Skip to main content

Posts

عکس مصلوب

  وہاں کوئی دیوار نہیں تھی، مگر ایک حد ضرور تھی جس کے پار قدم رکھنے کا مطلب اپنے ہی وجود سے دستبردار ہونا تھا۔ شہر کی آخری سڑک جہاں ختم ہوتی تھی، وہاں سے ایک ایسی پگڈنڈی شروع ہوتی تھی جو کسی نقشے پر موجود نہ تھی۔ آسمان کا رنگ وہاں نیلا نہیں تھا، بلکہ ایک گدلے بھورے پن میں ڈوبا ہوا، جیسے کسی نے صدیوں پرانی راکھ کو افق پر بکھیر دیا ہو۔ آفتاب نے اپنی جیب سے گھڑی نکالی۔ سوئیاں ساکت تھیں۔ یہ اس کا تیسرا دن تھا یا تیسری صدی؟ اسے یاد نہیں تھا۔ زندگی نے اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں یادداشت ایک بوجھ بن چکی تھی۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جو ایک ایسی لکڑی کو تراش رہا تھا جس کا کوئی سرا نہیں تھا۔  تم یہاں کیوں رکے ہو؟ بوڑھے نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔  اس کی آواز میں ایسی لرزش تھی جیسے خشک پتے آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ آفتاب نے پگڈنڈی کی سمت اشارہ کیا،  میں اس آواز کا پیچھا کر رہا ہوں جو سنائی نہیں دیتی، مگر محسوس ہوتی ہے۔  بوڑھا ہنسا۔ ایک تلخ، کھوکھلی ہنسی۔  جو محسوس ہوتا ہے، وہ ہوتا نہیں ہے۔ اور جو ہوتا ہے، وہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ تم جس آواز کے پیچھے ...
Recent posts

ادھار ۔ جو کبھی لوٹایا نہیں جاتا

 

کتابوں میں رکھی پھول کی پتیاں

کتابوں کے بند صفحات کے درمیان دبی ہوئی وہ سوکھی پتیاں محض کسی بیتے ہوئے لمحے کی لاشیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس 'ان دیکھے ہاتھ' کا پتا دیتی ہیں جس نے انہیں وقت کی قید سے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ جب ایک زندہ پھول کتاب کی آغوش میں دم توڑتا ہے، تو وہ اپنی خوشبو اور نمی کے عوض الفاظ کو ایک جسم عطا کر دیتا ہے۔ جس صفحے پر کوئی پتی سوکھ جائے، وہاں کے حروف باقی کتاب سے زیادہ گہرے اور معتبر ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسے وہاں کس نے رکھا ہوگا؟ شاید کوئی ایسی ہستی جس کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے لفظ کم پڑ گئے تھے، یا شاید وہ جس نے کسی بہت عزیز جملے کو پھول کا صدقہ دے کر ہمیشہ کے لیے معتبر کرنا چاہا ہو۔ وہ خود اب کہاں ہوگا؟ زندگی کی بھیڑ میں کہیں گم، یا شاید وقت کی کسی دوسری کتاب کے صفحات میں دبا ہوا۔ وہ اب کیا سوچتا ہوگا؟ کیا اسے یاد بھی ہوگا کہ اس نے کسی دوپہر ایک پیلے گلاب کی پتی کو کسی خاص صفحے کی امانت بنایا تھا؟ یا شاید اس کی یادداشت سے وہ لمحہ محو ہو چکا ہو، مگر وہ پتی آج بھی اس کے جذبے کی گرمی کو سنبھالے بیٹھی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ شاخ پر کھلا پھول زوال کی امانت ہے، اس لیے ہم اسے علم ک...

کائنات کے گیت

تھکن سے چور کائنات کے گیت اب میرے کانوں میں رس نہیں گھولتے کہ میں نے سماعتوں پر وقت کی دھول کے پہرے بٹھا دیے ہیں تم ٹھیک کہت ے ہو۔۔۔ زمین محبت سے بانجھ ہو رہی ہے مگر یہ جو میں کیاریوں سے جڑی بوٹیاں نکالتا ہوں یہ دراصل اپنے اندر کے خاردار دکھوں کی صفائی ہے میں مٹی میں انگلیاں اس لیے گاڑتا ہوں کہ دیکھ سکوں، کہیں زندگی کی کوئی نبض اب بھی باقی ہے یا نہیں؟ میں شکستہ پلوں اور ویران اسٹیشنوں پر کسی مسافر کا انتظار نہیں کرتا میں تو وہاں رک کر اپنے گزرے ہوئے قدموں کی چاپ ڈھونڈتا ہوں وہ قدم، جو کبھی عشق کی سرشاری میں زمین کا سینہ دھکانے کی ہمت رکھتے تھے رہی بات سولر سسٹم کے یونٹوں اور بجلی کے بلوں کی تو یہ اس قید خانے کی دیواریں ہیں جس میں ہم سب "باوقار طریقے سے" قید ہیں! لو! میں نے جوگرز پہن لیے ہیں تسمے بھی کس لیے ہیں اور جیکٹ بھی کاندھے پر ہے مگر اے میرے ہم سفر! بتا کہ میں کس سمت چلوں؟ کہ اب ہر راستہ بازار کی طرف جاتا ہے اور ہر منزل، ایک نیا اشتہار بن چکی ہے تم کہتے ہو کائنات گاتے گاتے تھک گئی ہے تو آؤ، اس بار ہم دونوں مل کر ...

