رنگوں کی کائنات محض بصارت کا دھوکا نہیں، بلکہ یہ روح کے نہاں خانوں میں اتر جانے والی وہ خاموش زبان ہے جو لفظوں کے سہارے کے بغیر دل کا حال کہہ دیتی ہے۔ کائنات کے کینوس پر بکھرا ہوا ہر رنگ اپنی ایک الگ تاثیر، اپنی ایک الگ داستان اور اپنا ایک منفرد نفسیاتی پس منظر رکھتا ہے۔ جب ہم قدرت کی صناعی پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اس دنیا کو صرف کالا اور سفید نہیں بنایا، بلکہ اسے قوسِ قزح کے رنگوں سے سجا کر انسانی فطرت کے تضادات اور میلانات کی تسکین کا سامان کیا ہے۔ رنگوں کا انسانی موڈ اور نفسیات پر اثر محض کوئی شاعرانہ تخیل یا مفروضہ نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی سائنسی تحقیقات اور نفسیاتی تجربات نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ رنگ ہمارے عصبی نظام، ہمارے فیصلوں اور یہاں تک کہ ہمارے خون کے دباؤ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انسان کا رنگوں کے ساتھ تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود شعورِ انسانی۔ قدیم تہذیبوں میں رنگوں کو علاج معالجے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جہاں نیلا رنگ سکون کے لیے اور سرخ رنگ توانائی کی بحالی کے لیے مخصوص تھا۔ آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی اور...
بچپن کی یادیں کسی پرانے البم کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں جب بھی کھولا جائے، ان سے جڑی خوشبوئیں اور رنگ ذہن کو مہکا دیتے ہیں۔ ان یادوں میں سب سے روشن اور دلکش نقش پہلے روزے کا ہے، جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار تقریب تھی جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب بڑے شوق اور ولولے سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ مئی جون کی کڑکتی دھوپ تھی اور گرمی اپنے پورے جوبن پر۔ صبح سحری کے وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں، لیکن جوں جوں سورج سوا نیزے پر آیا، سارا شوق پسینہ بن کر بدن سے بہنے لگا۔ پیاس کی شدت نے وہ حال کیا کہ معصوم ذہن میں بار بار ٹھنڈے پانی کا تصور چپک کر رہ گیا ۔ ہونٹوں پر خشکی کی پپڑیاں جم گئیں اور وہ گھبراہٹ طاری ہوئی جو صرف ایک تپتی دوپہر میں روزہ رکھنے والا بچہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بار بار غسل خانے جا کر سر پر پانی ڈالنا اور ٹھنڈک تلاش کرنا اس وقت کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔ لیکن اس کٹھن دوپہر کے بعد جو شام آئی، وہ آج بھی میرے حافظے میں رقص کرتی ہے۔ جوں ہی سورج ڈھلنے لگا، گھر کی رونق بدل گئی۔ خالہ ، پھوپھی ، چچا ...