میں اس کائنات کے عظیم آئنہ خانے میں کھڑا خود کو تلاش کر رہا ہوں، مگر یہاں ہر عکس مجھے میرا ہونے کا دھوکا تو دیتا ہے، میرا ثبوت نہیں بنتا۔ کہیں میں ہوں، اور کہیں صرف میرا گمان ہے۔ یہ جو میرے وجود پر شکست و ریخت کے سلگتے ہوئے نشان ہیں، یہ اس قربت کا نتیجہ ہیں جو میں نے اس 'حقیقتِ مطلق' سے چاہی تھی جس کے قریب جاتے ہی انسان خاک ہو جاتا ہے۔ عجیب تماشہ ہے کہ میں شک اور گمان کے بے شمار جنگلوں سے گزر کر، لفظوں کی صورت میں یقین کی تختی پر کچھ تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر قلم کی جنبش سے پہلے ہی مٹی کی بو پکارتی ہے کہ "تم کچھ بھی نہیں"۔ وجود اور عدم کے اس عالمِ نابود میں ایک طرف میری اپنی انا کا شور ہے جو کہتا ہے "میں ہوں"، اور دوسری طرف کائنات کا سکوت ہے جو پکارتا ہے "نہیں، تم محض ایک سایہ ہو"۔ میں اپنی جبیں پر نیاز اور آرزو کے سجدے لیے ایک ایسے در کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں جو شاید ابھی بنا ہی نہیں، یا شاید وہ در میری اپنی ہی ذات کے کسی بند گوشے میں چھپا ہے۔ میں وہ مسافر ہوں جو اپنی منزل کا نقشہ خود اپنے لہو سے بنا رہا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس آئنہ خان...
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی