اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔ میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی