Skip to main content

Posts

ترلائی کے شہیدوں کے نام

 اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی فضا کل ایک ایسے زخم سے چور ہوئی جس کی ٹیسیں پوری قوم کے دل میں محسوس کی جا رہی ہیں۔ ایک مقدس جگہ، عبادت کا وقت اور معصوم انسان ۔۔۔۔ جنہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ محو عبادت تھے اور آسان ٹارگٹ تھے۔ یہ محض ایک دھماکہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت، امن اور ہماری مشترکہ قدروں پر بزدلانہ وار تھا۔ جب ہم ان گھروں کا تصور کرتے ہیں جہاں کل شام چراغ نہیں جلے، جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر تھیں اور بچے اپنے باپ کی دستک سننے کو بے قرار تھے، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ترلائی کی اس مسجد کی در و دیوار نے جو منظر دیکھا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جائے نماز پر بکھرا خون اور فضا میں پھیلی آہیں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی انسانیت۔ وہ صرف خوف بانٹنا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دکھ کی یہ گھڑی ہمیں توڑنے کے بجائے مزید جوڑ دیتی ہے۔ ایسے سانحات پر صرف آنسو بہانا کافی نہیں۔ یہ وقت ہے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا اور اس عزم کو دہرانے کا کہ ہم نفرت کی اس آگ کو اپنے اتحاد کی شبنم سے ٹھنڈا کریں گے۔ ہمیں مسلکوں، فرقوں ا...
Recent posts

خاندانی تصویری البم

  پرانی تصویروں کی وہ بوسیدہ البم، جو الماری کے کسی اندھیرے گوشے میں دبے ہوئے 'خاندانی راز' کی طرح پڑی ہوتی ہے، دراصل ایک ایسی پٹاری ہے جسے کھولتے ہی ماضی کی روحیں چیخ و پکار شروع کر دیتی ہیں۔ آج کے دور میں جہاں سمارٹ فون کی گیلری میں ہزاروں تصویریں 'کلاؤڈ' پر تیر رہی ہیں، اس پرانی البم کی حیثیت اس ریٹائرڈ بزرگ جیسی ہے جو گھر کے کونے میں بیٹھا خاموشی سے نئی نسل کی بے راہ روی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس البم کو کھولنے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنے خلاف گواہیاں اکٹھی کرنے کا رسک لے لیا ہے۔ پہلا صفحہ الٹتے ہی جو پہلی تصویر سامنے آتی ہے، وہ عام طور پر کسی ایسی 'تقریبِ سعید' کی ہوتی ہے جس میں آپ کے ابا جی نے کلف لگی شلوار قمیض پہن رکھی ہوتی ہے اور ان کے بالوں کا سٹائل دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حجام کے پاس صرف ایک ہی ڈیزائن  ہوتا تھا، اور وہ تھا 'کٹورا کٹ'۔ ابا جی کی اس تصویر میں جو رعب اور دبدبہ نظر آتا ہے، وہ آج کے 'فلٹرز' اور 'ایڈٹنگ' کے دور میں ناپید ہے۔ اس وقت کی کیمرہ مین کی ہدایات بھی بڑی جابرانہ ہوتی تھیں۔ "ہلئے گا مت"، ...

سانس کی لہر

سانس لینا محض پھیپھڑوں کی ایک میکانکی حرکت نہیں، بلکہ کائنات کے ساتھ ہمارا وہ خفیہ معاہدہ ہے جو ہر لمحہ تجدید مانگتا ہے۔ ہم ایک ایسے سمندر کی تہہ میں رہتے ہیں جس کا پانی نظر نہیں آتا، مگر ہمہ وقت ہمیں اپنی آغوش میں لیے رکھتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم سانس اندر کھینچتے ہیں، تو ہم دراصل باہر کی کائنات کو اپنے وجود کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں؟ اور جب ہم اسے باہر نکالتے ہیں، تو اپنے وجود کا ایک حصہ کائنات کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ لین دین اتنا خاموش اور خودکار ہے کہ ہم اس کے اعجاز سے غافل ہو چکے ہیں۔ غور کریں تو ہر سانس ایک خود مختار 'موت' اور 'زندگی' کا مجموعہ ہے۔ ایک لمحے کے لیے ہوا کا رک جانا ہمیں عدم کی سرحد پر کھڑا کر دیتا ہے، اور اگلا ہی لمحہ ہمیں دوبارہ ہستی کے دربار میں لا بٹھاتا ہے۔ یہ ایک مسلسل دستک ہے جو ہمارے سینے کے اندر بجتی رہتی ہے، مگر ہم اسے تبھی سنتے ہیں جب یہ تھمنے لگتی ہے۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس ہوا کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرتے جو ہماری رگوں میں زندگی کا رقص جاری رکھتی ہے، پھر بھی ہم خود کو زندگی کا 'مالک' سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہ...

