ہم مٹی کے بنے ہیں، اور مٹی کا ظرف یہ ہے کہ وہ پاؤں تلے روندی جانے کے باوجود گلاب پیدا کرتی ہے۔ ہم انسان کیوں اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ ایک تلخ جملہ ہماری پوری شخصیت کی عمارت ہلا دیتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے اندر "پتھر" جمع کر لیے ہیں اور باہر "شیشے" لگا لیے ہیں۔ آئیے، ایک بار پھر سے فطرت کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس درخت کی طرح بنتے ہیں جو یہ نہیں پوچھتا کہ اسے پانی دینے والا کون ہے، وہ بس سایہ دینا جانتا ہے۔ زندگی کوئی حساب کتاب کی ڈائری نہیں ہے، یہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے ۔۔۔ جس نے بہنا چھوڑ دیا، وہ جوہڑ بن گیا، اور جس نے لہروں کے ساتھ چلنا سیکھ لیا، وہ سمندر کا حصہ بن گیا۔ # نوریات
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی