Skip to main content

Posts

شہر کی ٹریفک اور ہماری انا

روز جب ماہ رمضان میں شام کو  سورج  مغرب میں غروب ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ایک ایسا "کاک ٹیل" تیار ہوتا ہے جس میں بارود کی بو، پٹرول کا دھواں اور انسانی انا کا غبار برابر مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک کا وہ آخری پہر ہے جب نیکیوں کا گراف بلند ہو رہا ہوتا ہے اور بلڈ پریشر کا پارہ آسمان چھو رہا ہوتا ہے۔ آپ گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے ہوں یا موٹر سائیکل کے ہینڈل تھامے ہوں، آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سڑک پر نہیں بلکہ کسی قدیم رومی اکھاڑے  میں موجود ہیں جہاں ہر دوسرا ڈرائیور آپ کا حریف ہے اور ہر لال بتی ایک ذاتی توہین۔ رمضان کے ان مبارک دنوں میں، جب صبر کی مشق ہونی چاہیے تھی، ہماری انا ہائی وے پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ عجب تماشا ہے کہ جس پیٹ کو ہم نے اللہ کی رضا کے لیے خالی رکھا، اسی پیٹ میں جانے والی افطاری کے لیے ہم دوسرے کا راستہ کاٹتے، گالیاں دیتے اور قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ رمضان کی ٹریفک کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے بعد ہر ڈرائیور خود کو "فارمولا ون...
Recent posts

بلندیوں کے پہرے دار اور ہمارے عہد کا اضطراب

اسلام آباد کی صبح جب اپنے گداز ہاتھوں سے مارگلہ کے ماتھے پر جمی دھند کو ہٹاتی ہے، تو فضا میں ایک ایسی خوشبو بیدار ہوتی ہے جو نہ تو مٹی کی ہوتی ہے اور نہ ہی پھولوں کی۔ یہ خوشبو خاموشی کی ہوتی ہے۔۔۔ وہ خاموشی جو صرف ان کو سنائی دیتی ہے جو شہر کے ہنگاموں کی گرد جھاڑ کر ان پگڈنڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ مارگلہ کی ٹریل فائیو پر پہلا قدم رکھتے ہی انسان ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وقت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے اور مادی وجود کی گھڑیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ یہ ٹریل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ ایک خود شناس سفر ہے۔ جوں جوں بلندی کی طرف قدم بڑھتے ہیں، پھیپھڑوں میں اترنے والی تازہ ہوا روح کے ان گوشوں کو چھوتی ہے جنہیں ہم نے سیمنٹ اور سریے کے جنگلوں میں کہیں گم کر دیا تھا۔ پاؤں تلے چرچرانے والے خشک پتے اور راستے میں پڑے وہ قدیم پتھر، جن پر وقت نے اپنی جھریاں لکھ دی ہیں، آپ سے کلام کرنے لگتے ہیں۔ یہ پتھر ساکت نہیں ہیں؛ یہ صدیوں کے شاہد ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے مسافروں کے پیروں کی چاپ سنی اور انہیں خاموشی سے گزرتے دیکھا۔ ان پتھروں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔۔ایک ایسی گہرائی جہاں انس...

تقسیم اور تکمیل میں مکالمہ

 

سڑکیں اور خالی پن

 

تقسیم اور تکمیل کے درمیان ایک مکالمہ

شام کی نارنجی دھوپ جب پرانے برگد کے چوڑے پتوں سے چھن کر زمین پر نقش و نگار بنا رہی تھی، تو بستی کے کنارے بنے اس کچے مسافر خانے کے تھڑے پر دو شخص بیٹھے تھے۔ ایک کے پاس چمڑے کا بھرا ہوا سفری تھیلا تھا اور سامنے پیتل کا چمکتا ہوا برتن، جس کا ڈھکن مضبوطی سے بند تھا۔ دوسرا شخص بالکل خالی ہاتھ تھا، اس کے سامنے مٹی کا ایک بڑا پیالہ الٹا رکھا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی تھک کر اپنی انا کو زمین پر رکھ دے۔ بھرے ہوئے تھیلے والے شخص نے، جسے ہم صاحبِ اسباب کہہ سکتے ہیں، دوسرے کی حالت کو دیکھ کر ایک گہری ہمدردی والی آہ بھری اور اپنی جیب کی طرف ہاتھ لے جاتے ہوئے بولا: "لگتا ہے قسمت نے اس بار وفا نہیں کی۔ تمہارا برتن تو بالکل خالی ہے، اگر کہو تو میں اپنے زادِ راہ میں سے کچھ حصہ تمہاری نذر کر دوں؟" خالی ہاتھ والے مسافر نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہ اضطراب نہیں تھا جو عام طور پر محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا: " صاحب جی ! شکریہ، مگر برتن کا خالی ہونا ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اس میں کچھ آیا نہیں، کبھی کبھی یہ اس بات کی گ...

نامکمل کاغذ

  ادھوری سطروں سے لکھے کاغذ ہماری ان کہی باتوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں کبھی مکمل ہونے کے ڈر سے خود ہی کھو جاتے ہیں #نوریات

مٹی کا قرض

پرانے درختوں کی جڑیں زمین کا حافظہ ہیں وہ انسانی پاؤں کی چاپ سے کہانیاں بُنتی ہیں اور گہرائی میں اتر کر خاموشی کو ٹرانسلیٹ کرتی ہیں #نوریات