انسانی عظمت کا سفر ہمیشہ سے تلاطم خیز موجوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا نام رہا ہے۔ اس کائناتِ رنگ و بو میں، جہاں مصلحتوں کے سائے قدم قدم پر ضمیر کی روشنی چھیننے کے درپے ہوتے ہیں، وہاں دنیاوی طاقتوں کے جاہ و جلال کے سامنے سر بلند رکھنا ہی وہ جوہرِ نایاب ہے جو مٹی کے پتلےکو لازوال بنا دیتا ہے۔ زندگی محض سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اقدار کی پاسبانی ہے جن پر سمجھوتہ کرنا روح کی موت کے مترادف ہے۔ جب وقت کے فرعون اپنی مصنوعی طاقت کے زعم میں انسانیت کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک غیرت مند انسان ان کے آہنی شکنجوں میں بھی اپنے ماتھے پر شکست کی شکن نہیں آنے دیتا۔ دنیاوی طاقتیں عارضی ہیںچاہے وہ زر و زمین کا جادو ہو یا تخت و تاج کا رعب ۔۔ یہ سب ڈھلتی چھاؤں کی مانند ہیں۔ اصل حکمرانی اس قلبِ مومن کی ہے جو حق کی صداقت پر یقین رکھتا ہے اور مصلحت پسندی کے بازار میں اپنی انا کا سودا نہیں کرتا۔ عزت کے ساتھ جینا ایک کٹھن راستہ ہے، مگر اسی وقار کے ساتھ موت کو گلے لگانا انسانی عظمت کی معراج ہے۔ موت تو ہر ذی روح کا مقدر ہے، لیکن وہ موت جو سر جھکا کر زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے، سچائی کی...
اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔ میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم...