Skip to main content

Posts

گواہی

ہمارے ہاتھ، جن سے ہم دن بھر رزق چنتے ہیں جب رات کی تنہائی میں اپنی پیشانی پہ رکھتے ہیں تو ان کی پوریں، سارے دن کے دکھ پہچان لیتی ہیں #نوریات
Recent posts

تعلق کی آبنائے ہرمز

شاہراہ حیات پر کئی موڑ ایسے بھی آتے ہیں جو آبنائے ہرمز کی مانند بہت مختصر، مگر بہت اہم ہوتے ہیں ایک طرف انا کا سمندر تو دوسری طرف مصلحت کی خلیج اور بیچ میں تعلق کی ناؤ ایسے میں بند راستے کھولنے اور نئے راستے بنانے پڑتے ہیں جذبات کو سفارت کاری سکھانا اور احساسات کو مذاکرات کی میز پر لانا پڑتا ہے #نوریات

آگہی کا لمحہ

سبھی شور تھم گیا ہے دریا کے تلاطم میں ایک ٹھہراؤ ہے اب کوئی تمنا نہیں کہ ساحل ملے یا نہ ملے آگہی کے اس جزیرے پر صرف میں ہوں اور میرا خدا ہے جہاں وقت کی قید ہے نہ یادوں کا بوجھ صرف ایک ابدی لمحہ ہے جو سانس کی ڈور سے بندھا ہوا ہے اور یہی زندگی ہے! #نوریات

سچا احساس

انسانی لب و لہجہ صرف آواز کا اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، یہ تو باطن کے موسموں کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی لہجے میں اتنی تپش ہوتی ہے کہ برسوں کی ہریالی پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہے، اور کبھی کوئی ایک جملہ، کوئی ایک دھیمی پکار، بنجر ہوتے ہوئے وجود میں امید کی کونپلیں پھوٹنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی بنیاد مٹی یا پتھر پر نہیں، بلکہ احساس کی اس ملائم ڈور پر کھڑی ہوتی ہے جو ذرا سی تلخی کی تاب نہیں لا سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کے اس پر آشوب سفر میں ہمیں کسی "لاجواب" کر دینے والے منطقی استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی اس ایک دل آویز مسکراہٹ کی ہوتی ہے جو یہ کہہ سکے کہ "میں تمہاری ان کہی باتوں کا محرم ہوں"۔ احساس کا آنگن تبھی روشن رہتا ہے جب ہم عیبوں پر مصلحت کی چادر تاننے کے بجائے، اپنے اندر کے آئینے کو صاف رکھنے کی جسارت کریں۔ لہجوں میں وہ نمو پیدا کریں جو زخم لگانے کے بجائے مرہم بننا جانتی ہو۔ کیونکہ جب آوازیں تھم جائیں گی اور یادوں کی دھول بیٹھ جائے گی، تو صرف وہی ایک حرفِ معتبر باقی رہ جائے گا جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے نہایت خاموشی سے ادا ...

بازیافت

وہ گلیاں اب بھی وہیں ہیں جہاں میرے پیروں کے نشان گرد کی تہوں میں دب کر خاموشی کا حصہ بن چکے ہیں مگر ان گلیوں کے دہانے پر کھڑی حویلیاں اب ایسی بوڑھی عورتوں کی طرح لگتی ہیں جو اپنے دکھ چھپانے کے لئے دیواروں پر سفیدی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر اندر کے ٹوٹے ہوئے چوبارے اب بھی پرانی یادوں کے ملبے سے اپنا وجود بچانے کی تپسیا میں مصروف ہیں تم نے دیکھا ہے کبھی؟ کہ پگڈنڈیاں کسی منزل کی طرف نہیں جاتیں بلکہ وہ ماضی کے ان زخموں کا راستہ ہیں جو پیروں تلے روندی جانے کے باوجود کبھی نہیں بھرتیں اور ان پگڈنڈیوں کے کنارے کھڑا وہ برگد جس کی جڑیں زمین کے باطن میں نہیں بلکہ میرے وجود میں اتری ہوئی ہیں وہ اب بھی ہوا کے ہر جھونکے سے یہی پوچھتا ہے کہ کیا کوئی مسافر اپنے سائے کو بھی کبھی پیچھے چھوڑ سکا ہے؟ میں نے چوباروں کی ان کھڑکیوں سے کئی بار خود کو باہر جھانکتے دیکھا ہے مگر وہاں کوئی نہیں تھا سوائے اس سناٹے کے جو کسی خالی برتن میں گرنے والی بوند کی طرح اپنا ہی ماتم کر رہا تھا عجیب ہے ناں! کہ وہ حویلیاں جو کبھی آباد تھیں اب محض ایک ایسی بساط معلوم ہوتی ہیں جس پر وقت نے تمام مہرے الٹ دیئے ہیں دیکھو! میں نے ا...

