میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کائنات سے نام چھین لیے جائیں، تو کیا رنگ باقی بچیں گے؟ ہم نے سرخ کو غصے یا محبت کا پیرہن پہنا دیا اور زرد کو خزاں کی تذلیل سونپ دی، لیکن رنگوں کا اپنا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ وہ تو بس روشنی کے وہ مسافر ہیں جو مادے سے ٹکرا کر اپنی تھکن ظاہر کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ رنگ مجھ پر طاری نہیں ہوتے، بلکہ میں ان کے اندر سے گزرتا ہوں۔ جب میں کسی گہرے نیلے سمندر کو دیکھتا ہوں، تو میں پانی کو نہیں دیکھ رہا ہوتا، بلکہ اپنے اندر کی اس وسعت کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہوں جس کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ نیلا رنگ میرے لیے سکون نہیں، بلکہ ایک سوال ہے کہ "تمہاری گہرائی کہاں ختم ہوتی ہے؟" ہم رنگوں کو باہر تلاش کرتے ہیں، جبکہ رنگ ہمارے اندرونی موسموں کے عکس ہیں۔ جس دن میں اندر سے بنجر ہوتا ہوں، ہرا بھرا باغ بھی مجھے کسی پرانے بلیک اینڈ وائٹ اخبار کی مانند لگتا ہے جس کی سرخیاں مٹ چکی ہوں۔ اور جس دن شعور کے کسی گوشے میں کوئی نئی کھڑکی کھلتی ہے، تو کالی رات کی سیاہی میں بھی مجھے روشنی کے ہزاروں مخفی رنگ رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاہ رنگ اندھیرا نہیں ہے، بلکہ وہ تمام رنگوں کی...
کبھی کبھی آپ کے اندر ایک ایسی دھن گونجتی ہے جس کا کوئی موسیقار نہیں ہوتا۔ یہ وہ گیت نہیں جو ریڈیو پر بجتا ہے یا جسے کسی نے کاغذ پر اتارا ہو۔ یہ ایک بےآواز ارتعاش ہے جو عین اس وقت بیدار ہوتا ہے جب آپ ہجوم کے درمیان بالکل خاموش کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اسے اکثر 'یاد' یا 'اداسی' کا نام دے کر اس کی وسعت کو محدود کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان امکانات کی دستک ہے جو ابھی وجود میں نہیں آئے۔ یہ دھن ان رستوں کا نقشہ ہے جن پر ہم کبھی چلے نہیں، اور ان لفظوں کا استعارہ ہے جو ہماری زبانوں پر آ کر مکر گئے۔ ہم سب کے اندر ایک ایسی ہی نامکمل تال چل رہی ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ہم جو کچھ 'ہیں'، اس سے کہیں زیادہ وہ ہیں جو ہم 'ہو سکتے تھے'۔ حیرت یہ ہے کہ یہ دھن ہمیں بے چین نہیں کرتی، بلکہ ایک عجیب سا سکون دیتی ہے ۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی پرانی لائبریری میں رکھی ان کتابوں کی خوشبو، جنہیں کبھی کھولا نہ گیا ہو۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات محض مادے کا ڈھیر نہیں، بلکہ ایک وسیع گونج ہے جس کا ایک سرا ہمارے دل کی دھڑکن سے جڑا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب آپ اکیلے ...