Skip to main content

Posts

غذائی تہوار یا رمضان کا ماہ مبارک

 
Recent posts

مسکراہٹ کا معمہ اور ہم

انسانی نفسیات کا مطالعہ کرنے والے بڑے بڑے بقراط اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو مسکرانے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ طلب کرتی ہے اور اگر غلطی سے کوئی قہقہہ لبوں سے پھسل جائے تو فوراً "استغفراللہ" پڑھ کر توبہ کرتی ہے کہ کہیں اس خوشی کا کفارہ کسی بڑی مصیبت کی صورت میں نہ ادا کرنا پڑ جائے۔ ہمارے ہاں مسکراہٹ ایک ایسی "مشکوک سرمایہ کاری" ہے جس پر معاشرہ فوری طور پر شک کا انکم ٹیکس نافذ کر دیتا ہے۔ اگر آپ سڑک پر چلتے ہوئے بلاوجہ مسکرا دیں، تو سامنے سے آنے والا شخص آپ کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھے گا، یہ سمجھتے ہوئے کہ بیچارہ کسی بڑے صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، یا پھر وہ اپنے گریبان میں جھانکے گا کہ کہیں اس کا بٹن تو کھلا نہیں رہ گیا جس پر یہ کمبخت دانت نکال رہا ہے۔ ہماری نفسیات میں سنجیدگی کا درجہ تقویٰ کے برابر ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر بارہ بجے ہوں، ماتھے پر آٹھ شکنیں مستقل رہائش اختیار کر چکی ہوں اور جس کی زبان سے جملہ نہیں بلکہ فتویٰ صادر ہوتا ہو، اسے ہم "نہایت زیرک اور سلجھا ہوا انسان" تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ ...

کرکٹ میں ہار کا نوحہ

پاکستانی سماج میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی 'کتھارسس' ہے جس کے ذریعے ایک پوری قوم اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ جب میدان میں ہرا رنگ لہراتا ہے، تو وہ صرف ایک پرچم نہیں ہوتا، بلکہ اس تھکے ہوئے مزدور، کچلے ہوئے طبقے اور ان گنت ان کہی خواہشوں کا استعارہ بن جاتا ہے جنہیں روزمرہ کی تلخیوں نے گنگ کر رکھا ہو۔ یہ کھیل ہمارے لیے ایک ایسی عارضی پناہ گاہ ہے جہاں ہم اپنی تمام تر محرومیاں اور تقسیم در تقسیم شناختیں بھول کر، ایک گیند اور بلے کے گرد اپنی قومی انا کا طواف کرتے ہیں۔ ہمارا جوش ایک ایسی کیمیا گری ہے جو عام سے انسان کو راتوں رات دیوتا بنا دیتی ہے۔ ہم جیت کو فتحِ مبین کی طرح پی جاتے ہیں، جیسے صدیوں کی پیاس بجھ رہی ہو۔ مگر جب ہار دستک دیتی ہے، تو وہ صرف ایک کھیل کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس آئینے کی طرح ہوتی ہے جو ہمیں ہماری اپنی بے بضاعتی اور بکھرے ہوئے خوابوں کا عکس دکھاتا ہے۔ مایوسی کا وہ بوجھل سایہ جو شکست کے بعد گلیوں میں رقص کرتا ہے، دراصل اس محرومی کا نوحہ ہے جو ہم نے زندگی کے دیگر میدانوں میں سہی ہوتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس ٹیم سے اس قد...

غذائی تہوار یا ماہ رمضان

  ابھی شعبان المعظم  کا آخری ہفتہ شروع ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی 'صالحانہ افراتفری' کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلالِ رمضان کی رویت کا اعلان نہیں ہونے والا، بلکہ کسی ایٹمی جنگ کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے اور پوری قوم نے اگلے تیس دن کسی زیرِ زمین بنکر میں محصور ہو کر گزارنے ہیں۔ بازاروں کا نقشہ بدل جاتا ہے، گلیوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور عام آدمی کا 'تقویٰ' اچانک کچن بھرنے کی تگ و دو میں بدل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان کی تیاری کا فلسفہ یہ ہے کہ دن بھر بھوکا پیا سا رہنا ہے  سو افطاری کے لئے ہر وہ چیز خرید لو جو کھانے پینے والی ہے اور کچن کو اتنا بھر دو کہ الماریوں کے دروازے بند کرنا محال ہو جائے۔ بازار میں مچنے والا وہ غدر دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ شاید محکمہ خوراک نے اعلان کر دیا ہے کہ یکم رمضان سے آٹا، چینی اور گھی، سبزی  خریدنا  قانوناً جرم قرار دے دیا جائے گا، اس لیے جو سمیٹنا ہے، ابھی سمیٹ لو۔ خواتین کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے جوسرد و گرم ماحول میں ایسے خریداری کرتی ہیں جیسے وہ کوئی افطاری نہیں، بلکہ پورے محلے کی دعوتِ ولیمہ کی تیاری کر رہی ہوں...

