Skip to main content

Posts

سرکاری فائلیں اور انسانی خواب

  اسلام آباد کی سرد و گرم دوپہروں میں، جب سورج کی شعاعیں سرکاری دفاتر کی گرد آلود کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو وہ اکثر ان کاغذوں کے پلندے پر پڑتی ہیں جنہیں ہم فائل کہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں زندگی اپنے پورے شور و ہنگامے کے ساتھ رواں اداں ہوتی ہے، مگر ان دفتروں کی الماریوں میں ایک عجیب سی خاموشی دفن ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کاغذوں کی نہیں ہے، یہ ان خوابوں کی سسکیاں ہیں جو برسوں سے ایک دستخط کے منتظر ہیں۔ عام آدمی کے لیے فائل محض کاغذوں کا ایک پلندہ، ایک ہندسہ یا ایک بے جان اندراج ہوتی ہے۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ان پیلے پڑتے کاغذوں کے پیچھے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چھپے ہوتے ہیں؟ کسی فائل کے اندر ایک بیوہ کے وظیفے کا سوال ہوتا ہے جس سے اس کے چولہے کی آگ وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بستے میں ایک نوجوان کی ملازمت کا پروانہ دبا ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی معائنے میں ایک دیانتدار اہلکار کی ترقی کا معاملہ ہوتا ہے جو تیس سال کی خدمت کے بعد صرف ایک جائز حق کا طالب ہوتا ہے۔ ہم جب کسی فائل پر اعتراض لگا کر اسے ایک میز سے دوسری میز پر منتقل کرتے ہیں،...
Recent posts

خسارے کی نمائش

ہماری ساری عمر دراصل ایک پرشکوہ پردہ داری کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہم اس خوف کے مارے اپنے گرد لفظوں، ڈگریوں اور دانائی کے جھوٹے حصار تعمیر کرتے ہیں کہ کہیں کوئی ہماری اس معصوم جہالت کو نہ دیکھ لے، جو ہمیں پیدائشی طور پر ودیعت ہوئی تھی۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے بجائے اسے ڈھانپنے کے فن میں طاق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی ہم خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پراسرار عالم ثابت کرتے ہیں اور کبھی غیر ضروری بحث کی گرد اڑا کر اپنی نادانی کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی تنہائی میں ٹھہر کر سوچیے کہ اگر ہم اپنے اس کم علمی یا معصوم جہالت کو ایک بوجھ کے بجائے ایک وسعت سمجھ لیتے، تو زندگی کتنی سہل ہوتی؟ ہم نے تو اپنی کم علمی کو ایک عیب بنا لیا ہے، حالانکہ یہی وہ واحد رستہ تھا جو سچی حیرت کی طرف کھلتا تھا۔ ہم نے پختگی کا وہ نقاب پہن رکھا ہے جو ہمیں کھل کر ہنسنے دیتا ہے اور نہ ہی نادان بن کر سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ کے شریکِ سفر ہیں جہاں جیت کا معیار یہ ہے کہ کون اپنی محرومی کو کتنے سلیقے سے چھپا سکتا ہے۔ جب سفر تمام ہونے کو ہوتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ جس سچ کو ...

ننگے پاؤں کی بادشاہت اور بارش کے دن

انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔ جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم ...

احساس اور الفاظ کا فاصلہ

کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...

بارود کی راکھ میں دبی عید اور امید کی کونپل

      رمضان بیت گیا، عید گزر گئی اور فضاؤں میں اب بھی وہ سحر انگیز خوشبو باقی ہے جو صرف عبادت کی تھکن اور صلے کی مٹھاس سے کشید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس بار کی عید، ماضی کی عیدوں سے ذرا مختلف تھی۔ دسترخوان پر سجی سویاں وہی تھیں، بچوں کے کرتوں پر لگی کلف کی کڑک بھی ویسی تھی، اور عید گاہوں سے اٹھنے والا اللہ اکبر کا غلغلہ بھی ویسا ہی تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک عجیب سی کسک، ایک اَن کہی بے چینی اور ایک ہمدردانہ ٹیس سی لگی ہوئی تھی۔ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے پیاروں کے گلے مل رہے تھے، تو عین اسی وقت دنیا کے ایک نقشے پر مائیں اپنے بچوں کی میتوں سے لپٹ کر وداعی بوسے دے رہی تھیں ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن اس بار کا صبر صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اس تماشائے اہل کرم کو دیکھنے کا صبر تھا جو سرحدوں کے پار انسانیت کا لہو بہتے دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ عید کا چاند نظر آیا تو خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی لایا کہ کیا یہ خوشی صرف ان کے لیے ہے جن کے گھر سلامت ہیں؟ یا ان کے لیے بھی جن کے گھروں کی چھتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور جن ک...

امید کی کرن

رمضان کی سحر سوزی رخصت ہوئی اور عید کی شیرینی بھی اب یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دسترخوانوں سے برکتوں کے ذائقے سمٹ کر اب دل کے نہاں خانوں میں عبادت کا نور بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ بظاہر فضاؤں میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے، افق پر جنگ کے مہیب سائے اب بھی کسی زخمی پرندے کی طرح منڈلا رہے ہیں، لیکن ان کالی گھٹاؤں کے بیچوں بیچ امیدکی ایک ننھی سی کرن نے سر نکالا ہے۔ یہ کرن بالکل ویسی ہی ہے جیسے بنجر زمین کے سینے کو چیر کر ایک سبز کونپل جھانکتی ہے، جسے نہ تو تپتی دھوپ کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی گردِ راہ کا خوف۔ جنگیں تو ہمیشہ سے انسان کی ہوس اور انا کی پیداوار رہی ہیں، لیکن محبت وہ ازلی حقیقت ہے جو خاموشی سے دلوں کے تار جوڑتی رہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرت کے اس قدیم کھیل سے تھک کر اس نور کی سمت قدم بڑھائیں جو صلح اور آشتی کا پتا دے رہا ہے۔ عید کے گزرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوشی کا جواز ختم ہو گیا، بلکہ اب تو اس مٹھاس کو ان تلخ گوشوں تک پہنچانے کا وقت ہے جہاں سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔ آئیے، اس مدھم سی کرن کو اپنے یقین کی تپش دیں تاکہ یہ سورج بن کر چمکے۔ نفرت کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، محب...

خالص پن کا نوحہ