کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک خواب سے جاگتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے خواب کی گرفت میں ہیں۔ کیا شعور کی اس تہہ در تہہ بستی میں ہماری آنکھوں میں پلنے والے یہ خواب بھی اپنی کوئی الگ اور خودمختار زندگی رکھتے ہیں؟ کیا وہ بھی ہماری طرح تھک کر کسی سائبان کی تلاش میں رہتے ہوں گے؟ میں کچھ الگ ہی سوچتا ہوں اور گمان رکھتا ہوں کہ خواب محض تصویریں نہیں، بلکہ وہ وجود ہیں جو ہمارے لاشعور کے لمس سے جنم لیتے ہیں۔ جب ہم جاگ جاتے ہیں، تو وہ خواب مرتے نہیں بلکہ ہجرت کر جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی کسی ایسی کائنات کی تمنا کرتے ہوں جہاں انہیں ادھورا نہ چھوڑا جاتا ہو۔ جہاں کوئی سائرن، کوئی الارم یا کوئی مادی ضرورت ان کا گلا نہ گھونٹتی ہو۔ وہ خواب جو ہم ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، شاید اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لیے خود بھی خواب دیکھتے ہوں گے۔ ایک ایسے انسان کا خواب جو انہیں مکمل کر سکے۔ ہم خواب کو اپنے شعور یا لاشعور کی تخلیق سمجھتے ہیں، لیکن کیا عجب کہ ہم خود کسی بڑے خواب کے ہجرتی پرندے ہوں؟ ہم زندگی بھر جن تمناؤں کے پیچھے بھاگتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ ہمیں نہیں بلکہ ہم انہیں خواب میں دکھائی دے رہے ہوں۔ یہ جو ہ...
رات کے آخری پہر جب نیند اور بیداری کی سرحدیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتی ہیں، کائنات ایک عجیب سے سکوت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اچانک ہوا کے دوش پر ایک باریک سا ارتعاش لہراتا ہے۔۔ ایک چڑیا کی پہلی چہچہاہٹ۔ یہ محض پرندے کی آواز نہیں، بلکہ عدم کے سناٹے میں وجود کا پہلا دستخط ہے۔ ہم انسان، جو روشنی کو سورج کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں، شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دن کا آغاز بصارت سے نہیں بلکہ سماعت سے ہوتا ہے۔ چڑیوں کا یہ شور، جسے ہم صبح کی سلامی کہ سکتے ہیں، دراصل کائنات کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو منطق کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ننھی جانیں کسی معاوضے یا ستائش کی طلب گار نہیں ہوتیں۔ ان کا گیت کسی اسٹیج کا محتاج نہیں۔ وہ تو بس اس لیے گاتی ہیں کہ وہ "ہیں۔" ان کی چہچہاہٹ میں ایک عجیب سی بے نیازی چھپی ہوتی ہے۔ وہ کل کے مہیب اندھیرے کا نوحہ نہیں پڑھتیں اور نہ ہی آنے والے طوفانوں کا حساب لگاتی ہیں۔ وہ تو صرف اس ایک لمحے کو، جو ان کی مٹھی میں ہے، اپنی آواز سے بھر دیتی ہیں اور خاموشی کے سینے پر نغمے کاڑھتی ہیں۔ کبھی سوچیے گا کہ کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسا نغمہ ہے جو کسی غرض، کسی صلے اور کسی خو...