وہاں کوئی دیوار نہیں تھی، مگر ایک حد ضرور تھی جس کے پار قدم رکھنے کا مطلب اپنے ہی وجود سے دستبردار ہونا تھا۔ شہر کی آخری سڑک جہاں ختم ہوتی تھی، وہاں سے ایک ایسی پگڈنڈی شروع ہوتی تھی جو کسی نقشے پر موجود نہ تھی۔ آسمان کا رنگ وہاں نیلا نہیں تھا، بلکہ ایک گدلے بھورے پن میں ڈوبا ہوا، جیسے کسی نے صدیوں پرانی راکھ کو افق پر بکھیر دیا ہو۔ آفتاب نے اپنی جیب سے گھڑی نکالی۔ سوئیاں ساکت تھیں۔ یہ اس کا تیسرا دن تھا یا تیسری صدی؟ اسے یاد نہیں تھا۔ زندگی نے اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں یادداشت ایک بوجھ بن چکی تھی۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جو ایک ایسی لکڑی کو تراش رہا تھا جس کا کوئی سرا نہیں تھا۔ تم یہاں کیوں رکے ہو؟ بوڑھے نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔ اس کی آواز میں ایسی لرزش تھی جیسے خشک پتے آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ آفتاب نے پگڈنڈی کی سمت اشارہ کیا، میں اس آواز کا پیچھا کر رہا ہوں جو سنائی نہیں دیتی، مگر محسوس ہوتی ہے۔ بوڑھا ہنسا۔ ایک تلخ، کھوکھلی ہنسی۔ جو محسوس ہوتا ہے، وہ ہوتا نہیں ہے۔ اور جو ہوتا ہے، وہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ تم جس آواز کے پیچھے ...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی