Skip to main content

Posts

رنگوں کا سحر اور انسانی روح کا کینوس

  کائنات، اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود، محض کچھ بنیادی عناصر کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا کینوس ہے جس پر فطرت نے رنگوں کے بے شمار نقوش ثبت کر رکھے ہیں۔ ہم جب صبح آنکھ کھولتے ہیں تو آسمان کا نیلا پن، سورج کی سنہری کرنیں، اور گھاس کی ہریالی ہمارے حواس کو جس طرح جکڑتی ہیں، وہ کوئی اتفاقی عمل نہیں ہے۔ یہ رنگ خاموش زبان بولتے ہیں۔ یہ ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں اترتے ہیں، ہماری نبض کی رفتار کو تبدیل کرتے ہیں، اور ہمارے مزاج کے موسموں کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ مقامات پر جا کر آپ کو بے سبب سکون کیوں ملتا ہے؟ یا کسی خاص رنگ کا لباس پہن کر آپ کے اندر خود اعتمادی کی ایک لہر کیوں دوڑ جاتی ہے؟ یہ رنگوں کا نفسیاتی جادو ہے۔ انسانی دماغ رنگوں کے معاملے میں حد درجہ حساس ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو رنگ روشنی کی مختلف طول موج (wavelengths) ہیں، لیکن نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ جذبات کی ترجمانی ہیں۔ جب آپ سرخ رنگ کو دیکھتے ہیں، تو آپ کا دماغ فوراً ایک ارتقائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ سرخ، جو آگ اور خون کا رنگ ہے، ہمارے اندر جوش، بھوک اور کبھی کبھی غصہ پیدا کرت...
Recent posts

غروب شمس اور طلسم شب

ہم ہمیشہ غروبِ آفتاب کو ایک اختتام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک ایسا لمحہ جب سورج، اپنی ساری سنہری کرنیں سمیٹ کر افق کے پیچھے چھپ جاتا ہے، اور ہم اسے دن کا خاتمہ قرار دے کر اپنے روزمرہ کے کاموں سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غروب، ایک موت ہے، ایک اندھیرا ہے جو روشنی کو نگلنے آ رہا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ غروب ہوتے ہوئے اس شمس کیا پتہ کہ جس رات کو وہ اندھیرا سمجھ کر چھوڑ رہا ہے، وہ رات ایک الگ دنیا ہے۔ اسی نکتے پر میرا ایک شعر ہے غروب ہوتے ہوئے شمس کو خبر ہی نہین کہ رات ، رات نہیں، کائنات ہوتی ہے۔ غروبِ آفتاب، دراصل صرف ایک نقطہ نظر کا بدل جانا ہے۔ زمین کے کسی مخصوص گوشے سے روشنی کا ہٹ جانا، سورج کا زوال نہیں، بلکہ اس کا ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ وہ شمس جو غروب ہو رہا ہے، وہ اپنی مستی میں سرشار ہے، اسے اپنی شان و شوکت کا زعم ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا ویران ہو جائے گی۔ اسے خبر نہیں کہ اس کے پیچھے جو کائنات امڈ کر آ رہی ہے، وہ اس کی کرنوں سے کہیں زیادہ گہری، کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ پُراسرار ہے۔ ہم انسان بھی اکثر اپنی زندگیوں میں اسی سورج کی طرح ہوتے ہی...

کبھی بولو ، کبھی سنو

ہم سب ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص بولنا چاہتا ہے، لیکن کوئی سننا نہیں چاہتا۔ یہ ایک عجیب و غریب تماشہ ہے جہاں آوازوں کا شور تو ہے، لیکن معنویت کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ہم بولتے ہیں تاکہ خود کو ثابت کر سکیں، خود کو منوا سکیں، اور اپنی ذات کی پہچان کروا سکیں۔ بولنے میں ایک نشہ ہے، ایک ایسی لذت ہے جو انسان کو یہ گمان دیتی ہے کہ وہ کائنات کا محور ہے۔ مگر دوسری طرف سننا ہے، جو آج کے دور میں ایک بھولی ہوئی اور کٹھن ریاضت بن چکا ہے۔ انسانی جبلت میں اظہار کی خواہش سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجود کے دائرے کو پھیلا رہے ہیں۔ لبوں سے نکلتا ہر لفظ ایک روشنی کی کرن کی طرح ہوتا ہے، جو ہمارے اندر کے اندھیروں کو دور کرتا ہے اور دوسروں پر اپنی چھاپ چھوڑتا ہے۔ یہ بولنا محض آوازوں کا تکرار نہیں، بلکہ اپنی انا کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جتنا ہم بولیں گے، اتنے ہی ہم موجود رہیں گے۔ ایک ماہر نفسیات کے زاویے سے دیکھیں تو بولنا خود کو دنیا کے سامنے ڈیزائن کرنے کا عمل ہے۔ ہم اپنی پسندیدہ کہانیاں سناتے ہیں، اپنے دکھوں کا اظہار کرتے ہیں، اور اپنی ...

معاف کرنا کیوں مشکل ہے؟

زندگی  کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔  یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سا...

خاموش دریا اور حرفِ آرزو

زندگی اکثر ایسے موڑ پر  انسان کو کھڑا کر دیتی  ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔ محبت کا سفر  کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دری...

ملاقاتوں کے بوجھ

کبھی آپ نے غور کیا ہےکہ ہم زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے ہزاروں چہروں کو دیکھتے ہیں، بہت سوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، کچھ کے ساتھ طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، اور پھر کسی موڑ پر رک کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ایسی تھیں جن کے بعد روح میں ایک عجیب سی خنکی، ایک تسکین اور ایک ناقابل بیان ٹھہراؤ اتر آیا، جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر نے طویل سفر کے بعد بوجھل کندھوں سے گٹھڑی اتار دی ہو۔ اس کے برعکس، کچھ ملاقاتیں ایسی بھی رہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ بوجھل، اداس اور خالی کرجاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، یہ انسانی نفسیات اور روحانی کیمیا کا ایک پیچیدہ سا نچوڑ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جن لوگوں سے مل کر ہمیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ہمارے وجود کے لیے ’آئینہ‘ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہمیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم جیسے ہیں، جس حال میں ہیں، وہ ہمیں اسی طرح قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں محض الفاظ کے تبادلے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ایک ہم آہنگ خاموشی میں بیٹھ جانا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کے سامنے ہوتے ہیں جس کے دل میں آپ کے لی...

توازن کا نا دیدہ ہاتھ۔ کالم