Skip to main content

Posts

کتنی نیند ضروری ہے؟

 
Recent posts

آدھا سچ اور پوری اذیت

  آدھا سچ اور پوری اذیت ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا اتنا مشکل نہیں رہا، جتنا سچ سننا مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے سچ کے بھی حصے کر لیے ہیں۔ ایک وہ جو ہمیں سکون دیتا ہے، اور ایک وہ جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'آئینہ دکھانے والے سچ' کو بدتمیزی کا نام دے دیا ہے اور 'خوش کن جھوٹ' کو مصلحت کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ کبھی سوچئیے گا کہ جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں تو کیا وہ واقعی اس کی خوبی ہوتی ہے یا ہماری اپنی کسی ضرورت کا پیش خیمہ؟ ہم لفظوں کے سوداگر بن چکے ہیں، جو صرف وہ مال بیچتے ہیں جس کی بازار میں مانگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب تحریروں میں جان اور لہجوں میں تاثیر ختم ہو گئی ہے۔ ہم مٹی کے وہ برتن بن گئے ہیں جو باہر سے تو چمکدار ہیں مگر اندر سے خالی، اور خالی برتنوں کا شور ہی ہماری پہچان بن چکا ہے۔ کیا ہم کبھی اس خالی پن کو بھرنے کی جرات کر پائیں گے، یا صرف گونج بن کر رہ جائیں گے؟

عکس کا قیدی اور خالی آئینے

 عکس کا قیدی اور خالی آئینے انسانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے خود کو دریافت کرنے کے بجائے خود کو ایجاد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسی بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ لیے کھڑا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھ رہا، بلکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ دوسرے اس کے آئینے میں کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور انفرادی سکون کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بچپن میں ہم سب نے وہ کہانی سنی تھی کہ ایک بادشاہ کے پاس ایسا لباس تھا جو صرف اس کے وزیروں اور مشیروں کو نظر آتا تھا۔ آج ہم سب اسی بادشاہ کی طرح ڈیجیٹل اور سماجی ساکھ کا وہ نادیدہ لباس پہن کر گھوم رہے ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں، مگر ہم اس کے معیار اور استر پر دن رات بحث کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو ایک کینوس سمجھنے کے بجائے ایک شو کیس سمجھ لیا ہے۔ سماجی تضاد کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ہماری محفلیں اب مکالمے کے لیے نہیں بلکہ منظر کشی کے لیے سجتی ہیں۔ دسترخوان پر رکھا ہوا کھانا اب پیٹ کی بھوک مٹانے سے پہلے کیمرے کی آنکھ کی پیاس بجھاتا ہے۔ ہم ذائقے سے مح...

کرائے کا مسافر

ہم سب نے اپنے اندر ایک ایسا کمرہ بنا رکھا ہے جس کا کرایہ ہم اپنی بہترین صلاحیتوں اور خوابوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، مگر وہاں قیام کبھی نہیں کرتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس کمرے کو سنوارنے میں عمر گزار دیتے ہیں؛ دیواروں پر اپنی پسند کے رنگ سجاتے ہیں، کھڑکیوں پر اُمید کے پردے لٹکاتے ہیں اور فرش پر گزرے ہوئے کل کی نرم قالین بچھاتے ہیں، لیکن خود ہمیشہ دہلیز پر کھڑے رہ کر اندر کی ترتیب کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے کبھی آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنی زندگی کے اصل لمحات میں موجود کیوں نہیں ہوتے؟ جب ہم ہنس رہے ہوتے ہیں تو ہمارا ایک حصہ اس ہنسی کے ختم ہونے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے، اور جب ہم روتے ہیں تو ہم یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا۔ مجھے کیوں ایسے لگتا ہے اصل زندگی وہ نہیں جو ہم جی رہے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم جینا بھول گئے ہیں۔ وہ جو کسی پرانی کتاب کے دو صفحات کے درمیان دبی ہوئی خشک پتی کی طرح خاموش ہے، مگر جس کی خوشبو آج بھی ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آئے گا اور ہمیں ہمارے ہی گھر کا راستہ دکھائے گا، جبکہ چابی ہمیشہ سے ہماری اپنی جیب میں موجود ہے...

خواب در خواب

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک خواب سے جاگتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے خواب کی گرفت میں ہیں۔ کیا شعور کی اس تہہ در تہہ بستی میں ہماری آنکھوں میں پلنے والے یہ خواب بھی اپنی کوئی الگ اور خودمختار زندگی رکھتے ہیں؟ کیا وہ بھی ہماری طرح تھک کر کسی سائبان کی تلاش میں رہتے ہوں گے؟ میں کچھ الگ ہی سوچتا ہوں اور گمان رکھتا ہوں کہ خواب محض تصویریں نہیں، بلکہ وہ وجود ہیں جو ہمارے لاشعور کے لمس سے جنم لیتے ہیں۔ جب ہم جاگ جاتے ہیں، تو وہ خواب مرتے نہیں بلکہ ہجرت کر جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی کسی ایسی کائنات کی تمنا کرتے ہوں جہاں انہیں ادھورا نہ چھوڑا جاتا ہو۔ جہاں کوئی سائرن، کوئی الارم یا کوئی مادی ضرورت ان کا گلا نہ گھونٹتی ہو۔ وہ خواب جو ہم ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، شاید اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لیے خود بھی خواب دیکھتے ہوں گے۔ ایک ایسے انسان کا خواب جو انہیں مکمل کر سکے۔ ہم خواب کو اپنے شعور یا لاشعور کی تخلیق سمجھتے ہیں، لیکن کیا عجب کہ ہم خود کسی بڑے خواب کے ہجرتی پرندے ہوں؟ ہم زندگی بھر جن تمناؤں کے پیچھے بھاگتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ ہمیں نہیں بلکہ ہم انہیں خواب میں دکھائی دے رہے ہوں۔ یہ جو ہ...

پہلی گواہی

رات کے آخری پہر جب نیند اور بیداری کی سرحدیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتی ہیں، کائنات ایک عجیب سے سکوت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اچانک ہوا کے دوش پر ایک باریک سا ارتعاش لہراتا ہے۔۔ ایک چڑیا کی پہلی چہچہاہٹ۔ یہ محض پرندے کی آواز نہیں، بلکہ عدم کے سناٹے میں وجود کا پہلا دستخط ہے۔ ہم انسان، جو روشنی کو سورج کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں، شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دن کا آغاز بصارت سے نہیں بلکہ سماعت سے ہوتا ہے۔ چڑیوں کا یہ شور، جسے ہم صبح کی سلامی کہ سکتے ہیں، دراصل کائنات کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو منطق کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ننھی جانیں کسی معاوضے یا ستائش کی طلب گار نہیں ہوتیں۔ ان کا گیت کسی اسٹیج کا محتاج نہیں۔ وہ تو بس اس لیے گاتی ہیں کہ وہ "ہیں۔" ان کی چہچہاہٹ میں ایک عجیب سی بے نیازی چھپی ہوتی ہے۔ وہ کل کے مہیب اندھیرے کا نوحہ نہیں پڑھتیں اور نہ ہی آنے والے طوفانوں کا حساب لگاتی ہیں۔ وہ تو صرف اس ایک لمحے کو، جو ان کی مٹھی میں ہے، اپنی آواز سے بھر دیتی ہیں اور خاموشی کے سینے پر نغمے کاڑھتی ہیں۔ کبھی سوچیے گا کہ کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسا نغمہ ہے جو کسی غرض، کسی صلے اور کسی خو...

ٹریکف اور ہماری انا