Skip to main content

Posts

گلی میں آج چاند اترا

تمہارا آنا کسی کچے مکان کی منڈیر پر پہلی کرن کے اترنے جیسا ہے کتنی ہی مدت سے اس گلی میں خاک اڑتی رہی اور وقت کے پیروں تلے یادوں کے تارے کچلتے رہے مگر آج۔۔۔ جب تم نے اس بنجر راستے پر قدم رکھا ہے تو یوں لگا ہے جیسے کسی سوکھے ہوئے پیڑ پر کوئی ہرا زخم پھر سے کلی بن گیا ہو ہاں! بہت دنوں بعد میری وحشت زدہ گلی میں ایک چاند اترا ہے! #نوریات
Recent posts

جسم سمندر

وہ جو باتیں پی جاتے ہیں ان کے اندر ایک سمندر خاموشی سے بہتا ہے جس کی موجیں ان کے جسم کو دھیرے دھیرے چاٹتی ہیں #نوریات

احساس

مٹی کے برتن میں ٹھہرے ہوئے پانی کی ٹھنڈک اور قدیم پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں ایک ایسی سچائی پوشیدہ ہے جو کسی مصنوعی چکا چوند کی محتاج نہیں، کیونکہ اصل حسن تو ان چھوٹے چھوٹے لمحوں کے تسلسل میں ہے جو خاموشی سے بیت جاتے ہیں. جب صبح کی پہلی کرن کسی کچی دیوار کے گوشے کو چھوتی ہے، تو وہ دیوار محض مٹی کا ڈھیر نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ استعارہ بن جاتی ہے، جہاں مادہ ختم ہوتا ہے اور ایک دھیما احساس جنم لیتا ہے. وجود کی اصل معراج کسی بلند و بالا پہاڑ کو چھونا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی اس فطری جبلت کو سننا ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کائنات کے کتنے قریب ہیں. جس طرح وہ دریا جو سمندر تک نہیں پہنچ پایا، وہ ناکام نہیں بلکہ اپنے راستے کی پیاس بجھانے کا ایک مقدس ذریعہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی کا اصل رس کسی منزل کو پا لینے میں نہیں بلکہ اس سفر کے انکشافات میں ہے. شکر گزاری کسی خارجی وجہ کی محتاج نہیں، بلکہ صرف "ہونے" کا ایک بھرپور اور پروقار احساس ہے جو ہمیں ہماری اصل جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے. #نوریات

مشترکہ وراثت

ہماری قسمت میں صرف آمین کے خالی پیالے آئے وہ جو ہم نے خوابوں کی فصل بوئی تھی اسے محرومی کی دیمک چاٹ گئی اب جو یہ ملال کی جاگیر بچی ہے اسے آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں کہ ردِ دعا کے اس دکھ میں تمہارے ہاتھ بھی تو میرے ساتھ برابر کے شریک تھے #نوریات

خلا

محبت جب رخصت ہوتی ہے تو اپنے پیچھے جگہ خالی نہیں چھوڑتی وہاں خوف کو بسا دیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے روشنی کے جاتے ہی اندھیرا کسی فاتح کی طرح پورے ماحول پر قابض ہو جاتا ہے اور ہم اپنی ہی دھڑکن سے ڈرنے لگتے ہیں #نوریات