کائنات، اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود، محض کچھ بنیادی عناصر کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا کینوس ہے جس پر فطرت نے رنگوں کے بے شمار نقوش ثبت کر رکھے ہیں۔ ہم جب صبح آنکھ کھولتے ہیں تو آسمان کا نیلا پن، سورج کی سنہری کرنیں، اور گھاس کی ہریالی ہمارے حواس کو جس طرح جکڑتی ہیں، وہ کوئی اتفاقی عمل نہیں ہے۔ یہ رنگ خاموش زبان بولتے ہیں۔ یہ ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں اترتے ہیں، ہماری نبض کی رفتار کو تبدیل کرتے ہیں، اور ہمارے مزاج کے موسموں کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ مقامات پر جا کر آپ کو بے سبب سکون کیوں ملتا ہے؟ یا کسی خاص رنگ کا لباس پہن کر آپ کے اندر خود اعتمادی کی ایک لہر کیوں دوڑ جاتی ہے؟ یہ رنگوں کا نفسیاتی جادو ہے۔ انسانی دماغ رنگوں کے معاملے میں حد درجہ حساس ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو رنگ روشنی کی مختلف طول موج (wavelengths) ہیں، لیکن نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ جذبات کی ترجمانی ہیں۔ جب آپ سرخ رنگ کو دیکھتے ہیں، تو آپ کا دماغ فوراً ایک ارتقائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ سرخ، جو آگ اور خون کا رنگ ہے، ہمارے اندر جوش، بھوک اور کبھی کبھی غصہ پیدا کرت...
ہم ہمیشہ غروبِ آفتاب کو ایک اختتام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک ایسا لمحہ جب سورج، اپنی ساری سنہری کرنیں سمیٹ کر افق کے پیچھے چھپ جاتا ہے، اور ہم اسے دن کا خاتمہ قرار دے کر اپنے روزمرہ کے کاموں سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غروب، ایک موت ہے، ایک اندھیرا ہے جو روشنی کو نگلنے آ رہا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ غروب ہوتے ہوئے اس شمس کیا پتہ کہ جس رات کو وہ اندھیرا سمجھ کر چھوڑ رہا ہے، وہ رات ایک الگ دنیا ہے۔ اسی نکتے پر میرا ایک شعر ہے غروب ہوتے ہوئے شمس کو خبر ہی نہین کہ رات ، رات نہیں، کائنات ہوتی ہے۔ غروبِ آفتاب، دراصل صرف ایک نقطہ نظر کا بدل جانا ہے۔ زمین کے کسی مخصوص گوشے سے روشنی کا ہٹ جانا، سورج کا زوال نہیں، بلکہ اس کا ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ وہ شمس جو غروب ہو رہا ہے، وہ اپنی مستی میں سرشار ہے، اسے اپنی شان و شوکت کا زعم ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا ویران ہو جائے گی۔ اسے خبر نہیں کہ اس کے پیچھے جو کائنات امڈ کر آ رہی ہے، وہ اس کی کرنوں سے کہیں زیادہ گہری، کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ پُراسرار ہے۔ ہم انسان بھی اکثر اپنی زندگیوں میں اسی سورج کی طرح ہوتے ہی...