Skip to main content

Posts

چابی، دریا اور کرایہ دار: ایک مکان کی ہجرت کا نوحہ

انسان کی پوری زندگی دراصل ایک "عارضی قیام" کا نام ہے، لیکن اس آفاقی سچائی کا سب سے زیادہ ادراک اس بدنصیب کو ہوتا ہے جسے لوگ پیار سے "کرایہ دار" کہتے ہیں。 مالکِ مکان کے لیے مکان محض ایک سرمایہ یا اینٹ پتھر کا ڈھیر ہوتا ہے، لیکن ایک کرایہ دار کے لیے وہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی چھوٹی سی بستی بساتا ہے。 مگر افسوس کہ اس بستی کی عمر اکثر مالکِ مکان کے موڈ یا اس کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی اچانک واپسی کی خبر تک ہی محدود ہوتی ہے。 عمومی زندگی میں کرایہ داری ایک ایسا "جذباتی جوا" ہے جس میں ہار ہمیشہ کرایہ دار کی ہی ہوتی ہے。 آپ جب کسی نئے مکان میں منتقل ہوتے ہیں، تو آپ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ان دیواروں کو اپنی پہچان دے سکیں。 آپ کیل ٹھونکتے ہیں، تصویریں لٹکاتے ہیں اور الماریوں میں اپنی زندگی کی کتابیں سجاتے ہیں。 لیکن جیسے ہی ہتھوڑی کی پہلی ضرب پڑتی ہے، مالکِ مکان کے دل میں ایک ایسی ٹیس اٹھتی ہے جیسے آپ نے کیل دیوار میں نہیں بلکہ اس کے جگر میں ٹھونک دی ہو。 وہ فوراً "ایگریمنٹ" کی وہ شق یاد دلاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان کی حا...
Recent posts

جوہرِ انسانیت

اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات

اکتارہ

سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان بھی عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے ثقیل ہو جاتے ہیں کہ پہاڑ بھی راستہ بدل لیں، اور کبھی اتنے ہلکے کہ کسی کی ایک مسکراہٹ یا شعر کا کوئی اچھوتا مصرع ہمیں ہواؤں میں اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی ہماری یہ زندگی خود ایک پیچیدہ "بحر" بن چکی ہے، بالکل کسی غزل کی طرح۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوزان اور تقطیع کے تمام قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، اور کبھی اچانک پتا چلتا ہے کہ وقت کی کسی سنگین غلطی نے ہمیں "خارج از بحر" مصرعے کی طرح اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ ہم سارا دن ڈیٹا، اسکرینوں، سودے بازیوں اور معیشت کے محاصرے میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، ہمارے اندر کا وہ پرانا انسان جاگ اٹھتا ہے جو کسی گلی کی سوندھی مٹی اور پیپل کی چھاؤں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یہ شاید ہماری فطرت کا وہ گوشہ ہے جسے ہم دنیا کی تمام تر پروفیشنل چکا چوند سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دن بھر بڑے دانشور بن کر پھرتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی پرانی یاد ذہن کے کسی فولڈر پر دستک دیتی ہے، ہماری ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ پھر ہم وہی بچے بن جات...

انتخاب کا بوجھ

میں نے جب بھی راستوں کی کثرت دیکھی میرے قدم وہیں ٹھہر گئے ہم اس نسل سے ہیں جو اپنی پسند کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی ضرورت ہی بھول گئی ہماری میز پر پھیلے ہوئے سینکڑوں رنگ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ تصویر کیا بنانی ہے بلکہ یہ جتاتے ہیں کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کر دیا کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ ندی جو صرف ایک سمت بہتی تھی ہم سے زیادہ آزاد تھی! #نوریات

حرمتِ حرف

الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے یہ تو وہ تراشیدہ پتھر ہیں جو اگر میزانِ عقل میں تولے جائیں تو منکر کو بھی قائل کر لیتے ہیں اور اگر انہیں محبت کی خوشبو میں بسایا جائے تو سنگ دلوں کو بھی مائل کر لیتے ہیں! مگر یاد رکھنا! الفاظ کے دھارے دو دھاری تلوار بھی ہیں تلخ لہجے کی نوک پر رکھے ہوئے حرف روح کے اس مقام پر زخم لگاتے ہیں جہاں کوئی مرہم نہیں پہنچ پاتا یہ جیتے جاگتے انسان کو گھائل کر دیتے ہیں! الفاظ برتنے والے جانتے ہیں کہ کب انہیں ڈھال بنانا ہے اور کب انہیں وہ تیر جو کمان سے نکلنے کے بعد واپس نہیں لوٹتے! #نوریات

اداکاریاں

زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ سے حال پوچھیں گے تو اس انداز میں گویا آپ کی صحت کی رپورٹ سیدھی عالمی ادارہِ صحت کو بھیجنی ہے، لیکن جوں ہی آپ نے خلوصِ نیت سے اپنے سر درد کا تذکرہ چھیڑا، ان کی آنکھوں میں وہ بیزاری جھلکنے لگتی ہے جو ایک طالب علم کے چہرے پر ریاضی کے مشکل سوال کو دیکھ کر آتی ہے۔ دراصل ہم سب ایک ایسی عجیب دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں "کیسے ہیں آپ؟" کا جواب "ٹھیک ہوں" کے علاوہ کچھ بھی دینا ایک معاشرتی جرم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنے جذبات پر بھی ضبط کمال حاصل ہوتا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی جو صاحب بچوں پر دھاڑ رہے ہوتے ہیں، وہ کال اٹھاتے ہی اچانک لہجے میں شہد بھر لیتے ہیں ۔ لہجے کی یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک لمحے پہلے کا غصہ اگلے ہی لمحے "جی فرمائیے" کی ایسی لوری میں بدل جاتا ہے کہ سننے والا اسے دنیا کا معصوم ترین انسان سمجھ لے۔ پھر کچھ وہ احباب ہیں جو سادگی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی امارت کی ایسی نمائش کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا رہ جائے کہ یہ عاجزی ہے یا کوئی اشتہاری مہم۔ "بھئی ہم تو بہت سادہ لوگ ہیں، بس یہ دو چار کنال کا گھر ...

مزدوری

سونے کی کان میں کام کرنے والے نے جب دھوپ میں آ کر ہاتھ پھیلائے تو اس کی ہتھیلیوں پر صرف مٹی تھی #نوریات