Skip to main content

Posts

بلندیوں کے پہرے دار اور ہمارے عہد کا اضطراب

اسلام آباد کی صبح جب اپنے گداز ہاتھوں سے مارگلہ کے ماتھے پر جمی دھند کو ہٹاتی ہے، تو فضا میں ایک ایسی خوشبو بیدار ہوتی ہے جو نہ تو مٹی کی ہوتی ہے اور نہ ہی پھولوں کی۔ یہ خوشبو خاموشی کی ہوتی ہے۔۔۔ وہ خاموشی جو صرف ان کو سنائی دیتی ہے جو شہر کے ہنگاموں کی گرد جھاڑ کر ان پگڈنڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ مارگلہ کی ٹریل فائیو پر پہلا قدم رکھتے ہی انسان ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وقت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے اور مادی وجود کی گھڑیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ یہ ٹریل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ ایک خود شناس سفر ہے۔ جوں جوں بلندی کی طرف قدم بڑھتے ہیں، پھیپھڑوں میں اترنے والی تازہ ہوا روح کے ان گوشوں کو چھوتی ہے جنہیں ہم نے سیمنٹ اور سریے کے جنگلوں میں کہیں گم کر دیا تھا۔ پاؤں تلے چرچرانے والے خشک پتے اور راستے میں پڑے وہ قدیم پتھر، جن پر وقت نے اپنی جھریاں لکھ دی ہیں، آپ سے کلام کرنے لگتے ہیں۔ یہ پتھر ساکت نہیں ہیں؛ یہ صدیوں کے شاہد ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے مسافروں کے پیروں کی چاپ سنی اور انہیں خاموشی سے گزرتے دیکھا۔ ان پتھروں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔۔ایک ایسی گہرائی جہاں انس...
Recent posts

تقسیم اور تکمیل میں مکالمہ

 

سڑکیں اور خالی پن

 

تقسیم اور تکمیل کے درمیان ایک مکالمہ

شام کی نارنجی دھوپ جب پرانے برگد کے چوڑے پتوں سے چھن کر زمین پر نقش و نگار بنا رہی تھی، تو بستی کے کنارے بنے اس کچے مسافر خانے کے تھڑے پر دو شخص بیٹھے تھے۔ ایک کے پاس چمڑے کا بھرا ہوا سفری تھیلا تھا اور سامنے پیتل کا چمکتا ہوا برتن، جس کا ڈھکن مضبوطی سے بند تھا۔ دوسرا شخص بالکل خالی ہاتھ تھا، اس کے سامنے مٹی کا ایک بڑا پیالہ الٹا رکھا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی تھک کر اپنی انا کو زمین پر رکھ دے۔ بھرے ہوئے تھیلے والے شخص نے، جسے ہم صاحبِ اسباب کہہ سکتے ہیں، دوسرے کی حالت کو دیکھ کر ایک گہری ہمدردی والی آہ بھری اور اپنی جیب کی طرف ہاتھ لے جاتے ہوئے بولا: "لگتا ہے قسمت نے اس بار وفا نہیں کی۔ تمہارا برتن تو بالکل خالی ہے، اگر کہو تو میں اپنے زادِ راہ میں سے کچھ حصہ تمہاری نذر کر دوں؟" خالی ہاتھ والے مسافر نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہ اضطراب نہیں تھا جو عام طور پر محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا: " صاحب جی ! شکریہ، مگر برتن کا خالی ہونا ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اس میں کچھ آیا نہیں، کبھی کبھی یہ اس بات کی گ...

نامکمل کاغذ

  ادھوری سطروں سے لکھے کاغذ ہماری ان کہی باتوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں کبھی مکمل ہونے کے ڈر سے خود ہی کھو جاتے ہیں #نوریات

مٹی کا قرض

پرانے درختوں کی جڑیں زمین کا حافظہ ہیں وہ انسانی پاؤں کی چاپ سے کہانیاں بُنتی ہیں اور گہرائی میں اتر کر خاموشی کو ٹرانسلیٹ کرتی ہیں #نوریات

پرانے درختوں کی جڑیں

ہم عموماً درختوں کو ان کے پھیلاؤ، پھلوں یا سائے سے ناپتے ہیں، لیکن ان کی اصل کائنات تو زمین کے نیچے اس تاریک خاموشی میں ہے جہاں جڑیں بستی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جڑیں زمین کی تہوں میں چھپی ان سب باتوں کی امین ہوں گی جنہیں ہم نے دفن کر دیا تھا؟ یہ صرف پانی کی تلاش میں زمین کا سینہ نہیں چیرتیں، بلکہ یہ مٹی کے سینے میں محفوظ قدیم انسانی تہذیبوں کی آہٹیں سنتی ہیں۔ پرانے درختوں کی جڑیں دراصل زمین کا اعصابی نظام ہی ہیں۔ جب ہم اوپر کی دنیا میں نئے شہر بساتے ہیں، پرانی دیواریں گراتے ہیں یا کوئی راز خاک برد کرتے ہیں، تو یہ جڑیں ان سب کو چھو کر گزرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ صدیوں پہلے اس زمین پر چلنے والے کے پاؤں کی چاپ کیسی تھی اور اس نے کس دکھ میں تڑپ کر مٹی پر ہاتھ مارا تھا۔ وہ صرف لکڑی کا ریشہ نہیں، وہ وقت کی وہ ڈوریاں ہیں جنہوں نے زمین کے ماضی کو حال سے سی رکھا ہے۔ کبھی کبھی کسی قدیم برگد کے پاس بیٹھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموش نہیں ہیں، بلکہ وہ مٹی کے ذرات سے وہ کہانیاں کشید کر رہی ہیں جو ہواؤں نے بھلا دیں۔ شاید وہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بقا کا راز بلندی میں نہیں، ب...