کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم مل...
ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔ آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔ #نوریات