Skip to main content

Posts

بستیوں کی مہک اور لفظوں کے گورکھ دھندے

  انسانی زندگی کی بساط پر بچھے ہوئے تمام رنگ دراصل اس ایک ادھوری کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جسے ہم روز جیتے اور روز لکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہانی "مان جانے" کی اس آخری التجا پر آ ٹھہرتی ہے جہاں دل دلیلوں کے بوجھ سے تھک کر صرف واسطوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے، اور کبھی یہ ہجر کی ان کالی راتوں کا رزم نامہ بن جاتی ہے جہاں آنکھوں کی لال سرخی وقت کے ضیاع کا نوحہ سناتی ہے۔ ہم ایک ایسی مشینی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں منزل کا تو شاید کسی کو علم نہیں، مگر ہر شخص ہانپ رہا ہے۔ ہم اپنے آج کو کسی ان دیکھے کل کی قربان گاہ پر ذبح کر دیتے ہیں اور پھر عمر بھر ان یادوں کے ملبے سے زندگی تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ٹھکرا دیا تھا۔  معاشرے کی مصنوعی چمک دمک اور لفظوں کے گورکھ دھندے نے ہمارے اندر کے اس فطری سکون کو نگل لیا ہے جو کبھی سادہ گفتگو، بے غرض رفاقت اور سچے جذبوں میں میسر تھا۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار بدل چکا ہے؛ اب ضمیر کی آواز پر کان دھرنا نادانی تصور کیا جاتا ہے اور مفاد کی زبان بولنا عقلمندی۔ ہم نے اپنے سماجی قد تو اونچے کر لیے مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسان بونے ہوتے گئے۔ رشتوں کی ...
Recent posts

ظرف کی معراج

 کمال یہ نہیں کہ ہم صرف خوشیوں کے ہم سفر بنیں، بلکہ اصل ہنر تو خزاں کی تپتی رت میں اپنے لہجے کی شگفتگی کو گلاب بنا کر بچائے رکھنا ہے۔ زندگی اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہوا کی زد پر چراغ جلانا ناممکن معلوم ہوتا ہے، مگر عزمِ جرات مندانہ وہی ہے جو بجھتی ہوئی لو کو اپنے حوصلے سے دوبارہ زندگی بخش دے۔ تعلقات کی نازک ڈور کو زمانے کی تلخیوں سے بچا کر رکھنا اور بچھڑنے کے کرب میں دوسروں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ضبط کے پردے میں چھپا لینا ہی وہ ظرف ہے جو انسان کو عام سے خاص بنا دیتا ہے۔ خودی کا تقاضا صرف اپنی پسند یا مزاج کی تسکین نہیں، بلکہ اصل کمال اس خاموش ایثار میں ہے جہاں ہم دوسروں کی راحت کے لیے اپنی انا کے کانٹے چن لیں اور پھر صلے کی تمنا کیے بغیر اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ جب ہمارے سامنے دکھوں کا لشکر صف آرا ہو، تب لبوں پر مسکراہٹ کی ڈھال سجا لینا ہی وہ فتح ہے جس کے آگے شکست بھی سرنگوں ہو جاتی ہے۔ طاقت اور دلیل کے باوجود لہجے میں دعا کی خوشبو اور ادب کی لذت برقرار رکھنا وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان "میں" کے محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کے وسیع تر آفاق میں شام...

