Skip to main content

Posts

خالی سڑکیں

  اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔ میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم...
Recent posts

خوشی کا فلسفہ

 

موڈ اور رنگوں کی نفسیات

 

کیا خوشی ہمارے ہاتھ میں ہے؟

  انسان کا قدیم ترین خواب سونا حاصل کرنا یا محل بنانا بنانا نہیں تھا، بلکہ سانسوں کی آمدورفت میں چھپی اس کیفیت کو پانا تھا جسے ہم خوشی کہتے ہیں۔ صدیوں سے فلسفیوں نے سر پٹخے، صوفیوں نے جنگلوں کی خاک چھانی اور اب سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں نیورانز کے جال بچھا دیے ہیں، مگر سوال وہیں کا وہیں ہے- کیا خوشی کوئی ایسی چڑیا ہے جو ہمارے آنگن میں خود اترتی ہے، یا یہ وہ شکار ہے جسے ہمیں خود پکڑنا پڑتا ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے ہاتھ میں ہے؟ جدید دور کے مثبت نفسیات کے ماہرین، جن میں مارٹن سیلگمین کا نام سرِفہرست ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے ایک طویل عرصہ صرف یہ سمجھنے میں گزار دیا کہ دکھ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے، مگر ہم یہ پوچھنا بھول گئے کہ سکھ کیا ہے اور اسے کیسے بڑھایا جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی باغبان سے سکھایا جائے کہ پودا مرنے سے کیسے بچانا ہے ، مگر اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اسے تناور درخت کیسے بنایا جائے۔ سائنس کی دنیا میں ایک نظریہ بہت مشہور ہے جسے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ (Hedonic Set Point) کہا جاتا ہے۔ کچھ محققین کا خیال تھا کہ ہماری خوشی کا پچاس فیصد حصہ ہماری جینیات طے کر دیتی ہیں...

دعا کی قبولیت کا یقین

رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے ...

رنگ واقعی آپ کے موڈ کو بدل سکتے ہیں؟

  رنگوں کی کائنات محض بصارت کا دھوکا نہیں، بلکہ یہ روح کے نہاں خانوں میں اتر جانے والی وہ خاموش زبان ہے جو لفظوں کے سہارے کے بغیر دل کا حال کہہ دیتی ہے۔ کائنات کے کینوس پر بکھرا ہوا ہر رنگ اپنی ایک الگ تاثیر، اپنی ایک الگ داستان اور اپنا ایک منفرد نفسیاتی پس منظر رکھتا ہے۔ جب ہم قدرت کی صناعی پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اس دنیا کو صرف کالا اور سفید نہیں بنایا، بلکہ اسے قوسِ قزح کے رنگوں سے سجا کر انسانی فطرت کے تضادات اور میلانات کی تسکین کا سامان کیا ہے۔ رنگوں کا انسانی موڈ اور نفسیات پر اثر محض کوئی شاعرانہ تخیل یا مفروضہ نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی سائنسی تحقیقات اور نفسیاتی تجربات نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ رنگ ہمارے عصبی نظام، ہمارے فیصلوں اور یہاں تک کہ ہمارے خون کے دباؤ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انسان کا رنگوں کے ساتھ تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود شعورِ انسانی۔ قدیم تہذیبوں میں رنگوں کو علاج معالجے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جہاں نیلا رنگ سکون کے لیے اور سرخ رنگ توانائی کی بحالی کے لیے مخصوص تھا۔ آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی اور...

بچپن کا روزہ

 بچپن کی یادیں کسی پرانے البم کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں جب بھی کھولا جائے، ان سے جڑی خوشبوئیں اور رنگ ذہن کو مہکا دیتے ہیں۔ ان یادوں میں سب سے روشن اور دلکش نقش پہلے روزے کا ہے، جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار تقریب تھی جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب بڑے شوق اور ولولے سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ مئی جون کی کڑکتی دھوپ تھی اور گرمی اپنے پورے جوبن پر۔ صبح سحری کے وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں، لیکن جوں جوں سورج سوا نیزے پر آیا، سارا شوق پسینہ بن کر بدن سے بہنے لگا۔ پیاس کی شدت نے وہ حال کیا کہ معصوم ذہن میں بار بار ٹھنڈے پانی  کا تصور چپک کر رہ گیا  ۔ ہونٹوں پر خشکی کی پپڑیاں جم گئیں اور وہ گھبراہٹ طاری ہوئی جو صرف ایک تپتی دوپہر میں روزہ رکھنے والا بچہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بار بار غسل خانے جا کر سر پر پانی ڈالنا اور ٹھنڈک تلاش کرنا اس وقت کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔ لیکن اس کٹھن دوپہر کے بعد جو شام آئی، وہ آج بھی میرے حافظے میں رقص کرتی ہے۔ جوں ہی سورج ڈھلنے لگا، گھر کی رونق بدل گئی۔ خالہ ، پھوپھی ، چچا ...