انسان کا قدیم ترین خواب سونا حاصل کرنا یا محل بنانا بنانا نہیں تھا، بلکہ سانسوں کی آمدورفت میں چھپی اس کیفیت کو پانا تھا جسے ہم خوشی کہتے ہیں۔ صدیوں سے فلسفیوں نے سر پٹخے، صوفیوں نے جنگلوں کی خاک چھانی اور اب سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں نیورانز کے جال بچھا دیے ہیں، مگر سوال وہیں کا وہیں ہے- کیا خوشی کوئی ایسی چڑیا ہے جو ہمارے آنگن میں خود اترتی ہے، یا یہ وہ شکار ہے جسے ہمیں خود پکڑنا پڑتا ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے ہاتھ میں ہے؟ جدید دور کے مثبت نفسیات کے ماہرین، جن میں مارٹن سیلگمین کا نام سرِفہرست ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے ایک طویل عرصہ صرف یہ سمجھنے میں گزار دیا کہ دکھ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے، مگر ہم یہ پوچھنا بھول گئے کہ سکھ کیا ہے اور اسے کیسے بڑھایا جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی باغبان سے سکھایا جائے کہ پودا مرنے سے کیسے بچانا ہے ، مگر اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اسے تناور درخت کیسے بنایا جائے۔ سائنس کی دنیا میں ایک نظریہ بہت مشہور ہے جسے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ (Hedonic Set Point) کہا جاتا ہے۔ کچھ محققین کا خیال تھا کہ ہماری خوشی کا پچاس فیصد حصہ ہماری جینیات طے کر دیتی ہیں...
رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے ...