زندگی کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔ یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سا...
زندگی اکثر ایسے موڑ پر انسان کو کھڑا کر دیتی ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔ محبت کا سفر کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دری...