چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ کھڑکی کے باہر پھیلی ہوئی مٹیالی دھند میں جذب ہو رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک کسی لوہار کے ہتھوڑے کی طرح اعصاب پر ضرب لگا رہی تھی۔ مرتضیٰ نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی اور سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص کو دیکھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے سگریٹ کے دھوئیں سے ہوا میں غیر مرئی اور الجھی ہوئی لکیریں کھینچ رہا تھا۔ "تمہارا مسئلہ یہ ہے ارسلان، کہ تم ہر بند کواڑ کو ایک چیلنج سمجھتے ہو،" مرتضیٰ نے بالآخر اس سکوت کو توڑا جو کمرے میں کسی بن بلائے مہمان کی طرح ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ اس کا لہجہ دھیما تھا، جیسے وہ خود سے کلام کر رہا ہو۔ ارسلان نے سگریٹ راکھ دانی میں مسل دی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی، وہ تھکن جو میلوں کا سفر کرنے سے نہیں، بلکہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر انتظار کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ "چیلنج نہیں مرتضیٰ، ایک وہم۔ تمہیں پتہ ہے، جب میں اس گلی سے گزرتا ہوں اور وہ پرانا نیلا دروازہ دیکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سانس لے رہا ہے۔ کوئی ہے جو شاید میری آہٹ...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی