انسانی زندگی کی بساط پر بچھے ہوئے تمام رنگ دراصل اس ایک ادھوری کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جسے ہم روز جیتے اور روز لکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہانی "مان جانے" کی اس آخری التجا پر آ ٹھہرتی ہے جہاں دل دلیلوں کے بوجھ سے تھک کر صرف واسطوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے، اور کبھی یہ ہجر کی ان کالی راتوں کا رزم نامہ بن جاتی ہے جہاں آنکھوں کی لال سرخی وقت کے ضیاع کا نوحہ سناتی ہے۔ ہم ایک ایسی مشینی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں منزل کا تو شاید کسی کو علم نہیں، مگر ہر شخص ہانپ رہا ہے۔ ہم اپنے آج کو کسی ان دیکھے کل کی قربان گاہ پر ذبح کر دیتے ہیں اور پھر عمر بھر ان یادوں کے ملبے سے زندگی تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ٹھکرا دیا تھا۔ معاشرے کی مصنوعی چمک دمک اور لفظوں کے گورکھ دھندے نے ہمارے اندر کے اس فطری سکون کو نگل لیا ہے جو کبھی سادہ گفتگو، بے غرض رفاقت اور سچے جذبوں میں میسر تھا۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار بدل چکا ہے؛ اب ضمیر کی آواز پر کان دھرنا نادانی تصور کیا جاتا ہے اور مفاد کی زبان بولنا عقلمندی۔ ہم نے اپنے سماجی قد تو اونچے کر لیے مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسان بونے ہوتے گئے۔ رشتوں کی ...
کمال یہ نہیں کہ ہم صرف خوشیوں کے ہم سفر بنیں، بلکہ اصل ہنر تو خزاں کی تپتی رت میں اپنے لہجے کی شگفتگی کو گلاب بنا کر بچائے رکھنا ہے۔ زندگی اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہوا کی زد پر چراغ جلانا ناممکن معلوم ہوتا ہے، مگر عزمِ جرات مندانہ وہی ہے جو بجھتی ہوئی لو کو اپنے حوصلے سے دوبارہ زندگی بخش دے۔ تعلقات کی نازک ڈور کو زمانے کی تلخیوں سے بچا کر رکھنا اور بچھڑنے کے کرب میں دوسروں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ضبط کے پردے میں چھپا لینا ہی وہ ظرف ہے جو انسان کو عام سے خاص بنا دیتا ہے۔ خودی کا تقاضا صرف اپنی پسند یا مزاج کی تسکین نہیں، بلکہ اصل کمال اس خاموش ایثار میں ہے جہاں ہم دوسروں کی راحت کے لیے اپنی انا کے کانٹے چن لیں اور پھر صلے کی تمنا کیے بغیر اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ جب ہمارے سامنے دکھوں کا لشکر صف آرا ہو، تب لبوں پر مسکراہٹ کی ڈھال سجا لینا ہی وہ فتح ہے جس کے آگے شکست بھی سرنگوں ہو جاتی ہے۔ طاقت اور دلیل کے باوجود لہجے میں دعا کی خوشبو اور ادب کی لذت برقرار رکھنا وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان "میں" کے محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کے وسیع تر آفاق میں شام...