Skip to main content

Posts

دعا کی قبولیت کا یقین

رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے ...
Recent posts

رنگ واقعی آپ کے موڈ کو بدل سکتے ہیں؟

  رنگوں کی کائنات محض بصارت کا دھوکا نہیں، بلکہ یہ روح کے نہاں خانوں میں اتر جانے والی وہ خاموش زبان ہے جو لفظوں کے سہارے کے بغیر دل کا حال کہہ دیتی ہے۔ کائنات کے کینوس پر بکھرا ہوا ہر رنگ اپنی ایک الگ تاثیر، اپنی ایک الگ داستان اور اپنا ایک منفرد نفسیاتی پس منظر رکھتا ہے۔ جب ہم قدرت کی صناعی پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اس دنیا کو صرف کالا اور سفید نہیں بنایا، بلکہ اسے قوسِ قزح کے رنگوں سے سجا کر انسانی فطرت کے تضادات اور میلانات کی تسکین کا سامان کیا ہے۔ رنگوں کا انسانی موڈ اور نفسیات پر اثر محض کوئی شاعرانہ تخیل یا مفروضہ نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی سائنسی تحقیقات اور نفسیاتی تجربات نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ رنگ ہمارے عصبی نظام، ہمارے فیصلوں اور یہاں تک کہ ہمارے خون کے دباؤ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انسان کا رنگوں کے ساتھ تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود شعورِ انسانی۔ قدیم تہذیبوں میں رنگوں کو علاج معالجے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جہاں نیلا رنگ سکون کے لیے اور سرخ رنگ توانائی کی بحالی کے لیے مخصوص تھا۔ آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی اور...

بچپن کا روزہ

 بچپن کی یادیں کسی پرانے البم کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں جب بھی کھولا جائے، ان سے جڑی خوشبوئیں اور رنگ ذہن کو مہکا دیتے ہیں۔ ان یادوں میں سب سے روشن اور دلکش نقش پہلے روزے کا ہے، جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار تقریب تھی جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب بڑے شوق اور ولولے سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ مئی جون کی کڑکتی دھوپ تھی اور گرمی اپنے پورے جوبن پر۔ صبح سحری کے وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں، لیکن جوں جوں سورج سوا نیزے پر آیا، سارا شوق پسینہ بن کر بدن سے بہنے لگا۔ پیاس کی شدت نے وہ حال کیا کہ معصوم ذہن میں بار بار ٹھنڈے پانی  کا تصور چپک کر رہ گیا  ۔ ہونٹوں پر خشکی کی پپڑیاں جم گئیں اور وہ گھبراہٹ طاری ہوئی جو صرف ایک تپتی دوپہر میں روزہ رکھنے والا بچہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بار بار غسل خانے جا کر سر پر پانی ڈالنا اور ٹھنڈک تلاش کرنا اس وقت کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔ لیکن اس کٹھن دوپہر کے بعد جو شام آئی، وہ آج بھی میرے حافظے میں رقص کرتی ہے۔ جوں ہی سورج ڈھلنے لگا، گھر کی رونق بدل گئی۔ خالہ ، پھوپھی ، چچا ...

بندگی کا نصاب

 

وٹس ایپ گروپ یا ڈیجیٹل خانقاہیں

رمضان المبارک کا چاند ابھی افق پر نمودار نہیں ہوتا کہ ہمارے واٹس ایپ کی "ڈیجیٹل خانقاہوں" میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس جو سارا سال کسی متروکہ حویلی کی طرح سائیں سائیں کرتے ہیں اور جن میں آخری میسج پچھلی عید پر کسی دور کے کزن نے "خیر مبارک" کا بھیجا تھا، اچانک مردہ خانہ سے نکل کر میدانِ جنگ بن جاتے ہیں۔ جیسے ہی رویتِ ہلال کمیٹی کے مولانا صاحب دوربین سے چاند برآمد کرتے ہیں، ادھر واٹس ایپ پر مبارک بادوں کا ایسا ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے کہ بندے کا فون تھرتھرا کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ یہ گروپس دراصل ہماری سماجی زندگی کا وہ نچوڑ ہیں جہاں عبادت، عقیدت اور خالص دیسی مزاح کا ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوتا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی لیبارٹری میں نہیں ملتی۔   رمضان میں ان گروپس کا سب سے خطرناک کردار وہ "سحری بیدار فورس" ہوتی ہے جنہیں اللہ نے شاید نیند کی نعمت سے محروم کر کے دوسروں کی نیندیں حرام کرنے پر مامور کیا ہوتا ہے۔ ابھی سحری میں دو گھنٹے باقی ہوتے ہیں کہ گروپ میں "اٹھو مومنو سحری کا وقت ہوا چاہتا ہے" کے دیدہ زیب پوسٹرز کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ ان پوس...

بندگی کا نصاب اور بدن کی بازیافت

رمضان صرف ایک مہینے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح اور بدن کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی ایک سالانہ مشق ہے۔ جیسے ہی ہلالِ رمضان آسمان کی وسعتوں میں نمودار ہوتا ہے، کائنات کا سارا آہنگ بدل جاتا ہے۔ گلی کوچوں میں ایک عجیب سی مہک رچ بس جاتی ہے اور انسان، جو عام دنوں میں اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے، اچانک ایک غیبی نظم و ضبط کے تابع ہو جاتا ہے۔ ہم اسے عبادت کہتے ہیں، اور بلاشبہ یہ خالق کی خوشنودی کا ذریعہ ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ تیس دن ہماری حیاتیاتی مشینری کی "اوور ہالنگ" کا وہ نسخہ ہیں جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا۔ سحر کے وقت جب ستارے اپنی آخری چمک دکھا رہے ہوتے ہیں، اس وقت بستر کی گرمی چھوڑنا اور دسترخوان پر بیٹھنا بظاہر ایک مشقت ہے، مگر یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے انسانی ارادے کی تربیت شروع ہوتی ہے۔ ہم اکثر اپنی صحت کی خرابی کا رونا روتے ہیں، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا بدن مسلسل کام کرنے والی ایک ایسی مشین ہے جسے ہم نے کبھی آرام کا موقع ہی نہیں دیا۔ سارا سال معدے کی بھٹی چوبیس گھنٹے دہکتی رہتی ہے۔ ہم بھوک نہ ہونے پر بھی کھاتے ہیں، لذت کے لیے...

غذائی تہوار یا رمضان کا ماہ مبارک