انسانی نفسیات کا مطالعہ کرنے والے بڑے بڑے بقراط اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو مسکرانے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ طلب کرتی ہے اور اگر غلطی سے کوئی قہقہہ لبوں سے پھسل جائے تو فوراً "استغفراللہ" پڑھ کر توبہ کرتی ہے کہ کہیں اس خوشی کا کفارہ کسی بڑی مصیبت کی صورت میں نہ ادا کرنا پڑ جائے۔ ہمارے ہاں مسکراہٹ ایک ایسی "مشکوک سرمایہ کاری" ہے جس پر معاشرہ فوری طور پر شک کا انکم ٹیکس نافذ کر دیتا ہے۔ اگر آپ سڑک پر چلتے ہوئے بلاوجہ مسکرا دیں، تو سامنے سے آنے والا شخص آپ کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھے گا، یہ سمجھتے ہوئے کہ بیچارہ کسی بڑے صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، یا پھر وہ اپنے گریبان میں جھانکے گا کہ کہیں اس کا بٹن تو کھلا نہیں رہ گیا جس پر یہ کمبخت دانت نکال رہا ہے۔ ہماری نفسیات میں سنجیدگی کا درجہ تقویٰ کے برابر ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر بارہ بجے ہوں، ماتھے پر آٹھ شکنیں مستقل رہائش اختیار کر چکی ہوں اور جس کی زبان سے جملہ نہیں بلکہ فتویٰ صادر ہوتا ہو، اسے ہم "نہایت زیرک اور سلجھا ہوا انسان" تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ ...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی