انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ آزادی اور وسعت کا خواہشمند رہا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انتخاب کی بے پناہ آزادی ملتی جا رہی ہے، ہماری ذہنی آسودگی اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ اب ایک عام سے انسان کو بھی صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک سینکڑوں ایسے فیصلوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ماضی میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ کبھی وقت تھا کہ بازار میں کپڑے کی دو چار دکانیں ہوتی تھیں، جوتا لینا ہوتا تو ایک دو معروف نام ہی کافی سمجھے جاتے تھے اور اگر گھر کے لیے دال یا صابن خریدنا ہوتا تو پرچون والے کے پاس موجود محدود مال ہی ہمارے لیے غنیمت تھا۔ ہم خوش تھے، اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بہت کچھ تھا، بلکہ اس لیے کہ ہمیں یہ فکر نہیں تھی کہ جو ہم نے خریدا ہے اس سے بہتر بھی کچھ ہو سکتا تھا۔ آج کی زندگی ایک لامتناہی فہرست بن چکی ہے۔ آپ ایک عام سے ہوٹل میں چلے جائیں تو چائے کی دس قسمیں آپ کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ موبائل فون لینا ہو تو اس کی خصوصیات اور قیمتوں کا ایسا جنگل سامنے آتا ہے کہ انسان خریدنے سے پہلے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ کثرتِ...
کبھی کبھی ہم کسی کے لیے اتنا میسر ہوتے ہیں جتنا کتاب میں پڑے ہوئے پھول کی خوشبو جو ہوتی تو ہے، مگر محسوس نہیں ہوتی جیسے دیوار پر لٹکی ہوئی وہ گھڑی جو وقت تو بتاتی ہے مگر خود ایک جگہ ٹھہری رہتی ہے ہم بھی تو ایک جگہ ٹھہرے ہوئے لوگ ہیں جنہیں وقت کا دریا کنارے پر چھوڑ کر آگے نکل گیا ہے #نوریات