Skip to main content

Posts

سفر جو کبھی کیا ہی نہیں گیا

کچھ راستے نقشوں پر نہیں، صرف ارادوں کی سلوٹوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں، دراصل وہی ہے جس نے ہمیں سب سے زیادہ تھکایا ہے۔ وہ ایک ایسا متوازی رستہ ہے جو ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر جس پر کبھی ہمارے پاؤں کا نشان نہیں پڑتا۔ ہم اکثر ان ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے جو کبھی پلیٹ فارم پر آئی ہی نہیں تھیں، اور ان ہوائوں کے اسیر رہے جن کا کوئی رخ نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ منزل تک پہنچنے والے تو سستانے بیٹھ گئے، مگر وہ جو کہیں روانہ ہی نہ ہوئے، ان کے اعصاب آج بھی کسی انجانی مسافت کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم نے اپنی ممکنہ زندگی میں کرنا تھا۔ وہ انتخاب جو ہم نے نہیں کیے، وہ دروازے جو ہم نے نہیں کھولے، اور وہ لفظ جو ہم نے ہونٹوں کی دہلیز پر ہی روک لیے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس جگہ سب سے زیادہ قیام پذیر ہوں جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں؟ شاید وہ ان دیکھا رستہ ہی ہماری اصل شناخت ہو، کیونکہ حاصل شدہ تو مٹی ہو جاتا ہے، مگر جو لا حاصل رہ جائے، وہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ کسی دن وقت ملے تو خاموشی سے خود سے پوچھیے گا کہ کیا آپ اس مسافر کو جانتے ہیں جو آپ کے اندر بیٹھا اس ب...
Recent posts

باوقار موت

  انسانی عظمت کا سفر ہمیشہ سے تلاطم خیز موجوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا نام رہا ہے۔ اس کائناتِ رنگ و بو میں، جہاں مصلحتوں کے سائے قدم قدم پر ضمیر کی روشنی چھیننے کے درپے ہوتے ہیں، وہاں دنیاوی طاقتوں کے جاہ و جلال کے سامنے سر بلند رکھنا ہی وہ جوہرِ نایاب ہے جو مٹی کے پتلےکو لازوال بنا دیتا ہے۔ زندگی محض سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اقدار کی پاسبانی ہے جن پر سمجھوتہ کرنا روح کی موت کے مترادف ہے۔ جب وقت کے فرعون اپنی مصنوعی طاقت کے زعم میں انسانیت کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک غیرت مند انسان ان کے آہنی شکنجوں میں بھی اپنے ماتھے پر شکست کی شکن نہیں آنے دیتا۔ دنیاوی طاقتیں عارضی ہیںچاہے وہ زر و زمین کا جادو ہو یا تخت و تاج کا رعب ۔۔ یہ سب ڈھلتی چھاؤں کی مانند ہیں۔ اصل حکمرانی اس قلبِ مومن کی ہے جو حق کی صداقت پر یقین رکھتا ہے اور مصلحت پسندی کے بازار میں اپنی انا کا سودا نہیں کرتا۔ عزت کے ساتھ جینا ایک کٹھن راستہ ہے، مگر اسی وقار کے ساتھ موت کو گلے لگانا انسانی عظمت کی معراج ہے۔ موت تو ہر ذی روح کا مقدر ہے، لیکن وہ موت جو سر جھکا کر زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے، سچائی کی...

خالی سڑکیں

  اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔ میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم...

خوشی کا فلسفہ

 

موڈ اور رنگوں کی نفسیات

 

کیا خوشی ہمارے ہاتھ میں ہے؟

  انسان کا قدیم ترین خواب سونا حاصل کرنا یا محل بنانا بنانا نہیں تھا، بلکہ سانسوں کی آمدورفت میں چھپی اس کیفیت کو پانا تھا جسے ہم خوشی کہتے ہیں۔ صدیوں سے فلسفیوں نے سر پٹخے، صوفیوں نے جنگلوں کی خاک چھانی اور اب سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں نیورانز کے جال بچھا دیے ہیں، مگر سوال وہیں کا وہیں ہے- کیا خوشی کوئی ایسی چڑیا ہے جو ہمارے آنگن میں خود اترتی ہے، یا یہ وہ شکار ہے جسے ہمیں خود پکڑنا پڑتا ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے ہاتھ میں ہے؟ جدید دور کے مثبت نفسیات کے ماہرین، جن میں مارٹن سیلگمین کا نام سرِفہرست ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے ایک طویل عرصہ صرف یہ سمجھنے میں گزار دیا کہ دکھ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے، مگر ہم یہ پوچھنا بھول گئے کہ سکھ کیا ہے اور اسے کیسے بڑھایا جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی باغبان سے سکھایا جائے کہ پودا مرنے سے کیسے بچانا ہے ، مگر اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اسے تناور درخت کیسے بنایا جائے۔ سائنس کی دنیا میں ایک نظریہ بہت مشہور ہے جسے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ (Hedonic Set Point) کہا جاتا ہے۔ کچھ محققین کا خیال تھا کہ ہماری خوشی کا پچاس فیصد حصہ ہماری جینیات طے کر دیتی ہیں...

دعا کی قبولیت کا یقین

رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے ...