انسان کی پوری زندگی دراصل ایک "عارضی قیام" کا نام ہے، لیکن اس آفاقی سچائی کا سب سے زیادہ ادراک اس بدنصیب کو ہوتا ہے جسے لوگ پیار سے "کرایہ دار" کہتے ہیں。 مالکِ مکان کے لیے مکان محض ایک سرمایہ یا اینٹ پتھر کا ڈھیر ہوتا ہے، لیکن ایک کرایہ دار کے لیے وہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی چھوٹی سی بستی بساتا ہے。 مگر افسوس کہ اس بستی کی عمر اکثر مالکِ مکان کے موڈ یا اس کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی اچانک واپسی کی خبر تک ہی محدود ہوتی ہے。 عمومی زندگی میں کرایہ داری ایک ایسا "جذباتی جوا" ہے جس میں ہار ہمیشہ کرایہ دار کی ہی ہوتی ہے。 آپ جب کسی نئے مکان میں منتقل ہوتے ہیں، تو آپ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ان دیواروں کو اپنی پہچان دے سکیں。 آپ کیل ٹھونکتے ہیں، تصویریں لٹکاتے ہیں اور الماریوں میں اپنی زندگی کی کتابیں سجاتے ہیں。 لیکن جیسے ہی ہتھوڑی کی پہلی ضرب پڑتی ہے، مالکِ مکان کے دل میں ایک ایسی ٹیس اٹھتی ہے جیسے آپ نے کیل دیوار میں نہیں بلکہ اس کے جگر میں ٹھونک دی ہو。 وہ فوراً "ایگریمنٹ" کی وہ شق یاد دلاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان کی حا...
اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات