تمہارا آنا کسی کچے مکان کی منڈیر پر پہلی کرن کے اترنے جیسا ہے کتنی ہی مدت سے اس گلی میں خاک اڑتی رہی اور وقت کے پیروں تلے یادوں کے تارے کچلتے رہے مگر آج۔۔۔ جب تم نے اس بنجر راستے پر قدم رکھا ہے تو یوں لگا ہے جیسے کسی سوکھے ہوئے پیڑ پر کوئی ہرا زخم پھر سے کلی بن گیا ہو ہاں! بہت دنوں بعد میری وحشت زدہ گلی میں ایک چاند اترا ہے! #نوریات
لفظ بولتے ہیں
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی