بچپن کی یادیں کسی پرانے البم کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں جب بھی کھولا جائے، ان سے جڑی خوشبوئیں اور رنگ ذہن کو مہکا دیتے ہیں۔ ان یادوں میں سب سے روشن اور دلکش نقش پہلے روزے کا ہے، جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار تقریب تھی جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب بڑے شوق اور ولولے سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ مئی جون کی کڑکتی دھوپ تھی اور گرمی اپنے پورے جوبن پر۔ صبح سحری کے وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں، لیکن جوں جوں سورج سوا نیزے پر آیا، سارا شوق پسینہ بن کر بدن سے بہنے لگا۔ پیاس کی شدت نے وہ حال کیا کہ معصوم ذہن میں بار بار ٹھنڈے پانی کا تصور چپک کر رہ گیا ۔ ہونٹوں پر خشکی کی پپڑیاں جم گئیں اور وہ گھبراہٹ طاری ہوئی جو صرف ایک تپتی دوپہر میں روزہ رکھنے والا بچہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بار بار غسل خانے جا کر سر پر پانی ڈالنا اور ٹھنڈک تلاش کرنا اس وقت کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔ لیکن اس کٹھن دوپہر کے بعد جو شام آئی، وہ آج بھی میرے حافظے میں رقص کرتی ہے۔ جوں ہی سورج ڈھلنے لگا، گھر کی رونق بدل گئی۔ خالہ ، پھوپھی ، چچا ...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی