شہر کی آخری حد پر بنے اس پرانے مکان کی چھت سے جب سورج ڈھلتا تھا، تو دیواروں پر پڑنے والے سائے کسی نوحے کی طرح طویل ہو جاتے تھے۔ زویا نے کھڑکی کے پٹ بند کیے تو لکڑی کی چرچراہٹ نے کمرے کے سناٹے میں ایک لرزہ پیدا کر دیا۔ باہر سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم پڑ چکا تھا، مگر اس کے اندر کی دنیا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی شور سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ میز پر رکھے تانبے کے گلدان میں مرجھائے ہوئے پھول اپنی آخری خوشبو چھوڑ چکے تھے۔ زویا نے ان کی پتیوں کو چھوا۔ وہ خشک ہو کر جھڑ رہی تھیں۔ اسے لگا وہ خود بھی ان پتیوں جیسی ہے، جو شاخ سے ٹوٹنے کے بعد زمین کی مٹی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن نہیں، مٹی ہونا تو تسلیمِ خم ہے، اور وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی تھی۔ تین سال پہلے جب وہ اس گھر میں آئی تھی، تو وہ موم جیسی تھی۔ اتنی نرم کہ سامنے والے کی ایک آہ پر پگھل جاتی۔ وہ حارث کی خوشی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کے فن سے واقف تھی۔ حارث کو چائے میں چینی کم پسند تھی، تو زویا نے اپنی زندگی سے مٹھاس کم کر دی۔ اسے اونچی آواز ناپسند تھی، تو زویا نے اپنی ہنسی کو سرگوشیوں میں بدل لیا۔ یہ اس کی کمزوری نہیں تھی...
اسلام آباد کی سرد و گرم دوپہروں میں، جب سورج کی شعاعیں سرکاری دفاتر کی گرد آلود کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو وہ اکثر ان کاغذوں کے پلندے پر پڑتی ہیں جنہیں ہم فائل کہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں زندگی اپنے پورے شور و ہنگامے کے ساتھ رواں اداں ہوتی ہے، مگر ان دفتروں کی الماریوں میں ایک عجیب سی خاموشی دفن ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کاغذوں کی نہیں ہے، یہ ان خوابوں کی سسکیاں ہیں جو برسوں سے ایک دستخط کے منتظر ہیں۔ عام آدمی کے لیے فائل محض کاغذوں کا ایک پلندہ، ایک ہندسہ یا ایک بے جان اندراج ہوتی ہے۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ان پیلے پڑتے کاغذوں کے پیچھے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چھپے ہوتے ہیں؟ کسی فائل کے اندر ایک بیوہ کے وظیفے کا سوال ہوتا ہے جس سے اس کے چولہے کی آگ وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بستے میں ایک نوجوان کی ملازمت کا پروانہ دبا ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی معائنے میں ایک دیانتدار اہلکار کی ترقی کا معاملہ ہوتا ہے جو تیس سال کی خدمت کے بعد صرف ایک جائز حق کا طالب ہوتا ہے۔ ہم جب کسی فائل پر اعتراض لگا کر اسے ایک میز سے دوسری میز پر منتقل کرتے ہیں،...