Skip to main content

Posts

احساس اور الفاظ کا فاصلہ

کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...
Recent posts

بارود کی راکھ میں دبی عید اور امید کی کونپل

      رمضان بیت گیا، عید گزر گئی اور فضاؤں میں اب بھی وہ سحر انگیز خوشبو باقی ہے جو صرف عبادت کی تھکن اور صلے کی مٹھاس سے کشید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس بار کی عید، ماضی کی عیدوں سے ذرا مختلف تھی۔ دسترخوان پر سجی سویاں وہی تھیں، بچوں کے کرتوں پر لگی کلف کی کڑک بھی ویسی تھی، اور عید گاہوں سے اٹھنے والا اللہ اکبر کا غلغلہ بھی ویسا ہی تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک عجیب سی کسک، ایک اَن کہی بے چینی اور ایک ہمدردانہ ٹیس سی لگی ہوئی تھی۔ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے پیاروں کے گلے مل رہے تھے، تو عین اسی وقت دنیا کے ایک نقشے پر مائیں اپنے بچوں کی میتوں سے لپٹ کر وداعی بوسے دے رہی تھیں ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن اس بار کا صبر صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اس تماشائے اہل کرم کو دیکھنے کا صبر تھا جو سرحدوں کے پار انسانیت کا لہو بہتے دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ عید کا چاند نظر آیا تو خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی لایا کہ کیا یہ خوشی صرف ان کے لیے ہے جن کے گھر سلامت ہیں؟ یا ان کے لیے بھی جن کے گھروں کی چھتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور جن ک...

امید کی کرن

رمضان کی سحر سوزی رخصت ہوئی اور عید کی شیرینی بھی اب یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دسترخوانوں سے برکتوں کے ذائقے سمٹ کر اب دل کے نہاں خانوں میں عبادت کا نور بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ بظاہر فضاؤں میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے، افق پر جنگ کے مہیب سائے اب بھی کسی زخمی پرندے کی طرح منڈلا رہے ہیں، لیکن ان کالی گھٹاؤں کے بیچوں بیچ امیدکی ایک ننھی سی کرن نے سر نکالا ہے۔ یہ کرن بالکل ویسی ہی ہے جیسے بنجر زمین کے سینے کو چیر کر ایک سبز کونپل جھانکتی ہے، جسے نہ تو تپتی دھوپ کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی گردِ راہ کا خوف۔ جنگیں تو ہمیشہ سے انسان کی ہوس اور انا کی پیداوار رہی ہیں، لیکن محبت وہ ازلی حقیقت ہے جو خاموشی سے دلوں کے تار جوڑتی رہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرت کے اس قدیم کھیل سے تھک کر اس نور کی سمت قدم بڑھائیں جو صلح اور آشتی کا پتا دے رہا ہے۔ عید کے گزرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوشی کا جواز ختم ہو گیا، بلکہ اب تو اس مٹھاس کو ان تلخ گوشوں تک پہنچانے کا وقت ہے جہاں سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔ آئیے، اس مدھم سی کرن کو اپنے یقین کی تپش دیں تاکہ یہ سورج بن کر چمکے۔ نفرت کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، محب...

خالص پن کا نوحہ

 

چھوٹا آدمی ۔ بڑا آدمی

  کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم مل...

آسانیاں

ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔ آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔ #نوریات

سفرہی زندگی ہے

سفر کی سچائی قدموں کی تھکن میں نہیں، بلکہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں چھپی ہوتی ہے جو ہمارے اندر جنم لیتا ہے۔ ہم منزل کو مرکزِ نگاہ بنا لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاؤں تلے کچلی جانے والی مٹی، راستے میں ملنے والے اجنبی چہرے اور وہ پگڈنڈیاں جو اچانک ختم ہو گئیں، دراصل ہمیں نئے سرے سے تخلیق کر رہی تھیں۔ جس طرح دریا کا مقصد صرف سمندر میں گرنا نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بننے والی لہروں، اٹھنے والے تھپیڑوں اور کنارے کی ریت سے مکالمہ کرنا ہے، اسی طرح انسانی جستجو بھی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر آپ منزل تک نہیں پہنچ جائے تو بھی سفر ضائع نہیں ہوا۔ منزل تک نہ پہنچنا بھی دراصل ایک خاموش اشارہ ہے کہ آپ کا ظرف ابھی کچھ اور ان کہی سچائیوں کا منتظر ہے۔ راستہ جب اپنی طوالت سے ہمیں تھکاتا ہے، تو وہ دراصل ہماری انا کے فالتو بوجھ کو جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم جب گھر سے نکلتے ہیں تو کوئی اور ہوتے ہیں، اور جب کسی ناکام موڑ پر رکتے ہیں، تو ہماری آنکھوں میں وہ چمک ہوتی ہے جو صرف وہی پا سکتا ہے جس نے دھوپ اور دھول سے دوستی کی ہو۔ کون کہتا ہے کہ حاصل ہی سب کچھ ہے؟ کبھی کبھی نارسائی ہی ہمیں بے کراں وسعتوں سے آشنا...