پرانی تصویروں کی وہ بوسیدہ البم، جو الماری کے کسی اندھیرے گوشے میں دبے ہوئے 'خاندانی راز' کی طرح پڑی ہوتی ہے، دراصل ایک ایسی پٹاری ہے جسے کھولتے ہی ماضی کی روحیں چیخ و پکار شروع کر دیتی ہیں۔ آج کے دور میں جہاں سمارٹ فون کی گیلری میں ہزاروں تصویریں 'کلاؤڈ' پر تیر رہی ہیں، اس پرانی البم کی حیثیت اس ریٹائرڈ بزرگ جیسی ہے جو گھر کے کونے میں بیٹھا خاموشی سے نئی نسل کی بے راہ روی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس البم کو کھولنے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنے خلاف گواہیاں اکٹھی کرنے کا رسک لے لیا ہے۔ پہلا صفحہ الٹتے ہی جو پہلی تصویر سامنے آتی ہے، وہ عام طور پر کسی ایسی 'تقریبِ سعید' کی ہوتی ہے جس میں آپ کے ابا جی نے کلف لگی شلوار قمیض پہن رکھی ہوتی ہے اور ان کے بالوں کا سٹائل دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حجام کے پاس صرف ایک ہی ڈیزائن ہوتا تھا، اور وہ تھا 'کٹورا کٹ'۔ ابا جی کی اس تصویر میں جو رعب اور دبدبہ نظر آتا ہے، وہ آج کے 'فلٹرز' اور 'ایڈٹنگ' کے دور میں ناپید ہے۔ اس وقت کی کیمرہ مین کی ہدایات بھی بڑی جابرانہ ہوتی تھیں۔ "ہلئے گا مت"، ...
وہ ایک جذبہ جو سینوں میں آگ بھرتا ہے میں اپنے باپ کی آنکھوں سے سیکھ کر آیا مگر جو موم بنا دے مری اناؤں کو وہ پیار بیٹی کی باتوں نے مجھ کو سمجھایا م۔ن آسی