیوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور عام آدمی کا 'تقویٰ' اچانک کچن بھرنے کی تگ و دو میں بدل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان کی تیاری کا فلسفہ یہ ہے کہ دن بھر بھوکا پیا سا رہنا ہے  سو افطاری کے لئے ہر وہ چیز خرید لو جو کھانے پینے والی ہے اور کچن کو اتنا بھر دو کہ الماریوں کے دروازے بند کرنا محال ہو جائے۔ بازار میں مچنے والا وہ غدر دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ شاید محکمہ خوراک نے اعلان کر دیا ہے کہ یکم رمضان سے آٹا، چینی اور گھی، سبزی  خریدنا  قانوناً جرم قرار دے دیا جائے گا، اس لیے جو سمیٹنا ہے، ابھی سمیٹ لو۔ خواتین کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے جوسرد و گرم ماحول میں ایسے خریداری کرتی ہیں جیسے وہ کوئی افطاری نہیں، بلکہ پورے محلے کی دعوتِ ولیمہ کی تیاری کر رہی ہوں...
Recent posts

محبت کا جغرافیہ

دیوار کی پپڑیوں سے جھڑتا ہوا چونا میز پر بچھے ان سفید کاغذوں پر ایک باریک گرد کی صورت جمع ہو رہا تھا جن پر ہاشم گھنٹوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یہ لکیریں آپس میں گتھم گتھا تھیں، کہیں سیدھی، کہیں دائروں کی صورت مڑتی ہوئی اور کہیں ناخنوں سے کریدی گئی خراشوں جیسی۔ باہر گلی میں کسی نے بھاری بوٹوں سے چلتے ہوئے لوہے کے گیٹ کو تھپتھپایا تو ہاشم کے ہاتھ میں تھمی پنسل کا سکہ کاغذ کے ساتھ جھٹکا کھا کر کڑک سے ٹوٹ گیا۔ "کتنی بار کہا ہے، اس دروازے کی زنجیر بدلوا دیں،" ثریا کی آواز کچن کی دھاتی آوازوں کے درمیان سے ابھری۔ "یہ چڑچڑاہٹ اب ہڈیوں میں اترنے لگی ہے۔" ہاشم نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں پنسل کے ٹوٹے ہوئے سکے پر جمی تھیں جو کاغذ پر گرے ہوئے کوئلے کے ایک ذرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیم کے بوڑھے درخت کی ٹہنیاں ہوا کے دوش پر کسی نوحہ گر کے ہاتھوں کی طرح ہل رہی تھیں۔ نیچے گلی میں کھڑے میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک باقاعدہ ترتیب سے گونج رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ یہ آواز اسے اس دوپہر میں لے گئی جب بادلوں کا رنگ بالکل ایسا ہی گہرا سرمئی تھا جی...

کورا ورق

وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا! کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا یہ دستخط نہیں تھے! یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر میری بربادی کے قصے رقم کرے یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا مِرا نصیب ہے! میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال...

پندرہ فروری کا 'اعصابی ٹاکرا' اور مسٹری باؤلنگ کا جادو

  پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا "سماجی بخار" ہے جس کی کوئی ویکسین آج تک دریافت نہیں ہو سکی۔ آج کل سری لنکا کی ہوائیں کچی الائچی سے زیادہ پاکستانیوں کے گرم جوش تبصروں سے مہک رہی ہیں۔ ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں کیا فتح ملی، پوری قوم نے مہنگائی کے نوحوں اور بجلی کے بلوں کے جھٹکوں کو "میوٹ" پر لگا دیا ہے۔ مگر صاحب! یہ مٹھاس تو محض ایک "ایپی ٹائزر" ہے، اصل ضیافت تو 15 فروری کو سجے گی جب روایتی حریف بھارت سامنے ہوگا۔ پچھلے دنوں "انکار اور اقرار" کا جو ایک بھونچال مچا ہوا تھا، اب اس کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ کبھی خبر آتی کہ ہم سرحد پار نہیں جائیں گے، کبھی شرائط کی ایسی فہرست پیش کی جاتی جیسے کوئی روٹھا ہوا دولہا سسرال والوں کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہو۔ خیر، اب فیصلہ ہو چکا، ٹیم میدان میں ہے اور عوام کے دلوں کے "پیس میکر" 15 فروری کی ٹک ٹک گننے میں مصروف ہیں۔ اس بار ٹیم کا نقشہ بھی کسی "ٹیکنالوجی اپ گریڈ" جیسا ہے۔ صائم ایوب کا "نو لک شاٹ" (No Look Shot) تو جادو بن کر سر چڑھ رہا ہے۔ صائم جب آنکھیں بند کر کے گین...

