Skip to main content

Posts

نامکمل کاغذ

  ادھوری سطروں سے لکھے کاغذ ہماری ان کہی باتوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں کبھی مکمل ہونے کے ڈر سے خود ہی کھو جاتے ہیں #نوریات
Recent posts

مٹی کا قرض

پرانے درختوں کی جڑیں زمین کا حافظہ ہیں وہ انسانی پاؤں کی چاپ سے کہانیاں بُنتی ہیں اور گہرائی میں اتر کر خاموشی کو ٹرانسلیٹ کرتی ہیں #نوریات

پرانے درختوں کی جڑیں

ہم عموماً درختوں کو ان کے پھیلاؤ، پھلوں یا سائے سے ناپتے ہیں، لیکن ان کی اصل کائنات تو زمین کے نیچے اس تاریک خاموشی میں ہے جہاں جڑیں بستی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جڑیں زمین کی تہوں میں چھپی ان سب باتوں کی امین ہوں گی جنہیں ہم نے دفن کر دیا تھا؟ یہ صرف پانی کی تلاش میں زمین کا سینہ نہیں چیرتیں، بلکہ یہ مٹی کے سینے میں محفوظ قدیم انسانی تہذیبوں کی آہٹیں سنتی ہیں۔ پرانے درختوں کی جڑیں دراصل زمین کا اعصابی نظام ہی ہیں۔ جب ہم اوپر کی دنیا میں نئے شہر بساتے ہیں، پرانی دیواریں گراتے ہیں یا کوئی راز خاک برد کرتے ہیں، تو یہ جڑیں ان سب کو چھو کر گزرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ صدیوں پہلے اس زمین پر چلنے والے کے پاؤں کی چاپ کیسی تھی اور اس نے کس دکھ میں تڑپ کر مٹی پر ہاتھ مارا تھا۔ وہ صرف لکڑی کا ریشہ نہیں، وہ وقت کی وہ ڈوریاں ہیں جنہوں نے زمین کے ماضی کو حال سے سی رکھا ہے۔ کبھی کبھی کسی قدیم برگد کے پاس بیٹھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموش نہیں ہیں، بلکہ وہ مٹی کے ذرات سے وہ کہانیاں کشید کر رہی ہیں جو ہواؤں نے بھلا دیں۔ شاید وہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بقا کا راز بلندی میں نہیں، ب...

سفر جو کبھی کیا ہی نہیں گیا

کچھ راستے نقشوں پر نہیں، صرف ارادوں کی سلوٹوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں، دراصل وہی ہے جس نے ہمیں سب سے زیادہ تھکایا ہے۔ وہ ایک ایسا متوازی رستہ ہے جو ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر جس پر کبھی ہمارے پاؤں کا نشان نہیں پڑتا۔ ہم اکثر ان ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے جو کبھی پلیٹ فارم پر آئی ہی نہیں تھیں، اور ان ہوائوں کے اسیر رہے جن کا کوئی رخ نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ منزل تک پہنچنے والے تو سستانے بیٹھ گئے، مگر وہ جو کہیں روانہ ہی نہ ہوئے، ان کے اعصاب آج بھی کسی انجانی مسافت کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم نے اپنی ممکنہ زندگی میں کرنا تھا۔ وہ انتخاب جو ہم نے نہیں کیے، وہ دروازے جو ہم نے نہیں کھولے، اور وہ لفظ جو ہم نے ہونٹوں کی دہلیز پر ہی روک لیے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس جگہ سب سے زیادہ قیام پذیر ہوں جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں؟ شاید وہ ان دیکھا رستہ ہی ہماری اصل شناخت ہو، کیونکہ حاصل شدہ تو مٹی ہو جاتا ہے، مگر جو لا حاصل رہ جائے، وہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ کسی دن وقت ملے تو خاموشی سے خود سے پوچھیے گا کہ کیا آپ اس مسافر کو جانتے ہیں جو آپ کے اندر بیٹھا اس ب...

باوقار موت

  انسانی عظمت کا سفر ہمیشہ سے تلاطم خیز موجوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا نام رہا ہے۔ اس کائناتِ رنگ و بو میں، جہاں مصلحتوں کے سائے قدم قدم پر ضمیر کی روشنی چھیننے کے درپے ہوتے ہیں، وہاں دنیاوی طاقتوں کے جاہ و جلال کے سامنے سر بلند رکھنا ہی وہ جوہرِ نایاب ہے جو مٹی کے پتلےکو لازوال بنا دیتا ہے۔ زندگی محض سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اقدار کی پاسبانی ہے جن پر سمجھوتہ کرنا روح کی موت کے مترادف ہے۔ جب وقت کے فرعون اپنی مصنوعی طاقت کے زعم میں انسانیت کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک غیرت مند انسان ان کے آہنی شکنجوں میں بھی اپنے ماتھے پر شکست کی شکن نہیں آنے دیتا۔ دنیاوی طاقتیں عارضی ہیںچاہے وہ زر و زمین کا جادو ہو یا تخت و تاج کا رعب ۔۔ یہ سب ڈھلتی چھاؤں کی مانند ہیں۔ اصل حکمرانی اس قلبِ مومن کی ہے جو حق کی صداقت پر یقین رکھتا ہے اور مصلحت پسندی کے بازار میں اپنی انا کا سودا نہیں کرتا۔ عزت کے ساتھ جینا ایک کٹھن راستہ ہے، مگر اسی وقار کے ساتھ موت کو گلے لگانا انسانی عظمت کی معراج ہے۔ موت تو ہر ذی روح کا مقدر ہے، لیکن وہ موت جو سر جھکا کر زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے، سچائی کی...

خالی سڑکیں

  اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔ میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم...

خوشی کا فلسفہ