ہم ضرور ملیں گے

 کچھ ملاقاتیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں؛ وہ چراغوں کے روشن ہونے یا سورج کے ڈھلنے کی محتاج نہیں ہوتیں۔ سچا ساتھ وہ ہے جو پہاڑوں کی اوٹ میں بسے چوبی مکانوں سے لے کر خواب کے آخری خیمے تک، ایک سائے کی طرح ساتھ چلے۔ ہم اکثر منزلوں کو رستوں میں ڈھونڈتے ہیں، حالانکہ اصل سفر تو ان میدانوں کا ہے جہاں بوڑھے چرواہے خاموشی سے ابد کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ زندگی کے کسی بھی پہر میں، چاہے وہ دھند آلود رات ہو یا صبحِ کاذب کی نیم تاریکی، روح کا رشتہ ہمیشہ اس آخری ٹمٹماتے ستارے کی مانند قائم رہتا ہے جو بجھتے ہوئے چاند کا سوگ نہیں مناتا بلکہ نئی روشنی کی نوید دیتا ہے۔ اگر یہ مادی دنیا ہمیں ایک دوسرے سے نہ ملا سکی، تو بھی کوئی ملال نہیں۔ ہم ان نظموں کے مصرعوں میں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے رہیں گے جن کی تاثیر کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ وقت کی پرکار ہمیں کتنا ہی محدود کیوں نہ کر دے، احساس کے پھیلاؤ میں ہمیشہ ایک ایسی جگہ باقی رہتی ہے جسے صرف دو آنکھیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی ویرانی بھی آباد ہے، کیونکہ اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کا گمان نہیں۔ ہم اس عمر میں یا کسی بھی عمر کے دورانیے میں، ا...

خاموشی کی صدا: ایک التجا

کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دنیا کے سارے ہنگامے تھم جائیں، بارود کا شور تھک کر سو جائے اور انسان صرف اپنی سانسوں کی چاپ سن سکے۔ ہم نے ترقی کے نام پر آسمان تو مسخر کر لیے، مگر زمین پر اپنے دکھوں کا مداوا کرنا بھول گئے۔ ہم نے آوازیں اتنی بلند کر لیں کہ اب ہمیں ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی۔ امن کوئی بیرونی شے نہیں جسے ہم کسی نقشے پر تلاش کریں۔ امن تو وہ سکون ہے جو اس وقت میسر آتا ہے جب ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھتے ہوئے یہ بھول جائیں کہ اس کا رنگ کیا ہے یا اس کا عقیدہ کیا ہے۔ نفرت دراصل تھکے ہوئے ذہنوں کا سودا ہے، جو بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ انہیں زندگی کی خوبصورتی نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔ آئیے، تھوڑی دیر کے لیے ہتھیاروں کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکیں۔ وہاں آپ کو دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی طرح کا ایک خوف زدہ اور پیاسا انسان نظر آئے گا۔ وہی انسان جو رات کو اپنے بچوں کے لیے سکون کی نیند مانگتا ہے اور صبح ایک بہتر مستقبل کی امید لے کر جاگتا ہے۔ محبت کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں، یہ تو: لہجے کی وہ نرمی ہے جو پگھلتے ہوئے برفاب جیسی ہو۔ وہ خاموشی ہے جو ک...

اب کے ہم انسان بن کر ملیں گے

میں نے سوچا ہے کہ اب جب تم سے ملوں گا تو کوئی بڑا دعویٰ نہیں کروں گا نہ یہ کہوں گا کہ تم میری کائنات ہو اور نہ یہ کہوں گا کہ تمہارے بغیر جی نہیں پاؤں گا کیونکہ یہ سب لفظ اب پرانے ہو چکے ہیں میں بس تمہارے سامنے بیٹھ جاؤں گا اور تمہیں اس طرح دیکھوں گا جیسے ایک انسان، دوسرے انسان کو دیکھتا ہے جس کی آنکھوں میں تھکن بھی ہوتی ہے اور ڈھیروں ادھوری باتیں بھی میں تمہارا ہاتھ تھام کر یہ نہیں کہوں گا کہ یہ گلاب کے پھول ہیں بلکہ یہ کہوں گا کہ دیکھو! تمہارے ہاتھ کتنے گرم ہیں اور ان میں زندگی کیسی صاف سنائی دے رہی ہے مجھے اب ان کہانیوں سے ڈر لگتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے مر مٹتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے لیے زندہ رہیں میں تمہارے دکھ کو سننا چاہتا ہوں اس لیے نہیں کہ میں اسے ختم کر دوں گا (کیونکہ میں جانتا ہوں، میں ایسا نہیں کر سکتا) بلکہ صرف اس لیے کہ تمہیں یہ معلوم ہو کہ اس زمین پر ایک شخص ایسا بھی ہے جو تمہارے درد کو سمجھتا ہے اور تمھاری باتوں کو توجہ سے سنتا ہے آؤ، ہم نفرت کے ان تمام اسباب کو بھول جائیں جو ہمیں دوسروں نے سکھائے ہیں ہم ایک دوسرے سے یہ نہ پوچھیں کہ ہم کس قبیلے سے ہیں ...

