Skip to main content

Posts

وٹس ایپ گروپ یا ڈیجیٹل خانقاہیں

رمضان المبارک کا چاند ابھی افق پر نمودار نہیں ہوتا کہ ہمارے واٹس ایپ کی "ڈیجیٹل خانقاہوں" میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس جو سارا سال کسی متروکہ حویلی کی طرح سائیں سائیں کرتے ہیں اور جن میں آخری میسج پچھلی عید پر کسی دور کے کزن نے "خیر مبارک" کا بھیجا تھا، اچانک مردہ خانہ سے نکل کر میدانِ جنگ بن جاتے ہیں۔ جیسے ہی رویتِ ہلال کمیٹی کے مولانا صاحب دوربین سے چاند برآمد کرتے ہیں، ادھر واٹس ایپ پر مبارک بادوں کا ایسا ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے کہ بندے کا فون تھرتھرا کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ یہ گروپس دراصل ہماری سماجی زندگی کا وہ نچوڑ ہیں جہاں عبادت، عقیدت اور خالص دیسی مزاح کا ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوتا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی لیبارٹری میں نہیں ملتی۔   رمضان میں ان گروپس کا سب سے خطرناک کردار وہ "سحری بیدار فورس" ہوتی ہے جنہیں اللہ نے شاید نیند کی نعمت سے محروم کر کے دوسروں کی نیندیں حرام کرنے پر مامور کیا ہوتا ہے۔ ابھی سحری میں دو گھنٹے باقی ہوتے ہیں کہ گروپ میں "اٹھو مومنو سحری کا وقت ہوا چاہتا ہے" کے دیدہ زیب پوسٹرز کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ ان پوس...
Recent posts

بندگی کا نصاب اور بدن کی بازیافت

رمضان صرف ایک مہینے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح اور بدن کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی ایک سالانہ مشق ہے۔ جیسے ہی ہلالِ رمضان آسمان کی وسعتوں میں نمودار ہوتا ہے، کائنات کا سارا آہنگ بدل جاتا ہے۔ گلی کوچوں میں ایک عجیب سی مہک رچ بس جاتی ہے اور انسان، جو عام دنوں میں اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے، اچانک ایک غیبی نظم و ضبط کے تابع ہو جاتا ہے۔ ہم اسے عبادت کہتے ہیں، اور بلاشبہ یہ خالق کی خوشنودی کا ذریعہ ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ تیس دن ہماری حیاتیاتی مشینری کی "اوور ہالنگ" کا وہ نسخہ ہیں جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا۔ سحر کے وقت جب ستارے اپنی آخری چمک دکھا رہے ہوتے ہیں، اس وقت بستر کی گرمی چھوڑنا اور دسترخوان پر بیٹھنا بظاہر ایک مشقت ہے، مگر یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے انسانی ارادے کی تربیت شروع ہوتی ہے۔ ہم اکثر اپنی صحت کی خرابی کا رونا روتے ہیں، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا بدن مسلسل کام کرنے والی ایک ایسی مشین ہے جسے ہم نے کبھی آرام کا موقع ہی نہیں دیا۔ سارا سال معدے کی بھٹی چوبیس گھنٹے دہکتی رہتی ہے۔ ہم بھوک نہ ہونے پر بھی کھاتے ہیں، لذت کے لیے...

غذائی تہوار یا رمضان کا ماہ مبارک

 

مسکراہٹ کا معمہ اور ہم

انسانی نفسیات کا مطالعہ کرنے والے بڑے بڑے بقراط اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو مسکرانے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ طلب کرتی ہے اور اگر غلطی سے کوئی قہقہہ لبوں سے پھسل جائے تو فوراً "استغفراللہ" پڑھ کر توبہ کرتی ہے کہ کہیں اس خوشی کا کفارہ کسی بڑی مصیبت کی صورت میں نہ ادا کرنا پڑ جائے۔ ہمارے ہاں مسکراہٹ ایک ایسی "مشکوک سرمایہ کاری" ہے جس پر معاشرہ فوری طور پر شک کا انکم ٹیکس نافذ کر دیتا ہے۔ اگر آپ سڑک پر چلتے ہوئے بلاوجہ مسکرا دیں، تو سامنے سے آنے والا شخص آپ کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھے گا، یہ سمجھتے ہوئے کہ بیچارہ کسی بڑے صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، یا پھر وہ اپنے گریبان میں جھانکے گا کہ کہیں اس کا بٹن تو کھلا نہیں رہ گیا جس پر یہ کمبخت دانت نکال رہا ہے۔ ہماری نفسیات میں سنجیدگی کا درجہ تقویٰ کے برابر ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر بارہ بجے ہوں، ماتھے پر آٹھ شکنیں مستقل رہائش اختیار کر چکی ہوں اور جس کی زبان سے جملہ نہیں بلکہ فتویٰ صادر ہوتا ہو، اسے ہم "نہایت زیرک اور سلجھا ہوا انسان" تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ ...

