انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔ جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم ...
کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...