پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا سماجی تہوار ہے جو ہمیشہ جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ آج کل سری لنکا کی ہوائیں پاکستانیوں کے تبصروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ورلڈ کپ کے پہلے دو میچوں میں فتح کیا ملی، قوم نے مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو عارضی طور پر "میوٹ" کر دیا ہے۔ لیکن صاحب! اس فتح کی مٹھاس اپنی جگہ، اصل امتحان تو 15 فروری کو آنے والا ہے، جب روایتی حریف بھارت سامنے ہوگا۔ پچھلے دنوں جو "انکار اور اقرار" کا بھونچال مچا ہوا تھا، اب اس کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ کبھی خبر آتی تھی کہ ہم انڈیا سے نہیں کھیلیں گے، کبھی کہا جاتا تھا کہ کھیلیں گے لیکن یہ یہ شرائط منوا کر۔ ایسا لگتا تھا جیسے کرکٹ کا میدان نہیں بلکہ کسی گھریلو شادی کا معاملہ ہو رہا ہو جہاں روٹھے ہوئے قریبی رشتے دار کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خیر، اب فیصلہ ہو چکا، ٹیم میدان میں ہے اور عوام کے دلوں کے "پیس میکر" 15 فروری کی ٹک ٹک گن رہے ہیں۔ اس بار ٹیم کا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ صائم ایوب کے "نو لُک شاٹ جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ صائم جب آنکھیں بند کر کے گیند کو باؤنڈری سے باہر بھیجتا ہے، تو ایس...
چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ نے فضا میں ایک مبہم سا سوالیہ نشان بنایا اور پھر خاموشی کے مہیب غار میں اتر گئی۔ میز کے اس پار بیٹھا ہوا شخص شاید کچھ کہہ رہا تھا، اس کے لبوں کی جنبش سے لفظوں کے شکستہ ڈھانچے برآمد ہو رہے تھے، مگر سماعتوں کے پردے پر دستک دینے سے پہلے ہی وہ کہیں غائب ہو جاتے تھے۔ "دیکھو، اگر ہم اس منصوبے کو اگلے ماہ تک..." جملہ ابھی فضا میں معلق تھا کہ کھڑکی سے آنے والی دھوپ کی ایک لکیر اچانک سنہری دھول میں بدل گئی۔ وہ جو حال کی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ کی پوریں میز کی لکڑی کو چھو رہی تھیں، مگر لمس کا احساس کسی قدیم کتبے کی ٹھنڈک میں بدلنے لگا۔ کمرے کی دیواریں یک لخت پگھلنے لگیں اور ان کی جگہ نیلم کی ایک وسعت نے لے لی۔ وہاں، اس نیلی دھند کے پار، ایک پرانی لکڑی کی سیڑھی تھی جس پر پیر رکھتے ہی کچ کچاہٹ کی آواز آتی تھی۔ یہ آواز آج کی نہیں تھی، یہ اس وقت کی تھی جب کیلوں میں زنگ نہیں لگا تھا اور لکڑی کی خوشبو سانسوں میں گلاب کی طرح مہکتی تھی۔ پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے قالین کے ریشے اب گھاس کی پتیاں بن چکے تھے، جن پر شبنم کے قطرے کسی ادھوری دعا کی طرح ٹکے ہوئ...