کرکٹ میں ہار کا نوحہ

پاکستانی سماج میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی 'کتھارسس' ہے جس کے ذریعے ایک پوری قوم اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ جب میدان میں ہرا رنگ لہراتا ہے، تو وہ صرف ایک پرچم نہیں ہوتا، بلکہ اس تھکے ہوئے مزدور، کچلے ہوئے طبقے اور ان گنت ان کہی خواہشوں کا استعارہ بن جاتا ہے جنہیں روزمرہ کی تلخیوں نے گنگ کر رکھا ہو۔ یہ کھیل ہمارے لیے ایک ایسی عارضی پناہ گاہ ہے جہاں ہم اپنی تمام تر محرومیاں اور تقسیم در تقسیم شناختیں بھول کر، ایک گیند اور بلے کے گرد اپنی قومی انا کا طواف کرتے ہیں۔ ہمارا جوش ایک ایسی کیمیا گری ہے جو عام سے انسان کو راتوں رات دیوتا بنا دیتی ہے۔ ہم جیت کو فتحِ مبین کی طرح پی جاتے ہیں، جیسے صدیوں کی پیاس بجھ رہی ہو۔ مگر جب ہار دستک دیتی ہے، تو وہ صرف ایک کھیل کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس آئینے کی طرح ہوتی ہے جو ہمیں ہماری اپنی بے بضاعتی اور بکھرے ہوئے خوابوں کا عکس دکھاتا ہے۔ مایوسی کا وہ بوجھل سایہ جو شکست کے بعد گلیوں میں رقص کرتا ہے، دراصل اس محرومی کا نوحہ ہے جو ہم نے زندگی کے دیگر میدانوں میں سہی ہوتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس ٹیم سے اس قد...

غذائی تہوار یا ماہ رمضان

  ابھی شعبان المعظم  کا آخری ہفتہ شروع ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی 'صالحانہ افراتفری' کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلالِ رمضان کی رویت کا اعلان نہیں ہونے والا، بلکہ کسی ایٹمی جنگ کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے اور پوری قوم نے اگلے تیس دن کسی زیرِ زمین بنکر میں محصور ہو کر گزارنے ہیں۔ بازاروں کا نقشہ بدل جاتا ہے، گلیوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور عام آدمی کا 'تقویٰ' اچانک کچن بھرنے کی تگ و دو میں بدل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان کی تیاری کا فلسفہ یہ ہے کہ دن بھر بھوکا پیا سا رہنا ہے  سو افطاری کے لئے ہر وہ چیز خرید لو جو کھانے پینے والی ہے اور کچن کو اتنا بھر دو کہ الماریوں کے دروازے بند کرنا محال ہو جائے۔ بازار میں مچنے والا وہ غدر دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ شاید محکمہ خوراک نے اعلان کر دیا ہے کہ یکم رمضان سے آٹا، چینی اور گھی، سبزی  خریدنا  قانوناً جرم قرار دے دیا جائے گا، اس لیے جو سمیٹنا ہے، ابھی سمیٹ لو۔ خواتین کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے جوسرد و گرم ماحول میں ایسے خریداری کرتی ہیں جیسے وہ کوئی افطاری نہیں، بلکہ پورے محلے کی دعوتِ ولیمہ کی تیاری کر رہی ہوں...

محبت کا جغرافیہ

دیوار کی پپڑیوں سے جھڑتا ہوا چونا میز پر بچھے ان سفید کاغذوں پر ایک باریک گرد کی صورت جمع ہو رہا تھا جن پر ہاشم گھنٹوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یہ لکیریں آپس میں گتھم گتھا تھیں، کہیں سیدھی، کہیں دائروں کی صورت مڑتی ہوئی اور کہیں ناخنوں سے کریدی گئی خراشوں جیسی۔ باہر گلی میں کسی نے بھاری بوٹوں سے چلتے ہوئے لوہے کے گیٹ کو تھپتھپایا تو ہاشم کے ہاتھ میں تھمی پنسل کا سکہ کاغذ کے ساتھ جھٹکا کھا کر کڑک سے ٹوٹ گیا۔ "کتنی بار کہا ہے، اس دروازے کی زنجیر بدلوا دیں،" ثریا کی آواز کچن کی دھاتی آوازوں کے درمیان سے ابھری۔ "یہ چڑچڑاہٹ اب ہڈیوں میں اترنے لگی ہے۔" ہاشم نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں پنسل کے ٹوٹے ہوئے سکے پر جمی تھیں جو کاغذ پر گرے ہوئے کوئلے کے ایک ذرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیم کے بوڑھے درخت کی ٹہنیاں ہوا کے دوش پر کسی نوحہ گر کے ہاتھوں کی طرح ہل رہی تھیں۔ نیچے گلی میں کھڑے میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک باقاعدہ ترتیب سے گونج رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ یہ آواز اسے اس دوپہر میں لے گئی جب بادلوں کا رنگ بالکل ایسا ہی گہرا سرمئی تھا جی...