ساعتِ مصلوب

چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ نے فضا میں ایک مبہم سا سوالیہ نشان بنایا اور پھر خاموشی کے مہیب غار میں اتر گئی۔ میز کے اس پار بیٹھا ہوا شخص شاید کچھ کہہ رہا تھا، اس کے لبوں کی جنبش سے لفظوں کے شکستہ ڈھانچے برآمد ہو رہے تھے، مگر سماعتوں کے پردے پر دستک دینے سے پہلے ہی وہ کہیں غائب ہو جاتے تھے۔ "دیکھو، اگر ہم اس منصوبے کو اگلے ماہ تک..." جملہ ابھی فضا میں معلق تھا کہ کھڑکی سے آنے والی دھوپ کی ایک لکیر اچانک سنہری دھول میں بدل گئی۔ وہ جو حال کی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ کی پوریں میز کی لکڑی کو چھو رہی تھیں، مگر لمس کا احساس کسی قدیم کتبے کی ٹھنڈک میں بدلنے لگا۔ کمرے کی دیواریں یک لخت پگھلنے لگیں اور ان کی جگہ نیلم کی ایک وسعت نے لے لی۔ وہاں، اس نیلی دھند کے پار، ایک پرانی لکڑی کی سیڑھی تھی جس پر پیر رکھتے ہی کچ کچاہٹ کی آواز آتی تھی۔ یہ آواز آج کی نہیں تھی، یہ اس وقت کی تھی جب کیلوں میں زنگ نہیں لگا تھا اور لکڑی کی خوشبو سانسوں میں گلاب کی طرح مہکتی تھی۔ پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے قالین کے ریشے اب گھاس کی پتیاں بن چکے تھے، جن پر شبنم کے قطرے کسی ادھوری دعا کی طرح ٹکے ہوئ...

چڑیوں کی چہچہاہٹ: کائنات کا پہلا مکالمہ

  سورج ابھی افق کی دہلیز پر دستک دینے کا سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ فضا میں ایک باریک سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ شور نہیں، بلکہ کائنات کا وہ قدیم ترین "سافٹ ویئر" ہے جو ہر صبح بغیر کسی غلطی کے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ہم اسے 'چڑیوں کی چہچہاہٹ' کہتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ محض ایک حیاتیاتی ضرورت ہے یا کسی وسیع تر حقیقت کا حصہ؟ چڑیاں صبح سویرے اس لیے نہیں چہچہاتیں کہ انہیں دن بھر کے رزق کی فکر ہے، بلکہ وہ تو روشنی کے پہلے قطرے کا استقبال اس یقین سے کرتی ہیں جیسے وہ اس کائنات کی سب سے بڑی رازداں ہوں۔ ان کی آوازوں میں ایک ایسی تیکھی معصومیت ہوتی ہے جو انسان کے خود ساختہ وقار اور مصنوعی سنجیدگی کو ایک لمحے میں مسمار کر دیتی ہے۔ ان کا نغمہ دراصل 'عدم' سے 'وجود' کی طرف واپسی کا ایک اعلان ہے۔ جب انسان گہری نیند میں اپنی شناخت کھو چکا ہوتا ہے، یہ ننھی جانیں فضا کے کینوس پر آوازوں کے رنگ بکھیر کر کائنات کو یہ بتاتی ہیں کہ شعور کی لہر بیدار ہو چکی ہے۔ یہ کوئی روایتی حمد و ثنا نہیں، بلکہ ایک خاموش فلسفہ ہے کہ جینے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں، بلکہ اپنی موجودگی کا...