Skip to main content

Posts

کبھی بولو ، کبھی سنو

ہم سب ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص بولنا چاہتا ہے، لیکن کوئی سننا نہیں چاہتا۔ یہ ایک عجیب و غریب تماشہ ہے جہاں آوازوں کا شور تو ہے، لیکن معنویت کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ہم بولتے ہیں تاکہ خود کو ثابت کر سکیں، خود کو منوا سکیں، اور اپنی ذات کی پہچان کروا سکیں۔ بولنے میں ایک نشہ ہے، ایک ایسی لذت ہے جو انسان کو یہ گمان دیتی ہے کہ وہ کائنات کا محور ہے۔ مگر دوسری طرف سننا ہے، جو آج کے دور میں ایک بھولی ہوئی اور کٹھن ریاضت بن چکا ہے۔ انسانی جبلت میں اظہار کی خواہش سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجود کے دائرے کو پھیلا رہے ہیں۔ لبوں سے نکلتا ہر لفظ ایک روشنی کی کرن کی طرح ہوتا ہے، جو ہمارے اندر کے اندھیروں کو دور کرتا ہے اور دوسروں پر اپنی چھاپ چھوڑتا ہے۔ یہ بولنا محض آوازوں کا تکرار نہیں، بلکہ اپنی انا کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جتنا ہم بولیں گے، اتنے ہی ہم موجود رہیں گے۔ ایک ماہر نفسیات کے زاویے سے دیکھیں تو بولنا خود کو دنیا کے سامنے ڈیزائن کرنے کا عمل ہے۔ ہم اپنی پسندیدہ کہانیاں سناتے ہیں، اپنے دکھوں کا اظہار کرتے ہیں، اور اپنی ...
Recent posts

معاف کرنا کیوں مشکل ہے؟

زندگی  کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔  یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سا...

خاموش دریا اور حرفِ آرزو

زندگی اکثر ایسے موڑ پر  انسان کو کھڑا کر دیتی  ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔ محبت کا سفر  کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دری...

ملاقاتوں کے بوجھ

کبھی آپ نے غور کیا ہےکہ ہم زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے ہزاروں چہروں کو دیکھتے ہیں، بہت سوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، کچھ کے ساتھ طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، اور پھر کسی موڑ پر رک کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ایسی تھیں جن کے بعد روح میں ایک عجیب سی خنکی، ایک تسکین اور ایک ناقابل بیان ٹھہراؤ اتر آیا، جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر نے طویل سفر کے بعد بوجھل کندھوں سے گٹھڑی اتار دی ہو۔ اس کے برعکس، کچھ ملاقاتیں ایسی بھی رہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ بوجھل، اداس اور خالی کرجاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، یہ انسانی نفسیات اور روحانی کیمیا کا ایک پیچیدہ سا نچوڑ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جن لوگوں سے مل کر ہمیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ہمارے وجود کے لیے ’آئینہ‘ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہمیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم جیسے ہیں، جس حال میں ہیں، وہ ہمیں اسی طرح قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں محض الفاظ کے تبادلے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ایک ہم آہنگ خاموشی میں بیٹھ جانا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کے سامنے ہوتے ہیں جس کے دل میں آپ کے لی...

توازن کا نا دیدہ ہاتھ۔ کالم

 

چابی، دریا اور کرایہ دار: ایک مکان کی ہجرت کا نوحہ

انسان کی پوری زندگی دراصل ایک "عارضی قیام" کا نام ہے، لیکن اس آفاقی سچائی کا سب سے زیادہ ادراک اس بدنصیب کو ہوتا ہے جسے لوگ پیار سے "کرایہ دار" کہتے ہیں。 مالکِ مکان کے لیے مکان محض ایک سرمایہ یا اینٹ پتھر کا ڈھیر ہوتا ہے، لیکن ایک کرایہ دار کے لیے وہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی چھوٹی سی بستی بساتا ہے。 مگر افسوس کہ اس بستی کی عمر اکثر مالکِ مکان کے موڈ یا اس کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی اچانک واپسی کی خبر تک ہی محدود ہوتی ہے。 عمومی زندگی میں کرایہ داری ایک ایسا "جذباتی جوا" ہے جس میں ہار ہمیشہ کرایہ دار کی ہی ہوتی ہے。 آپ جب کسی نئے مکان میں منتقل ہوتے ہیں، تو آپ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ان دیواروں کو اپنی پہچان دے سکیں。 آپ کیل ٹھونکتے ہیں، تصویریں لٹکاتے ہیں اور الماریوں میں اپنی زندگی کی کتابیں سجاتے ہیں。 لیکن جیسے ہی ہتھوڑی کی پہلی ضرب پڑتی ہے، مالکِ مکان کے دل میں ایک ایسی ٹیس اٹھتی ہے جیسے آپ نے کیل دیوار میں نہیں بلکہ اس کے جگر میں ٹھونک دی ہو。 وہ فوراً "ایگریمنٹ" کی وہ شق یاد دلاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان کی حا...

جوہرِ انسانیت

اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات