اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات
سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان بھی عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے ثقیل ہو جاتے ہیں کہ پہاڑ بھی راستہ بدل لیں، اور کبھی اتنے ہلکے کہ کسی کی ایک مسکراہٹ یا شعر کا کوئی اچھوتا مصرع ہمیں ہواؤں میں اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی ہماری یہ زندگی خود ایک پیچیدہ "بحر" بن چکی ہے، بالکل کسی غزل کی طرح۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوزان اور تقطیع کے تمام قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، اور کبھی اچانک پتا چلتا ہے کہ وقت کی کسی سنگین غلطی نے ہمیں "خارج از بحر" مصرعے کی طرح اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ ہم سارا دن ڈیٹا، اسکرینوں، سودے بازیوں اور معیشت کے محاصرے میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، ہمارے اندر کا وہ پرانا انسان جاگ اٹھتا ہے جو کسی گلی کی سوندھی مٹی اور پیپل کی چھاؤں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یہ شاید ہماری فطرت کا وہ گوشہ ہے جسے ہم دنیا کی تمام تر پروفیشنل چکا چوند سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دن بھر بڑے دانشور بن کر پھرتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی پرانی یاد ذہن کے کسی فولڈر پر دستک دیتی ہے، ہماری ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ پھر ہم وہی بچے بن جات...