دائمی دستک

تم نے کبھی سوچا ہے؟ ہمارے اندر جو اداسی کا ایک نمکین ذائقہ ہے وہ کسی پرانے زخم کی یاد نہیں بلکہ اس ان کہے کا ملبہ ہے جو ہم نے عمر بھر اظہار کی دہلیز پر روکا۔ ہم سب اپنے اپنے وجود کے زندان میں ایسے قیدی ہیں جو دیواروں پر دستک تو دیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ دوسری طرف بھی کوئی انسان ہے یا صرف اپنی ہی دستک کی بازگشت! محبت... کوئی آسمانی صحیفہ نہیں تھی وہ تو بس دو تپتے ہوئے صحراؤں کا ایک دوسرے کی طرف فطری میلان تھا اس امید میں کہ شاید ریت کے ملنے سے کہیں کوئی نخلستان اگ آئے۔ مگر ہم بھول گئے کہ پیاس جب حد سے بڑھ جائے تو سراب بھی حقیقت کا لباس پہن لیتے ہیں۔ اب ہم یادوں کی الماریوں میں پرانی قمیصوں کی طرح اپنے خوابوں کو لٹکا دیتے ہیں اور وقت کی دیمک خاموشی سے ہمارے جذبوں کے ریشم کو چاٹتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ لفظوں کے اس بھاری لبادے کو اتار پھینکوں اور تمہارے سامنے ایک خالی صفحے کی طرح بچھ جاؤں جس پر نہ کوئی حرفِ شکایت ہو اور نہ ہی وصال کی کوئی لکیر بس ایک خاموش اعتراف ہو کہ ہم نے جینے کی کوشش میں کتنی بار خود کو اندر سے مارا ہے۔ آؤ! کہ وقت کی اس تند لہر کے تھمنے سے پہلے ہم ایک د...

مہکتا ہوا سچ

وہ جو ایک بے جان تکرار میں کٹ رہی ہے اس زندگی کی دھول اڑاتے ہوئے ہم نے سائے جوڑ کر جتنی شامیں بنائیں وہ سب مصلحتوں کے بوجھ تلے دب گئیں رستے کے پرانے پیڑ اب ہمیں نہیں پہچانتے کہ ہم نے اپنی انا کی دیواریں اتنی بلند کر لیں کہ اب ایک دوسرے کو پکارنا بھی محض ایک سرگوشی کے سوا کچھ نہیں کیسے عجیب لوگ ہیں ہم! جو بھرے ہوئے شہر میں بھی خالی ہاتھ پھرتے ہیں اور اپنی ہی بستیوں میں اجنبیوں کی طرح بستے ہیں ہم نے یادوں کی جن کرچیوں کو سمیٹا تھا آج وہی ہماری پوروں سے اپنا لہو مانگتی ہیں اور ضمیر کی وہ کال کوٹھری جس سے نکل کر ہمیں کائنات تخلیق کرنی تھی اب ایک بے نام وحشت کا مسکن بن چکی ہے مگر سنو! ابھی گندم کی بالیوں میں وہ سنہرا پن باقی ہے ابھی ڈھلتے چیت کی دھوپ میں وہ نشہ موجود ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ لمحے ادھورے نہیں چھوڑنے آؤ کہ اس سے پہلے کہ وجود کا یہ گداز پتھر ہو جائے ہم بیزاری کے انبار سے اپنا آپ نکالیں اور کسی وصلِ نو کے اس نور میں نہا جائیں جہاں "میں" اور "تو" کے سب جھگڑے مٹ جائیں جہاں زندگی کسی مجبوری کا عنوان نہیں بلکہ ایک مہکتا ہوا سچ بن جائے! #نوریات