اسلام آباد ، راولپنڈی کے مشاعرے

راولپنڈی اور اسلام آباد کے ادبی منظرنامے پر مشاعرہ ایک ایسی 'سماجی واردات' ہے جس میں ملزم، گواہ اور منصف سب پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ یہاں مشاعرہ شروع ہونا اتنی بڑی خبر نہیں، جتنی بڑی خبر یہ ہے کہ وہ بحالِ صحتِ جسمانی و ذہنی اختتام پذیر ہو جائے۔ ان جڑواں شہروں کے ادبی پروگراموں میں شرکت کے لیے جگر سے زیادہ 'پاؤں' اور 'سماعت' مضبوط ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں کے شعرا کلام سنانے میں جتنے سست ہیں، اپنی باری کے بعد 'ہجرت' کرنے میں اتنے ہی برق رفتار ہیں۔ مشاعرے کا اصل 'کھلاڑی' نقیبِ محفل ہوتا ہے، جو مائیک سنبھالتے ہی ایک ایسی لغت کھول لیتا ہے جسے سن کر غالب بھی قبر میں کروٹیں لینے لگیں۔ نقیب کا کام شاعر کو اسٹیج پر بلانا نہیں، بلکہ اسے 'لانچ' کرنا ہوتا ہے۔ وہ کسی عام سے شاعر کو بلاتے ہوئے بھی ایسے القابات استعمال کرتا ہے جیسے کہ سامنے والا شخص براہِ راست آسمان سے نازل ہوا ہو۔ نقیب مائیک پر دہاڑتا ہے کہ "اب میں اس ہستی کو دعوتِ سخن دے رہا ہوں جس کے افکار کی خوشبو سے ہمالیہ کی برف پگھل جاتی ہے اور جس کے استعارے سمندر کی گہرائیوں میں زلزلہ پیدا ک...

رزقِ نمو

 رزقِ نمو برکت کے ہاتھوں کی لکیریں اب گوشت کا حصہ نہیں رہی تھیں، بلکہ وہ کسی قدیم بلوط کے تنے پر پڑنے والی دراڑوں جیسی ہو چکی تھیں۔ مری کی ان ڈھلوانوں پر، جہاں کہر اتنی گہری ہوتی کہ سانس لو تو پھیپھڑوں میں مٹیالی چاشنی بھر جائے، برکت پچھلے پچاس برسوں سے ایک ہی تال پر زندگی جی رہا تھا۔ ’تھک۔۔۔ تھک۔۔۔ تھک!‘ کلہاڑی جب سوکھی لکڑی کے سینے میں اترتی، تو برکت کو لگتا جیسے وہ لکڑی کو نہیں، بلکہ وقت کے کسی گلے سڑے حصے کو کاٹ رہا ہے۔ اسے لکڑی کے بولنے کا ہنر آتا تھا۔ وہ بتا سکتا تھا کہ کون سی شاخ آگ کے حوالے ہونے کے لیے بے تاب ہے اور کون سی ابھی زندگی کا زہر پینا چاہتی ہے۔ اس کا بیٹا، جواد، شہر کی ایک ایسی عمارت میں کام کرتا تھا جس کی کھڑکیاں کبھی نہیں کھلتی تھیں اور جہاں ہوا مشینوں کے ذریعے بیچی جاتی تھی۔ جواد جب گاؤں آیا تو اسے اپنے باپ کا مٹی سے اٹا ہوا چہرہ دیکھ کر ایک عجیب طرح کی ہمدردی محسوس ہوئی، جس میں ہلکی سی کراہت بھی شامل تھی۔ "ابا! اب بس کریں۔ یہ لکڑیاں، یہ دھواں، یہ پہاڑ کی سردی۔۔۔ آپ کی ہڈیاں اب یہ بوجھ نہیں سہہ سکتیں۔ شہر چلیں، وہاں سکون ہے۔" برکت نے کلہاڑی کی دھار پر ان...

کتبے پر لکھی ادھوری سطر

 کتبے پر لکھی ادھوری سطر قبرستان کی مٹی میں ایک عجیب طرح کی ہٹیلی نمی تھی، جو جوتوں کے تلووں سے چمٹ کر ساتھ چلنے کی کوشش کرتی۔ فضا میں نیم کے سوکھے پتوں کے جلنے کی بو تھی یا شاید یہ پرانی یادوں کا تعفن تھا۔ ایک شکستہ قبر کے سرہانے، جہاں صنوبر کا سایہ کسی کٹی ہوئی زبان کی طرح لٹک رہا تھا، وہ چاروں بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان کوئی دیا نہیں جل رہا تھا، بلکہ ان کے سیگریٹوں کے دہکتے ہوئے سرے اندھیرے میں چار سرخ آنکھوں کی طرح جھپک رہے تھے۔ "میں نے سنا ہے کہ اس شہر میں اب لوگ مرنا بھول گئے ہیں،" پہلے شخص نے کہا۔ اس کی آواز میں ایسی کھنک تھی جیسے خالی برتن فرش پر گرا ہو۔ "وہ بس کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ نہ جنازہ، نہ کتبہ۔ بس ایک خالی کرسی باقی رہ جاتی ہے۔" دوسرے نے، جس نے اپنے چہرے کو مفلر میں چھپا رکھا تھا، دھواں فضا میں اچھالا۔ "گم ہونا مرنے سے زیادہ خوفناک ہے۔ کم از کم قبر میں یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ حد ختم ہو گئی ہے۔ میں اس بستی سے آیا ہوں جہاں ہر شخص نے اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ تھام رکھا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے، آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر دوسرے کا وجود فرض کر لیتے ہیں۔...