Skip to main content

Posts

ردِ عمل کا ہنر

ہ میں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ "برداشت" بڑی فضیلت ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کون سا موڑ ہے جہاں برداشت مصلحت بن جاتی ہے اور مصلحت ہمیں اندر سے مردہ کر دیتی ہے۔ ہماری شخصیت کی تعمیر ان باتوں سے نہیں ہوتی جو ہمارے ساتھ "ہوتی" ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ ہم ان باتوں پر "ردِ عمل" کیا دیتے ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ خاموشی نیم رضامندی ہے، لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ ہر خاموشی صلح جوئی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی ایک بہت بڑا "احتجاج" ہوتی ہے۔ جب ایک باشعور انسان بحث کے بیچ میں چپ ہو جاتا ہے، تو وہ ہار نہیں مان رہا ہوتا، بلکہ وہ سامنے والے کو اس کی "اوقات" دکھا رہا ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ منفی ردِ عمل کو ہی غصہ سمجھا ہے، حالانکہ مثبت ردِ عمل وہ ہے جہاں آپ کسی کی تضحیک کا جواب اپنے "اعمال" سے دیتے ہیں۔ کسی کا آپ کو نیچا دکھانا دراصل آپ کے لیے وہ سیڑھی بن سکتا ہے جسے آپ اپنے عروج کے لیے استعمال کر سکیں۔ لفظ "انا" (Ego) کو ہمارے ہاں ایک گالی بنا دیا گیا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر انسان کے پاس انا نہ ہو، تو وہ ایک خال...
Recent posts

انتخاب کا عذاب

  انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ آزادی اور وسعت کا خواہشمند رہا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انتخاب کی بے پناہ آزادی ملتی جا رہی ہے، ہماری ذہنی آسودگی اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ اب ایک عام سے انسان کو بھی صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک سینکڑوں ایسے فیصلوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ماضی میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ کبھی وقت تھا کہ بازار میں کپڑے کی دو چار دکانیں ہوتی تھیں، جوتا لینا ہوتا تو ایک دو معروف نام ہی کافی سمجھے جاتے تھے اور اگر گھر کے لیے دال یا صابن خریدنا ہوتا تو پرچون والے کے پاس موجود محدود مال ہی ہمارے لیے غنیمت تھا۔ ہم خوش تھے، اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بہت کچھ تھا، بلکہ اس لیے کہ ہمیں یہ فکر نہیں تھی کہ جو ہم نے خریدا ہے اس سے بہتر بھی کچھ ہو سکتا تھا۔ آج کی زندگی ایک لامتناہی فہرست بن چکی ہے۔ آپ ایک عام سے ہوٹل میں چلے جائیں تو چائے کی دس قسمیں آپ کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ موبائل فون لینا ہو تو اس کی خصوصیات اور قیمتوں کا ایسا جنگل سامنے آتا ہے کہ انسان خریدنے سے پہلے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ کثرتِ...

ادھورا پن

کبھی کبھی ہم کسی کے لیے اتنا میسر ہوتے ہیں جتنا کتاب میں پڑے ہوئے پھول کی خوشبو جو ہوتی تو ہے، مگر محسوس نہیں ہوتی جیسے دیوار پر لٹکی ہوئی وہ گھڑی جو وقت تو بتاتی ہے مگر خود ایک جگہ ٹھہری رہتی ہے ہم بھی تو ایک جگہ ٹھہرے ہوئے لوگ ہیں جنہیں وقت کا دریا کنارے پر چھوڑ کر آگے نکل گیا ہے #نوریات

تعلق

ہمارا رشتہ اس دھاگے کی مانند ہے جو ٹوٹا تو نہیں مگر جس میں اتنی گرہیں لگ چکی ہیں کہ اب اگر اسے چھو بھی لیا جائے تو انگلیاں لہولہان ہو جاتی ہیں گرہیں کھولنا ممکن تو ہے مگر ڈر ہے گرہیں کھولتے کھولتے کہیں دھاگہ ہی نہ ٹوٹ جائے #نوریات

خالی کرسی

انسانی وجود بھی کتنا عجیب ہے، ہم ساری عمر اپنے اندر ایک ایسی خالی کرسی لیے پھرتے ہیں جس پر بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم اسے سجاتے ہیں، اس پر محبت کا رنگ و روغن کرتے ہیں، اور امید کے جھاڑو سے اس کی گرد جھاڑتے رہتے ہیں کہ کبھی تو کوئی آئے گا جو ٹھیک اسی ناپ کا ہوگا جو اس کرسی کا ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آنے والے یا تو بہت بڑے ہوتے ہیں یا بہت چھوٹے، کوئی اس پر پورا نہیں بیٹھتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہمارے جذبات کی پیمائش ہی غلط ہے، یا شاید ہم نے توقعات کا فریم بہت اونچا بنوا لیا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مسافر تھوڑی دیر کو تھکن اتارنے بیٹھتا بھی ہے، تو ہم اسے عمر بھر کا مکین سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب وہ اٹھ کر اپنے راستے پر ہول لیتا ہے، تو وہ خالی کرسی پہلے سے زیادہ ویران اور بڑی لگنے لگتی ہے۔ اصل دکھ وہ شخص نہیں ہوتا جو چلا گیا، بلکہ وہ "خالی جگہ" ہوتی ہے جو اب دوبارہ نمائش کے لیے لگ گئی ہوتی ہے۔ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے لیے نئے خواب ، نئی امیدیں اور نئی توقعات تراشتے ہیں، مگر وجود کے اندر پڑی وہ کرسی ہمیں بتاتی رہتی ہے کہ کچھ خلا ایسے ہوتے ہیں جنہیں کائنات بھی نہیں بھر سکت...

آخری ملاقات

اگر ہم دوبارہ کبھی ملے تو میں تم سے کوئی شکایت نہیں کروں گا میں صرف تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا اور تمہیں دیکھتا رہوں گا کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو لفظوں میں نہیں کہی جا سکتیں وہ صرف خاموشی سے محسوس کی جاتی ہیں ہماری آخری ملاقات بھی ایسی ہی ہوگی جسے صرف ہم دونوں سمجھ سکیں گے #نوریات

بستیوں کی مہک اور لفظوں کے گورکھ دھندے

  انسانی زندگی کی بساط پر بچھے ہوئے تمام رنگ دراصل اس ایک ادھوری کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جسے ہم روز جیتے اور روز لکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہانی "مان جانے" کی اس آخری التجا پر آ ٹھہرتی ہے جہاں دل دلیلوں کے بوجھ سے تھک کر صرف واسطوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے، اور کبھی یہ ہجر کی ان کالی راتوں کا رزم نامہ بن جاتی ہے جہاں آنکھوں کی لال سرخی وقت کے ضیاع کا نوحہ سناتی ہے۔ ہم ایک ایسی مشینی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں منزل کا تو شاید کسی کو علم نہیں، مگر ہر شخص ہانپ رہا ہے۔ ہم اپنے آج کو کسی ان دیکھے کل کی قربان گاہ پر ذبح کر دیتے ہیں اور پھر عمر بھر ان یادوں کے ملبے سے زندگی تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ٹھکرا دیا تھا۔  معاشرے کی مصنوعی چمک دمک اور لفظوں کے گورکھ دھندے نے ہمارے اندر کے اس فطری سکون کو نگل لیا ہے جو کبھی سادہ گفتگو، بے غرض رفاقت اور سچے جذبوں میں میسر تھا۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار بدل چکا ہے؛ اب ضمیر کی آواز پر کان دھرنا نادانی تصور کیا جاتا ہے اور مفاد کی زبان بولنا عقلمندی۔ ہم نے اپنے سماجی قد تو اونچے کر لیے مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسان بونے ہوتے گئے۔ رشتوں کی ...