Skip to main content

Posts

ننگے پاؤں کی بادشاہت اور بارش کے دن

انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔ جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم ...
Recent posts

احساس اور الفاظ کا فاصلہ

کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...

بارود کی راکھ میں دبی عید اور امید کی کونپل

      رمضان بیت گیا، عید گزر گئی اور فضاؤں میں اب بھی وہ سحر انگیز خوشبو باقی ہے جو صرف عبادت کی تھکن اور صلے کی مٹھاس سے کشید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس بار کی عید، ماضی کی عیدوں سے ذرا مختلف تھی۔ دسترخوان پر سجی سویاں وہی تھیں، بچوں کے کرتوں پر لگی کلف کی کڑک بھی ویسی تھی، اور عید گاہوں سے اٹھنے والا اللہ اکبر کا غلغلہ بھی ویسا ہی تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک عجیب سی کسک، ایک اَن کہی بے چینی اور ایک ہمدردانہ ٹیس سی لگی ہوئی تھی۔ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے پیاروں کے گلے مل رہے تھے، تو عین اسی وقت دنیا کے ایک نقشے پر مائیں اپنے بچوں کی میتوں سے لپٹ کر وداعی بوسے دے رہی تھیں ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن اس بار کا صبر صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اس تماشائے اہل کرم کو دیکھنے کا صبر تھا جو سرحدوں کے پار انسانیت کا لہو بہتے دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ عید کا چاند نظر آیا تو خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی لایا کہ کیا یہ خوشی صرف ان کے لیے ہے جن کے گھر سلامت ہیں؟ یا ان کے لیے بھی جن کے گھروں کی چھتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور جن ک...

امید کی کرن

رمضان کی سحر سوزی رخصت ہوئی اور عید کی شیرینی بھی اب یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دسترخوانوں سے برکتوں کے ذائقے سمٹ کر اب دل کے نہاں خانوں میں عبادت کا نور بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ بظاہر فضاؤں میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے، افق پر جنگ کے مہیب سائے اب بھی کسی زخمی پرندے کی طرح منڈلا رہے ہیں، لیکن ان کالی گھٹاؤں کے بیچوں بیچ امیدکی ایک ننھی سی کرن نے سر نکالا ہے۔ یہ کرن بالکل ویسی ہی ہے جیسے بنجر زمین کے سینے کو چیر کر ایک سبز کونپل جھانکتی ہے، جسے نہ تو تپتی دھوپ کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی گردِ راہ کا خوف۔ جنگیں تو ہمیشہ سے انسان کی ہوس اور انا کی پیداوار رہی ہیں، لیکن محبت وہ ازلی حقیقت ہے جو خاموشی سے دلوں کے تار جوڑتی رہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرت کے اس قدیم کھیل سے تھک کر اس نور کی سمت قدم بڑھائیں جو صلح اور آشتی کا پتا دے رہا ہے۔ عید کے گزرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوشی کا جواز ختم ہو گیا، بلکہ اب تو اس مٹھاس کو ان تلخ گوشوں تک پہنچانے کا وقت ہے جہاں سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔ آئیے، اس مدھم سی کرن کو اپنے یقین کی تپش دیں تاکہ یہ سورج بن کر چمکے۔ نفرت کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، محب...

خالص پن کا نوحہ

 

چھوٹا آدمی ۔ بڑا آدمی

  کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم مل...

آسانیاں

ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔ آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔ #نوریات