عکس مصلوب

  وہاں کوئی دیوار نہیں تھی، مگر ایک حد ضرور تھی جس کے پار قدم رکھنے کا مطلب اپنے ہی وجود سے دستبردار ہونا تھا۔ شہر کی آخری سڑک جہاں ختم ہوتی تھی، وہاں سے ایک ایسی پگڈنڈی شروع ہوتی تھی جو کسی نقشے پر موجود نہ تھی۔ آسمان کا رنگ وہاں نیلا نہیں تھا، بلکہ ایک گدلے بھورے پن میں ڈوبا ہوا، جیسے کسی نے صدیوں پرانی راکھ کو افق پر بکھیر دیا ہو۔ آفتاب نے اپنی جیب سے گھڑی نکالی۔ سوئیاں ساکت تھیں۔ یہ اس کا تیسرا دن تھا یا تیسری صدی؟ اسے یاد نہیں تھا۔ زندگی نے اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں یادداشت ایک بوجھ بن چکی تھی۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جو ایک ایسی لکڑی کو تراش رہا تھا جس کا کوئی سرا نہیں تھا۔  تم یہاں کیوں رکے ہو؟ بوڑھے نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔  اس کی آواز میں ایسی لرزش تھی جیسے خشک پتے آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ آفتاب نے پگڈنڈی کی سمت اشارہ کیا،  میں اس آواز کا پیچھا کر رہا ہوں جو سنائی نہیں دیتی، مگر محسوس ہوتی ہے۔  بوڑھا ہنسا۔ ایک تلخ، کھوکھلی ہنسی۔  جو محسوس ہوتا ہے، وہ ہوتا نہیں ہے۔ اور جو ہوتا ہے، وہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ تم جس آواز کے پیچھے ...

ادھار ۔ جو کبھی لوٹایا نہیں جاتا

 

کتابوں میں رکھی پھول کی پتیاں

کتابوں کے بند صفحات کے درمیان دبی ہوئی وہ سوکھی پتیاں محض کسی بیتے ہوئے لمحے کی لاشیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس 'ان دیکھے ہاتھ' کا پتا دیتی ہیں جس نے انہیں وقت کی قید سے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ جب ایک زندہ پھول کتاب کی آغوش میں دم توڑتا ہے، تو وہ اپنی خوشبو اور نمی کے عوض الفاظ کو ایک جسم عطا کر دیتا ہے۔ جس صفحے پر کوئی پتی سوکھ جائے، وہاں کے حروف باقی کتاب سے زیادہ گہرے اور معتبر ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسے وہاں کس نے رکھا ہوگا؟ شاید کوئی ایسی ہستی جس کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے لفظ کم پڑ گئے تھے، یا شاید وہ جس نے کسی بہت عزیز جملے کو پھول کا صدقہ دے کر ہمیشہ کے لیے معتبر کرنا چاہا ہو۔ وہ خود اب کہاں ہوگا؟ زندگی کی بھیڑ میں کہیں گم، یا شاید وقت کی کسی دوسری کتاب کے صفحات میں دبا ہوا۔ وہ اب کیا سوچتا ہوگا؟ کیا اسے یاد بھی ہوگا کہ اس نے کسی دوپہر ایک پیلے گلاب کی پتی کو کسی خاص صفحے کی امانت بنایا تھا؟ یا شاید اس کی یادداشت سے وہ لمحہ محو ہو چکا ہو، مگر وہ پتی آج بھی اس کے جذبے کی گرمی کو سنبھالے بیٹھی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ شاخ پر کھلا پھول زوال کی امانت ہے، اس لیے ہم اسے علم ک...