محبت کا جغرافیہ

دیوار کی پپڑیوں سے جھڑتا ہوا چونا میز پر بچھے ان سفید کاغذوں پر ایک باریک گرد کی صورت جمع ہو رہا تھا جن پر ہاشم گھنٹوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یہ لکیریں آپس میں گتھم گتھا تھیں، کہیں سیدھی، کہیں دائروں کی صورت مڑتی ہوئی اور کہیں ناخنوں سے کریدی گئی خراشوں جیسی۔ باہر گلی میں کسی نے بھاری بوٹوں سے چلتے ہوئے لوہے کے گیٹ کو تھپتھپایا تو ہاشم کے ہاتھ میں تھمی پنسل کا سکہ کاغذ کے ساتھ جھٹکا کھا کر کڑک سے ٹوٹ گیا۔ "کتنی بار کہا ہے، اس دروازے کی زنجیر بدلوا دیں،" ثریا کی آواز کچن کی دھاتی آوازوں کے درمیان سے ابھری۔ "یہ چڑچڑاہٹ اب ہڈیوں میں اترنے لگی ہے۔" ہاشم نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں پنسل کے ٹوٹے ہوئے سکے پر جمی تھیں جو کاغذ پر گرے ہوئے کوئلے کے ایک ذرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیم کے بوڑھے درخت کی ٹہنیاں ہوا کے دوش پر کسی نوحہ گر کے ہاتھوں کی طرح ہل رہی تھیں۔ نیچے گلی میں کھڑے میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک باقاعدہ ترتیب سے گونج رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ یہ آواز اسے اس دوپہر میں لے گئی جب بادلوں کا رنگ بالکل ایسا ہی گہرا سرمئی تھا جی...

کورا ورق

وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا! کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا یہ دستخط نہیں تھے! یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر میری بربادی کے قصے رقم کرے یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا مِرا نصیب ہے! میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال...

پندرہ فروری کا 'اعصابی ٹاکرا' اور مسٹری باؤلنگ کا جادو

  پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا "سماجی بخار" ہے جس کی کوئی ویکسین آج تک دریافت نہیں ہو سکی۔ آج کل سری لنکا کی ہوائیں کچی الائچی سے زیادہ پاکستانیوں کے گرم جوش تبصروں سے مہک رہی ہیں۔ ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں کیا فتح ملی، پوری قوم نے مہنگائی کے نوحوں اور بجلی کے بلوں کے جھٹکوں کو "میوٹ" پر لگا دیا ہے۔ مگر صاحب! یہ مٹھاس تو محض ایک "ایپی ٹائزر" ہے، اصل ضیافت تو 15 فروری کو سجے گی جب روایتی حریف بھارت سامنے ہوگا۔ پچھلے دنوں "انکار اور اقرار" کا جو ایک بھونچال مچا ہوا تھا، اب اس کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ کبھی خبر آتی کہ ہم سرحد پار نہیں جائیں گے، کبھی شرائط کی ایسی فہرست پیش کی جاتی جیسے کوئی روٹھا ہوا دولہا سسرال والوں کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہو۔ خیر، اب فیصلہ ہو چکا، ٹیم میدان میں ہے اور عوام کے دلوں کے "پیس میکر" 15 فروری کی ٹک ٹک گننے میں مصروف ہیں۔ اس بار ٹیم کا نقشہ بھی کسی "ٹیکنالوجی اپ گریڈ" جیسا ہے۔ صائم ایوب کا "نو لک شاٹ" (No Look Shot) تو جادو بن کر سر چڑھ رہا ہے۔ صائم جب آنکھیں بند کر کے گین...