گونگے حروف کا شہر

گھر کی بوڑھی سیڑھیوں پر آج پھر وہی خاموشی بیٹھی تھی جو کئی برسوں سے اس کھردرے لکڑی کے ریشوں میں جذب ہو چکی تھی۔ باقر صاحب نے دھیرے سے قدم رکھا تو ایک چرچراہٹ نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ یہ آواز انہیں اپنے وجود جیسی لگی؛ پرانی، تھکی ہوئی اور غیر ضروری۔ اوپر والے کمرے سے موبائل فون کی ایک مخصوص ’بیپ‘ آئی، جس کا مطلب تھا کہ دانیال جاگ چکا ہے، یا شاید ابھی تک سویا ہی نہیں تھا۔ اس گھر میں اب سورج کھڑکیوں سے نہیں، بلکہ اسمارٹ فون کی نیلی روشنی سے طلوع ہوتا تھا۔ وہ باورچی خانے میں آئے اور چولہا جلایا۔ چائے کی پتی ابلنے کی خوشبو ان کے نتھنوں سے ٹکرائی تو انہیں یاد آیا کہ بیس سال پہلے جب زبیدہ زندہ تھی، تو یہ خوشبو پورے گھر میں ایک زندگی کی لہر دوڑا دیتی تھی۔ تب آوازیں ہوتی تھیں۔ پیتل کے برتنوں کے ٹکرانے کی آواز، زبیدہ کی چوڑیوں کی کھنک، اور صحن میں لگے اس پرانے نیم کے درخت پر پرندوں کا شور۔ اب پرندے تو تھے، مگر ان کی آوازیں دانیال کے کانوں میں لگے ان سفید تاروں (ہیڈ فونز) کے سامنے بے بس ہو چکی تھیں۔ ’’دانیال! ناشتہ تیار ہے۔‘‘ باقر صاحب نے کمرے کے دروازے پر دستک دیئے بغیر آواز دی۔ اندر سے کوئی...

ڈیجیٹل عہد کی دہلیز اور معصومیت کا بحران

انسانی تاریخ کے ہر دور میں نسلِ نو کی تربیت ایک چیلنج رہی ہے، لیکن اکیسویں صدی کی تیسری دہائی جس تیزی  کے ساتھ نمودار ہوئی ہے، اس نے والدین، اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات کے لیے مروجہ ضابطوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی فاصلے تو سمٹ گئے ہیں، مگر شعور کی سرحدوں پر ایک ایسی یلغار ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی ڈھالیں اب ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل آلات کی فراوانی نے جہاں زندگی کے پہیے کو تیز کیا ہے، وہیں بچوں کی نفسیات اور اخلاقیات کے خمیر میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں جن کے اثرات دور رس اور کسی حد تک تشویشناک بھی ہیں۔ بچپن کا تصور ہمیشہ سے کھیل کود، فطرت سے رغبت اور کہانیوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ لیکن آج کا بچہ جس ماحول میں آنکھ کھول رہا ہے، وہاں مٹی کی خوشبو کی جگہ سکرین کی نیلی روشنی (Blue Light) اور نانی اماں کی کہانیوں کی جگہ الگورتھم کے تیار کردہ ویڈیوز نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذرائع کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ادراک اور حسیات کی تبدیلی ہے۔ جب ایک ننھا بچہ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے لیے ایک مشین یا گیجیٹ کا محتاج ہ...