میز پر رکھے ہوئے دو پیالے اب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے چائے کی بھاپ میں اب وہ دھندلے چہرے نظر نہیں آتے جو کبھی ہنستے ہوئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنا عکس ڈھونڈتے تھے میں نے آج پھر کچی روٹی کا وہ ٹکڑا توڑ کر پلیٹ کے کونے میں رکھ دیا ہے جیسے کوئی پرانی عادت کسی نئے دکھ کی دہلیز پر دم توڑ رہی ہو کھڑکی کے باہر وہی بوڑھا پودا اب بھی کھڑا ہے جس کی شاخیں اب دیوار کے اندر جھکنے لگی ہیں شاید وہ ان سرگوشیوں کو سننا چاہتا ہے جو ہم نے برسوں پہلے خاموشی کے نام کر دی تھیں تم نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا مگر تم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وقت گزرنے کے بعد جو خالی کمرے رہ جاتے ہیں ان کی دیواریں اتنی تنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟ آج میں نے الماری سے تمہارا وہ پرانا سویٹر نکالا ہے جس کے دھاگے اب جگہ جگہ سے ادھڑ رہے ہیں میں نے اسے پہننے کی کوشش کی مگر وہ مجھے بہت چھوٹا لگا شاید میں بڑا ہو گیا ہوں یا شاید میرا دکھ اب اتنا پھیل چکا ہے کہ تمہاری یادوں کا کوئی بھی پیراہن میرے وجود کو ڈھانپ نہیں سکتا باہر گلی میں بچوں کے شور میں اب وہ کھنک نہیں رہی یا شاید میرے کانوں میں اس تغافل کی کرچیاں چبھ گئی ہ...
کمرے کے کونے میں رکھی وہ پرانی میز اب بھی اسی طرح ڈگمگاتی تھی جیسے برسوں پہلے جب اس پر پہلی بار سیاہی گری تھی۔ حامد نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں بستی کی شام کسی میلے کچیلے کپڑے کی طرح لٹک رہی تھی۔ پرندے خاموشی سے اپنے گھونسلوں کی طرف جا رہے تھے، مگر ان کی پرواز میں وہ تیزی نہیں تھی جو کسی خوشخبری کے لانے والے میں ہوتی ہے۔ حامد کی انگلیاں میز پر پڑے ایک خالی کاغذ کو سہلا رہی تھیں۔ یہ کاغذ پچھلے کئی دنوں سے اسی طرح سفید اور بے جان پڑا تھا۔ اسے یاد آیا کہ کبھی اس کے پاس لفظوں کا ایک لامتناہی ذخیرہ ہوتا تھا، جو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی مٹی کی خوشبو کی طرح مہک اٹھتا تھا۔ اب تو یہ حال تھا کہ ایک جملہ لکھنے کے لیے بھی اسے یادوں کے ملبے میں گہرا اترنا پڑتا۔ "چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے،" زینب کی آواز کچن سے آئی۔ زینب، جو پچھلے بیس سالوں سے حامد کے سکوت اور اس کی تحریروں کے درمیان ایک پل بنی رہی تھی، اب خود بھی ایک خاموش تصویر کی طرح لگتی تھی۔ حامد نے پیالی اٹھائی۔ چائے کی کڑواہٹ اس کے حلق میں اتری تو اسے محسوس ہوا کہ یہ کڑواہٹ چائے کی نہیں، بلکہ ان کہی باتوں کی ہے جو ان دونوں کے درمیان ایک...